28/12/2020
https://www.blogger.com/blog/post/edit/preview/1715682430154350412/8334570237920439736
مقبوضہ جموں وکشمیر میں عسکریت پسندی کی صورت حال(انڈین میڈیا اور تجزیوں کی نظر سے )
مقبوضہ جموں وکشمیر میں عسکریت پسندی کی صورت حال
(انڈین تجزیوں اور میڈیا کی زبانی )۔
جموں وکشمیر میں عسکریت پسندی نئے دور میں داخل ہوچکی ہے ۔پچھلے 5 سالوں میں اس میں نئی بھرتیوں ، باہر سے داخل ہونے والوں اور پرتشدد حملوں میں مسلسل اضافہ ہورہا تھا ۔2020 میں عسکریت پسندی میں قابل ذکر تبدیلی آئی ہے جس میں نئی بھرتیوں میں اضافے کے باوجود پرتشدد واقعات میں کمی آئی ہے ۔
2020 میں نئے بھرتی ہونے والے جنگجوؤں کی تعدادپچھلے سال سے زیادہ مختلف نہیں تھی ،جنوری سے لیکر اکتوبر 2020 تک 145 نوجوانوں نے عسکریت پسندی اختیار کی جو تعداد پچھلے دس سالوں میں دوسرے نمبر پر سب سے زیادہ ہے ۔ مگر(انڈین ) سیکیورٹی فورسز کے جارحانہ جوابی حملوں کے نتیجے میں جتنے لوگ بھرتی ہوئے یا داخل ہوئے(بھارتی دعوے کے مطابق) اتنے لوگوں کو ماردیاگیا۔
(جنوری سے لیکر نومبر کے پہلے ہفتے تک 20 غیر ملکیوں سمیت 191 جنگجو سیکیورٹی فورسز کے ہاتھوں مارے گئے مگر اس دوران 145 نوجوانوں نے عسکریت پسندی کو اختیارکرلیا ۔
سامنے آنے والے اعدادوشمار کے مطابق 2018 میں 107 "انسداد دہشت گردی " کاروائیوں میں 254جنگجو مارے (شہید) ہوگئے اور 210نئے بھرتی ہوگئے ۔لاپتہ ہونے والے 8 میں سے 5 نوجوان عسکریت پسندی اختیار کی، جن میں سے 50 فیصد گرفتارہوگئے یا پولیس کے سامنے ہتھیار ڈال دیئے ۔انڈین حکام کے مطابق نئے بھرتی ہونے والے زیادہ تر نواجوان چناب کے ساحل یا پیرپنجال کی وادی سے تعلق رکھتے تھے ۔
2019 میں 79 لڑائیوں میں 157 جنگجومارے (شہید ہو)گئے اور 127 نوجوانوں نے عسکریت پسندی اختیارکی ۔
2017 میں جنگجو کمانڈر برہان وانی کی موت (شہادت )کے ایک سال بعد 83 لڑائیوں میں 192 جنگجومارے (شہید)ہوئے اور 139نئے جنگجوبنے ۔
(انڈین ) آفیسر نے متنبی کیا کہ اس سال 191 مارے (شہیدہو) گئے اور 145 شامل ہوگئے ،40 ، 50 کے فرق سے کوئی بڑا فرق نہیں پڑے گا،اس کا کہنا تھا کہ ہم یقین سے نہیں کہہ سکتے کہ کتنے لوگوں نے ایل او سی کراس کی ، یہی بات سچ ہے کہ پچھلے کئی سالوں سے جنگجوؤں کی تعداد 200 کے اوپر نیچے ہے ۔
اس کا کہنا تھا کہ "جنازوں پر پابندی لگانے " اور انٹر نیٹ بند کرنے کے باوجود بھرتیوں کی تعداد"اچھی خاصی تعداد میں نئے جنگجوؤں کی بھرتی" حیران کن ہے ۔
اس کا کہنا تھا کہ "جنگجووں " کے اعزاز میں بہت بڑے جنازے نوجوانوں کو اس طرف راغب کرتے تھے حتیٰ کہ کوئی نوجوان موقع پر ہی جنگجوؤں میں شامل ہوجاتے تھے ،اس لئے یہ تاثر پایا جاتا تھا کہ جنازے بند کرنے سے جنگجوؤں کی بھرتیوں میں کمی واقع ہوگی ، مگر جنازوں پر پابندی سے کوئی فرق نظر نہیں آیا۔
اس کا مزید کہنا تھا کہ لعشیں گھروالوں کو نہ دینے سے نوجوانوں میں اشتعال پھیلاتا ہے جس کی وجہ سے نوجوان زیادہ تعداد میں بھرتی ہورہے ہیں اور ہمیں اس تعداد کا بھی یقین نہیں ہے کہ کتنے افراد باہر سے آرہے ہیں ۔
حکام کو امید تھی کہ انٹر نیٹ بند ہونے یا سلو ہونے سے نوجوانوں کو گن اٹھانے کی تحریض کم ملے گی ،مگر ایسا کچھ دکھائی نہیں دے رہا ہے "سلوانٹرنیٹ کا مسئلہ ہوسکتا ہے مگر نئے بھرتی ہونے والے جنگجوبننے کا اعلان کرنے میں دلچسپی لیتے دکھائی نہیں دے رہے ہیں ، جیش اور لشکر کے متعلقہ جنگجو عام طور پر اعلان نہیں کرتے ہیں ،ہوسکتاہے کہ نئے روجہان میں ایسا نہ کیا جاتاہو بلکہ خفیہ رکھاجاتا ہو۔جبکہ حزب المجاہدین کے (شہید) کمانڈر اور اس کے بعد آنے والے 13 سے 30 سال کے جنگجو اپنی تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر شائع کرتے تھے ۔
انڈین آرمی آفیسر کے مطابق حالیہ رپورٹ کے مطابق جنوبی کشمیر میں 60 سے 80 غیر ملکی جنگجو سرگرم ہیں ،اور یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ جنوبی کشمیر میں سرگرم جنگجو بہتر تربیت یافتہ ہیں اور ان کو ہتھیاروں اور پیسوں تک بہتر رسائی حاصل ہے ۔
اس سال بارہ مولا کے علاقے پٹن میں 3 جنگجوؤں نے سی آر پی ایف پر ایمبش لگایاگیا اور جس میں باڈی کیمرے استعمال کئے گئے اور ویڈیوز کو سوشل میڈیا پر دیا گیا تاکہ نئی بھرتی کی تحریض دی جاسکتے ۔)
https://www.news18.com/news/india/militant-recruitments-continue-in-jk-2020-spike-second-highest-in-last-10-years-3103445.html
تاہم اس میں یہ نقطہ اہم ہے کہ عسکریت پسندوں کی کاروائیوں میں کمی واقع ہوئی ہے اور معلومات کے تجزیے سے پتہ چلتا ہے کہ جنگجوؤں کو ہتھیاروں کی کمی کا سامنا ہے جس کی وجہ سے بڑے اور کاری حملے کرنے کی ان کی صلاحیت میں کمی بہت زیادہ کمی آئی ہے ۔
اوآر ایف کے اعدادو شمار کے مطابق(بھارتی سیکیورٹی ) فورسز کی طرف سے جنوری 2020 سے اکتوبر آخر تک 176 کاؤنٹر ملی ٹنسی آپریشنز کیے گیے جس میں 245ہتھیارقبضے میں لیے گئے جن میں 101 پستول یا شارٹ گنز تھیں اور 144عدد مختلف اقسام کی اسالٹ رائفلز تھیں جن میں اے کے 47، اے کے 56 اور ایم 4 اور انساس وغیرہ شامل تھیں ۔ بہت سارے آپریشنز ایسے تھے جن میں جنگجو مارے گئے ، گرفتار کئے گئے یا سرنڈر ہوگئے مگر ان میں قابل ذکر ہتھیار نہیں پائے گئے (یعنی عام نوجوانوں کو جنگجو کہہ کرقتل کیا گیا ) ۔
قبضے میں لیے گئے ایمونیشن کے اعدادو شمار سے پتہ چلتا ہے کہ ہر پسٹل کے ساتھ (صرف ) 10 گولیاں تھیں اور ہر رائفل کے ساتھ اوسطا 66 گولیاں تھیں ۔ پسٹل بنیادی طور پر سلف ڈیفنس کا ہتھیارہے جو صرف قریب سے قتل کرنے کے لئے استعمال کیاجاسکتا ہے ۔
اعدادوشمار سے پتہ چلتا ہے کہ پسٹل رکھنے والے جنگجوسیکیورٹی والوں کے خلاف بڑے حملے کرنے کی اہلیت کے حامل نہیں ہوتے ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ 2020 میں چند ایک ہی قابل ذکر حملے ہوئے ۔2020کے دوران زیادہ تر حملوں میں عام لوگوں یا الگ تھلگ کھڑے فوجیوں کو نشانہ بنایا گیا۔اعدادوشمار کے مطابق اس سال صرف ایک آئی ای ڈی (خود ساختہ باردو)قبضے میں لیا گیا جبکہ پچھلے سال 12 آئی ای ڈیز قبضے میں لیے گیے تھے ۔
اعدادوشمار سے پتہ چلتا ہے کہ ہتھیاروں کی سپلائی میں کمی نہیں آئی ہے البتہ ہتھیاروں کی ڈیمانڈ بڑھ گئی ہے دوسرے لفظوں میں مسلسل بھرتیاں ہونے کی وجہ سے ہتھیاروں کی ڈیمانڈ پچھلے چند سالوں میں سب سے زیادہ ہے ۔ایل او سی بند ہونے اور جنگجوؤں کے گرد مسلسل گھیراؤ ہونے کی وجہ سے ہتھیاروں کی سپلائی میں بنیادی خلل پیدا ہوا ہے ۔اپریل 2019 میں انڈین سیکیورٹی فورس کو ایک تجارتی ٹرک سے ہتھیار برآمد ہوئے جس کے بعد انوسٹی گیشن سے پتہ چلا ہے ہتھیاروں ، منشیات اور نقلی کرنسی کی سمکلنگ کے سے لئے تجاری راستے استعمال کئے جارہے ہیں ۔ جس کے بعد انڈیا نے ایل او سی پر تجارت بند کردی ۔
یہ بات اوپن سیکرٹ ہے کہ جنگجو بددیانت سیکیورٹی والوں کے ذریعے تجارتی راستوں سے بھی ہتھیار حاصل کررہے ہیں ۔انڈین ایجنسی این آئی اے نے حال ہی میں ڈی ایس پی تھروندر سنگھ کی انوسٹی گیشن میں پایا کہ ایک سابقہ سرپنچ(نمبردار) حزب المجاہدین کو ہتھیار مہیا کررہاتھا ۔ممکن ہے دھروندر سنگھ اور متعلقہ لوگوں کی گرفتاری اور انوسٹی گیشن ہتھیار کی سپلائی میں کمی آئے ۔
انڈین فوج اور جموں وکشمیر پولیس نے کھلے عام بیانات دیئے ہیں کہ جنگجوؤں کو ہتھیاروں کی کمی کا سامناتھا۔(ان کے بقول ) پاکستان جنگجوؤں کو ہتھیارسپلائی کرنے کے نئے راستے تلاش کرنے کی کوشش کررہا ہے ۔
20 جون کو انڈیا کی بارڈر سیکیورٹی فورسز( بی ایس ایف) نے جموں و کشمیر کے ضلع کٹھوعہ کے قریب انٹر نیشنل بارڈر پر پاکستان کی طرف سے آنے والا چائینہ ساختہ ڈراؤن مارگرایاجو ہتھیاراور بارود اٹھائے ہوئے تھا۔جس میں ایک ایم 4 کاربائن رائفلز ، 7 گرنیڈ شامل تھے ۔19ستمبر کوایک گرفتار جنگجوسے 2 اے کے 47 رائفل ، دوپسٹل اور 4 گرنیڈ حاصل ہوئے جس نے بتایا کہ اس نے یہ سب ڈراؤن سے حاصل کیا ہے ۔ڈراون کے ذریعے ہتھیاروں کو جموں و کشمیر کے علاوہ پنجاب میں بھی پھینکا جانے کی اطلاعات ہیں ۔ یہ ممکن ہے کہ پنجاب میں ہتھیاروں کو ڈراؤن کے ذریعے پھینکا جائے گا پھر انہیں جموں وکشمیر لے جایا جائے ۔
ڈراؤن کے ذریعے ہتھیار پھینکنے سے کشمیر میں عسکریت پسندی کو نئی جہت ملی ہے۔ہتھیاروں کی کمی حزب المجاہدین اور نئی بننے والی تنظیموں (دی ریزسٹنس فرنٹ ، ٹی آر ایف ، اور پیپلز انٹی فاسسٹ فرنٹ ، پی اے پی ایف ) کے جنگجوؤں کو متاثر کررہی ہے ۔ہتھیاروں کی کمی کی وجہ سے ایچ ایم اور ایل ای ٹی کے نئے جنگجوؤں کو ہینڈ گرنیڈوں سے اپنا کام کرنا ہوگا۔
انڈین سیکیورٹی فورسز کی طرف سے ہتھیار وں کی کمی کے اعلانات سامنے آنے کے بعد (انڈیا کے مطابق )ٹی آر ایف نے پروپیگنڈہ ویڈیوز جاری کرنا شروع کی ہیں جن میں بہت سارا اسلحہ دکھایا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ" ہتھیاروں کی کوئی کمی نہیں ہے" ۔
اگرچے کشمیرمیں 2020 میں حملوں میں کمی آئی ہے مگر خطرہ ابھی ختم نہیں ہوا ہے ۔یہ بات پریشان کن ہے کہ نئی بھرتیوں میں اضافے کی وجہ سے (انڈین )سیکیورٹی فورسز کی تمام تر کوششیں کوئی مثبت نتائج لانے میں ناکام ہیں ، آنے والے مہینوں میں بھی (انڈیا اور انڈین فورسز کے لئے )یہ پریشانی برقرار رہے گی ۔
https://theprint.in/opinion/in-kashmir-militants-are-high-on-recruitment-but-weaponless/566961/
https://www.livemint.com/news/india/gps-fitted-drones-from-pakistan-drop-weapons-into-indian-territory-1569424734523.html
The weapons, airdropped through GPS-fitted drones, were seized in Punjab's Tarn Taran district.A Punjab Police official says the weapons were intended to spread terror in J&K