06/06/2025
اے والئِ یثرب مری فریاد بھی سُن لے!
اے وارثِ کونین میں لَب کھول رہا ہوں
زخمی ہے زباں، خامۂ دل خون میں تر ہے
شاعر ہوں مگر دیکھ مَیں سچ بول رہا ہوں
تُو نے تو مجھے کفر کی پستی سے نکالا
تُو نے تو مرے زخم کو شبنم کی زباں دی
اَعصاب شکستہ ہیں تو چھلنی ہیں نگاہیں
احساسِ بہاراں، نہ غمِ فصلِ خزاں ہے
آندھی کی ہتھیلی پہ ہے جگنو کی طرح دل
شعلوں کے تصرف میں رگِ غنچۂ جاں ہے
ہر سمت ہے رنج و غم و آلام کی بارش
دل ایک مدت سے یہ میرا پریشاں ہے
اے والئِ یثرب مری فریاد بھی سُن لے!
اے وارثِ کونین میں لَب کھول رہا ہوں