Our behaviour with our Childern

Our behaviour with our Childern

Share

its a cooking page....nd selling products..

27/02/2026

Blessed Friday 🌸
Time is passing so quickly, and life is moving forward moment by moment.
Ask Allah for every need, every wish, and every worry.
Indeed, He is the All-Hearing, the All-Knowing, and the Most Generous.
May Allah accept all our prayers. Ameen 🤲

25/02/2026
28/07/2024

آئیے طعنے پہ بات کریں ۔
اللہ کا حکم ہے کہ اسلام میں پورے کے پورے داخل ہو جاؤ ۔
تو انسان کا ہر عمل اسکے دوسرے عمل سے مربوط ہوتا ہے ۔ اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا کہ بہترین مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان کے شر سے دوسرا مسلمان محفوظ رہے ۔
زبان سے دیی جانے والی تکلیف دل میں جا کے کہیں گہرائی میں دل کو زخمی کر دیتی ہے ۔ اور پھر دل میں مسلسل ٹیسیں اٹھتی رہتی ہیں ۔ دل پر طعنے کے کیا اثرات ہوتے ہیں ۔
اپنے جذباتی استحکام پہ کیسے کام کیا جائے؟
خود کو ایک قوی مومن کیسے بنایا جائے ؟
ان شاءاللہ ان تمام موضوعات پہ گفتگو ہوگی ۔ لیکن سب سے پہلے ہمیں یہ جاننا ہے کہ طعنہ کہتے کسے ہیں ؟
طعنے کے معانی کیا ہیں ۔
اور قرآن کیا کہتا ہے ؟؟

گھڑ سوار گھوڑے کو تیز دوڑانے کے لیے ایڑ لگاتا ہے ۔
آپ نے دیکھا ہوگا کہ گھڑ سوار جب گھوڑے پہ بیٹھتا ہے تو رکاب میں پاؤں ڈالتا ہے ۔ جس کے اندر ایک نوکیلی کیل موجود ہوتی ہے ۔ جب گھڑ سوار گھوڑے کو تیز دوڑانا چاہتا ہے تو وہ کیل گھوڑے میں چبھو دیتا ہے جس سے گھوڑا تیز بھاگنے لگتا ہے ۔ اسے ہی ایڑ لگانا کہتے ہیں ۔
ایڑ لگانے کو مہمیز کرنا بھی کہا جاتا ہے ۔

مہمیز کا لفظ دراصل ہُمزہ سے ہے ۔ کسی نوکیلی چیز کے چبھونے کو مہمیز کرنا کہتے ہیں ۔

جیسے چھری کی نوک کسی کو چبھوئی جائے ۔ یا پھر کوئی پن چبھو دی جائے یا کمان سے نشانہ لے کر تیر کے وار سے ہی سینے میں تیر کی نوک چبھو کر قتل کر دیا جائے ۔

بوڑھوں کے ہاتھ میں سہارے کے لیے استعمال ہونے والی چھڑی کی نوک کے سر پہ ایک لوہے کی کیپ چڑھی ہوتی ہے ۔ جو مٹی میں کھب کر چلنے والے کو سہارا مہیا کرتی ہے ۔ اس تیز نوک کا زمین میں چبھنا ۔

کئی ایسی نوکیلی چیزیں ہیں جو چبھنے والی ہوتی ہیں ۔

لیکن یہ سب چبھنے والی چیزیں کرتی کیا ہیں ؟؟

یہ سب چبھنے والی چیزیں نہایت تکلیف کا باعث بنتی ہیں ۔
گھوڑے کو ایڑ لگائی جائے تو اسے درد ہوتا ہے اور وہ سرپٹ بھاگنے لگتا ہے ۔ انسان کو پن یا چھری چبھوئی جائے تو اسکا خون نکل آتا ہے تکلیف ہوتی ہے ۔
اور تیر چبھودیا جائے تو مر ہی جاتا ہے ۔

ہمزاتِ شیاطین کا لفظ تو سنا ہوگا آپ نے ۔ وسوسے بھی دل میں چھب جاتے ہیں ۔ اندر گہرائی تک جڑ پکڑ لیتے ہیں ۔
بیٹھے بٹھائے آپ بے چین ہو اٹھتے ہیں کیونکہ شیطان وسوسے کے بیج کو چبھو دیتا ہے

اور طعنہ ؟؟
کیسا چبھتا ہے ؟؟

کوئی بھی چبھتا ہوا جملہ ' طعنہ دوسرے کے دل کو دکھا دینے والی کوئی بری بات ' احسان کر کے جتلا دینا ۔۔۔۔۔

یہ طعنہ ہی ہُمزہ ہے ۔ اور ہُمزہ کرنے والے کے لیے اللہ نے پوری سورت نازل کر دی ۔

کہ ہلاکت ہے تباہی ہے ۔ کس کے لیے ؟؟

ہُمزہ کرنے والے کے لیے طعنہ دینے والے کے لیے ۔

اور کس کے لیے ؟؟
عیب جوئی کرنے والے کے لیے ۔ وہ لوگ جو ہر وقت دوسروں کے عیب تلاش کرنے میں لگے رہیں کہ کہاں موقع ملے کہ دوسرے کا کوئی عیب نظر آئے اور فٹ سے اسکا اشتہار لگانے کا موقع ملے ۔

جو لوگ ہمارے نا پسندیدہ ہوتے ہیں ہم زیادہ تر ان کے عیبوں پہ ہی نظر رکھتے ہیں ۔

کیوں ؟؟

تا کہ ہماری اس رائے کہ تقویت ملے کہ فلاں اچھا نہیں ہے ۔ سب لوگ یہ ہی سمجھیں کہ ہاں اسکے اتنے عیوب ہیں تو ظاہر ہے وہ اچھا نہیں ہے ۔

تو ہم عیب ڈھونڈتے رہتے ہیں ۔ تا کہ رائے عامہ کو اپنے حق میں ہموار کریں کہ فلاں واقعتاً اچھا نہیں ۔
اس کے لیے ہم دوسروں کے عیبوں کو نظر میں رکھتے ہیں ۔

لیکن اللہ کیا کہتا ہے ؟؟

کہ تباہی اور ہلاکت ہے ان دو لوگوں کے لیے جو لوگوں کے عیب ڈھونڈتے ہیں اور انھیں طعنہ دیتے ہیں ۔

طعنہ جو دل کے اندر جا کے لگتا ہے ۔ چبھ جاتا ہے ۔ کسی کا طعنہ چھری کی طرح نوک دار اور کسی کا تیر کی مانند جان لیوا ۔

جن میں یہ دواخلاقی رزائل پائے جاتے ہیں کیا ان کے لیے فقط ہلاکت ہی کی سزا ہے ؟؟؟

نہیں ۔ پوری سورت میں مکمل سزا بیان کی گئی ہے ۔ جس کا بیان ان شاءاللہ اگلی پوسٹ میں ہوگا ۔

اللہ ہمیں طعنہ دینے اور عیب جوئی سے بچنے کی توفیق دے آمین

دعاؤں کی طالب

سمیرا امام

Photos from Our behaviour with our Childern's post 13/01/2023
28/12/2022

چیتے نے کتے سے پوچھا: تم نے انسانوں کو کیسا پایا؟
کتے نے جواب دیا: جب وہ کسی کو حقیر سمجھتے ہیں تو اسے کتا کہتے ہیں
چیتا: کیا تم نے ان کے بچوں کو کھایا؟
کتا: نہیں
چیتا: کیا تم نے انہیں دھوکہ دیا؟
کتا: نہیں
چیتا: کیا تم نے ان کے مویشی مارے؟؟
کتا: نہیں
چیتا: کیا تم نے ان کا خون پیا؟؟
کتا: نہیں
چیتا: کیا تم نے ان کو میرے حملوں سے بچایا؟؟
کتا: ہاں
چیتا: انسان بہادر اور ہوشیار کو کیا کہتے ہیں؟
کتا: وہ اسے چیتا کہتے ہیں

چیتا: کیا ہم نے تمہیں شروع سے مشورہ نہیں دیا تھا کہ ہمارے ساتھ چیتا بن کر رہو مگر تم نے انسانوں کے تحفظ کا ٹھیکے دار بننا پسند کیا۔ میں ان کے بچوں اور مویشیوں کو مارتا ہوں، ان کا خون پیتا ہوں، ان کے وسائل اور محنت کھا جاتا ہوں، اس کے باوجود نہ صرف وہ مجھ سے ڈرتے ہیں بلکہ اپنے ہیروز کو چیتے کے طور پر بیان کرتے ہیں۔

تمہیں یہ سیکھنا چاہیے کہ “انسان اپنے جلادوں کے سامنے سرتسلیم خم کر لیتے ہیں اور اپنے وفاداروں اور ہمدردوں کی توہین کرتے ہیں۔”

(ہسپانوی ادب کے انتخاب " غلامی کی آخری رمق " سے اقتباس)

Photos from Our behaviour with our Childern's post 07/12/2022

Flower bag..
2 piece
2000/- WD dc
Without out DC 1800...

Want your school to be the top-listed School/college in Rawalpindi?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Website

Address


Rawalpindi
Rawalpindi