بارش کی بوندیں ابھی گر رہی تھی۔وہ گلی کے کونے پر پہنچ کر وہ ٹھٹک گیا۔ اس بزرگ کو اس نے گزشتہ روز بھی ایک ٹوٹی پھوٹی میز پر کچھ سبزی اور چند قسم کےفروٹ فروخت کے لئے سجائے دیکھا تھا اور دوبارہ دیکھے بغیر گاڑی گلی میں گھر کی طرف موڑ لی تھی۔
آج وہ پیدل تھا۔
اس کے ٹھٹکنے کی وجہ دس بارہ سال کا ایک بچہ اور پاس کھڑی اس کی ماں تھی۔
بارش سے بے نیاز.
کسی گاہک کی آس میں ان کی نظروں میں آس ویاس کا ملا جُلا تاثر تھا۔
وہ کچھ لینا نہیں چاہ رہا تھا۔ لاک ڈاؤن کی وجہ سے دو روز پہلے ہی منڈی سے کافی کچھ لے آیا تھا۔ مزید لینے کا مطلب پیسے اور چیزوں کا ضیاع ہوتا۔
نماز کے بعد تلاوت کرنے بیٹھا تو بار بار ان بھیگتے ہوئے ماں بیٹے کا تصور اسے بےچین کرنے لگا۔ جب وہ ایک آیت تک پہنچا کہ (،،ترجمہ) "پھر تم سےسوال کیا جائے گا کہ تم سونا چاندی بچا بچا کر اکٹھا کرتے رہے۔ اللّٰه کی راہ میں کیوں نہیں خرچ کیا۔ تو آج تھاری پیشانیاں، اور کاندھے اور کمریں اسی پگھلے ہوئے گرم سونے اور چاندی سے داغی جائیں گی۔"
تو دل سے آواز ابھرنے لگی۔
کیا فائدہ اس عبادت کا؟
جب تم غربت میں پستے ہوئے دو مجبور انسانوں کی مجبوری دیکھ کر بھی نہیں پگھل سکے۔
نماز اور تلاوت تو اللّٰه کا معاملہ ہے۔
وہ قبول کرے یا نہ کرے، اس کی مرضی۔
لیکن کیا اس بے حسی پر تمھیں معافی مل جائے گی؟
سارا دن فیسبک پر بیٹھ کر انسانیت کے لیکچر دیتے ہو۔
ہمدردی کی پوسٹیں لگاتے ہو۔
لیکن خود تم سے بڑا خود غرض کوئی ہو سکتا ہے؟
اس کا ضمیر اسے ملامت کر رہا تھا۔
اس نے مصحف کو ادب سے بند کیا اور اٹھ کر برساتی پہننے لگا۔
"کہاں جا رہے ہیں؟ "
بیوی نے پریشان ہوکر پوچھا۔
وہ آیسولیشن کے معاملے میں بہت سخت تھی۔
بچوں کو بھی نہیں نکلنے دیتی تھی۔
بہت ضروری طور پر نکلنا ہوتا تو ماسک، سینیٹائزر، ڈسپوزایبل دستانے، سب کی پابندی کرنا ہوتی۔
"کہیں نہیں ۔ گلی کے کونے تک"۔
وہ پرس جیب میں رکھتے ہوئے بولا. پھر پوری بات بتائی۔
اس کی آواز بھرا گئی۔
"کون آئے گا اس پوش علاقے میں، بارش میں ان سے سبزی یا فروٹ خریدنے۔؟ وہ گداگر نہیں ہیں ۔ محنت کش ہیں ورنہ بارش میں نہ بھیگ رہے ہوتے۔"
"ٹھہریں ۔آپ ایک نیک مقصد کے لئے جا رہے ہیں ۔میرا شئیر بھی شامل کرلیں۔"
جبھی کمرے سے بیٹے کی آواز آئی جو یہ سب سُن رہا تھا۔ "پاپا! میری طرف سے بھی ۔" اس نے باپ کی طرف کچھ پیسے بڑھا دئے۔
اس سے بات نہیں ہو پا رہی تھی۔
بس آنسو نکل رہے تھے۔
وہ دعا مانگ رہا تھا کہ وہ لوگ چلے نہ گئے ہوں۔
وہ باہر نکل آیا۔
بارش کے بس اکا دکا قطرے ہی گر رہے تھے ۔
گلی کے کونے پر ماں بیٹا اسی طرح پھلوں اور سبزی کی میز کے آگے بھیگے ہوئے کھڑے تھے۔
کوئی گاہک دور دور تک نہیں تھا۔
پاس جاکر وہ بچے سے ہر چیز کا بھاؤ پوچھنے لگ گیا۔جبھی وہ بزرگ بھی کہیں سے آپہنچا۔
"بھائی! ان سب فروٹس اور سبزی کا کیا لگاؤ گے؟ "اس نے پوچھا۔
"تول دوں صاحب؟ "
وہ خوش ہوگیا تھا۔
عورت بھی اپنے میاں کے قریب آگئی تھی اور حیرت سے دیکھ رہی تھی۔
"نہیں ۔ایسے ہی بتا دو حساب کر کے۔ اپنا منافع بھی شامل کر لو۔
مجھے سارا سامان لینا ہے۔ منڈی نہیں جا سکتا۔ کرونا پھیلا ہوا ہے۔"
وہ آدمی تھوڑی دیر حساب لگا تا رہا. پھر بولا۔
"سر! ۔۔۔۔۔۔۔ ہزار بنتے ہیں۔"
"کوئی رعایت نہیں کرو گے؟"
اس نے ٹٹولا۔
"آپ دوسرے گاہک ہیں صبح سے۔
پہلا گاہک ایک شربوزہ لے کر گیا تھا۔
ایسا کریں۔
دوسو کم دے دیں۔
میرا بھی وقت بچ جائے گا۔"
اس نے پرس سے نوٹ نکالے اور اس کی طرف بڑھا دئے۔
"ٹھیک ہے۔ جتنے تم نے پہلے کہے ہیں اتنے میں ہی دے دو۔"
"شاپر میں ڈال دوں؟ الگ الگ۔؟"
"نہیں ۔
انھیں ادھر ہی رہنے دو۔
اب یہ سامان میرا ہوا۔
چاہو تو غریبوں کو دے دینا۔
اور چاہو تو بیچ دینا ۔
میری طرف سے اجازت ہے۔"
اس کی بیوی بولی۔
"بھائی! کچھ تو لے جائیں۔"
اس نے آسمان کی طرف اشارہ کیا۔
"میرا سودا اللّه سے ہو گیا ہے۔
اب اس میں سے میں کچھ نہیں لے سکتا۔"
وہ تیزی سے مڑا۔
آنسو اس کی آنکھوں سے تیزی سے بہے جا رہے تھے.
یہ بیک وقت ندامت، خوف اور شکرانے کے آنسو تھے۔
گھر پہنچتے پہنچتے وہ منہ پر ہاتھ رکھے دھاڑیں مار کر رونے لگا۔
"مجھے معاف کر دے میرے مالک!
میری کسی غلطی پر پکڑ نہ کرنا۔
مجھے تو نے سب کچھ دیا ہے۔
اتنا کہ ساری زندگی شکر کرتا رہوں تو لفظ ختم ہوجائیں۔
اور ایک طرف تیری یہ مخلوق ہے۔
ان کے حال پر رحم کر میرے اللّه!
انھیں بخش دے۔
وہ منہ پر ہاتھ رکھیں چیخوں کا گلا گھونٹنا رہا ۔
اندر داخل ہوا تو بیوی تین برساتیاں لئے کھڑی تھی۔
اس کا چہرہ آنسوؤں سے بھیگا دیکھ کر بیوی کی آنکھیں بھی بھر آئی تھیں ۔
"یہ انھیں دے آئیں۔
ہمیں تو ویسے بھی ابھی ضرورت نہیں ہے۔
کرونا ختم ہوگا تو اور لے آئیںگے۔"
وہ واپس گیا اور برساتیاں بھی انھیں دے دیں۔
پہلی بار اسے اپنی روح اور دل سے بوجھ اترتا محسوس ہوا تھا اور وہ اللّٰه سے معافی مانگ کر خود کو ہلکا پھلکا محسوس کرنے لگا۔
قارئین
اس آپ بیتی، جگ بیتی کا ہر لفظ غور سے پڑھئے گا۔ یہ تحریر پڑھ کر چند افراد بھی اسی راہ پر چل پڑے تو مجھے یقین ہے کہ وہ غفور الرحیم اس بہانے ہماری بخشش ضرور کر دے گا۔ آمین
Noor Academy
An institution to empower the students with qualification as well as skill to compete in any field.
Javed Chaudhry
خان کسی سے نہیں ڈرتا
June 28, 2020 Express
پورے چہرے پر خراشیں تھیں، کانوں سے بھی لہو ٹپک رہا تھا اور ماتھا بھی زخمی تھا، دونوں ہاتھ پیچھے بندھے ہوئے تھے لیکن وہ اس کے باوجود چہرے مہرے اور چال ڈھال سے پاگل نہیں لگتا تھا، میں نے وارڈن سے پوچھا "کیا یہ بھی پاگل ہے" وارڈن نے ہنس کر جواب دیا "پکا، سر سے لے کر پاؤں تک پاگل"۔
میں بات آگے بڑھانے سے پہلے آپ کو اس واقعے کی بیک گراؤنڈ بھی بتاتا چلوں، میں ایم اے کے بعد لاہور میں سی ایس ایس کی تیاری کر رہا تھا، میرا سارا دن پنجاب پبلک لائبریری، برٹش کونسل اور امریکن سینٹر میں گزرتا تھا اور شام کیمپ جیل اور فاؤنٹین ہاؤس میں، میرا ایک دوست کیمپ جیل میں ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ تھا، میں جیل میں اس کے سرکاری گھر میں رہتا تھا، میرا دوسرا دوست فاؤنٹین ہاؤس میں ملازم تھا، میں چلتے چلتے اس کے پاس بھی چلا جاتا تھا، جیل کے قیدیوں اور فاؤنٹین ہاؤس کے پاگلوں سے ملاقاتیں میری زندگی کے حیران کن واقعات تھے اور میں کوشش کے باوجود آج تک یہ واقعات اپنے ذہن سے واش نہیں کر سکا، وہ لڑکا بھی ایک واقعہ تھا، پاگلوں کے درمیان بیٹھا تھا، اس کا پورا چہرہ خراشوں سے بھرا ہوا تھا، ماتھے پر بھی رگڑیں تھیں اور کان اور ناک بھی زخمی تھے۔
عملے نے اس کے دونوں ہاتھ اس کی پشت پر باندھ رکھے تھے اور میل نرس اسے اپنے ہاتھ سے کھانا کھلا رہا تھا، میں نے اپنے دوست سے پوچھا "کیا یہ بھی پاگل ہے" اس نے جواب دیا "پکا سو فیصد" میں نے پوچھا "یہ کس نوعیت کا پاگل ہے" وہ ہنس کر بولا "یہ اذیت پسند ہے" اذیت پسندی اس وقت میرے لیے نئی ٹرم تھی، میں نے حیران ہو کر پوچھا "یہ کس قسم کا پاگل پن ہوتا ہے" اس نے جواب دیا "اذیت پسند خود کو اذیت دے کر خوش ہوتے ہیں، یہ لڑکا اپنا چہرہ نوچتا ہے، ہم جوں ہی اس کے ہاتھ کھولتے ہیں یہ اپنے دونوں ہاتھوں سے اپنا چہرہ نوچنا شروع کر دیتا ہے۔
اپنے چہرے کو ناخنوں سے چھیل کر رکھ دیتا ہے چناں چہ ہم روز اس کے ناخن کاٹتے ہیں تاکہ یہ ناخنوں سے خود کو زخمی نہ کر سکے اور دوسرا ہم اس کے ہاتھ باندھ کر رکھتے ہیں " میں نے پوچھا "کیا ہاتھ بندھنے سے اس کا جنون کم ہو جاتا ہے" وہ بولا "نہیں، اسے جہاں دیوار ملتی ہے یہ اپنا چہرہ اس کے ساتھ رگڑنا شروع کر دیتا ہے، اس کے کان، ناک اور ماتھا دیوار پر رگڑ کھانے سے زخمی ہوا تھا، ہم نے اسی لیے اسے کمرے کے درمیان دیواروں سے دور بٹھا رکھا ہے۔
اس کے ہاتھ زنجیر سے بندھے ہیں اور یہ زنجیر اسے دیواروں تک نہیں پہنچنے دیتی" میں نے غور سے لڑکے کی طرف دیکھا، وہ واقعی کمرے کے درمیان تھا اور اس کی زنجیر اسے دیواروں تک نہیں پہنچنے دے رہی تھی، میں نے پوچھا "کیا یہ بندوبست کافی ہے" میرا دوست ہنس کر بولا "ہرگز نہیں، ہم دوسرے پاگلوں کو بھی اس سے دور رکھتے ہیں کیوں کہ یہ دوسروں کے ساتھ دوستی لگا کر انھیں اپنا چہرہ نوچنے پر رضا مند کر لیتا ہے اور پھر دوسرے پاگل اس کے ساتھ بیٹھ کر اس کے گال کھرچنا شروع کر دیتے ہیں۔
یہ لیٹ کر فرش پر بھی اپنا چہرہ رگڑ لیتا ہے چناں چہ آپ غور کرو، ہم نے اسے دوسرے پاگلوں سے دور رکھا ہے اور اس کے نیچے ربڑ کا فرش ہے" میں نے ایک لمبی سانس لی اور اس پاگل کی طرف بے چارگی سے دیکھنے لگا۔ مجھے ماضی کا یہ کردار روز یادآتا ہے اور میں روز اس نتیجے پر پہنچتا ہوں صرف لوگ اذیت پسند نہیں ہوتے بعض قومیں بھی اپنا چہرہ نوچنے کی نفسیاتی بیماری کا شکار ہوتی ہیں اور ہم وہ اذیت پسند قوم ہیں، آپ کسی دن صرف پچھلے سات سال کا ڈیٹا نکال کر دیکھ لیں، آپ خود کو اس نوجوان کی طرح اپنا چہرہ نوچتے اور رگڑتے ہوئے محسوس کریں گے۔
اسامہ بن لادن عالمی دہشت گرد ڈکلیئر ہو چکا تھا، پاکستان دس سال دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑتا رہا، ہمارے 70ہزار لوگ شہید ہو گئے، القاعدہ نے بھی پاکستان میں سیکڑوں بم دھماکے اور خودکش حملے کرائے لیکن وزیر اعظم نے اچانک 25جون کو قومی اسمبلی میں اسامہ بن لادن کو شہید ڈکلیئر کر کے پوری دنیا کو اپنی طرف متوجہ کر لیا، حکومت اسے سلپ آف ٹنگ (زبان کی غلطی) قرار دے رہی ہے لیکن سلپ آف ٹنگ ہمیشہ پہلے ہوتی ہے اور انسان پھر رک کر اپنی غلطی کی اصلاح کرتا ہے۔
عمران خان نے قومی اسمبلی میں اپنی تقریر میں کہا تھا " اسامہ بن لادن کو امریکنز نے آکر مار دیا اور پھر رک کر اس کی اصلاح کی اور کہا اسے شہید کر دیا" لہٰذا اگر یہ سلپ آف ٹنگ تھی تو یہ پہلے تھی بعد میں اس کی اصلاح کی گئی تھی اور یہ اصلاح ریاست کے بیانیے سے متصادم ہے لہٰذا ہم نے گڑھا مردہ اکھاڑ کر سیدھا سادا اپنا منہ نوچ لیا، ہوا بازی کے وفاقی وزیر غلام سرور خان نے 24 جون کو قومی اسمبلی میں فلائیٹ پی کے 8303 کے حادثے کی رپورٹ پیش کی، خان صاحب نے اچانک رپورٹ سے ہٹ کر اعلان فرما دیا، پاکستان کے 30 فیصد پائلٹس کی ڈگریاں اور لائسنس جعلی ہیں اور ان میں سے بے شمار نے اپنے فلائنگ آورز بھی پورے نہیں کیے۔
پاکستان میں ٹوٹل 860 کمرشل پائلٹس ہیں اور حکومت نے ان میں سے 262 کو مشکوک قرار دے دیا، یہ سول ایوی ایشن کی ایک سو 15 سال کی تاریخ کا انوکھا واقعہ تھا، آج تک دنیا کے کسی ملک کے کسی وزیر نے یہ اعتراف نہیں کیا لہٰذا پوری دنیا میں کہرام مچ گیا، آپ سوچیے کیا اس کے بعد دنیا ہمارے جہازوں کو اپنی فضائی حدود سے گزرنے دے گی، کیا یہ ہمیں اپنی زمین پر لینڈ اور ٹیک آف کی اجازت دے گی لہٰذا ہم نے خود اپنی زبان سے اپنی سول ایوی ایشن کا بیڑا غرق کر دیا، ہم نے ثابت کر دیا ہمارے ملک میں جہاز اڑانے کے لائسنس بھی جعلی مل جاتے ہیں، یہ اگر سچ بھی تھا تو بھی یہ پارلیمنٹ کے فلور پر بولنے کی کیا ضرورت تھی؟ آپ خاموشی سے پائلٹس کے بارے میں تحقیق کرتے اور انھیں چپ چاپ فارغ کر دیتے یا پھر انھیں مستعفی ہونے کا آپشن دے دیتے، ہمیں عالمی دنیا کے سامنے کھڑا ہو کر اپنا منہ نوچنے کا کیا فائدہ ہوا؟ آپ آٹے، چینی اور پٹرول کے بحران کو بھی دیکھ لیجیے، دنیا میں "فوڈ سیکیورٹی" سرحدوں کی حفاظت سے بڑا ایشو ہے۔
کسی ملک کے پاس اگر گندم ہی نہیں ہو گی تو وہ کیسے سروائیو کرے گا؟ ہمارے ملک میں آٹے کا بحران پیدا ہوا اور دو ہفتوں میں قیمت 40 روپے سے 75 روپے ہو گئی، ہم نے ثابت کر دیا ریاست میں آٹے پر نظر رکھنے کی اہلیت بھی نہیں، ہم پچھلے تین ماہ سے اپنے منہ سے یہ بھی بول رہے ہیں، پاکستان میں شوگر مافیا موجود ہے اور یہ مافیا اپنی مرضی سے چینی کی قیمت اوپر نیچے کرتا رہتا ہے، یہ حکومتوں سے سبسڈی لے لیتا ہے اور حکومت نے دو ہفتے قبل خود اپنے منہ سے تسلیم کر لیا پٹرولیم کمپنیاں بھی ریاست کے کنٹرول میں نہیں ہیں اور ریاست پٹرول کی سپلائی بھی بحال نہیں کرا سکتی۔
یہ کیا ہے؟ کیا ہم خود اپنے ہاتھوں سے اپنا منہ نہیں نوچ رہے، آپ 245 ملکوں میں سے کوئی ملک بتایے جس میں پچھلے دس برسوں میں آٹا، چینی اور پٹرول جیسی ضروریات کے مافیاز نے جنم لیا ہو یاکسی ریاست نے اپنے منہ سے ان شعبوں کے بارے میں اپنی بے بسی کا اعتراف کیا ہو اور آپ کرپشن کی داستانیں بھی لے لیں، ہم پچھلے آٹھ سال سے خود اپنے منہ سے مسلسل کہہ رہے ہیں پاکستان کے حکمران کرپٹ ہیں، یہ منی لانڈرنگ بھی کرتے ہیں اور سرکاری خزانے پر ڈاکے بھی ڈالتے ہیں لیکن ہم آج تک ان "چوروں" سے ایک دھیلا وصول نہیں کر سکے۔
الٹا ہم نے ان مقدمہ بازیوں پر اربوں روپے خرچ کر دیے، ہمارے اس پروپیگنڈے کا کیا نتیجہ نکلا؟ دنیا میں ہماری رولنگ ایلیٹ بھی کرپٹ مشہور ہو گئی اور ہمارا احتساب اور انصاف کا نظام بھی کم زور ثابت ہو گیا اور ہم یہ ثابت کرنے کے بعد دنیا کو دعوت دے رہے ہیں یہ یورپ، امریکا، جاپان اور گلف سے اپنا سرمایہ نکال کر پاکستان میں لگا دے۔
آپ یہ بھی دیکھیے ریکوڈک کا پراجیکٹ ہو، کارکے کا ایشو ہو، ایران پاکستان پائپ لائین ہو یا پھر سی پیک ہو ہم خود انٹرنیشنل معاہدوں سے پیچھے ہٹ جاتے ہیں اور پھر اپنے چہرے کی خراشوں کا رونا بھی روتے ہیں اور ملک میں ادویات اور ماسک کی اسمگلنگ تک نکل آتی ہے، ہم کیا ہیں؟ کیا پاگل پن کی کوئی انتہا بھی ہوتی ہے اور اگر ہوتی ہے تو پھر وہ کب آئے گی! ہم کب تک اپنا چہرہ نوچتے رہیں گے؟
خدا کے لیے ان لوگوں کو روکیں، یہ لوگ صرف شغل میں، یہ اپنے آپ کو بہادر ثابت کرنے یا "خان کسی سے نہیں ڈرتا" کا ٹائٹل لینے کے لیے جوہری جنگ تک چھیڑ دیں گے، یہ اپنا چہرہ نوچنے والے لوگ ہیں، یہ خود کسی دن دنیا کو اطلاع دے دیں گے "خبردار پاکستان اور پاکستانی کورونا بم ہیں، آپ ان سے بچ جائیں "آپ یقین کریں یہ لوگ کچھ بھی کر سکتے ہیں، ہمیں اگر اب بھی یقین نہیں آ رہا تو پھر آپ جان لیں قدرت ہم سے ناراض ہو چکی ہے اور جب قدرت ناراض ہوتی ہے تو یہ قوموں کی عقل ساقط کر دیتی ہے، یہ ان سے اچھے اور برے کی تمیز چھین لیتی ہے اور ہم مانیں یا نہ مانیں قدرت ہم سے یہ تمیز چھین چکی ہے، ہمیں چہرے نوچنے والے ہیرو لگ رہے ہیں۔
17/12/2017
06/05/2016
24/06/2015
Beautiful islamic Information
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Telephone
Address
40/13, Street No. 2, Qasimabad, Peshawar Road
Rawalpindi
46000