Islamic studio7786

Islamic studio7786

Share

ISLAMIC SCHOLARS LECHERS

06/10/2024

میں نے بہت سے بے ایمان اور منافق لوگ اس دنیا میں دیکھے
جو خود تو اسلامی تعلیمات پر عمل نہیں کرتے پر دوسروں کو اسلامی تعلیمات کی سخت دعوت دیتے ہیں
خود تو صبح شام کبھی ایک کی غیبت کبھی دوسرے کی غیبت کبھی ایک کی چغلی کبھی دوسرے کی چغلی لیکن دوسروں کو اسلام کی سخت دعوت اور سخت ترغیب دیتے ہیں اپنا ایک عمل بھی اسلامی تعلیمات کے مطابق نہیں ہوگا
یہ منافق لوگ بذات خود تو خوش رہتے ہیں مگر دوسروں کی زندگی اعزاب میں ڈالی ھوتی ھے
حدیثِ مبارک میں کامل مسلمان کی صفات میں ایک صفت یہ ذکر کی گئی ہے کہ کامل مسلمان تو وہی ہے جس کی زبان اور ہاتھ کی ایذاؤں سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں؛ لہذا کسی مسلمان بھائی کو زبان، ہاتھ یا کسی اور ذریعے سے کسی قسم کی تکلیف دینا شرعاً جائز نہیں ہے۔
تو خدارا پہلے اپنے گریبان میں جھانکے پھر دوسروں کو سیدھے راستے پر لائیں
اگر میری پوسٹ سے کسی کی دل ازاری ہوئی ہے تو انتہائی معذرت

11/02/2024
26/12/2023

بے وقوف ہمسفر

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ ایک آدمی سفر کر رہا تھا. اس نے سوچا اس موقع سے فائدہ اٹھانا چاہیے پیغمبر ِخدا سے ایسا عمل سیکھ لینا چاہیے جس سے پتھر سونا بن جائے اور مردہ زندہ ہو جائے اس بیوقوف نے کہا کہ
"یا حضرت علیہ السلام مجھے بھی کوئی ایسا نسخہ دے دیں جس سے میری دنیا سنور جائے اور میں پڑھ کر پھونک ماروں تو مردہ زندہ ہوجائے"، حضرت عیسی ٰعلیہ السلام اس کی اس لب کشائی پر بڑے حیران ہوئے کہ اس بیمار اور مرُدہ شخص کو اپنا غم نہیں کہ میری رفاقت سے اپنے مردہ دل کا علاج کرلے ،مگر یہ تو ایک دن میں تاج و تخت کا مالک بننا چاہتا ہے۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا:
"چپ رہ یہ تیرا کام نہیں اس مقام تک پہنچنے کے لیے بڑی منزلیں طے کرنی پڑتی ہیں یہ قوت تو اس وقت حاصل ہوتی ہے جب ایک عمر روح کی آلودگیوں کو پاک کرتے گزر جاتی ہے اگر تو نے ہاتھ میں عصا پکڑبھی لیا تو کیا ہوا، اس سے کام لینے کے لیے موسیٰ علیہ السلام کا ہاتھ چاہیے ہر شخص عصا پھینک کر اژدھا نہیں بنا سکتااور نا پھر اژدھا کو عصا بنا سکتا ہے"۔
اس شخص نے کہا " اگر آپ علیہ السلام مجھے یہ اسرار و ر موز نہیں بتانا چاہتے تو نہ سہی میری عرض قابلِ پذیرائی نہیں تو میرے سامنے مردہ زندہ کر کے دکھا دیجئے"۔
راستے میں ایک گہرے گڑھے میں کچھ ہڈیاں دیکھی تو عرض کرنے لگا "یا حضرت! اِن پر دم کر کے پھونکئے ! " اس شخص کے اصرار پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام مجبور ہوگئے انہوں نے ہڈیوں پر نام ِخدا پڑھ کر پھونک ماری یہ ہڈیاں دیکھتے ہی دیکھتے ایک خوفناک سیاہ شیر کی صورت اختیار کرگئیں، شیر چھلانگ لگا کر گھڑے سے نکلا اور اس شخص پر حملہ آور ہوا اور اسے فورا ًہلاک کر ڈالا ۔
حضرت عیسی ٰعلیہ السلام نے شیر سے دریافت کیا کہ اس نے ایسا کیوں کیا، شیر نے عرض کیا یا حضرت عیسی ٰعلیہ السلام وہ آپ کے لئے تکلیف کا باعث بن رہا تھا۔ حضرت عیسی ٰعلیہ السلام نے اس سے پوچھا کہ " تو نے اس کا خون کیوں نہیں پیا۔"
اس نے کہا: " ایک تو یہ آپ علیہ السلام کا بے ادب اور گستاخ تھا۔ دوسرا اب اس دنیائے آب و گل کا رزق میری قسمت میں نہ تھا۔"
درس حیات:
بیوقوف لوگ اپنے اصرار اور نا شائستہ حرکات سے پریشانی کو دعوت دیتے ہیں۔
انبیاء کرام علیہم اجمعین کے بے ادبی کو جانور بھی برداشت نہیں کرتے۔

Want your school to be the top-listed School/college in Rawalpindi?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Website

Address


Rawalpindi