The Motivators Academy

The Motivators Academy

Share

We are offering services free of cost for boosting up the education standards of new generation by solving their problems through consultation

06/04/2021

Future of Islamabad

04/04/2021

Leave the game before its too late

Photos from The Motivators Academy's post 01/07/2019

Kashmir junnat he

26/04/2019

گاڑی مالکان یہ خبر ضرور پڑھ لیں ، پھر نہ کہنا خبر نہ ہوئی ، گاڑیوں، موٹر سائیکلوں کی نئی نمبر پلیٹیںبارے بڑی خبر آگئی

31/12/2018

Who Will Score?

30/12/2018
25/11/2018

وزارت خزانہ نے 10بڑے سرکاری اداروں کے خسارے کی تفصیلات جاری کردیں ،سب سے زیادہ خسارہ کس ادارے کا ہے؟ حیرت انگیزانکشافات کراچی (این این آئی) وزارت خزانہ نے خسارے کا شکار 10بڑے سرکاری اداروں کی تفصیل جاری کردی ہے، پی آئی اے خسارے کا شکاراداروں میں سرفہرست ہے ۔2016 میں قومی ایئر لائن کا خسارہ 45 ارب 27 کروڑ روپے سے بڑھ گیا۔سرکاری اداروں کا خسارہ مسلسل بڑھنے لگا۔ خسارے کا شکار ملک کے دس بڑے سرکاری اداروں میں پی آئی اے پہلے نمبر پرہے۔ کوئٹہ الیکٹرک سپلائی کمپنی 34 ارب روپے خسارے کے ساتھ دوسرے، حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی 27 ارب کے ساتھ تیسرے جب کہ پاکستان ریلوے 26 ارب 99 کروڑ روپے خسارے کے ساتھ چوتھے نمبر ہے۔ 2016 میں سکھر الیکٹرک سپلائی کمپنی کا خسارہ 21 ارب 73 کروڑ روپے تک پہنچ گیا۔ پاکستان اسٹیل 18 ارب روپے خسارے کیساتھ چھٹے نمبر پرہے، پشاور الیکٹرک سپلائی کمپنی کا خسارہ 14 ارب روپے رہا۔ فیسکو 13 ارب اور لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی کا خسارہ 11 ارب 18 کروڑ روپے رہا جبکہ ملتان الیکٹرک سپلائی کمپنی 10 ارب روپے خسارے کے ساتھ دسویں نمبر پر ہے۔ 2015 میں پشاور الیکٹرک سپلائی کمپنی 34 ارب روپے خسارے کے ساتھ پہلے نمبر تھی جو 2016 میں 14 ارب روپے خسارے کے ساتھ ساتویں نمبر پر چلی گئی۔ 2015 میں پاکستان اسٹیل 25 ارب روپے خسارے کے ساتھ تیسرے نمبر پر تھا جو 2016 میں 18 ارب روپے خسارے کے ساتھ چھٹے نمبر پر آگیا۔ وزارت خزانہ نے خسارے کا شکار 10بڑے سرکاری اداروں کی تفصیل جاری کردی ہے، پی آئی اے خسارے کا شکاراداروں میں سرفہرست ہے ۔2016 میں قومی ایئر لائن کا خسارہ 45 ارب 27 کروڑ روپے سے بڑھ گیا۔سرکاری اداروں کا خسارہ مسلسل بڑھنے لگا۔خسارے کا شکار ملک کے دس بڑے سرکاری اداروں میں پی آئی اے پہلے نمبر پرہے۔

11/11/2018

حکومتی پا لیسیاں اثر دکھانے لگیں، ایک اور اسلامی ملک کا پاکستان کیلئے اربوں ڈالرز کے تحفے کا اعلان
ترکی بھی پاکستان کو اربوں ڈالرز کا تحفہ دینے کیلئے تیار ہوگیا، ترکی کی کمپنی پاکستان، افغانستان اور ترکمانستان ٹرانسمیشن لائن منصوبے میں 1.6 ارب ڈالرز کی سرمایہ کاری کرے گی۔ تفصیلات کے مطابق ترکی کی کئی کمپنیوں نے پاکستان میں اربوں ڈالرز کی سرمایہ کاری کرنے میں دلچسپی کا اظہار کیا ہےترکی کی ایک کمپنی نے 1.6 ارب ڈالرز کی سرمایہ کاری کے منصوبے پر دستخط بھی کر دیے ہیں۔ترکی کی کمپنی پاکستان، افغانستان اور ترکمانستان ٹرانسمیشن لائن منصوبے میں 1.6 ارب ڈالرز کی سرمایہ کاری کرے گی۔ اس منصوبے کے تحت ترکمانستان افغانستان اور پاکستان کو بجلی سپلائی کرے گا۔ پاکستان، افغانستان اور ترکمانستان ٹرانسمیشن لائن منصوبہ تین سال کی مدت میں مکمل ہوگا۔

09/11/2018

اسلام آباد(آئی این پی ) وزیر اعظم عمران خان نے 100روزہ پلان کے تحت وزارتوں کی کارکردگی قوم کے سامنے لانے کا فیصلہ کرتے ہوئے وزارتوں کو پہلے مرحلے کی کارکردگی رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت کردی ہے، ہر وزارت کو تحریری رپورٹس جمع کرانا ہوگی کہ پلان کے اہداف حاصل ہوئے یا نہیں۔وزرا کو رپورٹ میں بتانا ہوگا کہ قومی خزانے کو کتنا فائدہ پہنچایا، کفایت شعاری،سادگی پرعمل ہوا؟عوام کو ریلیف کے لیے کیا اقدامات کیے اور حکومتی منشورپرعملدرآمد ، نئی اسکیموں، کرپشن کے سد باب کے لیے کیا اقدامات کیے۔تفصیلات کے مطابق 100روزہ پلان کے تحت وزیراعظم عمران خان نے وزارتوں کی کارکردگی کا پہلے جائزہ لینے کا فیصلہ کیا ہے اور وزارتوں کو 100 روزہ پلان کے پہلے مرحلے کی رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت کردی ہے۔وزیراعظم کی ہدایت پر وزرا کی بھاگ دوڑ جاری ہے اور منصوبہ بندی پر عملدرآمد مزید تیز ہوگیا ہے ، ہر وزارت کو تحریری رپورٹس جمع کرانا ہوگی کہ پلان کے اہداف حاصل ہوئے یا نہیں۔وزرا کو رپورٹ میں بتانا ہوگا کہ قومی خزانے کو کتنا فائدہ پہنچایا، کفایت شعاری،سادگی پرعمل ہوا؟ عوام کو ریلیف کے لیے کیا اقدامات کیے اور حکومتی منشورپرعملدرآمد ، نئی اسکیموں، کرپشن کے سد باب کے لیے کیا اقدامات کیے۔وزیر اعظم وزارتوں کی کارکردگی قوم کے سا منے لائیں گے اور اعلی کارکردگی کے حامل وزراکوحکومتی و عوامی سطح پر کریڈٹ دیں گے۔

28/10/2018

بڑا سیاسی تہلکہ :
نواز شریف اور انکی صاحبزادی نے ہتھیار ڈال دیے ۔۔۔۔۔تازہ ترین خبر نے پٹواریوں اور بیانیے کے پیروکاروں میں صف ماتم بچھا دی
اسلام آباد(نیو ز ڈیسک) جیل سے رہائی کے بعد نواز شریف اور مریم نواز کی سیاسی سرگرمیاں نا ہونے کے برابر ہیں اور لیگی کارکنان یہ جاننا چاہتے ہیں کہ دونوں کا رویہ پاکستانی سیاست کو لے کر کیوں تبدیل ہوچکا ہے۔ دوسری جانب پاکستانی بھی ہکا بکا ہیں کہ ٹوئٹر پر سرگرمرہنے والی مریم نواز کیوں خاموش ہیں؟ تاہم سینئر صحافی نے مریم نواز اور نواز شریف کی پر اسراس خاموشی کے پیچھے چھپی اصل وجہ بیان کر دی ہے۔ تفصیلات کے مطابق معروف صحافی و تجزیہ کار چوہدری غلام حسین نے دعویٰ کیا ہے کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف اور انکی صاحبزادی ہمت ہار چکے ہیں اور وہ کسی بھی قیمت پر اب ڈیل چاہتے ہیں۔ سابق وزیر اعظم نواز شریف کے گرد جب سے گھیرا تنگ ہوا ہے تب سے ہی این آر او کی بازگشت سنائی دے رہی ہے۔جس وقت بیگم کلثوم نواز کا انتقال ہوا تو این آر او کی خبریں مزید زور پکڑ گئیں ۔وزیر اعظم کے دورہ سعودی عرب کے موقع پر سزا معطلی کے بعد نواز شریف ،مریم نواز اور کیپٹن (ر)صفدر کی رہائی نے این آر او کے تاثر کو مزید تقویت دی ۔تاہم اس حوالے سے حکومت بھی بارہا اس بات کو دہراتی رہی ہے کہ مسلم لیگ ن نواز شریف کے لیے این آر او چاہتی ہے لیکن ہم کسی قسم کی ڈیل کے لیے تیار نہیں ہیں۔اس حوالے سے مسلم لیگ ن کے رہنماوں نے ہمیشہ ہی ڈیل کی خبروں کی تردید کی ہے۔تاہم ایک مرتبہ پھر این آر او کی آوازیں سنائی دے رہی ہیں۔اس حوالے سے وزیر اعظم عمران خان نے دورہ سعودی عرب سے واپسی پر خطاب کرتے ہوئےتمام مخالفین کو واضح پیغام دے دیا کہ وہ جو مرضی کر لیں ۔دھرنا دیں یا کچھ بھی کریں اب انکو این آر او ملنے والا نہیں ہے۔جس کے بعد مسلم لیگ ن کی ترجمان مریم اورنگزیب نے کہا کہ وزیر اعظم بتائیں کہ این آر او کون مانگ رہا ہے۔انہوں نے ایک بار پھر تردید کرتے ہوئے کہ مسلم لیگ ن کو حکومت سے کسی قسم کے این آر او کی ضرورت نہیں ہے اور نہ ہی ہمیں این آر او چاہیے۔تاہم معروف صحافی غلام حسین نے انکشاف کیا ہے کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف اور انکی صاحبزادی ہمت ہار چکے ہیں۔انکا کہنا تھا کہ وہ اپنی پارٹی والوں سے بھی جان چھڑوا رہے ہیں۔وہ نہ تو کسی سے ملاقات کرتے ہیں اور نہ ہی کسی سیاسی سرگرمی میں حصہ لیتے ہیں ۔چوہدری غلام حسین

28/10/2018

سابق جج کے نام پر 22سو سے زائد گاڑیاں رجسٹرڈ نکل آئیں نام جان کر آپ کو بھی بہت بڑا جھٹکالگنے والا ہےکراچی (مانیٹرنگ ڈیسک) جعلی اکاؤنٹس ہولڈر اور جعلی کمپنیوں کے بعد اب جعلی گاڑیوں کی رجسٹریشن کامعاملہ سامنے آگیا ہے ۔ 82سالہ سابق جج میاں سکندر حیات کے نام 22 سو گاڑیوں رجسٹرڈ نکل آئیں۔ سابق جج میاں سکندر حیات کے وکیل نے سپریم کورٹ میں دائر ایک درخواست کی سماعت کے دوران عدالت عظمیٰ کو بتایا کہ ان کے موکل کے پاس محض ایک گاڑی ہے تاہم ان کے نام پر 2224 گاڑیاں رجسٹر ہیں۔انہوں نے بتایا کہ میرے موکل کو کچھ دن پہلے ایک گاڑی کا چالان موصل ہوا جو ان کے نام پر ہی نہیں تھی۔ان کا کہنا تھا کہ ایکسائیز ڈپارٹمنٹ سے رابطہ کیا تو معلوم ہوا کہ ان کے نام پر 2224 گاڑیاں رجسٹر ہیں۔ سپریم کورٹ نے سیکریٹری اور ڈائریکٹر ایکسائیز اینڈ ٹیکسیشن سے جواب طلب کرلیا ۔ ایکسائیز اینڈ ٹیکٹیشن ڈیپارٹمنٹ سے ایک ہفتے کے اندر رپورٹ طلب کرلی گئی۔

Want your school to be the top-listed School/college in Rawalpindi?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Telephone

Website

Address


Fazal Town Chaklala Rawalpindi
Rawalpindi