پاکستان اشرافیہ کی خدمتگار ریاست ھے۔ سب سے بڑی اشرافیہ ریٹائرڈ فوجی افسران ہیں۔ جن کو جنرل ایوب خان کے زمانے سے جاگیریں الاٹ ھوتی رہی ہیں۔ جنرل ضیاء کے زمانے سے فیکٹریوں اور کارخانوں کے پرمٹ بھی ملتے رھے ہیں اور مشرف کے زمانے میں تو یہ وزارتوں ، یونیورسٹیوں کے وائس چانسلر ، مالی مفاد والے محکموں کے سربراہ رھے ہیں۔۔ برطانوی سامراج کے پیدا کیئے ھوئے جاگیردار اور ملئی نیشنل کمپنیوں کے سیلز مین سرمایہ دار فوجی اشرافیہ کے جونیئر پارٹنر ہیں۔ ایسی ریاست کے پاس آئی ایم ایف سے قرضہ لے کر ملک چلانے کے سوا کوئی متبادل معاشی آپشن نہیں ھوتا اور آئی ایم ایف عالمی سطح پر اشرافیہ کی خدمتگار ریاستوں کا ادارہ ھے۔ آئی ایم ایف کو اپنی ریکوری کیلئے ایسی ریاستوں کے ریکوری افیسر وزیراعظم چاہیئے ھوتے ہیں۔ متبادل معیشت کے طور پر زرمبادلہ ک نکاس کرنے والی چاکلیٹ،دودھ اور کتوں کی پیک خوراک وغیرہ کی درآمد روکی جا سکتی ھے۔ اپنی زمینیں لاکھ روپیہ فی ایکڑ ٹھیکہ پر چڑھا کر خود بڑے شہروں میں رہ کر پر تعیش زندگی گزارنے والوں پر ٹیکس لگایا جا سکتا ھے۔ اگر اسٹبلشمنٹ نیوٹرل ھو گئی ھے تو فوجی کاروباروں پر ٹیکس لگایا جا سکتا ھے۔ دفاعی پیداوار کے کارخانوں کی 98 ارب کی سبسڈی ختم کی جاسکتی ھے بجائے آٹا، گھی اور چینی کی سبسڈی ختم کرنے کے۔۔ لیکن یہ سب کچھ elitist state کو عوام کی خدمت گار ریاست میں تبدیل کیئے بغیر ممکن نہیں۔۔
مسعود خالد
Department Of Criminology PMAS UAAR
All News about the Criminology Department in PMAS University Arid Agriculture University Rawalpindi, Pakistan
25/10/2021
Welcome to new students.
30/12/2020
Seminar on criminal justice at PMAS Arid Agriculture University Rawalpindi Pakistan.
22/10/2020
ہم عدالت عالیہ سے پرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ شہید پولیس کانسٹیبل کی جائیداد بیچ کر اچکزئی کی گاڑی کو جو نقصان ہوا اس کے بھرپائی کی جائے۔ اسطرح انصاف کی جو قبر بنی ہے اُس پر کتبہ بھی لگایا جائے۔
آج ببر شیر پولیس افسر SSPچوہدری اسلم شہید کا یوم شہادت ہے
شہید ایس ایس پی چوہدری اسلم کے الفاظ
"اگر میں اپنا فرض ادا کرتے اور دہشت گردوں سے لڑتا ہوا مارا جاﺅں تو یہ شہادت ہو گی اور میرے لئے نئی زندگی کی نوید کیونکہ شہید مرتے نہیں ہیں۔"
شہید چوہدری اسلم 1963ءمیں مانسہرہ کے علاقے ڈھوڈھیال میں پیدا ہوئے، جبکہ وہ ابتدائی تعلیم کے بعد کراچی منتقل ہوگئے، انہوں نے کراچی میں ہی گریجویشن کی اور پھر پولیس فورس میں شمولیت اختیار کرلی
اسلم خان کا تعلق صوبہ خیبرپختونخوا کے سیاحتی شہرایبٹ آباد سے تھا لیکن دوستوں نے ان کے لباس اورچال ڈھال کی وجہ سے انہیں چو ہدری کہنا شروع کیا اور پھر یہ نام ان کے ساتھ ایسا جڑا کہ وہ چو ہدری اسلم کے نام سے ہی پہچانے جانے لگے۔
چوہدری اسلم کا نام ان بہادر افسران میں شمار کیا جاتا تھا جن سے شہر بھر کے تمام دہشت گرد خوف کھاتے تھے۔
دہشتگردوں کیلئے دہشت کی علامت ایس پی سی آئی ڈی چوہدری اسلم پر عیسیٰ نگری سے متصل لیاری ایکسپریس وے کے انٹری پوائنٹ پر خودکش حملہ ہوا تھا، اس حملے میں چوہدری اسلم کے ڈرائیور اورگن مین نے بھی شہادت پائی، حملے میں بارہ اہلکار زخمی بھی ہوئے __
تو میری حرمت، تو میرا اثاثہ، پائیندہ باد رہے
تیری آبرو تیری دھرتی کیلئے جاں کی بازی لگا دوں ''__
پاکستان زندہ باد
جانباز پائندہ باد __
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Telephone
Website
Address
PMAS University Of Arid Agriculture
Rawalpindi
46000