23/07/2021
Qirat ul Quran
We are providing Online Teachings Of Holy Quran and our aim is to provide a good knowledge.
Its Our Official page And You Can Contact Us On 03125611678/03329567616
Email- [email protected]
23/07/2021
⭕👈☆ شبِ برات ( ١٥ شعبان)کی فضیلت
. و آداب👉⭕
حمO وَالْكِتَابِ الْمُبِينِO إِنَّا أَنزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةٍ مُّبَارَكَةٍ إِنَّا كُنَّا مُنذِرِينَO فِيهَا يُفْرَقُ كُلُّ أَمْرٍ حَكِيمٍO أَمْرًا مِّنْ عِندِنَا إِنَّا كُنَّا مُرْسِلِينَO رَحْمَةً مِّن رَّبِّكَ إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُO رَبِّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا إِن كُنتُم مُّوقِنِينَO لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ يُحْيِي وَيُمِيتُ رَبُّكُمْ وَرَبُّ آبَائِكُمُ الْأَوَّلِينَ
(الدخان : 44، 1 تا 8)
’’حٰم، اس روشن کتاب کی قسم بے شک ہم نے اسے ایک بابرکت رات میں اتارا ہے بے شک ہم ڈر سنانے والے ہیں۔ اس (رات) میں ہر حکمت والے کام کا (جدا جدا) فیصلہ کر دیا جاتا ہے۔ ہماری بارگاہ کے حکم سے، بے شک ہم ہی بھیجنے والے ہیں۔ (یہ) آپ کے رب کی جانب سے رحمت ہے، بے شک وہ خوب سننے والا خوب جاننے والا ہے۔ آسمانوں اور زمین کا اور جو کچھ ان کے درمیان ہے (اسکا) پروردگار ہے، بشرطیکہ تم یقین رکھنے والے ہو اس کے سوا کوئی معبود نہیں، وہی زندگی دیتا اور موت دیتا ہے (وہ) تمہارا (بھی) رب ہے اور تمہارے اگلے آباؤ اجداد کا (بھی) رب ہے‘‘۔
حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا شعبان شھری و رمضان شھر اللہ (شعبان میرا مہینہ ہے اور رمضان اللہ کا مہینہ ہے) مزید فرمایا کہ جو شعبان میں اچھی تیاری کرے گا اسکا رمضان اچھا گزرے گا اور وہ ماہ رمضان کی برکتوں اور سعادتوں سے لطف اندوز اور بہرہ مند ہوگا۔ شعبان المعظم کا پورا ماہ بابرکت و باسعادت اور حرمت و تعظیم والا مہینہ ہے لیکن اس مہینہ کو بطور خاص کچھ فضیلتیں، امتیازات اور شرف عطا کئے گئے، یہ مہینہ ’’شہر التوبہ‘‘ بھی کہلاتا ہے اس لئے کہ توبہ کی قبولیت اس ماہ میں بڑھ جاتی ہے۔ اس ماہ میں مسلمانوں پر برکتوں کا اضافہ کر دیا جاتا ہے۔ اس لئے یہ ماہ اس کا حقدار ہے کہ دیگر مہینوں سے بڑھ کر اس میں اللہ کی اطاعت و عبادت اختیار کی جائے۔ بزرگانِ دین نے فرمایا ہے کہ جو لوگ اپنی جان کو اس مہینہ میں ریاضت و محنت پر تیار کر لیں گے وہ ماہ رمضان المبارک کی جملہ برکتوں اور سعادتوں کو کامیابی کے ساتھ حاصل کریں گے۔ اس بناء پر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ماہ رمضان کے بعد سال کے 12 مہینوں میں سب سے زیادہ روزے اس ماہ رکھتے تھے۔ اس ماہ کی ایک خاص امتیازی خصوصیت 15 شعبان المعظم کی رات ہے۔ اس رات کو اللہ نے ’’لیلۃ مبارکہ‘‘ ’’برکت والی رات‘‘ کہا ہے۔ علماء، مشائخ، آئمہ، مفسرین کی اکثریت کا نقطہ نظر یہ ہے کہ شب قدر کے بعد سال کے 12 مہینوں میں سب سے زیادہ افضل شب برات ہے۔ ارشاد فرمایا فِیھَا یُفرَقُ کُلُّ اَمرٍ حَکِیمٍ۔
’’اس (رات) میں ہر حکمت والے کام کا (جدا جدا) فیصلہ کر دیا جاتا ہے‘‘۔ یعنی تمام حکمت والے، فیصلہ کن، نافذ العمل ہونے والے امور کی تنفیذ کا فیصلہ اس رات کیا جاتا ہے۔ حضرت عطاء بن یسار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
’’جب 15 شعبان کی رات آتی ہے تو اللہ تعالیٰ ملک الموت کو اگلے سال کے لئے موت وحیات کے امور نفاذ و اجراء کے لئے سپرد فرما دیتا ہے‘‘۔ بعض اذہان میں یہ خیال پیدا ہوتا ہے کہ اگر اس رات تقدیریں، رزق، موت و حیات کے فیصلے لکھے جاتے ہیں تو لوح محفوظ پر جو سب کچھ پہلے ہی لکھا جا چکا ہے اس کا معنی کیا ہے؟
دونوں باتوں میں مطابقت یہ ہے کہ اللہ کے علم میں تو سب کچھ پہلے سے ہی آ گیا ہے اور سب کچھ پہلے ہی سے آ جانا یہی اس کی لوح محفوظ ہے۔ اس کی لوح، اسکا علم ہے۔ اس رات لکھے جانے کا مطلب یہ ہے کہ ان امور کو نافذ کرنے کے لئے فرشتوں کے سپرد کر دیا جاتا ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ’’کہ کچھ لوگ ایسے ہیں کہ 15 شعبان المعظم کی رات بھی اپنے ظلم میں مصروف ہوتے ہیں یا ظلم و ستم ڈھانے کے لئے منصوبے بنا رہے ہوتے ہیں حالانکہ ان کا نام مرنے والوں کی فہرست میں آ چکا ہوتا ہے‘‘۔
الغرض افراد ایسے منصوبہ جات میں مصروف ہوتے ہیں جن کے نتائج سالوں بعد ظاہر ہوتے ہیں حالانکہ اس اگلے سال میں ان کی موت لکھ دی جاتی ہے۔ یعنی ہر امر الہٰی نفاذ کے لئے سپرد کر دیا جاتا ہے۔ اس کی مثال آپ بجٹ کی لے لیں کہ بجٹ کی منظوری تو یکبار ہو جاتی ہے مگر اسکا نفاذ پورے سال میں مختلف اوقات میں ہوتا رہتا ہے۔ اس طرح اللہ کے ہاں بھی ہمارا بجٹ پیدائش سے موت تک ہماری پیدائش سے پہلے ہی تیار ہوتا ہے اور یہ سب کچھ علم الہٰی میں آچکا ہوتا ہے اور یہی لوح محفوظ پر لکھا جانا کہلاتا ہے۔ پھر ہر سال کے حساب سے یہ احکامات نفاذ کے لئے اس 15 شعبان المعظم کی رات جاری کر دیئے جاتے ہیں۔
سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر اس نے پہلے ہی فیصلہ کر رکھا ہے تو اس رات سپرد کرنے کی بات کو ذکر کیوں کیا؟ جب کمی بیشی نہیں ہونی اور فیصلہ پہلے ہی ہو چکا ہے تو اس رات کو ہونے والے امور کا ذکر کرنے کی کیا حاجت تھی؟ درحقیقت یہ اظہار دنیاوی حکمرانوں اور ساری کائنات کے حکمران میں فرق کو واضح کرتا ہے کہ ہمارے وسائل محدود ہیں لیکن اللہ کے وسائل محدود نہیں ہیں بلکہ اس کی نعمتیں، رحمتیں لامحدود ہیں اس کا اپنا فرمان ہے وسعت رحمتی کل شیء ’’میری رحمت ہر شے پر وسیع ہے‘‘ اللہ کے اس رات کو Disclose کرنے کی حکمت اصل میں ’’ترغیب و ترہیب‘‘ ہے۔ جب اللہ نے یہ بتا دیا کہ آج کی رات سب احکامات تنفیذ کے لئے سپرد کئے جا رہے ہیں تو ساتھ ہی یہ بتا دیا کہ اگرچہ یہ میرا طے شدہ بجٹ ہے مگر یہ بات بھی ذہن میں رکھو کہ میں نہ صرف لوح محفوظ والا ہوں بلکہ لوح محفوظ کا مالک بھی ہوں، اگر کوئی اس رات سچے دل سے گڑگڑا کر رو پڑے تو میں لکھا ہوا مٹا بھی دیتا ہوں اور نہ لکھا ہوا ہو تو لکھ بھی دیتا ہوں۔ پس اگر ردوبدل کا امکان نہ ہوتا تو اس رات کا ذکر نہ کیا جاتا۔
حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا دو چیزیں تقدیر کو بدل دیتی ہیں۔ لایرد القضاء الا بالدعا والصدقہ۔ ’’تقدیر نہیں بدلی جاتی مگر دعا اور صدقہ سے‘‘۔ گویا اس رات کا بنایا جانا اس کے کرم کی بدولت ہے کیونکہ اگر اس رات کچھ ردوبدل نہ ہو سکتا ہوتا تو رات بتائی ہی نہ جاتی۔ اللہ نے لیلۃ القدر عطا فرمائی تو اس کو 5 طاق راتوں میں چھپا کر رکھا کیونکہ لیلۃ القدر مرتبہ میں بقیہ راتوں سے افضل ہے مگر جب یہ رات آئی تو اس کو چھپایا نہ بلکہ سر عام حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اعلان کروا دیا کہ اے محبوب امت کو اس رات کی اہمیت کے متعلق بتلا دیں کہ جس نے رب سے جو کچھ لینا ہے، لے لے، جو مانگنا ہے، مانگ لے، اس کا کرم آج نداء دے رہا ہے کہ ہے کوئی گناہوں کو بخشوانے والا، ہے کوئی رحمت کا طلبگار، ہے کوئی رزق، دولت، علم، مانگنے والا کہ اسے عطا کردوں جو کچھ وہ مانگ رہا ہے‘‘۔
لیلۃ القدر مرتبہ میں شب برات سے افضل ہے اس لئے شروع میں اس کو پورے ماہ میں چھپا دیا، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی امت کے لئے اس رات کی تلاش میں رمضان المبارک کے پورے مہینے میں اعتکاف کیا۔ بعد ازاں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پورا ماہ کا اعتکاف بسلسلہ تلاش لیلۃ القدر امت پر گراں محسوس ہونے کا ڈر لگا تو اشارہ ملا کہ رمضان کے آخری 20دنوں میں تلاش کریں۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر ایک اعتکاف 20 دنوں کا کیا، عرض کیا اے اللہ 20دن کا اعتکاف بھی امت کو پریشان کر دے گا، غفلت کریں گے، مدت کم کردے، فرمایا آخری دس دنوں کا اعتکاف کرلیں پھر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم 10 دن کا اعتکاف بیٹھے اور عرض کیا مولا اعتکاف تو 10 دن بٹھا مگر راتیں 10 پوری کی پوری نہ جگا، ان کو کم کر دے، امت بڑی کمزور ہے، پھر اللہ نے فرمایا کہ اعتکاف تو 10 دن کا ہوگا مگر جاگنے کے لئے راتیں 5 کر دیتا ہوں پس طاق راتوں میں جاگیں اور لیلۃ القدر تلاش کریں۔ پس 15 شعبان المعظم کی رات کو ظاہر کرنے کا مقصد یہ ہے کہ تاکہ امت مسلمہ اللہ سے رزق اور علم کے بڑھنے، آفات کے ٹلنے، دنیا و آخرت بخشش و مغفرت کے حصول اور اپنی بدبختی و شقاوت کو نیک بختی و سعادت سے بدلنے کی دعا مانگ لے۔ اللہ نے لیلۃ القدر کو چھپایا اور ہم اس کی تلاش میں سرگرداں نظر آتے ہیں مگر شب برات کو ظاہر کر دیا لیکن افسوس کہ ہم اس رات کی قدر نہیں کرتے بلکہ اس رات بھی غفلت کا لبادہ اوڑھے سوئے رہتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اس ماہ شعبان کے ثمرات و فیوضات خصوصاً 15 شعبان المعظم کی برکتوں سے فیضیاب فرمائے اور ہمیں اپنی اصلاح کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہ سیدالمرسلین .
28/03/2021
☘️ *روز ِجمعہ کی اہم نیکی* ☘️
جمعۃُ المبارک کے دن کی جانے والی نیکیوں میں سے *ایک اہم نیکی نبیِّ پاک ﷺ پر دُرُود و سلام پڑھنا بھی ہے،* یوں تو کسی بھی دن یا کسی بھی وقت درودِ پاک پڑھنا اَجر و ثواب سے خالی نہیں ہے *مگر احادیثِ مبارَکہ میں خاص جمعہ کے دن درودِ پاک پڑھنے والے پر خُصوصی انعامات و اعزازات کا بیان ہے، آئیے 6 فرامینِ مصطفےٰ ملاحَظَہ کیجئے:*
*(1)* 🌱 دُرُودِ پاک کی کثرت کیجئے: 🌹 *جمعہ کے دن مجھ پر درودِ پاک کی کثرت کرو کیونکہ یہ یومِ مَشْہود ہے اس دن فرشتے حاضر ہوتے ہیں اور جو مجھ پر دُرُودِ پاک پڑھتا ہے اس کے دُرُودِ پاک سے فارغ ہونے سے پہلے اس کا درودِ پاک مجھ تک پہنچ جاتا ہے۔*
📗 *(ابن ماجہ،ج2، ص291، حدیث:1637)*
*(2)* 🌱 قُربِ مصطفےٰ پانے کا وظیفہ : 🌹 *جمعہ کے دن مجھ پر درودِ پاک کی کثرت کرو کہ میری اُمّت کا دُرُود ہر جمعہ کو مجھ پرپیش کیا جاتا ہے،ان میں سے جو سب سے زیادہ درودِ پاک پڑھنے والا ہوگا وہ میرے زیادہ قریب ہوگا۔*
📗 *(سننِ کبریٰ للبیہقی،ج 3،ص353،حدیث: 5995)*
*(3)* 🌱 سو بار دُرُود ِ پاک پڑھنے والے پر انعام: 🌹 *جو مجھ پر شبِِ جمعہ اور روزِ جمعہ ایک سو مرتبہ دُرُودِ پاک پڑھے اللہ تعالیٰ اُس کی 100 حاجتیں پوری فرمائے گا، 70 آخِرت کی اور 30 دُنیا کی۔*
📗 *(شعب الایمان،ج3،ص111، حدیث: 3035)*
*(4)* 🌱 نُور عطا کئے جانے کی بشارت : 🌹 *جو شخص بروزِ جمعہ ایک سو بار دُرُود ِ پاک پڑھے، جب وہ قِیامت کے دن آئے گا تو اُس کے ساتھ ایک ایسا نور ہوگا کہ اگر وہ ساری مخلوق میں تقسیم کردیا جائے تو سب کو کفایت کرے۔*
📗 *(حلیۃ الاولیاء،ج8،ص49)*
*(5)* 🌱 بخشش و مغفرت والا عمل: 🌹 *جو شخص جمعہ کے دن مجھ پر اسّی (80) بار درودِ پاک پڑھےگا اس کے اسّی سال کے گُناہ بخش دیئے جائیں گے۔*
📗 *(جامع صغیر، ص320، حدیث: 5191)*
🌹 *نیز ایک روایت میں سرکارِ مدینہ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے جمعہ کے روز دوسو بار درودِ پاک پڑھنے والے کے لئے دوسو سال کے گناہوں کی بخشش کی بشارت دی ہے۔*
📗 *(جمع الجوامع،ج 7،ص199، حدیث:22353)*
*(6)* 🌱 شفاعت کی خوشخبری: 🌹 *جو مجھ پر جمعہ کے روز درودِ پاک پڑھے گا میں قِیِامت کے دن اُس کی شفاعت کروں گا۔*
📗 *(جمع الجوامع،ج 7، ص199، حدیث:22352)*
*
M0xt welc0me new member
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Contact the school
Telephone
Website
Address
Rawalpindi