*🌻کتبہ✍️......عبدالمنان اشرفی عفی عنہ🌻*
*🌻فاضل جامعہ اشرفیہ لاہور🌻*
*♦️پہلی قسط (1)♦️*
*🌻دینداری میں غلو سے بچیں🌻*
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ارشادات اور فرامین کی روشنی میں ہمیں دینی معاملات اور عبادات میں حد سے تجاوز کرنے اور غلو کرنے سے منع فرمایا ہے چاہے وہ دین کے بڑے معاملات ہوں یا چھوٹے سے چھوٹے معاملات ہوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ارشادات میں اپنی امت کو دین میں غلو کرنے سے منع فرمایا ہے اور ہمیشہ اعتدال کے ساتھ عبادات کی تلقین اور نصیحت فرمائی ہے چنانچہ سنن نسائی اور مستدرک حاکم میں حدیث موجود ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا .
*ایاکم والغلو فی الدین فانما اھلک من کان قبلکم الغلو فی الدین*
*ترجمہ: خبردار دین میں غلو سے بچو کیونکہ تم سے پہلے لوگوں کو اسی دین میں غلو نے ہلاک کیا تھا*
اس حدیث کی روشنی میں غور کیا جائے تو اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں اعتدال کے ساتھ دینی فرائض کو سرانجام دینے کی تلقین کررہے ہیں اور حد سے تجاوز کرنے سے منع کر رہے ہیں
شیطان انسان کا ازلی دشمن ہے قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد گرامی ہے کہ
*ان الشیطان لکم عدو فاتخذوہ عدوا(سورۃ فاطر آیت ؛6)*
*ترجمہ: بے شک شیطان تمہارا دشمن ہے تم بھی اس دشمن سمجھو* ۔
شیطان کی سب سے پہلے کوشش تو یہ ہوتی ہے کہ آدمی کسی طرح بھی نیکی کا راستہ اختیار نہ کرے بلکہ گناہوں میں اور فسق و فجور میں مبتلا ہوکر اپنے دنیا اور آخرت دونوں کو خراب کردے اس کے لیے شیطان کر طرح کی تدابیر اور حربے اور منصوبے بناتا ہے تاکہ کہ بندہ کسی طرح صراط مستقیم سے ہٹ کر گمراہی اور فسق فجور کے راستے پر گامزن رہے لیکن اگر مسلمان اللہ تعالیٰ کی توفیق اور فضل وکرم سے اپنی ہمت سے کام لے اور گناہوں کی زندگی سے توبہ تائب ہوکر جنت کے راستے پر چل پڑے تو شیطان سخت پریشاں ہوتا ہے کیونکہ اس کے تمام حربوں اور تدابیر کے باوجود مسلمان ہمت اور صبر اور استقامت کے ساتھ جنت اور صراط مستقیم پر گامزن رہتا ہے اور جہنم اور فسق فجور کے راستے کو چھوڑ دیتا ہے یہ چیز شیطان کے لیے بڑی مایوسی کا باعث بنتی ہے دوسرا حربہ اور حملہ اس کا یہ ہوتا ہے کہ آدمی جس عبادات اور اعمال صالحہ اور نیکی کی طرف گامزن ہے جارہا ہے اس نیکی اور اعمال صالحہ میں غلو پیدا کردے یعنی جس نیک اعمال وہ کر رہا ہے اس نیکی کو شرعی حدود سے اس طرح تجاوز اور آگے بڑھادے کہ وہ نیکی خود اس کے لیے اور اس کے متعلقین اور اہل وعیال کے لیے مصیبت کا ذریعہ بن جائے اور آدمی غلو میں مبتلاء ہوکر طرح طرح کے گناہوں کا شکار ہو جائے اس لیے اگر غور اور گہرائی کی نظر سے دیکھا جائے تو غلو باقی گناہوں کی بنسبت زیادہ نقصان دہ اور پیچیدہ ہے کیونکہ عام گناہوں کو مسلمان خود بھی گناہ اور فسق و فجور کے دائرے میں سمجھتا ہے اور اس میں مبتلاء ہونے کا گناہ جانتا ہے جبکہ دینداری میں غلو اور حد سے تجاوز کرنے والے کو اپنے گناہ کا اکثر اوقات اندازہ بھی نہیں ہوتا وہ تو یہی سمجھتا ہے کہ میں نیکی میں ترقی کی منازل طے کر رہا ہوں اور اونچے درجوں پر فائز ہورہا ہوں حلانکہ پس پردہ وہ شرعی حدود سے تجاوز کرنے کئی گناہوں کو جنم دے رہا ہوتا ہے اور اس میں مبتلاء ہوتا ہے اس لیے کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں ،،غلو،،کو سختی سے روکا گیا ہے
*🌻ابھی جاری ہے🌻*
Online Quran Academy
On this page you can read the Quran to your children online and you can read the Quran and Sharia iss
05/02/2024
Please share this post to all your friends
21/11/2023
21/11/2023
Please like and share this post to all friend's
17/11/2023
Please share this post to all friend's
Thanks for all my friends
16/11/2023
Please share my post to all friend's
Want your school to be the top-listed School/college in Rawalpindi?
Click here to claim your Sponsored Listing.
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Website
Address
Rawalpindi
00666