Learnarabicandquranonline.com

Learnarabicandquranonline.com LearnArabic And Quran online when you are free

Permanently closed.

we teach quran al krem with tajweed online and also arabic language bacic grammar conversetion online bacic islam
by skype skype id hayat.ullah25 whatsup number +923057275476
OR Email on [email protected]

21/12/2025
01/01/2025

Assalam o Alaikum
Join us for online Quran classes:
1) one to one classes
2) 30 min class duration
3) no age or gender limits
4) 2, 3 or 5 sessions a week
5) trial classes are free for a week. You can choose 3, 4 or 5 sessions a week.
6) in these classes you get to learn the basics ( Qaida, Quran,Quran translation, Tajweed, prayer with translation, Duas and so on) and u can contact us
For contact
03057275476
Or Email [email protected]

23/12/2024
23/12/2024

توہین کو طاقت بنائیے
(قاسم علی شاہ)
انیس ویں صدی کے آخر میں پولینڈ پر روس کا قبضہ تھا۔ روس نے پولش زبان اور ثقافت کو دبانے کے لیے سخت اقدامات کیے تھے۔ یہ صورت حال پولش لوگوں کے لیے اذیت کا باعث تھی، چنانچہ 1885 ء میں علم دوست اساتذہ اور طلبہ جمع ہوئے اور انھوں نے ایک یونی ورسٹی قائم کی جس کا نام ”فلائنگ یونیورسٹی“رکھا گیا کیوں کہ اس کی مستقل عمارت نہیں تھی بلکہ گھروں، خفیہ مقامات اور نجی عمارتوں میں کلاسیں لگا کرتی تھیں۔ طلبہ اور اساتذہ کو سخت خطرات کا سامنا تھا، پکڑے جانے کی صورت میں جلاوطن ہونے کا اندیشہ بھی تھا لیکن ان کی علم حاصل کرنے کی لگن کم نہ ہوئی۔ اسی یونی ورسٹی سے ماریا سکلوڈوسکا نامی لڑکی نے بھی تعلیم حاصل کی جس نے کچھ برس بعد اپنی تحقیق سے انقلاب برپا کر دیا۔ ماریا کی بہن پیرس جاکر میڈیکل کی ڈگری لینا چاہتی تھی، بہن کی خواہش پورا کرنے کے لیے ماریا نے ٹیوشن پڑھانا شروع کیا لیکن اس دوران ایسا ناخوش گوار واقعہ پیش آیا جس نے ماریا کی زندگی بدل کر رکھ دی۔ ماریا امیر خاندان کی بچی کو ٹیوشن پڑھاتی تھی۔ بچی کا بڑا بھائی ماریا میں دلچسپی لینے لگا۔ یہ تعلق گہرا ہوتا گیا یہاں تک کہ دونوں نے شادی کا فیصلہ کرلیا۔ لڑکے کی ماں کو معلوم ہوا تو اس نے ماریا کو کان سے پکڑ کر باہر نکال دیا، اس نے اپنے ملازموں کو بلایا اور چلاتے ہوئے کہا، ”اس لڑکی کو دیکھو، اس کے پاس کپڑوں کا صرف ایک جوڑا ہے، اسے دن بھر میں ایک ہی بار کھانا ملتا ہے لیکن یہ میرے گھر کی بہو بننے کا خواب دیکھ رہی ہے۔“اس توہین آمیز رویے سے ماریا کی عزت نفس مجروح ہوگئی اور اس نے وہیں کھڑے کھڑے خود کو مثال بنانے اور کچھ کر دکھانے کا فیصلہ کیا۔ اگلے پانچ برس اس نے شدید محنت کی، وہ معمولی کھانا کھاتی اور دن میں 20 گھنٹے پڑھتی تھی۔ اسی کسمپرسی کے عالم میں اس نے پی ایچ ڈی کرلی۔وہ یہ بات ثابت کرنا چاہتی تھی کہ یورینیم سے روشنی نکل سکتی ہے۔ وہ اس چیز پر تحقیق کرنے لگی۔ اس نے چار برس تک تقریباً 8 ٹن لوہا پگھلایا اور اس میں سے مٹر کے دانے کے برابر ریڈیم حاصل کی۔ اس دوران بھٹی کے زہریلے دھوئیں نے اس کے پھیپھڑوں میں سوراخ کر دیے تھے لیکن اس نے ہمت نہیں ہاری اور بالآخر اس نے طب کی تاریخ کو بدل کر رکھ دیا۔ ماریا کی تحقیق کینسر کے لاکھوں مریضوں کے لیے زندگی کا پیغام لے کر آئی اور دنیا بھر میں اسے عزت و عقیدت سے نوازا گیا۔ اس شان دار کارنامے پر 1903ء میں اسے نوبل انعام برائے طبیعیات سے نوازا گیا جب کہ1911ء میں اسے نوبل انعام برائے کیمیا سے بھی نوازا گیا۔ اس عظیم عورت کو دنیا مادام کیوری کے نام سے جانتی ہے۔ دنیا کی تاریخ میں یہ واحد خاتون ہے جسے دو مختلف شعبوں میں نوبل انعام ملا۔ اس کی اعلیٰ ظرفی دیکھیے کہ جب اسے اس کی ایجاد کے بدلے میں اربوں ڈالر کی پیش کش ہوئی تو اس نے کہا کہ میں اپنی ایجاد اس کمپنی کو دوں گی جو کینسر کی ایک مریضہ کا مفت علاج کرے گی۔ یہ عورت وہی تھی جس نے کسی زمانے میں ماریا کو بے عزت کرکے گھر سے نکالا تھا۔

امام علی کرم اللہ وجہہ کا فرمان ہے کہ ”میں نے ہمیشہ زمانے کو بدلتے دیکھا۔ یہاں نہ غم ہمیشہ رہتا ہے نہ خوشی باقی رہتی ہے۔“

زندگی ہمیں جہاں قبولیت کے بے شمار مواقع فراہم کرتی ہے وہیں کچھ لمحات ایسے بھی آتے ہیں جو ہمیں مسترد ہونے کی اذیت دے جاتے ہیں۔ کبھی ہماری بھرپور محنت پلک جھپکتے ضائع ہوجاتی ہے، کبھی کوئی ہماری غربت کا مذاق اڑاتا ہے، کبھی کوئی ناکامی کا طعنہ دے کر ہمارے حوصلے توڑنے کی کوشش کرتا ہے اور کبھی معمولی کوتاہی پر لوگ ہمیں اپنی طنزیہ باتوں کا نشانہ بناتے ہیں۔ ان تمام مواقع پر ہم شرمندگی، ندامت، کمتری اور غصہ محسوس کرتے ہیں۔ اکثر لوگ انتقامی کیفیت میں آجاتے ہیں اور اپنی بے عزتی کرنے والے شخص کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں۔ بعض لوگ اس اذیت کو برداشت نہیں کرپاتے اور خودکشی جیسا بھیانک قدم بھی اٹھالیتے ہیں لیکن کچھ لوگ ایسے ہیں جو توہین کو اپنی طاقت بنالیتے ہیں۔ یہ چیز ان کے سینے میں تڑپ کی آگ جلاتی ہے جس سے توانائی پاکر وہ اعلیٰ مقاصد حاصل کر لیتے ہیں۔

درد کو تعمیر میں بدلنے والے جذبے کو علم نفسیات میں Self-Determination کہا جاتا ہے۔ یہ خود سازی کا ایسا جذبہ ہے جو انسان کو منفی جذبات اور مشکلات کا سامنا کرنے کے قابل بناتا ہے۔ اس کے تین اجزا ہیں۔ پہلا جز ”خود مختاری“ ہے۔ انسان چاہتا ہے کہ وہ اپنی زندگی کے فیصلے خود کرے۔ انسان اپنی توہین یا ناکامی کا ازالہ تب کر سکتا ہے جب وہ اپنی زندگی کا نظم و ضبط اپنے ہاتھ میں لے۔ دوسرا جز مہارت ہے۔ کسی بھی ہدف کو حاصل کرنے کے لیے صلاحیتیں درکار ہوتی ہیں اور جیسے جیسے انسان مہارتوں کو نکھارتا ہے ویسے ویسے اس کا اپنی ذات پر اعتماد بڑھتا جاتا ہے۔ تیسرا جز رابطہ ہے۔ انسان دوسروں سے جڑنا اور خوش گوار تعلق بنانا چاہتا ہے۔ کیوں کہ اسی بنیاد پر وہ معاشرے میں عزت پاسکتا ہے۔
Self-Determination
انسان کے اندر حوصلہ اور لچک پیدا کرتا ہے۔ یہ ایسی نفسیاتی قوت ہے جو انسان کو مشکلات تسلیم کرنے، بہادری کے ساتھ ان کا سامنا کرنے اور آگے بڑھنے میں مدد فراہم کرتی ہے، نیز یہ اسے مثبت رہنے اور اپنے حالات بہتر بنانے کے لیے کوشش کرنے کی ہمت بھی دیتی ہے۔

یہ بات یاد رکھنے کی قابل ہے کہ خودسازی کا جذبہ ویسے نہیں بنتا بلکہ اس کے لیے چند چیزیں بنیادی اہمیت رکھتی ہیں۔ اگر یہ عناصر موجود نہ ہوں تو اس جذبے سے بھرپور فوائد حاصل نہیں کیے جاسکتے۔

پہلی چیز اپنا جائزہ لینا ہے۔ جب انسان حقارت کا سامنا کرتا ہے تو یہ احساس اس کے اندر تبدیلی کی خواہش پیدا کرتا ہے۔ اس لمحے وہ اپنے حال پر غور کرتا ہے اور سوچتا ہے کہ اسے اپنی زندگی میں بہتری لانے کے لیے کیا کرنا چاہیے۔ محرومی کا یہ احساس منفی ہو سکتا ہے، البتہ اگر اسے مثبت رنگ دے دیا جائے تو یہ ترقی اور کامیابی کا سبب بن سکتا ہے۔

دوسری چیز عزم ہے۔ یہ وہ طاقت ہے جو انسان کو اپنی حالت بہتر بنانے اور مسلسل کوشش کرنے پر آمادہ کرتی ہے۔

تیسری چیز خود اعتمادی ہے۔ جب انسان کے اندر یہ یقین پیدا ہوجائے کہ وہ اپنی محنت اور قابلیت کی بدولت کسی بھی مشکل پر قابو پاسکتا ہے تو وہ مزید پختگی کے ساتھ آگے بڑھتا ہے۔

چوتھی چیز ترقی کی خواہش ہے۔ یہ خواہش انسان کو مسلسل سیکھنے، اپنی صلاحیتیں بہتر بنانے اور اپنی شخصیت نکھارنے کی ترغیب دیتی ہے۔

پانچویں چیز نیت ہے۔ جب انسان کسی مقصد کے حصول کے لیے پختہ ارادہ کرلے تو وہ بڑی سے بڑی کام یابی حاصل کرسکتا ہے،چاہے راستے میں کتنی ہی مشکلات کیوں نہ آئیں۔

آپ کے ذہن میں شاید یہ سوال آرہا ہو کہ اگر ہم زندگی میں کسی ایسی صورت حال کا شکار ہوجائیں تو خود سازی کا جذبہ کیسے پیدا کرسکتے ہیں اور اسے بہترین انداز میں کیسے استعمال کرسکتے ہیں؟

ذیل میں ہم نے کام یاب شخصیات کی مثالوں کے ساتھ چند تجاویز دی ہیں جو آپ کے لیے یقینا کارآمد ہوں گی۔

(1) مقصد کا تعین کریں
اپنے جذبات پر قابو رکھنا اور منفی جذبے کو مثبت جذبے میں بدلنا انسان کی بڑی کام یابی ہے۔ جب ہمیں کسی ناخوش گوار واقعے کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو اس صورت میں ہمارا مزاج برہم ہوجاتا ہے لیکن یقین جانیے کہ یہ ایک بہترین موقع ہے کہ ہم اپنے اندر جھانکیں اور اپنے لیے بڑا مقصد متعین کریں۔ یوں منفی توانائی کو مثبت رُخ مل جائے گا اور اس کی بدولت ہم بہترین نتائج حاصل کرسکیں گے۔ چین کی معروف کاروباری شخصیت جیک ما کی مثال ہمارے سامنے ہے۔وہ نوکری حاصل کرنا چاہتا تھا لیکن اسے کئی بار مسترد کر دیا گیا، البتہ اس نے ہار نہیں مانی اور”علی بابا گروپ“کے نام سے ایک کمپنی بنائی جس کا شمار آج دنیا کی سب سے بڑی ای کامرس کمپنیوں میں ہوتا ہے۔

(2) شخصی بہتری پر توجہ دیں
توہین یا ناکامی کا سامنا کرنے کے بعد ہمیں اپنی قابلیت اور مہارتوں کو بڑھانا چاہیے تاکہ اگلی بار کوئی ہمیں طعنہ نہ دے سکے۔ ایسے میں خود سازی کا جذبہ ہمیں اپنی شخصیت اور صلاحیتیں نکھارنے میں بھرپور مدد دیتا ہے جس سے نہ صرف ہم اپنی زندگی میں بلکہ دوسروں کی زندگیوں میں بھی بہتری لا سکتے ہیں۔

اس کی بہترین مثال مائیکل جارڈن ہے۔ آج مائیکل کا شمار دنیا کے بہترین باسکٹ بال کھلاڑیوں میں ہوتا ہے لیکن ابتدا میں اسے اسکول کی ٹیم سے نکال دیا گیا تھا، البتہ اس واقعے نے اسے بھرپور تحریک دی۔ اس نے دن رات محنت کی اور اپنی مہارتوں کو اس قدر نکھارا کہ نہ صرف اسے ٹیم کے لیے منتخب کیا گیا بلکہ اس نے اپنی کارکردگی سے دنیا بھر میں نام بھی کمایا اور باسکٹ بال کی دنیا پر حکمرانی کرنے لگا۔

(3) مشکلات کو سیکھنے کا ذریعہ بنائیں
آپ کو یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ تلخ تجربہ آپ کا بہترین استاد بن سکتا ہے۔ مشکل حالات ہمیں صبر، حوصلہ اور جہد مسلسل کا درس دیتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ مشکلات سے سیکھنے والا فرد زیادہ سمجھ دار ہوتا ہے۔ اس کی مثال ہیلن کیلر ہے۔ ہیلن بصارت اور سماعت سے محروم تھی لیکن اس نے اپنی معذوری کو مجبوری نہیں بنایا۔ اس نے تعلیم حاصل کی، لکھنا سیکھا اور ادب و سماجی خدمت میں بے مثال کارنامے سرانجام دیے۔

(4) دوسروں کے لیے مثال بنیں
مشکلات سے نکل کر کام یابی حاصل کرنے والا انسان دوسروں کے لیے مثال بن جاتا ہے۔ ایسا شخص اپنے تجربات کے ذریعے دوسروں کو تحریک دے سکتا ہے اور انھیں مسائل سے نکلنے کا راستہ بھی دکھا سکتا ہے۔ اس نکتے کی عمدہ ترین مثال عبد الستار ایدھی ہے۔ ایدھی صاحب نے غربت میں بچپن گزارا اور انھیں بے شمار مسائل کا سامنا کرنا پڑا لیکن ان مشکلات نے انھیں یہ حوصلہ دیا کہ وہ خود کو انسانیت کی خدمت کے لیے وقف کرے، چنانچہ انھوں نے خدمت خلق کے ذریعے ایسے شان دار کارنامے سرانجام دیے کہ دنیا بھر میں عظیم مثال بنے۔

(5) منفی توانائی کو مثبت میں بدلیں
آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ غصہ اگرچہ منفی چیز ہے لیکن اس میں بھرپور توانائی پائی جاتی ہے۔ غصے میں آپ کے پاس یہ اختیار ہوتا ہے کہ اسے منفی توانائی سے بدلیں یا مثبت توانائی سے۔اگر آپ اپنے غصے اور انتقامی جذبات کو مثبت رنگ دے دیں تو نہ صرف اپنی ذات بلکہ معاشرے کے لیے بھی مفید انسان بن جائیں گے۔ اس عمل سے نہ صرف آپ کے دل کا بوجھ ہلکا ہوگا بلکہ آپ دوسروں کو خوشی بھی دے سکیں گے۔

وکٹر فرینکل معروف ماہر نفسیات تھا جسے دوسری جنگ عظیم میں جرمن فوج نے قید کرلیا تھا۔اس نے کیمپ کی سختیاں جھیلیں لیکن شدید مایوسی اور ہر لمحہ موت کے خوف کے باوجود اس نے اپنی اذیت کو ایک نفسیاتی نظریہ (Logotherapy) میں تبدیل کیا اور قید سے رہا ہوکر Man's Search for Meaning جیسی شان دار کتاب لکھی۔

فرانسیسی ڈراما نگار مولیئر (Molière) کہتا ہے کہ عقل مند شخص ہر قسم کی توہین سے بالا تر ہوتا ہے۔ نامناسب رویے کا بہترین جواب صبر اور اعتدال ہے۔

یاد رکھیں کہ جب بھی کوئی شخص آپ کا مذاق اڑائے، آپ پر ہنسے یا آپ پر طنز کرے تو اس وقت آپ کے پاس دو راستے ہوتے ہیں۔
ایک راستہ یہ ہے کہ آپ اس صورت حال سے دلبرداشتہ ہوجائیں اور پختہ ارادہ کرلیں کہ میں نے اس شخص سے بدلا لینا ہے۔ آپ انتقام کی آگ میں جلتے رہیں، ہر وقت اسے نیچا دکھانے کے لیے سازشیں کرتے رہیں، سوچ سوچ کر شدید ذہنی اذیت میں زندگی گزارتے رہیں اور اپنی صلاحیتوں کا گلا گھونٹتے رہیں۔

جب کہ دوسرا راستہ یہ ہے کہ آپ اس منفی توانائی کو مثبت رُخ دیں، اسے کسی مقصد کے ساتھ جوڑیں، اپنی کمزوریوں کو دور کریں اور اپنے اندر ایسی تڑپ پیدا کریں جو آپ کو اپنی منزل پانے کے لیے بڑی سے بڑی قربانی پر بھی تیار کرے۔ آپ دنیا سے بدلا ضرور لیں لیکن مثبت انداز میں اور کچھ بن کر دکھائیں تو یقینا آپ معاشرے کے لیے مثال بن جائیں گے۔

15/12/2024

وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْآنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُدَّكِرٍ
(سورۃ القمر: 17)
ترجمہ:
اور بے شک ہم نے قرآن کو نصیحت کے لیے آسان کر دیا ہے، تو کیا کوئی نصیحت حاصل کرنے والا ہے؟

Learned Quran online at home anytime anywhere anyage
Call now +923057275476

Address

Rawalpindi

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Learnarabicandquranonline.com posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category