10/01/2026
اکثر ہم مٹر چھیلتے وقت اس کے چھلکے کو فضول سمجھ کر کچرے میں پھینک دیتے ہیں، مگر جب میں نے مٹر کے چھلکے پر تحقیق کی تو ایک حیران کن حقیقت سامنے آئی۔ بظاہر یہ چھلکا سخت اور بے ذائقہ لگتا ہے، مگر اس کے اندر چھپی غذائیت خاموشی سے جسم پر گہرا اثر ڈالتی ہے۔ مٹر کے چھلکے میں dietary fiber کی مقدار زیادہ ہوتی ہے، جو نظامِ ہاضمہ کے لیے نعمت ہے۔ یہ فائبر آنتوں کی صفائی میں مدد دیتا ہے، قبض سے بچاتا ہے اور کھانے کو آہستہ آہستہ ہضم ہونے میں مدد فراہم کرتا ہے۔ تحقیق بتاتی ہے کہ فائبر خون میں شوگر کے اچانک بڑھنے کو بھی روکتا ہے اور insulin پر دباؤ کم کرتا ہے، اسی لیے یہ شوگر کے مریضوں کے لیے بھی فائدہ مند ہے۔
مٹر کے چھلکے میں موجود plant compounds اور antioxidants جسم میں سوزش (inflammation) کم کرنے میں مدد دیتے ہیں، جو دل کی بیماریوں، موٹاپے اور ہارمونل مسائل کے خطرے کو کم کرتے ہیں۔ فائبر پیٹ کو دیر تک بھرا رکھنے کا احساس دیتا ہے، بار بار کھانے کی خواہش کم کرتا ہے اور وزن کے کنٹرول میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ علاوہ ازیں، مٹر کے چھلکے کا فائبر آنتوں میں موجود اچھے بیکٹیریا کے لیے خوراک کا کام کرتا ہے، جو نہ صرف ہاضمہ بہتر بناتے ہیں ہ immunity اور ذہنی صحت پر بھی اثر ڈالتے ہیں۔
آخر میں یہ سمجھ آتا ہے کہ مسئلہ غذاؤں کی کمی نہیں بلکہ ہمارے استعمال کے طریقے کا ہے۔ مٹر کا چھلکا جسے ہم عام طور پر ضائع کر دیتے ہیں، دراصل ایک قابلِ استعمال غذائی حصہ ہے۔ اسے اچھی طرح دھو کر سبزی میں باریک کاٹ کر شامل کیا جا سکتا ہے، خاص طور پر سوپ، یخنی، دال یا سالن میں، جہاں اس کا ذائقہ نمایاں نہیں ہوتا مگر غذائیت شامل ہو جاتی ہے۔ مٹر کے چھلکے کو ابال کر اس کا پانی بھی استعمال کیا جا سکتا ہے، جو فائبر اور قدرتی اجزاء کا ہلکا ذریعہ بنتا ہے۔ اگر اسے دھو کر سائے میں اچھی طرح سکھا لیا جائے تو اس کا پاؤڈر بھی بنایا جا سکتا ہے، جو تھوڑی مقدار میں نیم گرم پانی کے ساتھ لیا جا سکتا ہے۔ احتیاط کے ساتھ آدھا چائے کا چمچ سے آغاز بہتر ہے کیونکہ زیادہ مقدار لینے سے گیس یا پیٹ میں بھاری پن ہو سکتا ہے۔ یہ پاؤڈر دہی یا سوپ میں شامل کرنا بھی ایک محفوظ اور مؤثر طریقہ ہے۔
۔