Zakaat Consultant مستشار الزکوٰۃ

Zakaat Consultant مستشار الزکوٰۃ

Share

Zakaat is an ibadah of Islam which has to be performed according to the directions of Allah swt. Thi You may inbox us.
2. You may call us.
3.

There are many muslims who pay zakaat but they don't know about the calculation process of zakaat. This page is being managed by a group of shariah consultants to teach the people better about zakaat. This page will provide all information about zakaat for the benefit of muslim ummah. This page will cover all zakaat information for individuals, companies and NGOs. You may ask about your zakaat issues, We will reply you according to Quran & Sunnah.
1. You may send us email on given address.

17/07/2024

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ

11/05/2024

اپنے پیداوار کا دسواں حصہ نکالیں ۔
عشر ضرور ادا کریں
#عشر #مستشارالزکوة

10/05/2024

زکوٰۃ کے باب میں کو ن سے تولے کا اعتبار ہوگا ؟

جواب
زکٰوۃ میں اس تولے کا اعتبار ہوگا ، جو11گرام اور 664 ملی گرام کےبرابر ہو ۔ اس لیے کہ ایک درہم 3 گرام اور 0.618 ملی گرا م کاہوتاہے ، اور تولے میں 3.809523 دراہم ہوتے ہیں ،تو ان کو آپس میں ضرب دینے سے تولے کی یہی مقداربنتی ہے ۔ او ر سونے کا نصاب 20 مثقال ہے ، اور ایک مثقال 4گرام اور 374 ملی گرام کا ہوتا ہے ، اور اس کو مجموعہ(20 مثقال ) کے ساتھ ضرب دینے سے کل 87.48 گرام بنتےہیں ، پھر اس کو 7.5 پر تقسیم کرنے کے بعد تولے کی یہی مقدار بنتی ہے ۔

اوزان شرعیہ میں ہے :

[فتاوی حمادیہ سے نقل کرتےہوئے فرماتے ہیں : ]" و القيراط حبة و أربعة اخماس حبة ، فيكون وزن الدرهم خمسة و عشرون حبة و خمس حبة ، و كل تولجة ثلثة دراهم و عشرون حبة و خمسا حبة ...إلخ."

( اوزان شرعیہ ، مؤلف : مفتی محمد شفیع ، ص: ۲۲، طبع : ادارۃ المعارف کراچی )

وفیہ أیضا :

’’ مثقال یا دینار ۔۔ 4.5 ماشہ ۔۔ 4.374 گرام

درہم ۔۔ 25.2 رتی ۔۔ 3.0618 گرام

سونے کانصاب ۔۔ 7.5 تولہ ۔۔ 87.48 گرام

چاندی کا نصاب ۔۔ 52.5 تولہ ۔۔ 612.36 گرام ‘‘

( اوزان شرعیہ ، مؤلف : مفتی محمد شفیع ، ص: ۶۲ ، طبع : ادارۃ المعارف کراچی )

فقط واللہ أعلم

23/04/2024
20/04/2024

کیا آپ نے اس سال زکوٰۃ ادا کی ہے ؟ اگر نہیں تو ابھی سے ادا کرنے کا عزم کریں اور فریضہ زکٰوۃ ادا کیجیئے

19/04/2024

جس طرح مستحقِ زکات شخص کو زکات کی رقم دی جا سکتی ہے اسی طرح زکات کی رقم سے راشن خرید کر اس کو مالک بنایا جا سکتا ہے، ایسا کرنے سے زکات دینے والے کی زکات ادا ہو جائے گی۔ البتہ جتنی رقم کا راشن خریدا گیا اور مستحق کو مالک بناکر دیا گیا، اتنی رقم کی زکات ادا ہوگی، راشن خرید کر لانے اور منتقل کرنے کا کرایہ، راشن پیکج بنانے کے لیے مزدوروں کی اجرت وغیرہ زکات کی رقم سے ادا کرنا درست نہیں ہوگا، اگر ایسا کیا گیا تو جتنی رقم کرایہ وغیرہ میں صرف ہوگی اتنی زکات ادا نہیں ہوگی۔

18/04/2024

زکات کا حکم مکہ مکرمہ میں نازل ہوا، البتہ نصاب اور مقدارِ زکات کا بیان ہجرت کے بعد سن دو (2) ہجری کو مدینہ طیبہ میں ہوا، اور زکات کی وصول یابی کا نظام فتحِ مکہ کے بعد سن آٹھ (8) ہجری کو عمل میں آیا۔

06/04/2024

زکات کے نصاب کی تفصیل یہ ہے:

اگر کسی کے پاس صرف سونا ہو تو ساڑھے سات تولہ سونا، اور صرف چاندی ہو تو ساڑھے باون تولہ چاندی، یا دونوں میں سے کسی ایک کی مالیت کے برابر نقدی یا سامانِ تجارت ہو ، یا یہ سب ملا کر یا ان میں سے بعض ملا کر مجموعی مالیت چاندی کے نصاب کے برابر بنتی ہو تو ایسے شخص پر سال پورا ہونے پر قابلِ زکات مال کی ڈھائی فیصد زکات ادا کرنا لازم ہے۔

واضح ہوکہ زکات کا مدارصرف ساڑھے سات تولہ سونے پراس وقت ہے کہ جب کسی اور جنس میں سے کچھ پاس نہ ہو، لیکن اگر سونے کے ساتھ ساتھ کچھ اور مالیت بھی ہےتوپھرزکات کی فرضیت کا مدار ساڑھے باون تولہ چاندی پرہوگا۔فقط واللہ اعلم

04/04/2024

"عن علي رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: « قد عفوت عن الخيل والرقيق فهاتوا صدقة الرقة من كل أربعين درهماً درهم، وليس فى تسعين ومائة شىء فإذا بلغت مائتين ففيها خمسة دراهم".

ترجمہ: حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے گھوڑوں اور لونڈی و غلام کی زکاۃ معاف کر دی (یعنی یہ تجارت کے لیے نہ ہوں تو ان میں زکاۃ نہیں )پس چاندی کی زکاۃ دو ہر چالیس درہم پر ایک درہم (لیکن خیال رہے ) ایک سو نوے درہم میں زکاۃ نہیں ہے، جب دو سو درہم پورے ہوں گے تب زکاۃ واجب ہوگی اور زکاۃ میں پانچ درہم دینے ہوں گے ۔ (سنن الترمذی،باب زکاۃ الذھب والفضۃ،3/16بیروت-سنن ابی داؤد،باب فی زکوۃ السائمۃ2/11)

03/04/2024

اپنے اصول و فروع کو زکوۃ دینا جائز نہیں ہے
زکوۃ کے مسئلہ میں اصول سے مراد زکوۃ دینےوالےکے والد، والدہ، دادا، دادی، نانا،نانی، پڑدادا، پڑدادی، پڑنانا، پڑنانی، یا ان سے اوپر کے اجداد ہیں، جب کہ فُروع سے مراد اس کی اولاد یا اولاد کی اولاد یعنی بیٹے، بیٹیاں، پوتے، پوتیاں، نواسے نواسیاں اور ان کی اولاد در اولاد ہے،ان کو زکوۃ دینا جائز نہیں۔

29/03/2024

زکوٰۃ دین اسلام کے پانچ بڑے ارکان میں سےتیسرا بڑا رکن ہے، زکوٰۃ ادا نہ کر نے والوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں بہت سخت وعیدبیان فرمائی ہے چنانچہ ارشاد باری ہے:﴿والَّذِينَ يَكْنِزُونَ الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ وَلا يُنفِقُونَهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابٍ أَلِيمٍ﴾(التوبة:34)ترجمہ : اور جو لوگ سونا اور چاندی کا ذخیرہ کرتے ہیں اور اسے اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے تو انہیں دردناک عذاب کی خبر سنا دیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےبھی زکوٰۃ نہ دینے پر سخت وعیدیں بیان کی ہیں ، جن میں سے ایک یہ روایت ہے: عن ابن مسعود"أُمِرْنَا بِإِقَامِ الصَّلَاةِ وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ، فَمَنْ لَمْ يُزَكِّ فَلَا صَلَاةَ لَهُ"(طبرانی)ترجمہ: حضرت ابن مسعود  سے روایت ہےکہ ہمیں نماز قائم کرنے اور زکوٰۃ دینے کا حکم دیا گیا ہے، لہٰذا جس نے زکوٰۃ نہیں دی اس کی نماز قبول نہیں ہے۔اس حدیث میں نماز کے کمال کی نفی ہے نہ کہ نماز کی قبولیت کی نفی ہے یعنی اس کی نفی نہیں کہ نماز ہو ئی ہی نہیں ہے بلکہ نماز کا پورا اجر اور فائدہ اس کو نہیں ملتا جس طرح کہ"لا إيمان لمن لا أمانة له، ولا دين لمن لا عهد له"میں کمال ایمان اور کمال دین کی نفی ہوئی ہے اس طرح "فَمَنْ لَمْ يُزَكِّ فَلَا صَلَاةَ لَهُ"میں کمال نماز کی نفی ہوئی ہے۔

Want your school to be the top-listed School/college in Rawalpindi?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Telephone

Address


Rawalpindi
46000