Spoken English

Spoken English

Share

Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Spoken English, Education, Rawalpindi.

11/11/2024
26/08/2024
02/04/2024

تحریر ۔بنت مریم ،
قدسیہ بی بی۔
آج کل کے جدید ترقیاتی اور مصروف ترین دور میں سب سے بڑا مسلہ تعلیم کا اور ہر گھر میں یہ فیصلہ کرنا نہایت مشکل ترین ہوتا کہ بچوں کیلئے سکول کا انتخاب کیسے کریں۔
عظمی آج کافی دن بعد ملی تو کسی سوچ میں گم تھی میرے پوچھنے پر کہنے لگی، بچوں کی تعلیم کے حوالے سے پریشان ہوں، دو سکول تبدیل کر چکی ہوں لیکن کوئی بہتری نہیں آ رہی“۔

”تم جب بچوں کو کسی سکول میں داخل کرواتی ہو کون سی چیز تمہارے پیش نظر ہوتی ہے“؟ بس کوئی خاص بات تو کبھی نہیں چیک کی۔ پہلے سکول میں بچوں کی والدہ کے کہنے پر داخل کروایا کہ ان کے خاندان کے تمام بچے وہاں پڑھتے تھے۔ لیکن وہ کہتے ہیں کہ اونچی دکان پھیکا پکوان۔ دو سال میں نہ بچوں کی بنیاد بنی اب تک نہ ان کو کچھ پڑھنا لکھنا آیا۔ دوسرے سکول میں میری ایک دوست کے بچے پڑھتے تھے اس نے کہا اچھا سکول ہے میں نے وہاں داخل کروا دیا۔ ایک سال ہو گیا وہاں بھی کوئی خاص فائدہ نہیں ہوا۔ ان کو کسی قسم کے اخلاق و آداب بھی نہیں آتے نہ ہی کوئی اسلامی تربیت ہو رہی ہے۔ روزانہ صبح بچے رو کر اور مجھ سے مار کھا کرہی سکول جاتے ہیں“۔

”عظمی بی بی یہی اصل مسئلہ ہے کہ ہم لوگ کام کرنے سے پہلے سرچ اور ریسرچ نہیں کرتے جب فیصلہ غلط ہو جائے اور جب وقت ہاتھ سے نکل جاتا ہے تو روتے رہتے ہیں“۔
”کیا مطلب! قدسیہ میں کچھ سمجھی نہیں“۔ عظمی نے کچھ نہ سمجھتے ہوئے کہا۔
” بہن اس کا صاف مطلب ہے کہ بچوں کے سکول کو انتخاب ایک بہت بڑا فیصلہ ہوتا ہے۔ اس کے اثرات بچوں کی ساری زندگی پر مرتب ہوتے ہیں۔ اس لیے یہ فیصلہ ہمیشہ سوچ سمجھ کر کرنا چاہیے۔ جس پرائیویٹ سکول میں ہم نے بچوں کو داخل کروانے ہوں اس کے متعلق کچھ معلومات لینی چاہیے“۔

کس قسم کی معلومات ہمیں لازمی سکول کے بارے میں ہونی چاہیے؟ اس نے پوچھا۔

سب سے پہلے ہمیں اس سکول کے مالک یعنی ڈائریکٹر کی تعلیم کا علم ہونا چاہیے۔ ٹرین ادھر ہی جاتی ہے جدھر اس کا انجن جاتا ہے لہٰذا اگر اس کا ڈائریکٹر تعلیم یافتہ ہوگا اور اس نے اعلیٰ تعلیم یافتہ سٹاف ہائیر کیا ہوگا تو ہم امید کریں گے کہ وہ اچھا کام کررہے ہوں گے۔ ہمیں اہتمام کرکے اس سے وقت لے کر کم از کم ایک ملاقات کی کوشش ضرور کرنی چاہیے۔ بہت سے اداروں میں ڈائریکٹرز کے پاس دوسرے کاروبار میں مشغولیت کے سبب سکول میں بیٹھنے کا وقت ہی نہیں ہوتا۔ ایسے اداروں میں تعلیم کے معیار کا دارومدار صرف پرنسپل پر ہوتا ہے اگر پرنسپل اچھی تعلیم کا حامل ہو اور ذمہ دار ہو تو اچھی تعلیم ممکن ہو گی۔

دوسرے نمبر پر ٹیچرز کی تعلیم ہے۔ کچھ سکولز کی انتظامیہ چند پیسے بچانے کیلئے بہت کم تعلیم کی حامل ٹیچرز کو کم تنخواہ پر تقرر کرتے ہیں۔ ایسے ٹیچرز بچوں کو پڑھانے کی تربیت نہ ہونے کی وجہ سے اچھی طرح ان کو نہیں پڑھا سکتیں جس کا نتیجہ وقت اور پیسے کا ضیاع ہوتا ہے۔ عام طور چھوٹے سطح کے سکولز میں یہی دیکھنے میں آتا ہے کہ چونکہ سکول کی فیس بھی کم ہوتی ہے اس لیے وہ ٹیچرز کو زیادہ تنخواہیں نہیں دے سکتے اور اُنہیں کم تعلیم کے حامل ٹیچرز رکھنے پڑتے ہیں۔

ٹیچرز کا بات کرنے کا انداز یعنی کمیونیکیشن بہترین ہونی چاہیے۔ بچوں کو محبت کے ساتھ پڑھاتی ہوں۔ بچے سکول جانے سے انکار اس وجہ سے کرتے ہیں کہ ان کے ٹیچرز ان کو محبت اور شفقت سے پیش نہیں آتے۔ اس لیے بچوں کا سکول جانے کو دل نہیں کرتا اور والدین زبردستی سکول چھوڑ کر آتے ہیں جس سے بچہ پڑھائی سے اکتا جاتا ہے۔

سکول کا نصاب بھی چیک کرنا چاہیے۔ بعض سکولز زیادہ پرافٹ کی بنیاد پر لوکل کتابوں کو انتخاب کرتے ہیں جن سے بچوں کو کوئی خاص فائدہ بھی نہیں ہوتا۔ اسی طرح چونکہ عام لوکل سکولز پر کسی قسم کی ایجوکیشنل اتھارٹی چیکنگ نہیں ہوتی اس لیے بہت سے سکول سلیبس بھی مکمل نہیں کروا پاتے۔

سکول کی غیر نصابی سرگرمیاں بچوں میں خود اعتماد پیدا کرتی ہیں۔ روزانہ ہونے والی مارننگ اسمبلی سے بچے بہت کچھ سیکھتے ہیں اس میں بچوں کی لازمی شمولیت ہونی چاہیے۔ ایسے سکول جہاں اسمبلی نہیں ہوتی وہ بچوں کی اچھی تربیت نہیں کر پاتے۔ اس لیےداخلے کے وقت سکول انتظامیہ سے آئیندہ سال میں غیر نصابی سرگرمیوں کی پلاننگ کے بارے میں پوچھنا چاہیے۔

گورنمنٹ کی طرف سے سکولوں میں ناظرہ قرآن مجید اور ترجمہ قرآن کی تعلیم لازمی ہونی چاہیے۔ اس پر بھی توجہ دینی چاہیے۔ اکثر سکولز اپنے طلباء کو قرآن کی تعلیم نہیں دیتے۔ میرا ذاتی خیال یہ ہے کہ ہمیں صرف قرآن کی تعلیم پر فوکس کرنا چاہیے۔ باقی دنیاوی تعلیم تو بچے حاصل کر ہی لیتے ہیں۔

آج کل سوشل میڈیا کا دور ہے۔ کسی بھی شخص کے سوشل میڈیا پروفائل اور بزنس کا پیج وزٹ کرنے سے اس ادارے کے اندر ہونے والی تمام سرگرمیوں کو دیکھا جا سکتا ہے۔ اگر آج کے دور میں بھی کسی تعلیمی ادارے کی اپنی ویب سائٹ نہیں ہے یا سوشل میڈیا پر اپنی سرگرمیوں کو مناسب انداز میں اجاگر نہیں کر رہا تو وہ بچوں کو کیسے آنے والے زمانے کیلئے تیار کرے گا۔

سکول میں موجود سہولیات کو بھی دیکھنا چاہیے جیسے آج کل لوڈ شیڈنگ ہوتی ہے تو سکول میں جنریٹر لازمی ہونا چاہیے۔ سکول کا عمومی ماحول صاف ستھرا اور خوبصورت ہو جہاں پر وقت گذارنے کو انسان کا دل چاہے۔ بچوں کیلئے کھیلنے کی جگہ ہو کچھ جھولے وغیرہ لگے ہوں جہاں بچے کسی وقت لطف اٹھائیں۔ مناسب سائز کی لائبریری بھی ہونی چاہیے جہاں صرف ڈیکوریشن کی بکس نہ رکھی ہوں بلکہ بچوں کو جاری بھی کی جاتی ہوں۔ لائبریری سے بک لے پڑھنے کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے۔

سکول کی بلڈنگ اگر بہت بڑی نہ بھی ہو تب بھی صاف ستھری اور محفوظ ہونی چاہیے۔ سیکیورٹی کے نقطہء نظر سے بھی محفوظ ہو اور مستعد و چاق وچوبند سکیورٹی گارڈ بھی موجود ہونا چاہیے۔ بعض سکولوں میں سیکیورٹی گارڈ کی عدم موجودگی کی وجہ سے بچے سکول سے نکل جاتے ہیں اور وقت ضائع کرتے ہیں۔

سب سے بڑھ کر یہ کہ جس طرح ہم دیگر اہم فیصلے کرتے وقت استخارہ کرتے ہیں اسی طرح بچوں کے سکول کا انتخاب کرتے ہوئے بھی استخارہ کرنا چاہیے پھر اگر دل مطمئن ہو تو اللہ کا نام لے کر بچے کو سکول میں داخل کروانا چاہیے۔

Want your school to be the top-listed School/college in Rawalpindi?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Website

Address


Rawalpindi