26/06/2022
Arfa Kareemi School 12/1-R
Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Arfa Kareemi School 12/1-R, Education, Chak no 12/1R, Renala Khurd.
26/06/2022
12/06/2020
Easy Hiring is excited to organize a productive discussion on top-rated IT programs comprises of modern content writing, latest SEO services, and target-based digital marketing with modern scope and growth point of view. It will be conducted on June 13, 2020.
The honorable guests Faisal Majeed and Abid Ghulam or Imran Ahmad will discuss the current standards and utilization of technology in the global market. Watch the live video streaming on our official page from 12pm to 2pm.
Follow Us on Facebook:
https://www.facebook.com/easyhiringjob.pk
جہاں کوئی اُستاد نہ بننا چاہے وہاں بظاہر پڑھے لکھے لیکن حقیقتاجاہل راج کرتے ہیں.
"ساٹھ کی دہائی میں ایوب خان ملکہ برطانیہ اور ان کے شوہر کو پاکستان دورے کے دوران برن ہال سکول ایبٹ آباد لے گئے، ملکہ تو ایوب خان کے ساتھ بچّوں سے ہاتھ ملاتی آگے بڑھ گیئں، اُن کے شوہر بچّوں سے باتیں کرنے لگے، پُوچھا کہ بڑے ہو کے کیا بننا ہے، بچّوں نے کہا ڈاکٹر ، انجنیئر ، آرمی آفیسر ، پائلٹ ، وغیرہ وغیرہ۔
وہ کچھ خاموش ہو گئے پھرلنچ پر ایوب خان سے کہا کہ آپ کو اپنے ملک کے مستقبل کا کچھ سوچنا چاہیے، میں نے بیس بچّوں سے بات کی۔ کسی نے یہ نہیں کہا کہ اسے ٹیچر بننا ہے اور یہ بہت خطرناک ہے... ایوب خان صرف مسکرا دیے کچھ جواب نہ دے سکے اور یہ ہمارے لیے لمحہ فکریہ ہے
آج تہذیب و تمدن کی یہ جو اتنی بڑی عمارت کھڑی ہے۔ اس کے پیچھے اْسی شفیق و محترم ہستی کا ہاتھ ہے جسے اتالیق یا استاد کہتے ہیں۔ دنیا کے بڑے بڑے بادشاہ ، جن کی گردن ہمہ وقت اکڑی رہتی تھی ، اپنے اساتذہ کے سامنے ہمیشہ سر جھکا دیا کرتے تھے۔’’ سکندرِ اعظم ‘‘یونانی جس نے آدھی سے زیادہ دنیا اپنی تلوار کی دھار پر فتح کی ،’’ ارسطو ‘‘جیسے معلم اول کا شاگرد تھا۔
یہ مجلسِ یونان ہو، یا ایوانِ قیصرو کسریٰ، یہ خلافتِ بنو عباس ہو یا محمود غزنوی کا دربار، یہ اندلس کا الحمراء ہو یا ہندوستان کا شہنشاہ’’ جلال الدین محمد اکبر۔
تاریخ شاہد ہے کہ استاد کی عظمت سے اس قدر بلند پایہ اولو العزم حکمران بھی واقف تھے۔
آج اگر اہلِ مغرب ہم سے اس قدر آگے نکل گئے ہیں تو اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ استاد کا اصل مقام جانتے ہیں۔ اگر پبلک ٹرانسپورٹ میں کوئی سیٹ خالی نہ ہو تو پھر بھی لوگ قوم کے استاد کے لیے سیٹ خالی کردیتے ہیں۔ وہاں عدالت میں استاد کی گواہی کو پادری کی گواہی سے زیادہ مستند سمجھا جاتا ہے۔ امریکہ میں رواج ہے کہ جب کوئی طالب علم کامیابی حاصل کرتا ہے تو وہ اپنے استاد کو سلیوٹ کرتا ہے ، بالکل ویسے جیسے ایک سپاہی اپنے افسر کو سلیوٹ کرتے ہیں۔
کوئی بھی کچھ جانتا ہے تو معلم کے طفیل
کوئی بھی کچھ مانتا ہے تو معلم کے طفیل
گر معلم ہی نہ ہوتا دہر میں تو خاک تھی
صرف ادراکِ جنوں تھا اور قبا ناچاک تھی
تاریخ کی کتابوں میں لکھا ہے کہ جب ہندوستان کی انگریز حکومت نے حضرت علامہ اقبال ؒ کو سر کا خطاب دینے کا ارادہ کیا تو اقبال ؒ کو وقت کے گورنر نے اپنےدفتر آنے کی دعوت دی۔ اقبال نےیہ خطاب لینے سے انکار کردیا۔ جس پر گورنر بے حد حیران ہوا۔ وجہ دریافت کی تو اقبالؒ نے فرمایا:۔ ’’میں صرف ایک صورت میں یہ خطاب وصول کرسکتا ہوں کہ پہلے میرے استاد مولوی میرحسنؒ کو ’’شمس العلماء‘‘ کا خطاب دیا جائے‘‘۔
یہ سن کر انگریز گورنر نے کہا:۔
’’ڈاکٹر صاحب! آپ کو تو’’سر‘‘کا خطاب اس لیے دیا جا رہا ہے کہ آپ بہت بڑے شاعر ہیں۔ آپ نے کتابیں تخلیق کی ہیں، بڑے بڑے مقالات تخلیق کیے ہیں۔ بڑے بڑے نظریات تخلیق کیے ہیں۔ لیکن آپ کے استاد مولوی میر حسنؒ صاحب نے کیا تخلیق کیا ہے…؟‘‘
یہ سن کر حضرت علامہ اقبالؒ نے جواب دیا کہ:۔
’’مولوی میر حسن نے اقبال تخلیق کیا ہے‘‘
یہ سن کر انگریز گورنر نے حضرت علامہ اقبالؒ کی بات مان لی اور اْن کے کہنے پر مولوی میر حسن ؒ کو’’شمس العلماء‘‘ کا خطاب دینے کا فیصلہ کرلیا۔ اس پر مستزاد علامہ صاحب نے مزید کہا کہ:۔
’’میرے استاد مولوی میر حسن ؒ کو ’’شمس العلماء‘‘ کا خطاب دینے کے لیے یہاں سرکاری دفاتر میں نہ بلایا جائے بلکہ اْن کو یہ خطاب دینے کے لیے سرکاری تقریب کو سیالکوٹ میں منعقد کیا جائے ، یعنی میرے استاد کے گھر‘‘
اور پھر ایسا ہی کیا گیا۔ مولوی میر حسنؒ کو آج کوئی بھی نہ جانتا اگر وہ علامہ اقبالؒ کے استاد نہ ہوتے۔لیکن آج وہ شمس العلماء مولوی میر حسن ؒکے نام سے جانے جاتے ہیں۔
الغرض استاد کا مقام اور عظمت ہر شے سے بُلند ہے۔ حتیٰ کہ خود رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا استاد اللہ تعالیٰ کو کہا جاتا ہے۔اور رسولِ اکرم کی حدیث پاک ہے کہ’’مجھے معلم بنا کر بھیجا گیا‘‘۔ جس سے ثابت ہوتا ہے کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے لیے تاجر کا خطاب پسند نہ کیا حالانکہ آپ حجاز کے ایک کامیاب ترین تاجر تھے۔ آپ نے اپنے لیے پسند کیا تو معلم یعنی استاد کا رتبہ ۔ چنانچہ استاد کی عظمت سے کچھ بھی بڑھ کر نہیں.
کانپتے ہاتھوں یہ الفاظ ان اساتذہ کے نام۔۔۔۔!!
جنہوں نے مجھے انسان بنایا
میرے استاد
میرے معلم
میرے مربی
میرے مدرس
آپ کی تعریف و شکریے کے لئے
میرے پاس الفاظ نہیں
میری زندگی کا ہر اک
لمحہ آپ نے سنوارا ہے
بس یہی حقیر تحفہ ہے
میری زندگی کے وہ سارے لمحے
میرے استاد
آپ کے نام
سلام میرے اساتذہ کـــرام۔۔۔!!
09/05/2020
Urdu Bazar Mall We offer a diverse selection of stationery, office, and school supplies, as well as gift and packaging products. Our inventory is carefully curated to provide the best quality and value for all your business and personal needs.
28/02/2019
جناب علی طور نمبردار صاحب--جناب عبدالغفورخان بلوچ صاحب
28/02/2019
ارفع کریمی ایلمنٹری سکول چک نمبر ۱۲/۱ر بلوچاں والا
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Contact the school
Telephone
Website
Address
Chak No 12/1R
Renala Khurd