نامور صحافیہ، قلم کار، ادیبہ "محترمہ رباب عائشہ "کی ذاتی یادداشتوں پر مبنی کتاب "لمحوں کی دھول" کے حوالے سے ایک خوبصورت نشست اور اس موقع پر لیا گیا ایک مصاحبہ احباب کے پیش خدمت ہے
پاکستان اردوڈاٹ قوم
We are competitive group of Urdu teaching staff.
We offer home tuition services for O Level & A Level students within Bahria Town Rwp/Isb.
اردو انگریزی اور فارسی زبان و ادب
2 counci classes
25/01/2024
إِنَّا لِلّهِ وَإِنَّـا إِلَيْهِ رَاجِعونَ
ماہر اقبالیات پروفیسر ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی صاحب انتقال کر گٸے۔
ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی 9 فروری 1940ء کو مصریال، ضلع چکوال میں پیدا ہوئے۔ 1963ء میں نجی حیثیت میں بی اے کیا اور 1966ء میں اورینٹل کالج لاہور سے ایم اے اردو کا امتحان فرسٹ کلاس فرسٹ پوزیشن میں پاس کیا۔ 1969ء میں محکمہ تعلیم پنجاب سے وابستہ ہوئے اور مختلف کالجوں میں تدریسی خدمات انجام دینے کے بعد 1982ء میں اورینٹل کالج لاہور میں تعینات ہوئے اور وہیں سے بطور پروفیسر سبکدوش ہوئے۔ کچھ عرصہ صدر شعبہ اردو بھی رہے۔
1981ء میں جامعہ پنجاب سے تصانیف اقبال کا تحقیقی اور توضیحی مطالعہ کے موضوع پر مقالہ لکھ کر پی ایچ ڈی کی سند حاصل کی۔ 2002ء میں شعبہ اردو اورینٹل کالج سے بازیافت کے نام سے ایک تحقیقی مجلہ بھی جاری کیا۔ ریٹائرمنٹ کے بعد 2006ء سے 2008ء تک ہائر ایجوکیشن کمیشن کے ممتاز پروفیسر (Distinguished Professor) بھی رہے۔ کئی ادبی، علمی و تحقیقی رسائل کے مدیر و معاون مدیر بھی رہے۔
وہ بابائے اردو ایوارڈ اور قومی صدارتی اقبال ایوارڈ حاصل ر چکے ہیں۔ انہوں نے اقبالیات اور اردو زبان و ادب پر درجنوں کتابیں تصنیف و تالیف کی ہیں جن میں اصنافِ ادب، خطوطِ اقبال، کتابیاتِ اقبال، تصانیفِ اقبال کا تحقیقی و توضیحی مطالعہ، جامعات میں اردو تحقیق، یاد نامہ لالہ صحرائی، اقبال کی طویل نظمیں: فکری و فنی مطالعہ، 1985ء کا اقبالیاتی ادب - ایک جائزہ، 1986ء کا اقبالیاتی ادب - ایک جائزہ، خطوطِ مودودی، اقبال: مسائل و مباحث، اقبالیات کے سو سال، تحقیقِ اقبالیات کے مآخذ، اقبالیات: تفہیم و تجزیہ، پوشیدہ تری خاک میں (سفرنامہ اندلس)، سورج کو ذرا دیکھ (سفرنامہ جاپان)، مکاتیب مشفق خواجہ، پاکستان میں اقبالیاتی ادب، علامہ اقبال: شخصیت و فن و دیگر شامل ہیں۔
ان کی علمی و ادبی خدمات کے اعتراف میں ان کے ایک شاگرد ڈاکٹر خالد ندیم کا مرتبہ اردو، فارسی، ترکی، انگریزی، فرانسیسی اور جرمن زبانوں کے مقالات پر مشتمل مجموعہ ارمغانِ رفیع الدین ہاشمی بھی شائع ہو چکا ہے۔
18/01/2024
آج 19 جنوری کو اردو کے طرح دار شاعر ساقی فاروقی کی برسی ہے۔
قاضی محمد شمشاد نبی معروف بہ ساقی فاروقی، ۲۱؍دسمبر۱۹۳۶ء کو گورکھپور میں پیدا ہوئے تھے۔۱۹۴۸ء تک ہندوستان میں پھر ۱۹۵۲ء تک بنگلہ دیش میں رہے۔ پاکستان منتقل ہوئے تو ۱۹۶۳ء میں ماہ نامہ ’’نوائے کراچی‘‘ کے ایڈیٹر بنائے گئے۔ کراچی سے بی اے کیا اور برطانیہ چلے گئے۔لندن میں انھوں نے کمپیوٹر پروگرامنگ میں مہارت حاصل کی۔ ساقی نے مستقل طور پر برطانیہ کو وطن ثانی بنالیا اور وہیں انہوں نے آخری سانس بھی لی ۔ ان کی تصانیف کے نام یہ ہیں:’ پیاس کا صحرا‘، ’رادار‘، ’بہرام کی واپسی‘(یہ کوئی جاسوسی ناول نہیں بلکہ ساقی کی شاعری کا مجموعہ ہے)، ’حاجی بھائی پانی والا‘، ’زندہ پانی سچا‘، ’بازگشت وبازیافت‘، ’ہدایت نامہ شاعر‘(تنقیدی مضامین)، ساقی کی نظموں کا انتخاب’’رازوں سے بھرا بستہ‘‘ کے عنوان سے شائع ہوا۔ ان کی انگریزی نظموں کا مجموعہ"Nailing Dark Storm"کے نام سے طبع ہوا ہے۔
جبکہ ان سوانح حیات ’’آپ بیتی' پاپ بیتی‘’ کے نام سے شائع ہوچکی ہے۔
اناللہ وانا علیہ راجعون!
ابھی زندہ ہے ماں میری مجھے کچھ بھی نہیں ہوگا
میں گھر سے جب نکلتا ہوں دعا بھی ساتھ چلتی ہے
۔
اس طرح میرے گناہوں کو وہ دھو دیتی ہے
ماں بہت غصے میں ہوتی ہے تو رو دیتی ہے
۔
کسی کو گھر ملا حصے میں یا کوئی دکاں آئی
میں گھر میں سب سے چھوٹا تھا مرے حصے میں ماں آئی
-
سو جاتے ہیں فٹ پاتھ پہ اخبار بچھا کر
مزدور کبھی نیند کی گولی نہیں کھاتے
-
تمہارے شہر میں میت کو سب کاندھا نہیں دیتے
ہمارے گاؤں میں چھپر بھی سب مل کر اٹھاتے ہیں
۔
بھٹکتی ہے ہوس دن رات سونے کی دکانوں میں
غریبی کان چھدواتی ہے تنکا ڈال دیتی ہے
۔
منور رانا
07/01/2024
داغ دل ہم کو یاد آنے لگے
لوگ اپنے دیئے جلانے لگے
تم زمانے کی راہ سے آئے
ورنہ سیدھا تھا راستہ دل کا
آج ان اشعار کے خالق باقی صدیقی کی برسی ہے.
وہ 20 ستمبر 1905ء کو راولپنڈی کے نواحی گاؤں سہام میں پیدا ہوئے۔ ان کا اصل نام قاضی محمد افضل تھا۔ میٹرک پاس کرکے گاؤں کے سکول میں مدرس ہو گئے۔ کچھہ عرصے بعد راولپنڈی آ گئے۔ ایک روایت کے مطابق بمبئی بھی گئے تھے، پتہ نہیں اداکار بننے یا فلمی شاعر۔ سترہ برس ریڈیو پاکستان سے وابستہ رہے اور بے شمار پوٹھوہاری گیت لکھے۔ اردو کلام کے چار مجموعے۔ جام جم، دارورسن، زخم بہار اور بارِ سفر شائع ہوچکے ہیں۔ ’’کچے گھڑے ‘‘ ان کی پوٹھوہاری شاعری کا مجموعہ ہے۔
زاد راہ کے نام سے نعتیہ مجموعہ
اور "کتنی دیر چراغ جلا" کے عنوان سے ایک اور مجموعہ بعد از مرگ شائع ہوئے۔
باقی صدیقی کا 8 جنوری 1972ء کو راولپنڈی میں انتقال ہوا اور قبرستان قریشیاں سہام میں سپردِ خاک ہوئے۔ ان کی لوحِ مزار پر انہی کے یہ دو اشعار کندہ ہیں:
دیوانہ اپنے آپ سے تھا بے خبر تو کیا
کانٹوں میں ایک راہ بنا کر چلا گیا
باقی ابھی یہ کون تھا موجِ صبا کے ساتھہ
صحرا میں اک درخت لگا کر چلا گیا
باقی صدیقی کے کچھ اور شعر
کشتیاں ٹوٹ گئی ہیں ساری
اب لیے پھرتا ہے دریا ہم کو
اس بدلتے ہوئے زمانے میں
تیرے قصے بھی کچھ پرانے لگے
یہی رستہ ہے اب یہی منزل
اب یہیں دل کسی بہانے لگے
ایک پل میں وہاں سے ہم اٹھے
بیٹھنے میں جہاں زمانے لگے
خود فریبی سی خود فریبی ہے
پاس کے ڈھول بھی سہانے لگے
ان کا یا اپنا تماشا دیکھو
جو دکھاتا ہے زمانہ دیکھو
ایک دیوار اٹھانے کے لیے
ایک دیوار گرا دیتے ہیں
باقیؔ جو چپ رہوگے تو اٹھیں گی انگلیاں
ہے بولنا بھی رسم جہاں بولتے رہو
بند کلیوں کی ادا کہتی ہے
بات کرنے کے ہیں سو پیرائے
پہلے ہر بات پہ ہم سوچتے تھے
اب فقط ہاتھ اٹھا دیتے ہیں
تیرے غم سے تو سکون ملتا ہے
اپنے شعلوں نے جلایا ہم کو
تجھہ کو دیکھا ترے وعدے دیکھے
اونچی دیوار کے لمبے سائے
تم بھی الٹی الٹی باتیں پوچھتے ہو
ہم بھی کیسی کیسی قسمیں کھاتے ہیں
تیری ہر بات پہ چپ رہتے ہیں
ہم سا پتھر بھی کوئی کیا ہوگا
دل کی دیوار گر گئی شاید
اپنی آواز کان میں آئی
دل میں جب بات نہیں رہ سکتی
کسی پتھر کو سنا دیتے ہیں
دنیا نے ہر بات میں کیا کیا رنگ بھرے
ہم سادہ اوراق الٹتے جاتے ہیں
دوست ہر عیب چھپا لیتے ہیں
کوئی دشمن بھی ترا ہے کہ نہیں
زندگی کی بساط پر باقیؔ
موت کی ایک چال ہیں ہم لوگ
رہنے دو کہ اب تم بھی مجھے پڑھ نہ سکو گے
برسات میں کاغذ کی طرح بھیگ گیا ہوں
کان پڑتی نہیں آواز کوئی
دل میں وہ شور بپا ہے اپنا
وقت کے پاس ہیں کچھ تصویریں
کوئی ڈوبا ہے کہ ابھرا دیکھ
وقت کا پتھر بھاری ہوتا جاتا ہے
ہم مٹی کی صورت دیتے جاتے ہیں
راز سر بستہ ہے محفل تیری
جو سمجھہ لے گا وہ تنہا ہوگا
دوستی خون جگر چاہتی ہے
کام مشکل ہے تو رستہ دیکھو
کچھہ نہ پا کر بھی مطمئن ہیں ہم
عشق میں ہاتھہ کیا خزانے لگے
ہائے وہ باتیں جو کہہ سکتے نہیں
اور تنہائی میں دہراتے ہیں ہم
ہو گئے چپ ہمیں پاگل کہہ کر
جب کسی نے بھی نہ سمجھا ہم کو
یوں بھی ہونے کا پتا دیتے ہیں
اپنی زنجیر ہلا دیتے ہیں
ہر یاد ہر خیال ہے لفظوں کا سلسلہ
یہ محفل نوا ہے یہاں بولتے رہو
ہم کہ شعلہ بھی ہیں اور شبنم بھی
تو نے کس رنگ میں دیکھا ہم کو
ہر نئے حادثے پہ حیرانی
پہلے ہوتی تھی اب نہیں ہوتی
تم زمانے کی راہ سے آئے
ورنہ سیدھا تھا راستہ دل کا
کون اب دادِ سخن دے باقی
جس نے دو شعر کہے میر ہوا
یہ دوپہر، یہ پگھلتی ہوئی سڑک باقی
ہر ایک شخص پھسلتا ہوا نظر آیا
زندگی کی آس بھی کیا آس ہے
موجِ دریا پر دیا جلتا رہا
داغِ دل ہم کو یاد آنے لگے
لوگ اپنے دئیے جلانے لگے
کچھ نہ پا کر بھی مطمئن ہیں ہم
عشق میں ہاتھ کیا خزانے لگے
یہی رستہ ہے اب یہی منزل
اب یہیں دل کسی بہانے لگے
خودفریبی سی خودفریبی ہے
پاس کے ڈھول بھی سہانے لگے
اب تو ہوتا ہے ہر قدم پہ گماں
ہم یہ کیسا قدم اٹھانے لگے
اس بدلتے ہوئے زمانے میں
تیرے قصے بھی کچھ پرانے لگے
رخ بدلنے لگا فسانے کا
لوگ محفل سے اٹھ کے جانے لگے
ایک پل میں وہاں سے ہم اٹھے
بیٹھنے میں جہاں زمانے لگے
اپنی قسمت سے ہے مفر کس کو
تیر پر اُڑ کے بھی نشانے لگے
ہم تک آئے نہ آئے موسمِ گُل
کچھ پرندے تو چہچہانے لگے
شام کا وقت ہو گیا باقی
بستیوں سے شرار آنے لگے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آستیں میں سانپ اک پلتا رہا
ہم یہ سمجھے حادثہ ٹلتا رہا
آپ تو اک بات کہہ کر چل دیے
رات بھر بستر مرا جلتا رہا
ایک غم سے کتنے غم پیدا ہوۓ
دل ہمارا پھولتا پھلتا رہا
زندگی کی آس بھی کیا آس ہے
موج دریا پر دیا جلتا رہا
اک نظر تنکا بنی کچھ اس طرح
دیر تک آنکھیں کوئی ملتا رہا
یہ نشاں کیسے ہیں باقیؔ دیکھنا
کون دل کی راکھ پر چلتا رہا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اپنی دھوپ میں بھی کچھ جل
ہر ساۓ کے ساتھ نہ ڈھل
لفظوں کے پھولوں پہ نہ جا
دیکھ سروں پر چلتے ہل
دنیا برف کا تودا ہے
جتنا جل سکتا ہے جل
غم کی نہیں آواز کوئی
کاغذ کالے کرتا چل
بن کے لکیریں ابھرے ہیں
ماتھے پر راہوں کے بل
میں نے تیرا ساتھ دیا
میرے منہ پر کالک مل
آس کے پھول کھلے باقؔی
دل سے گزرا پھر بادل
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تم کب تھے قریب اتنے میں کب دور رہا ہوں
چھوڑو نہ کرو بات کہ میں تم سے خفا رہا ہوں
رہنے دو کہ اب تم بھی مجھے پڑھ نہ سکو گے
برسات میں کاغذ کی طرح بھیک گیا ہوں
سو بار گرہ دے کے کسی آس نے جوڑا
سو بار میں دھاگے کی طرح ٹوٹ چکا ہوں
جاۓ گا جہاں تو مری آواز سنے گا
میں چور کی مانند ترے دل میں چھپا ہوں
ایک نقطے پہ آ کر بھی ہم آہنگ نہیں ہیں
تو اپنا فسانہ ہے تو میں اپنی صدا ہوں
چھیڑو نہ ابھی شاخ شکستہ کا فسانہ
ٹھہرو میں ابھی رقص صبا دیکھ رہا ہوں
منزل کا پتا جس نے دیا تھا مجھے باقیؔ
اس شخص سے رستے میں کئی بار ملا ہوں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اور کچھ پنجابی
نہ اوہ پینگاں نہ اوہ جھوٹے
نہ اوہ گھمرے گھمرے بوٹے
نہ اوہ گوہڑی چھاں
ایہہ نہیں مینڈا گراں
کس اگے فریاد کراں میں
کلی بہہ کے یاد کراں میں
اوکھے اوکھے ناں
ایہہ نہیں مینڈا گراں
کھیڈاں سب وچالے رئیاں
نہ اوہ سجن نہ اوہ سیاں
ایویں پھیرے پاں
ایہہ نہیں مینڈا گراں
وقت سمندر چھلاں مارے
کنڈھے اتے کھلی حیاتی
کچے گھڑے الارے
۔۔۔۔۔۔۔۔
بڑھاپا
گڈی لنگھ گئی
تے پچھے رہ گیا
بھاں بھاں کرنا ٹیشن
تے شاں شاں کرنے کن
07/01/2024
کھلونے دے کے بہلایا گیا ہوں
ڈھونڈوگے اگر ملکوں ملکوں ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم
نہ ابتدا کی خبر ہے نہ انتہا معلوم
جو بڑھ کر خود اٹھا لے ہاتھ میں مینا اُسی کا ہے
یہ ضرب المثل مصرعے شاد عظیم آبادی کے ہیں. ہم انہیں بھولتے نہیں جا رہے؟ اب تو عظیم آباد بھی نہیں رہا۔ عظیم آباد اب پٹنہ کہلاتا ہے اور بھارت کی ریاست بہار کا دارالحکومت ہے۔
شاد عظیم آبادی جن کا اصل نام علی محمد تھا، 8 جنوری 1846 کو عظیم آباد کے محلہ پورب پورہ کے ایسے گھرانے میں پیدا ہوئے جہاں مرد تو کیا خواتین بھی تعلیم یافتہ تھیں۔ والد کا نام سید عباس مرزا اور دادا کا سید تفضل علی خاں تھا ۔ اس لئے انہیں بھی بچپن سے ہی سید صاحب کہا جاتا تھا ۔ شاد نے امارت اور ریاست کی آغوش میں آنکھہ کھولی۔عربی، فارسی اور دینیات کی تعلیم لائق اساتذہ سے حاصل کی۔سید صاحب کم سنی میں ہی شعر موزوں کرنے لگے۔ سات سال کی عمر میں پہلا شعر یہ کہا
جو کوئی اس تلنگی کو لوٹے
گر پڑے ، ہاتھہ پاؤں ٹوٹے
شاعری میں الفت حسین فریاد عظیم آبادی سے تلمذ حاصل تھا۔ صفیر بلگرامی سے بھی اصلاح لی ۔ میر انیس اور مرزا دبیر کی صحبتوں سے بھی فیض یاب ہوئے۔ شاد انگریزی اور ہندی زبان سے بھی واقف تھے۔ شاد کا ننھیال پانی پت تھا۔ ایک مرتبہ وہ وہاں گئے اور حالی سے ملاقات کی۔ علی گڑھ بھی گئے اور سرسید سے ملاقات ہوئی۔ 1876 میں سید صاحب نے ایک ناول بھی لکھہ لیا،لیکن لوگ ماننے پر تیار نہیں تھے اتنے کم عمر نے خود لکھا ہے۔چند برس بعد ناول کا دوسرا حصہ لکھہ ڈالا۔1889 میں انہیں آنریری مجسٹریٹ کا عہدہ مل گیا۔ اسی زمانے میں تاریخِ بہار لکھی۔ پھر تین جلدوں پر مشتمل صورۃ الخیال کے عنوان سے ایک اور ناول لکھا،چھہ سات نصابی کتابیں لکھیں۔ اس کے بعد’’ ذخیرۃالادب‘‘ لکھی جس میں فن شاعری اور زبان دانی پر بحث تھی۔ دیوان اور خزانچی ان کی ریاست وجاگیر کا بڑا حصہ فروخت کرکے پیسے کھا گئے۔ جو شخص ہزاروں اور لاکھوں میں کھیلتا تھا اسے اپنی آخری زندگی صرف سوروپیہ ماہانہ کی امداد پر گزر بسر کرنی پڑی۔ ان کی ادبی خدمات کے صلے میں سرکار سے ’’خان بہادر‘‘ کا خطاب ملا۔ شاد کو اپنے زمانے کا میر کہا گیا ۔’’مئے خانہ الہام‘‘ کے نام سے ان کا دیوان چھپ گیا ہے۔ شاد نے مراثی ، رباعیات، مثنویات اور نثر کی کل ملاکر تقریباً ساٹھہ کتابیں یادگار چھوڑیں ، جن میں سے زیادہ تر چھپ چکی ہیں ۔ کلیاتِ شادؔ تین حصوں میں کلیم الدین احمد نے ترتیب دے کر 1978 میں شائع کیا ۔ اس سے قبل انتخابِ کلام شادؔ مولانا حسرتؔ موہانی نے مرتب کرکے 1909 میں شائع کیا ۔
شاد 7جنوری1927ء کو پٹنہ میں انتقال کرگئے۔
شاد عظیم آبادی کے کچھ اشعار:
یہ بزمِ مے ہے، یاں کوتاہ دستی میں ہے محرومی
جو بڑھ کر خود اٹھا لے ہاتھ میں مینا اُسی کا ہے
سنی حکایتِ ہستی تو درمیاں سے سنی
نہ ابتدا کی خبر ہے نہ انتہا معلوم
تمناؤں میں الجھایا گیا ہوں
کھلونے دے کے بہلایا گیا ہوں
خم آئے گا صراحی آئے گی تب جام آئے گا
کہاں سے لاؤں صبر حضرت ایوب اے ساقی
طلب کریں بھی تو کیا شے طلب کریں اے شادؔ
ہمیں تو آپ نہیں اپنا مدعا معلوم
دل مضطر سے پوچھ اے رونق بزم
میں خود آیا نہیں لایا گیا ہوں
اب بھی اک عمر پہ جینے کا نہ انداز آیا
زندگی چھوڑ دے پیچھا مرا میں باز آیا
اے شوق پتا کچھ تو ہی بتا اب تک یہ کرشمہ کچھ نہ کھلا
ہم میں ہے دل بے تاب نہاں یا آپ دل بے تاب ہیں ہم
بھرے ہوں آنکھ میں آنسو خمیدہ گردن ہو
تو خامشی کو بھی اظہار مدعا کہیے
چمن میں جا کے ہم نے غور سے اوراق گل دیکھے
جو یاد نہ آئے بھول کے پھر اے ہم نفسو وہ خواب ہیں ہم
خموشی سے مصیبت اور بھی سنگین ہوتی ہے
تڑپ اے دل تڑپنے سے ذرا تسکین ہوتی ہے
نظر کی برچھیاں جو سہہ سکے سینا اسی کا ہے
ہمارا آپ کا جینا نہیں جینا اسی کا ہے
نظر کی برچھیاں جو سہہ سکے سینا اسی کا ہے
ہمارا آپ کا جینا نہیں جینا اسی کا ہے
ہزار شکر میں تیرے سوا کسی کا نہیں
ہزار حیف کہ اب تک ہوا نہ تو میرا
ہوں اس کوچے کے ہر ذرے سے آگاہ
ادھر سے مدتوں آیا گیا ہوں
اظہار مدعا کا ارادہ تھا آج کچھ
تیور تمہارے دیکھ کے خاموش ہو گیا
جب کسی نے حال پوچھا رو دیا
چشم تر تو نے تو مجھہ کو کھو دیا
جیسے مری نگاہ نے دیکھا نہ ہو کبھی
محسوس یہ ہوا تجھے ہر بار دیکھ کر
جیتے جی ہم تو غم فردا کی دھن میں مر گئے
کچھہ وہی اچھے ہیں جو واقف نہیں انجام سے
خموشی سے مصیبت اور بھی سنگین ہوتی ہے
تڑپ اے دل تڑپنے سے ذرا تسکین ہوتی ہے
کہتے ہیں اہل ہوش جب افسانہ آپ کا
ہنستا ہے دیکھ دیکھ کے دیوانہ آپ کا
کون سی بات نئی اے دل ناکام ہوئی
شام سے صبح ہوئی صبح سے پھر شام ہوئی
کچھہ ایسا کر کہ خلد آباد تک اے شادؔ جا پہنچیں
ابھی تک راہ میں وہ کر رہے ہیں انتظار اپنا
لحد میں کیوں نہ جاؤں منہ چھپائے
بھری محفل سے اٹھوایا گیا ہوں
میں حیرت و حسرت کا مارا خاموش کھڑا ہوں ساحل پر
دریائے محبت کہتا ہے آ کچھہ بھی نہیں پایاب ہیں ہم
ملے گا غیر بھی ان کے گلے بہ شوق اے دل
حلال کرنے مجھےعید کا ہلال آیا
نگاہ ناز سے ساقی کا دیکھنا مجھہ کو
مرا وہ ہاتھہ میں ساغر اٹھا کے رہ جانا
پروانوں کا تو حشر جو ہونا تھا ہو چکا
گزری ہے رات شمع پہ کیا دیکھتے چلیں
نظر کی برچھیاں جو سہہ سکے سینا اسی کا ہے
ہمارا آپ کا جینا نہیں جینا اسی کا ہے
خموشی سے مصیبت اور بھی سنگین ہوتی ہے
تڑپ اے دل تڑپنے سے ذرا تسکین ہوتی ہے
نظر کی برچھیاں جو سہہ سکے سینا اسی کا ہے
ہمارا آپ کا جینا نہیں جینا اسی کا ہے
ترا آستاں جو نہ مل سکا تری رہ گزر کی زمیں سہی
ہمیں سجدہ کرنے سے کام ہے جو وہاں نہیں تو کہیں سہی
02/01/2024
فقیرِ راہ کو بخشے گئے اسرارِ سُلطانی
بَہا میری نوا کی دولتِ پرویز ہے ساقی
حضرت علامہ اقبال کے دیرینہ، وفادار اور معتمد ملازم علی بخش کا علامہ صاحب کی رحلت کے بعد دئیے گئے پہلے انٹرویو سے ایک اقتباس۔
علی بخش کے علامہ صاحب کی رحلت کے فوراً بعد دئیے گئے انٹرویو بہت سادہ پر انتہائی دلچسپ ہیں۔ اور علامہ صاحب کی روزمرہ زندگی کے کئی پہلووں پر روشنی ڈالتے ہیں۔ انشااللہ کسی وقت تفصیل سے پوسٹ کروں گا۔
علی بخش والے واقعے اور اسی سلسلے کے دیگر واقعات پر بھی کسی دن تفصیلی وڈیو بناؤں گا۔۔۔
آج علی بخش کی برسی ہے۔۔۔
آسماں تیری لحد پر شبنم افشانی کرے
02/01/2024
کل معروف شاعر اور صحافی ہری چند اختر کی برسی تھی. ان کا یکم جنوری 1958 ﺀ کو دہلی میں ﺍﻧﺘﻘﺎﻝ ﮨﻮا ﺗﮭﺎ۔
جب پاکستان کے پرچم کا ڈیزائن سامنے آیا تھا تو کسی نے کہا تھا، یہ تو ہری چند اختر ہے
ہری... سبز
چند... چاند
اختر... ستارہ
ان کے چند شعر
ملے گی شیخ کو جنت، ہمیں دوزخ عطا ہوگا
بس اتنی بات ہے جس کے لیے محشر بپا ہوگا
رہے دو دو فرشتے ساتھ اب انصاف کیا ہوگا
کسی نے کچھ لکھا ہوگا کسی نے کچھ لکھا ہوگا
ﺩﻭ ﺍﺷﮏ ﮨﯽ ﻧﮑﻠﮯ ﺗﮭﮯ ﮐﮧ ﺍُﺱ ﺷﻮﺥ ﻧﮯ ﭨﻮﮐﺎ
ﺣﻀﺮﺕ ! ﯾﮧ ﻣﺮﺍ ﮔﮭﺮ ﮨﮯ، ﻋﺰﺍ ﺧﺎﻧﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ
اِس درجہ محبّت میں تغافل نہیں اچھّا
ہم بھی جو کبھی تم سے گُریزاں ہوں تو کیا ہو
01/01/2024
تارعنکبوت ایک جائزہ
مخدوم عرفان طاہر
تارعنکبوت الطاف فاطمہ کا افسانوی مجموعہ ہے۔ تیسرا افسانوی مجموعہ ہے، اس سے پہلے" وہ جسے چاہا گیا" اور" جب دیواریں گریہ کرتی ہیں" شائع ہو چکے تھے۔ تارعنکبوت ۱۹۹۰ء میں فیروز سنز لاہور سے شائع ہوا۔ اس افسانوی مجموعہ کا انتساب" بے زمینی کا دکھ اٹھانے والوں کے نام" ہے۔ اس میں چودہ افسانے شامل ہیں جن میں مہرہ جو پٹ گیا، خیال بیاباں نورد، کنڈکٹر ، تارعنکبوت ، ایسی لمی اڈاری، بیچلرزہوم، تصویر، ایک شورماومن،رتن جوت، ذہن کا اقلیدسی زاویہ، رنج سفر، نیا گوتم، کوک کی ایک بوتل اور خستہ خانم شامل ہیں۔۔ان کے افسانوں کی خاص بات معاشرتی ،تہذیبی اور اقتصادی پہلوؤں ہیں۔ ہجرت پاکستان کے بعد مشرقی پاکستان کی علیحدگی نے الطاف فاطمہ کے دکھ اور کرب میں جہاں اضافہ کیا وہیں ان کے شعور اور تجربات میں گہرائی بھی پیدا ہوئی۔ دیکھا جائے تو اردو افسانہ نگاری کے چار ادوار سامنے آتے ہیں۔ پہلا دور۱۹۰۰ء تا ۱۹۳۰ء ، دوسرا دور ۱۹۳۰ء تا ۱۹۴۷ء، تیسرا دور ۱۹۴۷ء تا ۱۹۶۰ء جبکہ چوتھا دور ۱۹۶۰ء سے ۲۰۰۱ء تا حال جاری ہے۔ الطاف فاطمہ کا دور ۱۹۶۰ء سے شروع ہوتا ہے ۔الطاف فاطمہ نے افسانوی مجموعہ" تارعنکبوت"میں ۱۹۷۶،۱۹۶۵،۱۹۷۱ء مشرقی پاکستان، مہاجروں اور سپاہیوں کی مشکلات اور درد کو بیان کیا ، ان تمام افسانوں میں امید کے ساتھ ساتھ انسانی شعور کی روشن فکر بھی ملتی ہے۔ " تارعنکبوت، میں تاریخ اسلام میں ہجرت نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے واقعہ کو موضوع بنایا۔ جب آپ صلی الله علیہ وآلہ وسلم پر مکہ کے لوگوں نے زمین تنگ کی تو آپ صلی الله علیہ وآلہ وسلم نے ہجرت کر کے مدینہ کی طرف رخ کیا تو غار ثور میں تشریف لے گئے۔ غار ثور میں تشریف لائے تو مکڑی نے غار ثور کے دھانے جالا تن دیا۔ جس سے کفار کو یہ لگا کہ یہ غار تو مدتوں سے ویران پڑی ہے ۔ حضرت ابوبکر صدیق نے غار ثور کو صاف کیا۔مکڑی نے غارثور کے دروازے پر جالا بنایا اور کبوتر نے انڈے دیے۔ افسانہ" مہرہ جو پٹ گیا" میں ۴۷ء سے قبل کا منظر دکھایا۔ اس افسانہ میں انگریز صاحب بہادر کی وفاداری اور کمشنر کی داستان جو سکندر بخت کی زندگی میں داخل ہوا۔ وقت کے حالات نے گھر سے دور کیا۔ کہانی میں سکندر ہی وہ کردار تھا جس نے کمشنر کی زندگی کو امید اور آرزو عطا کی۔۔اور اسی وجہ سے کمشنر کو کمشنری عطا ہوئی۔ افسانہ" کنڈکٹر" میں ۱۹۴۷ء کے حالات و واقعات کی عکاسی کی ہے کہ کس طرح پاکستان کے حصول کے لیے کوشش کی اسلامی تشخص کی وہ تحریک جو تحریک پاکستان بنی، حصول پاکستان میں لوگوں کا کردار، قربانیاں سب کا تذکرہ ملتا ہے۔ ایسے کردار کی کہانی ہے جو مستقل مزاجی اور وسیع نظری کا درس دیتی ہے ۔ ساتھ ساتھ یہ کہانی پاکستان بننے اور بنانے والوں کے حالات اور جذبات کی عکاسی کرتی ہے۔ اس افسانے میں الطاف فاطمہ میں خاص وطنیت کا شعور پیدا کرنا چاہتی ہیں اور لوگوں کو ان سیاسی رویوں سے آگہی دلوانا چاہتی ہیں جنہیں لوگ نہیں جانتے یا بھولے ہوتے ہیں ۔ (جاری ہے)
29/12/2023
۲۹ دسمبر۳۰ ۱۹ء اور خطبہ الہ اباد
ابھی کچھ اور کرشمے غزل کے دیکھتے ہیں
فراز اب ذرا لہجہ بدل کے دیکھتے ہیں
جدائیاں تو مقدر ہیں پھر بھی جان سفر
کچھ اور دور ذرا ساتھ چل کے دیکھتے ہیں
رہ وفا میں حریف خرام کوئی تو ہو
سو اپنے آپ سے آگے نکل کے دیکھتے ہیں
تو سامنے ہے تو پھر کیوں یقیں نہیں آتا
یہ بار بار جو آنکھوں کو مل کے دیکھتے ہیں
یہ کون لوگ ہیں موجود تیری محفل میں
جو لالچوں سے تجھے ، مجھ کو جل کے دیکھتے ہیں
یہ قرب کیا ہے کہ یک جاں ہوئے نہ دور رہے
ہزار ایک ہی قالب میں ڈھل کے دیکھتے ہیں
نہ تجھ کو مات ہوئی ہے نہ مجھ کو مات ہوئی
سو اب کے دونوں ہی چالیں بدل کے دیکھتے ہیں
یہ کون ہے سر ساحل کے ڈوبنے والے
سمندروں کی تہوں سے اچھل کے دیکھتے ہیں
ابھی تلک تو نہ کندن ہوئے نہ راکھ ہوئے
ہم اپنی آگ میں ہر روز جل کے دیکھتے ہیں
بہت دنوں سے نہیں ہے کچھ اسکی خیر خبر
چلو فراز کوئے یار چل کے دیکھتے ہیں
احمد فراز
28/12/2023
بہت خوب ڈاکٹر باقر وسیم قاضی صاحب
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Contact the school
Telephone
Website
Address
Customer Support Center, Phase 8 Bahria Town
Rawalpindi
46000