29/01/2026
سیرت النبی ﷺ
لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ
بیشک تمہارے لیے اللہ کے نبی (ﷺ) کی زندگی بہترین نمونہ ہے: سورةالاحزاب،آیت:21
• اسلام سے پہلے جزیرہ نمائے عرب میں مرد حاکم تھا اور عورت کو بعض مواقع پر اہمیت حاصل تھی، اگرچہ غیرت و حمیت کے نام پر بیٹیوں کا قتل بھی عام تھا۔ کئی طرح کے نکاح رائج تھے، خاندانی اور قبائلی نظام مضبوط تھا اور عصبیت، ضد، مسابقت اور دشمنیاں گہری تھیں۔ شراب نوشی عام تھی، قتل و غارت معمول تھا۔ پیشے کے طور پر تجارت، غلہ بانی اور کھیتی باڑی رائج تھی۔ غربت اور بھوک عام تھی۔ اس کے باوجود عربی معاشرہ سخاوت، بہادری، وفائے عہد، خودداری، عزتِ نفس، شرفِ نسب کے تحفظ، سنجیدگی اور سادگی جیسے اوصاف رکھتا تھا، جو برائیوں کے زیر اثر دب چکے تھے۔
• آپ ﷺکی ولادت باسعادت :عام الفیل میں واقعہ فیل کے 50 دن بعد9 یا 12 ربیع الاول،بروز پیر ، بمطابق 20 اپریل 571ءکو صبح صادق کے وقت ہوئی ۔ آپ ؐ کی والدہ فرماتی ہیں کہ پیدائش کے وقت میرے جسم سے ایک نورنکلاجس سے ملک شام کے محلات روشن ہوگئے ۔ایوان کسریٰ کے چودہ کنگرے ٹوٹ گئے اورمجوسیوں کا آتشکدہ ٹھنڈا ہوگیا ۔آپ ﷺ کی والدہ محترمہ نے آپ ؐ کا نام نامی احمدرکھاجو قرآن مجید میں ایک مرتبہ آیا ہے اورآپ ؐ کے دادانے محمدﷺرکھا ،جو قرآن مجیدمیں چارمرتبہ آیا ہے ۔
• آپ ﷺ کا نسب، مُحَمَّد بِن عَبدُاللّٰہ بِن عَبدِالمُطَّلِب (شَیبَہ) بِن ہاشِم (عَمرُو) بِن عَبدِمَنَاف (مُغِیرَہ) بِن قُصَیّ (زَید) بِن کِلاب بِن مُرَّہ بِن کَعب بِن لُؤَیّ بِن غالِب بِن فِہر (قُرَیش) بِن مالِک بِن نَضر (قَیس) بِن کِنَانَہ بِن خُزَیمَہ بِن مُدرِکَہ (عامِر) بِن إِلیاس بِن مُضَر بِن نِزار بِن مَعَد بِن عَدنَان،اور آپ ﷺکی والدہ محترمہ آمِنَہ بِنْت وَہب بِن عَبدِمَنَاف بِن زُہرَہ بِن کِلاب سےآپ ﷺکے نسب میں شامل ہوتیں ہیں ۔آپ ؐ ہاشمی خاندان سے تھے ۔
• آپ ﷺ کے والد محترم عبداللہ بن عبدالمطلب نے شام سے تجارتی قافلے کے ساتھ واپسی پر یَثْرِب (مَدِینَہ)میں، آپ ﷺ کی پیدائش سے پہلے وفات پائی۔ یثرب میں آپﷺ کا ننہال تھا۔وفات کے وقت حضرت عبداللہ کی عمر 18سال تھی۔آپ ﷺ کی والدہ محترمہ نے اپنے شوہر کی وفات پر دلدوزمرثیہ لکھا ۔
• آپﷺ 4سال کی عمرتک( 571 تا 575ء)دائی حضرت حلیمہ رضی اللہ عنہا کے ہاں قیام پذیررہے ۔آپ ﷺ نے اپنی والدہ آمنہ بن وہب ، اُمِّ اَیْمَن، ثُوَیبَہ، اور حَلِیمَہ السَعدِیَہ کا دودھ پیا۔
• واقعہ شَقُّ الصَّدرِ (سینہ چاک کرنا)پہلی بارحضرت حلیمہ رضی اللہ عنہا کے ہاں،ولادت کے تقریبا چوتھے سال بمطابق 573 ء میں ہوا،اس کے بعد 10 سال کی عمرمیں ، پھربِعثت (نبوت ملنے )سے پہلے اور پھر واقعہ معراج سے پہلے پیش آیا۔
آپ ﷺکی والدہ محترمہ ہر سال ننہال اورشوہر کی قبرکی زیارت کے لئے مدینہ جایاکرتیں تھیں ،اِس
مزید پڑھنے کے لئے پلے اسٹور سے یہ ایپ انسٹال کریں اور سیرت النبی ﷺ کے ساتھ ساتھ کئی اہم موضوعات پائیں بنا کسی ایڈ کے ۔
https://play.google.com/store/apps/details?id=com.islamicapp.Guide.namazguide.islamapp&pli=1&fbclid=IwY2xjawPouBxleHRuA2FlbQIxMABicmlkETFyTU5zRFFxbGR0UHR2TWIxc3J0YwZhcHBfaWQQMjIyMDM5MTc4ODIwMDg5MgABHuqgHPRDssHZ3Z0_Jo9j_Eld7HUkiSEAO4tngPj9eVDV6LM7M7VC2Qjh7miu_aem_9hylI2ulCaSfb7QZmEEL7A
Quran Colored Tajweedi Plus
07/04/2023
وہ انڈیا جہاں آئے روز مساجد پر حملے کیے جاتے ہیں ، مسلمانوں پر مظالم ڈھائے جاتے ہیں ۔
وہاں نصابی کتب سے مغل تاریخ کو نکالنے کا فیصلہ کیا گیا ہے !
بی جے پی کی حکومت " ہندتوا " کا نعرہ لئے انڈیا سے مسلمانوں کا نشان مٹانے کی کوششوں میں مصروف ہے ۔
پہلے اس نے کشمیری نصاب سے کشمیر تحریک اور مسلم تاریخ کو نکال کر ہندوتاریخ پڑھانے کا فیصلہ کیا اور مسلمانوں کی زبان سمجھا جانے والا اردو رسم الخط ختم کرکے ہندی رسم الخط رائج کیا تاکہ کشمیر ی مسلمانوں کامسلم تاریخ ،اسلامی لٹریچر اور تہذیب سے تعلق کمزور کیا جائے ۔
مودی حکومت کسی روک ٹوک کو نا پاکر کشمیری مسلمانوں پر ڈھائے گئے تمام مظالم کو سارے انڈیا کے مسلمانوں پر آزمانے لگی ہے ۔ پہلے شہریت ترمیمی بل کے ذریعے سارے مسلمانوں کی "شہریت " خطرے میں ڈال دی تاکہ مسلم آبادی کو دباؤ میں رکھا جاسکے ۔اوراب گلیوں بازوں کے نام سے لیکر نصاب تک، مسلمانوں کے نام مٹانے پہ جٹا ہے ۔
دنیا کی سب سے بڑی مسلم آبادی انڈیا میں رہتی ہے ۔ مگر ان پر ہونے والے مظالم پرلیبرلز اورانسانی حقوق کے نام نہاد ترجمانوں سمیت ساری دنیا کی زبانیں خاموش ہیں !
اس حالیہ فیصلے پرسماجوادی پارٹی کے مہاراشٹر کے صدر ابو عاصم اعظمی نے لکھا: وزیراعظم جب غیر ملکی مہمانوں کو لال قلعہ، تاج محل، قطب مینار لے کر جائیں گے تو کس کا نام لیں گے؟ شرم پھر بھی نہ آئے، یاد رکھو تمہارا ظلم بھی تاریخ میں لکھا جائے گا، تاریخ صرف بن سکتی ہے، نہ مٹائی جا سکتی ہے، نہ بدلی جا سکتی ہے۔
28/12/2020
https://www.blogger.com/blog/post/edit/preview/1715682430154350412/8334570237920439736
مقبوضہ جموں وکشمیر میں عسکریت پسندی کی صورت حال(انڈین میڈیا اور تجزیوں کی نظر سے )
مقبوضہ جموں وکشمیر میں عسکریت پسندی کی صورت حال
(انڈین تجزیوں اور میڈیا کی زبانی )۔
جموں وکشمیر میں عسکریت پسندی نئے دور میں داخل ہوچکی ہے ۔پچھلے 5 سالوں میں اس میں نئی بھرتیوں ، باہر سے داخل ہونے والوں اور پرتشدد حملوں میں مسلسل اضافہ ہورہا تھا ۔2020 میں عسکریت پسندی میں قابل ذکر تبدیلی آئی ہے جس میں نئی بھرتیوں میں اضافے کے باوجود پرتشدد واقعات میں کمی آئی ہے ۔
2020 میں نئے بھرتی ہونے والے جنگجوؤں کی تعدادپچھلے سال سے زیادہ مختلف نہیں تھی ،جنوری سے لیکر اکتوبر 2020 تک 145 نوجوانوں نے عسکریت پسندی اختیار کی جو تعداد پچھلے دس سالوں میں دوسرے نمبر پر سب سے زیادہ ہے ۔ مگر(انڈین ) سیکیورٹی فورسز کے جارحانہ جوابی حملوں کے نتیجے میں جتنے لوگ بھرتی ہوئے یا داخل ہوئے(بھارتی دعوے کے مطابق) اتنے لوگوں کو ماردیاگیا۔
(جنوری سے لیکر نومبر کے پہلے ہفتے تک 20 غیر ملکیوں سمیت 191 جنگجو سیکیورٹی فورسز کے ہاتھوں مارے گئے مگر اس دوران 145 نوجوانوں نے عسکریت پسندی کو اختیارکرلیا ۔
سامنے آنے والے اعدادوشمار کے مطابق 2018 میں 107 "انسداد دہشت گردی " کاروائیوں میں 254جنگجو مارے (شہید) ہوگئے اور 210نئے بھرتی ہوگئے ۔لاپتہ ہونے والے 8 میں سے 5 نوجوان عسکریت پسندی اختیار کی، جن میں سے 50 فیصد گرفتارہوگئے یا پولیس کے سامنے ہتھیار ڈال دیئے ۔انڈین حکام کے مطابق نئے بھرتی ہونے والے زیادہ تر نواجوان چناب کے ساحل یا پیرپنجال کی وادی سے تعلق رکھتے تھے ۔
2019 میں 79 لڑائیوں میں 157 جنگجومارے (شہید ہو)گئے اور 127 نوجوانوں نے عسکریت پسندی اختیارکی ۔
2017 میں جنگجو کمانڈر برہان وانی کی موت (شہادت )کے ایک سال بعد 83 لڑائیوں میں 192 جنگجومارے (شہید)ہوئے اور 139نئے جنگجوبنے ۔
(انڈین ) آفیسر نے متنبی کیا کہ اس سال 191 مارے (شہیدہو) گئے اور 145 شامل ہوگئے ،40 ، 50 کے فرق سے کوئی بڑا فرق نہیں پڑے گا،اس کا کہنا تھا کہ ہم یقین سے نہیں کہہ سکتے کہ کتنے لوگوں نے ایل او سی کراس کی ، یہی بات سچ ہے کہ پچھلے کئی سالوں سے جنگجوؤں کی تعداد 200 کے اوپر نیچے ہے ۔
اس کا کہنا تھا کہ "جنازوں پر پابندی لگانے " اور انٹر نیٹ بند کرنے کے باوجود بھرتیوں کی تعداد"اچھی خاصی تعداد میں نئے جنگجوؤں کی بھرتی" حیران کن ہے ۔
اس کا کہنا تھا کہ "جنگجووں " کے اعزاز میں بہت بڑے جنازے نوجوانوں کو اس طرف راغب کرتے تھے حتیٰ کہ کوئی نوجوان موقع پر ہی جنگجوؤں میں شامل ہوجاتے تھے ،اس لئے یہ تاثر پایا جاتا تھا کہ جنازے بند کرنے سے جنگجوؤں کی بھرتیوں میں کمی واقع ہوگی ، مگر جنازوں پر پابندی سے کوئی فرق نظر نہیں آیا۔
اس کا مزید کہنا تھا کہ لعشیں گھروالوں کو نہ دینے سے نوجوانوں میں اشتعال پھیلاتا ہے جس کی وجہ سے نوجوان زیادہ تعداد میں بھرتی ہورہے ہیں اور ہمیں اس تعداد کا بھی یقین نہیں ہے کہ کتنے افراد باہر سے آرہے ہیں ۔
حکام کو امید تھی کہ انٹر نیٹ بند ہونے یا سلو ہونے سے نوجوانوں کو گن اٹھانے کی تحریض کم ملے گی ،مگر ایسا کچھ دکھائی نہیں دے رہا ہے "سلوانٹرنیٹ کا مسئلہ ہوسکتا ہے مگر نئے بھرتی ہونے والے جنگجوبننے کا اعلان کرنے میں دلچسپی لیتے دکھائی نہیں دے رہے ہیں ، جیش اور لشکر کے متعلقہ جنگجو عام طور پر اعلان نہیں کرتے ہیں ،ہوسکتاہے کہ نئے روجہان میں ایسا نہ کیا جاتاہو بلکہ خفیہ رکھاجاتا ہو۔جبکہ حزب المجاہدین کے (شہید) کمانڈر اور اس کے بعد آنے والے 13 سے 30 سال کے جنگجو اپنی تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر شائع کرتے تھے ۔
انڈین آرمی آفیسر کے مطابق حالیہ رپورٹ کے مطابق جنوبی کشمیر میں 60 سے 80 غیر ملکی جنگجو سرگرم ہیں ،اور یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ جنوبی کشمیر میں سرگرم جنگجو بہتر تربیت یافتہ ہیں اور ان کو ہتھیاروں اور پیسوں تک بہتر رسائی حاصل ہے ۔
اس سال بارہ مولا کے علاقے پٹن میں 3 جنگجوؤں نے سی آر پی ایف پر ایمبش لگایاگیا اور جس میں باڈی کیمرے استعمال کئے گئے اور ویڈیوز کو سوشل میڈیا پر دیا گیا تاکہ نئی بھرتی کی تحریض دی جاسکتے ۔)
https://www.news18.com/news/india/militant-recruitments-continue-in-jk-2020-spike-second-highest-in-last-10-years-3103445.html
تاہم اس میں یہ نقطہ اہم ہے کہ عسکریت پسندوں کی کاروائیوں میں کمی واقع ہوئی ہے اور معلومات کے تجزیے سے پتہ چلتا ہے کہ جنگجوؤں کو ہتھیاروں کی کمی کا سامنا ہے جس کی وجہ سے بڑے اور کاری حملے کرنے کی ان کی صلاحیت میں کمی بہت زیادہ کمی آئی ہے ۔
اوآر ایف کے اعدادو شمار کے مطابق(بھارتی سیکیورٹی ) فورسز کی طرف سے جنوری 2020 سے اکتوبر آخر تک 176 کاؤنٹر ملی ٹنسی آپریشنز کیے گیے جس میں 245ہتھیارقبضے میں لیے گئے جن میں 101 پستول یا شارٹ گنز تھیں اور 144عدد مختلف اقسام کی اسالٹ رائفلز تھیں جن میں اے کے 47، اے کے 56 اور ایم 4 اور انساس وغیرہ شامل تھیں ۔ بہت سارے آپریشنز ایسے تھے جن میں جنگجو مارے گئے ، گرفتار کئے گئے یا سرنڈر ہوگئے مگر ان میں قابل ذکر ہتھیار نہیں پائے گئے (یعنی عام نوجوانوں کو جنگجو کہہ کرقتل کیا گیا ) ۔
قبضے میں لیے گئے ایمونیشن کے اعدادو شمار سے پتہ چلتا ہے کہ ہر پسٹل کے ساتھ (صرف ) 10 گولیاں تھیں اور ہر رائفل کے ساتھ اوسطا 66 گولیاں تھیں ۔ پسٹل بنیادی طور پر سلف ڈیفنس کا ہتھیارہے جو صرف قریب سے قتل کرنے کے لئے استعمال کیاجاسکتا ہے ۔
اعدادوشمار سے پتہ چلتا ہے کہ پسٹل رکھنے والے جنگجوسیکیورٹی والوں کے خلاف بڑے حملے کرنے کی اہلیت کے حامل نہیں ہوتے ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ 2020 میں چند ایک ہی قابل ذکر حملے ہوئے ۔2020کے دوران زیادہ تر حملوں میں عام لوگوں یا الگ تھلگ کھڑے فوجیوں کو نشانہ بنایا گیا۔اعدادوشمار کے مطابق اس سال صرف ایک آئی ای ڈی (خود ساختہ باردو)قبضے میں لیا گیا جبکہ پچھلے سال 12 آئی ای ڈیز قبضے میں لیے گیے تھے ۔
اعدادوشمار سے پتہ چلتا ہے کہ ہتھیاروں کی سپلائی میں کمی نہیں آئی ہے البتہ ہتھیاروں کی ڈیمانڈ بڑھ گئی ہے دوسرے لفظوں میں مسلسل بھرتیاں ہونے کی وجہ سے ہتھیاروں کی ڈیمانڈ پچھلے چند سالوں میں سب سے زیادہ ہے ۔ایل او سی بند ہونے اور جنگجوؤں کے گرد مسلسل گھیراؤ ہونے کی وجہ سے ہتھیاروں کی سپلائی میں بنیادی خلل پیدا ہوا ہے ۔اپریل 2019 میں انڈین سیکیورٹی فورس کو ایک تجارتی ٹرک سے ہتھیار برآمد ہوئے جس کے بعد انوسٹی گیشن سے پتہ چلا ہے ہتھیاروں ، منشیات اور نقلی کرنسی کی سمکلنگ کے سے لئے تجاری راستے استعمال کئے جارہے ہیں ۔ جس کے بعد انڈیا نے ایل او سی پر تجارت بند کردی ۔
یہ بات اوپن سیکرٹ ہے کہ جنگجو بددیانت سیکیورٹی والوں کے ذریعے تجارتی راستوں سے بھی ہتھیار حاصل کررہے ہیں ۔انڈین ایجنسی این آئی اے نے حال ہی میں ڈی ایس پی تھروندر سنگھ کی انوسٹی گیشن میں پایا کہ ایک سابقہ سرپنچ(نمبردار) حزب المجاہدین کو ہتھیار مہیا کررہاتھا ۔ممکن ہے دھروندر سنگھ اور متعلقہ لوگوں کی گرفتاری اور انوسٹی گیشن ہتھیار کی سپلائی میں کمی آئے ۔
انڈین فوج اور جموں وکشمیر پولیس نے کھلے عام بیانات دیئے ہیں کہ جنگجوؤں کو ہتھیاروں کی کمی کا سامناتھا۔(ان کے بقول ) پاکستان جنگجوؤں کو ہتھیارسپلائی کرنے کے نئے راستے تلاش کرنے کی کوشش کررہا ہے ۔
20 جون کو انڈیا کی بارڈر سیکیورٹی فورسز( بی ایس ایف) نے جموں و کشمیر کے ضلع کٹھوعہ کے قریب انٹر نیشنل بارڈر پر پاکستان کی طرف سے آنے والا چائینہ ساختہ ڈراؤن مارگرایاجو ہتھیاراور بارود اٹھائے ہوئے تھا۔جس میں ایک ایم 4 کاربائن رائفلز ، 7 گرنیڈ شامل تھے ۔19ستمبر کوایک گرفتار جنگجوسے 2 اے کے 47 رائفل ، دوپسٹل اور 4 گرنیڈ حاصل ہوئے جس نے بتایا کہ اس نے یہ سب ڈراؤن سے حاصل کیا ہے ۔ڈراون کے ذریعے ہتھیاروں کو جموں و کشمیر کے علاوہ پنجاب میں بھی پھینکا جانے کی اطلاعات ہیں ۔ یہ ممکن ہے کہ پنجاب میں ہتھیاروں کو ڈراؤن کے ذریعے پھینکا جائے گا پھر انہیں جموں وکشمیر لے جایا جائے ۔
ڈراؤن کے ذریعے ہتھیار پھینکنے سے کشمیر میں عسکریت پسندی کو نئی جہت ملی ہے۔ہتھیاروں کی کمی حزب المجاہدین اور نئی بننے والی تنظیموں (دی ریزسٹنس فرنٹ ، ٹی آر ایف ، اور پیپلز انٹی فاسسٹ فرنٹ ، پی اے پی ایف ) کے جنگجوؤں کو متاثر کررہی ہے ۔ہتھیاروں کی کمی کی وجہ سے ایچ ایم اور ایل ای ٹی کے نئے جنگجوؤں کو ہینڈ گرنیڈوں سے اپنا کام کرنا ہوگا۔
انڈین سیکیورٹی فورسز کی طرف سے ہتھیار وں کی کمی کے اعلانات سامنے آنے کے بعد (انڈیا کے مطابق )ٹی آر ایف نے پروپیگنڈہ ویڈیوز جاری کرنا شروع کی ہیں جن میں بہت سارا اسلحہ دکھایا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ" ہتھیاروں کی کوئی کمی نہیں ہے" ۔
اگرچے کشمیرمیں 2020 میں حملوں میں کمی آئی ہے مگر خطرہ ابھی ختم نہیں ہوا ہے ۔یہ بات پریشان کن ہے کہ نئی بھرتیوں میں اضافے کی وجہ سے (انڈین )سیکیورٹی فورسز کی تمام تر کوششیں کوئی مثبت نتائج لانے میں ناکام ہیں ، آنے والے مہینوں میں بھی (انڈیا اور انڈین فورسز کے لئے )یہ پریشانی برقرار رہے گی ۔
https://theprint.in/opinion/in-kashmir-militants-are-high-on-recruitment-but-weaponless/566961/
https://www.livemint.com/news/india/gps-fitted-drones-from-pakistan-drop-weapons-into-indian-territory-1569424734523.html
GPS-fitted drones from Pak dropped arms into Indian territory: Punjab police
The weapons, airdropped through GPS-fitted drones, were seized in Punjab's Tarn Taran district.A Punjab Police official says the weapons were intended to spread terror in J&K
24/12/2020
مقبوضہ جموں و کشمیر میں ڈی ڈی سی انتخاباتکے نتائج کا اعلان
عام نتائج
جموں وکشمیر میں ڈی ڈی سی کے بلدیاتی /پنچائتی انتخابات کی 280 نشستوں پر کل 2 ہزار 1 سو78 امیدوار میدان میں تھے ۔جس میں انڈین میڈیا کے مطابق مودی کی بی جے پی نے کل 75 سیٹیں جیت کر مجموعی طورپر سب جماعتوں سے زیادہ سیٹیں حاصل کی ہیں ، جن 72سیٹیں جموں سے 3سیٹیں وادی کشمیر میں حاصل کرکے وادی میں انٹری کا دعویٰ کیا ہے اور اس پر جشن منارہی ہے ،
بی جے پی کے خلاف 7 پارٹیوں نے گپکار اتحاد بنا کر ایک ساتھ الیکشن لڑا ہے۔ گپکار اتحاد میں نیشنل کانفرنس، پی ڈی پی، پیپلز کانفرنس، عوامی نیشنل کانفرنس، جے اینڈ کے پیپلس موومنٹ کے ساتھ ہی سی پی آئی اور سی پی ایم شامل ہیں۔
مجموعی طورپراتحاد نے 35سیٹیں جموں سے اور 72سیٹیں جیت کر کل 110 سیٹیں حاصل کرکے میدان مار لیا ہے ، ان الیکشنز میں حصہ لینے والے تیسرے فریق کانگریس نے کل 26سیٹیں حاصل کیں جن میں جموں سے 17 سیٹیں حاصل کی ہیں اور وادی سے 9 سیٹیں حاصل کی ہیں ۔
بی جے پی کی طرف سے وادی کشمیر میں حاصل کردہ 3 سیٹوں کی کہانی
ان 3 سیٹوں کے حوالے سے نیشنل کانفرنس کی ترجمان سارہ حیات کا کہنا ہے کہ ان میں ایک سیٹ پر ان کے امیداوار کے کاغذات مسترد کردیئے گئے تھے اور باقی دو حلقے وہ جیتے ہیں جہاں فوج سب سے زیادہ تعینات کی گئی تھی اور وہاں ووٹ بھی بہت کم پڑے ۔اور ان کا کہنا تھا کہ 6 اتحادی پارٹیوں کے لیڈران جیلوں میں بند تھے ، ہرطرف ایجنسیاں سرگرم تھیں ،
عوام کے مطابق ایک حلقے میں دو ہزار ووٹ غائب کردیئے گئے اور ایک حلقے میں چار ہزار ووٹ مزید شامل کردیئے گئے جو ریکارڈ کے مطابق ڈالے ہی نہیں گئے ۔
عمر عبداللہ کا کہنا ہے کہ بی جے پی دھاندلی کے ساتھ وادی میں 3 سیٹیں حاصل کرنے کا واویلا تو کررہی ہے مگر یہ بات نہیں کررہی ہے کہ گپکار اتحاد نے جموں سے 35سیٹیں جیتی ہیں جس سے ثابت ہوتا ہے کہ ہم وادی کے ساتھ ساتھ جموں میں بھی مضبوط ہیں ۔
اور ان کا کہناتھا کہ ہماری لیڈر شپ کو الیکشن کمپین کا موقع نہیں دیا گیا ،بلکہ بڑی تعدادمیں لیڈر شپ قید میں رکھی گئی اور بی جے پی کی ٹاپ قیادت پوری طرح آزادی سے کمپین چلاتی رہی ۔
اور ان کا کہناتھا کہ بی جے پی کشمیر میں اپوزیشن کا خاتمہ چاہتی تھی جس میں بری طرح ناکام رہی ۔
محبوبہ مفتی نے ایک ٹویٹ میں کہا ' پوری طرح سے قانون کی دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں اور پی ڈی پی کے سرتاج مدنی اور منصور حسین کو ڈی ڈی سی الیکشن نتائج کے ایک روز پہلے ہی من مانے طریقے سے حراست میں لیا گیا۔ یہاں کہ سینئر حکام کو اس کی جانکاری تک نہیں ہے کیونکہ 'یہ تو اوپر سے آیا آرڈر ہے'۔ جموں کشمیر میں قانون کی تو حکمرانی نہیں رہ گئی۔ یہ پوری طرح سے غنڈہ راج ہے'۔
مکمل نتائج سامنے آنے کے بعد محبوبہ مفتی کا کہنا تھا کہ انتخابات نے ثابت کردیا ہے کہ 370 کا ہٹانا غلط تھا۔
مفتی نے کہا: 'ووٹوں کی شرح مسئلہ کشمیر کا حل نہیں ہے۔ جب تک یہاں 9 لاکھ فوجی تعینات ہیں مسئلہ کشمیر زندہ ہے۔ آپ ہندوستان کی کسی ایسی ریاست کا نام لیجئے جس میں اتنی تعداد میں فوجی تعینات ہیں۔ وہ بھی شہری علاقوں میں۔ آپ دیکھیں یہاں کتنے چیک پوائنٹس ہیں'
ریاستی الیکشن کمیشن (State Election Commission) کے افسران نے بتایا کہ مرکز کے زیر انتظام ریاست میں 8 مرحلوں میں ہوئے انتخابات میں 450 سے زیادہ خواتین امیدواروں سمیت کل 4,181 امیدوار انتخابی میدان میں آئے ۔14اضلاع میں ہر ضلع کی کل 20 سیٹیں تھیں اور جموں و کشمیر ٹریٹوری میں کل 280سیٹیں تھیں ۔ پہلے مرحلے کی ووٹنگ 28 نومبر کو ہوئی تھی اور آٹھویں اور آخری مرحلے کی ووٹنگ 19 دسمبر کو ہوئی تھی۔ کل ملاکر پُرامن طریقے سے اختتام پذیر ان انتخابات میں 57 لاکھ رائے دہندگان میں سے 51 فیصد نے اپنے حق رائے دہی کا استعمال کیا ۔
جموں وکشمیر میں منگل کی صبح سے ہی 370کی منسوخی کے بعدپہلی بار منعقد ہونے والے ڈی ڈی سی انتخابات کی ووٹ شماری کا عمل سخت سیکورٹی بند وبست کے بیچ جاری ہے۔ جموں وکشمیر کے الیکشن کمشنر کے کے شرما کا کہنا ہے کہ یونین ٹریٹری میں تمام ووٹ شماری مراکز پر سیکورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں اور شفافیت کو یقینی بنانے کے لئے ووٹ شماری عمل کو ریکارڈ اور مانیٹر کیا جا رہا ہے۔مودی حکومت کا کہنا ہے کہ وادی میں اتنے پرامن انتخابات پہلے کبھی نہیں ہوئے ۔
ووٹوں کی گنتی سے ایک روز قبل احتیاطاً کم از کم 20 سیاسی لیڈروں کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ ان لیڈروں میں پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کے تین سینئر عہدیداران بھی شامل ہیں۔ پی ڈی پی کی صدر اور جموں وکشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے اپنے پارٹی لیڈروں کو حراست میں لئے جانے سے پر مودی حکومت کی تنقید کی ہے۔
بی جے پی کے ترجمان سید شاہنواز حسین نے کہا ہے کہ جموں و کشمیر میں منعقدہ ڈی ڈی سی انتخابات کو ہندوستان کی تاریخ میں سنہرے لفظوں سے لکھا جائے گا کیونکہ جموں وکشمیر کے انتخابات کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایسا ہوا کہ انتخابات کے دوران کسی بھی علاقے میں کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا۔انہوں نے یہاں ایک ہوٹل میں منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ان خیالات کا اظہار کیا ہے ۔ شاہنواز حسین پارٹی کی طرف سے کشمیر میں الیکشن انچارج تھے اور انہوں نے یہاں کئی انتخابی ریلیوں میں شرکت کی
حسین نے کہا کہ جموں و کشمیر میں تین جماعتوں نے ڈی ڈی سی انتخابات میں حصہ لیا ایک پیپلز الائنس گپکار گینگ ،کانگریس اور بی جے پی نے اپنی کوشش کی ہے ۔ہم نے80 انتخابی حلقوں پر اپنے امیدوارکھڑے کئے تھے جبکہ باقی 200 حلقوں پر آزاد امیدواروں کی حمایت کی۔بی جے پی ترجمان نے کہا کہ آنجہانی اٹل بہاری واجپائی کا خواب کشمیریت، انسانیت اور جمہوریت اب شرمندہ تعبیر ہوا ہے اور ڈی ڈی سی انتخابات نے یہ ثابت کیا ہے کہ جمہوریت ہی کشمیریت اور انسانیت کی ریڑھ کی ہڈی ہے ۔
اس نے مزید کہا کہ 70 برس کے بعد جموں وکشمیر میں جمہوریت کی جیت ہوئی ہے ۔
جموں وکشمیر پولیس نے پیر کی رات پونچھ ضلع میں کئی لوگوں کو گرفتار کیا کتنے لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے، فی الحال یہ پتہ نہیں چل پایا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ جموں و کشمیر میں پہلی بار منعقد ہونے والے ڈی ڈی سی انتخابات سال گزشتہ کے مرکزی حکومت کے فیصلوں کے بعد جہاں یہ پہلی بڑی سیاسی سرگرمی تھی وہیں مغربی پاکستان کے مہاجروں کو بھی پہلی بار ووٹ ڈالنے کا حق حاصل ہوا ہے۔ ان انتخابات سے جہاں جموں و کشمیر میں تھری ٹائر پنچایتی راج سسٹم رائج ہوگا وہیں یونین ٹریٹری کے 20 اضلاع میں 280 نمائندے منتخب ہوں گے۔ ضلع ترقیاتی کونسلوں کو پانچ برس کی مدت کے لئے منتخب کیا گیا ہے ۔
جموں و کشمیر میں گزشتہ پنچایتی انتخابات نومبر – دسمبر سال 2018 میں منعقد ہوئے تھے جن میں 3 ہزار 4 سو 59 سرپنچ جبکہ 22 ہزار 2 سو 14 پنچ منتخب ہوئے تھے۔ ہر ضلع ترقیاتی کونسل میں 14 منتخب نمائندے ہوں گے اور پانچ سٹینڈنگ کمیٹیاں تشکیل دی جائیں گی جو ضلع کی تعمیر و ترقی پر کام کریں گی۔
عسکری کاروائیاں
جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ کے اچھہ بل علاقے میں رات اندھیرا چھاجانے کے بعد عسکریت پسندوں نے مین چوک میں ڈیوٹی پر تعینات سیکورٹی اہلکاروں پر گرینیڈ حملہ کیا، جس کے نتیجے میں ایک سی آر پی ایف اہلکار اور ایک عام شہری زخمی ہوگئے۔ زخمیوں کو نزدیکی اسپتال منتقل کیا گیا ہے
ذرائع کے مطابق یہ حملہ اس وقت انجام دیا گیا، جب جموں وکشمیر پولیس اور سی آر پی ایف کی مشترکہ پارٹی ڈیوٹی پر تعینات تھی۔ اسی دوران اندھیرے میں دہشت گردوں نے سیکورٹی فورسز کی اس پارٹی پر گرینیڈ داغا۔ جبکہ عینی شاہدین کے مطابق گرینیڈ زور دار دھماکے سے پھٹ گیا اور جس کے بعد گولیاں چلنے کی آوازیں بھی سنی گئیں، جس کے بعد پورے علاقے میں افراتفری کا ماحول پیدا ہو گیا اور لوگ محفوظ مقامات کی جانب بھاگنے لگے۔
دوسری جانب پولیس نے اس معاملے میں کیس درج کرکے مزید تحقیقات شروع کر دی ہے۔ جبکہ واقعہ کے فوراً بعد پولیس، فوج اور سی آر پی ایف کے اضافی دستے جائے واردات پر پہنچ گئے اور پورے علاقے کا محاصرہ کرلیا۔ سیکورٹی دستوں نے مفرور حملہ آوروں کی بڑے پیمانے پر تلاش شروع کر دی ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ چار دنوں کے اندر ضلع اننت ناگ میں یہ سیکورٹی فورسز پر اس نوعیت کا دوسرا حملہ ہے۔ اسے قبل بجبہاڑہ میں دہشت گردوں نے سی آر پی ایف پارٹی کو نشانہ بنا کر گرینیڈ داغا، جس میں ایک سی آر پی ایف اہلکار زخمی ہو گیا تھا۔
الیکشن کے دوران انڈیا مسلسل دعویٰ کرتا رہا ہے کہ پاکستان انڈیا میں 300 دہشت گردوں کو جمہوں وکشمیرمیں داخل کرکے حالات خراب کرنا چاہتا ہے ۔
کہا جارہا ہے کہ بی جے پی کو ہرانے کے لئے کشمیری عوام زیادہ ووٹ ڈالنے آرہی ہے تاکہ دھاندلی سے بھی بی جے پی نہ جیت سکے ۔بہرحال "جس کی لاٹھی اس کی بھینس " کے اصول کو زندہ کرتے ہوئے بی جے پی نے بڑی کامیابی حاصل کی ہے ۔
https://myurducolumns1.blogspot.com/2020/12/blog-post_24.html
میرے مزید کا لمز کے لئے
مقبوضہ جموں و کشمیر میں ڈی ڈی سی انتخاباتکے نتائج کا اعلان
مقبوضہ جموں و کشمیر میں ڈی ڈی سی انتخابات کے نتائج کا اعلان عام نتائج مقبوضہ جموں وکشمیر میں ڈی ڈی سی کے بلدیاتی /پنچائتی انتخابات ک...
21/11/2020
"مٹی پلید " کردینے والے پیشے اور حل
1۔ زمیندار ہ
کپاس کی قیمت 1000 روپیہ فی من کم کردی گئی ہے۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چینی 53روپےسے 115 ہونے پر گنے کی قیمت میں پورے 10 روپے کے اضافے کے 200روپے فی من کرنے کا احسان فرمادیا گیا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور عزت مآب ترین حکومت سے اگلی قسط لینے تشریف لے آئے ہیں ۔۔۔
سارادن کام کاج سے تھکا ماندہ کسان کھیس کی بکل مارے ، موگے پر پاؤں کے بل بیٹھا موگے پہ لگے "چوری " کے پائپ کی نگرانی کررہا ہے ، رات کی خنکی سے بھری سرد ہوا ،سارے دن کے تھکے جسم میں گھسی جارہی ہے مگر آگ جلانا ممکن نہیں ہے !نہ ہی عدم چکنا ہونا ممکن ہے !
بیلدار کو اپنی باری کا 1000 روپیہ نقد دیا ہے مگر وہ باؤ (سب انجنیئر ) کے ہاتھوں پکڑے جانے کا ذمہ داری نہیں ہے ۔ بلا شبہ وہ باؤ کو ایک طے شدہ بڑی رقم دینے کا پابند ہے مگر باؤ کی رپوٹیشن بھی تو کوئی چیز ہے !
اور پھر "تاروں " کی معقول تعداد بھی تو ریکارڈ کا حصہ بننی چاہئےنا!
کسان کو ہفتے کی آدھی راتیں اسی پہرے داری میں گزارنی ہوتی ہیں کچھ اپنی باری کی کچھ " ونگار" پہ اچھے تعلق والے کسانوں کی باری پہ لگی "نال " کی پہرے داری میں !
65000 فی ایکٹر ایڈوانس ٹھیکہ دیا !کپاس کا بیج مہنگے ترین داموں اور بلیک میں اور بھی مہنگاخریدا، مہنگا ترین ہل چلایا ، حکومت ، عدالت اور محکمہ انہار کے مہربانی سے بنے نظام کے تحت اپنے حق پانی کو پیسے دے کر "چوری " کیا ، گوڈیاں کیں ، ہل چلائے ، شدرائی کی ، مہنگے ترین (ترین جتنے )سپرے کئے ، مہنگی کھادیں ڈالیں ، کپاس پھل گڈی پہ آئی !
بارش ہوئی اگست کا پھول جو بنیادی طور پر پیداوار دیتا ہے ضائع ہوگیا ۔ مزید کھادیں ڈالیں ، تاکہ اور پھول آئیں ، مگر وہ کمی تو پوری نہیں ہوپائے گی نہ ہوپائی !
جہاں 25 سے 30 من اوسط آتی تھی وہاں 10 سے 12 آئی ۔ کپاس کا ریٹ 5500 روپے نکلا کسان کی امید جاگی خرچ پورا جائے گا ، گندم کی فصل بچ جائے گی ! مگر مگر میرے وطن عزیر کے "عظیم ترین " مافیازچینی ، گندم ،آلو اور پیاز سے اپنی قسطیں پوری کرنے بعد گندم میں بھی آدھمکے !
کپاس سستی کی جانے لگی 500 ٹوٹ گئی ، کرتے کرتے 500روپے اور ٹوٹ گئی ۔ 500روپے فی من چنوائی دے کر باقی کیا بچا ؟
کسان کا گھر بنی گالا ہاوس تو ہے نہیں کہ اس کے خرچے گم نام مہربان ادا کرتے جائیں ؟ (اگرچے وہ بڑی بڑی قسطوں میں کسانوں اور عوام سے کئی گنا کرکے وصول فرمالیں تو مضائقہ نہیں )
ادھار اور وعدوں کا مارا کسان ! اب کہاں جائے ! کس کنوے میں گرے ! کس کی ماں کو ماسی کہے ؟
حکومت ایک طرف وطن عزیر کو تقریروں سے قابل رشک بنارہی ہے !دوسری طرف چینی ، گندم ، آلو، پیاز،انڈا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور اب کپاس مافیا کے سامنے ایسے لیٹی ہے جیسے "قسط " دینے میں دیر ہوگئی ہو !
حکومت قسطیں ادا کررہی ہے یا اپنی بقا کی قیمت چکا رہی ہے فیصلہ کسان کو کرنا ہوگا ! فیصلہ زمیندار کو کرنا ہوگا !
اس کا حل کیا ہے ؟
پہلا حل :
زمیندارہ چھوڑ دیں ! شہروں کا رخ کریں بچوں سے بھیک منگوائیں اورخود پچاس لاکھ نوکریوں کی تلاش میں لگ جائیں ! یہ " چوری " کرکے "ماہانہ اوسط " تاروں " کا شکار ہوکر جیل جانے ، وہاں جوتے اور تھپڑ کھانے ، رشوت اور جرمانے دے کر واپس آنےاور آکر اسی "گڈی گیڑے " میں لگ جانے سے تو عزت والا کام ہے !
سچی مچی ! دیکھ لیں جتنے لوگ بھی زمیندارے سے جان چھڑا کر شہر آئے تھے آج وہ زمیندارہ کرتے رہنے والوں سے تو ہر صورت بہتر ملیں گے !
تو پھر خاک اور ذلت دونوں ایک ساتھ کیوں قبول کر رہے ہو ؟ایک کیوں نہیں ؟
دوسرا حل :
بزدلی چھوڑ دو!
زمیندار اپنے بھائی سے ایک بالشت زمین کے تنازعے پر لڑمرنے کے لئے دلیر ہوتا ہے اور لڑمرتا بھی ہے !
زمیندار شریکوں سے ٹکرانے کے لئے تن من دھن اڑادینے پرتودلیر ہوتا ہے !
زمیندار ،جٹ ، آرائیں کے جھکڑے میں جان سے گزرجانا اپنی انا کا جزو لازم سمجھتا ہے !
سرائیکی پنجابی کا سوال آنے پر اس کا خون کھول اٹھتا ہے !
ریاستی اور آباد کار کا مسئلہ ہوتو ہراول جان باز نظر آتا ہے !
ہاں مگر!
زمیندار ! کسان ! بزدل دکھائی دیتا ہے تو سرکاری اور غیر سرکاری مافیاز کے سامنے ، لٹیروں کے سامنے ! صنعتکاروں کے سامنے !
کسانوں کھڑے ہوجاؤ!
اپنا حق مانگو !نہ ملے تو چھین لو
اپنا حق چھنے نہ دو !بزدل نہ بنو !
ادھار لینے سے نکلو!خوداری اختیار کرو!
اپنے اسٹور بناؤ !
ہر گھر اپنا ایک فرد بڑے شہروں میں بھیجو! اپنا مال گاہک تک خود لے جاؤ!
اپنی چھوٹی چھوٹی فیکٹریاں لگاؤ !
خود چینی ، شکر بناؤ !
بے بھاؤ بیچنے سے بہتر ہے اپنے جانوروں کو کھلادو !
یہ جمہوریت ہے ! یہاں حق چھینے بنا نہیں ملتا ! نہ ہی کبھی ملے گا !
متحد ہوجاؤ !طاقتور بنو! نہیں تو
تقدیر کے قاضی کا یہ فتویٰ ہے اجل سے
ہے جرم ضعیفی کی سزامرگ مفاجات
اب بھی نہیں تو !
عزت مآب ترین اگلی قسط لینے تشریف لے آئے ہیں ، امید ہے اس کی ادائیگی کے بعد چینی کی قیمت 250روپے فی کلو کی معقول سطح پر آجائے گی !
آپ موگے پہ بیٹھے انتظارکریں ! باؤ نہ آجائے !
بیلدار آنے کی اطلاع کردے گا ۔۔۔مگر اس کا بھول جانا ۔۔۔۔۔!
28/10/2020
https://www.blogger.com/blog/post/edit/preview/1715682430154350412/8249233917930460516
کشمیر برائے فروخت ؛ فروخت شر وع !
بھارت کے مقامی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق بھارت کی وزارت داخلہ کی جانب سے جاری نوٹی فکیشن میں کہا گیا ہے کہ نیا قانون "یونین ٹریٹری آف جموں و کشمیر ری آرگنائزیشن(ایڈاپٹیشن آف سینٹرل لاز) تھرڈ آرڈر 2020"کا نفاذ فوری طور پر ہوگا۔
اس کے بعد کوئی بھی بھارتی کشمیرکو اپنی ضرورت اور حیثیت کے مطابق خرید پائے گا !
مقبوضہ کشمیر کے سابق وزیراعلی عمر عبداللہ نے کہا کہ "اب مقبوضہ جموں و کشمیر کو برائے فروخت کردیا گیا ہے"۔
کشمیر کو اس سے پہلے 1846کو بھی فروخت کیاگیا تھا ، جب انگریزوں نے کشمیر کو 75لاکھ اور ایک گھوڑا ، 12 بکریاں اور تین کشمیری شالیں سالانہ کے عوض فروخت کیاتھا ۔
مگر اس وقت کی فروخت اور آج کی فروخت میں بہت بڑا فرق ہے ، تب کشمیر اور کشمیروں کو ایک جموں کے راجہ گلاب سنگھ کو فروخت کیا تھا مگر اب کشمیر ی نہیں صرف کشمیر برائے فروخت ہے ۔
انڈیافلسطین کے ماڈل پر کشمیرکو خرید کر کشمیر یوں کو فلسطینیوں کی طرح سنگینوں اور باڑوں میں بند کرکے کشمیر کا سب کچھ بدل دینا چاہتا ہے ،مذہب بھی ، زبان بھی ، تہذیب بھی ، روایات بھی ، تاریخ بھی ،ماحول بھی معیشت بھی ، معاشرت بھی ،جس کی حتمی منزل کشمیریوں کی آبادی غیرکشمیریوں سے کم کرکے کشمیرکو ہمیشہ کے لئے بھارت بنادیناہے ۔
کشمیر کے ڈومیسائل کی تیزی سے بندر بانٹ جارہی ہے جس میں 5لاکھ کے قریب ڈومیسائل غیر کشمیریوں کو بانٹے جاچکے ہیں جس کے بعد وہ سب کشمیری ہیں ۔ اب جو کشمیر میں زمین کا مالک بنے گا وہ بھی کشمیری بن جائے گا اور کشمیر ی ،اپنی پہچان ، ملازمتوں ، سیاست اور حکومت سے بتدریج باہر کئے جائیں گے ۔اورمودی خود کو تاریخ میں کشمیر کا حتمی فاتح کہلائے گا !
کشمیری آہنی باڑوں ، ناکوں ، لاکھوں سنگینوں اور پیلٹ گنوں اندھا کرتی بوچھاڑوں میں محصورو مجبور ہیں ، اس گلوبل ویلج میں کشمیریوں کی آہیں کسی کے کانوں تک نہیں پہنچ رہیں ۔ اگر پہنچ رہیں ہیں "وہاں شائد وہ جوئیں نہیں ہیں جو انسانیت کے کانوں پر رینگنے کا ہنر جانتی ہوں" ۔
امتیں خاموش ہیں ، طاقتیں مدہوش ہیں ، حکمران تقریر کی تیاریوں میں مصروف ہیں کہ" گھبرانا نہیں ہے" ،ہم پاس کھڑے دیکھ رہے ہیں ۔ 71 سے بھی زیادہ پاس ،71 سے بھی جانتے ہوئے ، 71 سے بھی زیادہ بے عمل ہم پاس کھڑے دیکھ رہے ہیں!
ایک شخص تھا جو یہ صدائیں دیتا فوت ہوگیا :
میں تعبیروں کا تاجر ہوں کیا تم تعبیر خریدو گے
کیاتم گم گشتہ و گم کردہ اپنی جاگیر خریدو گے
منظر میں کشادہ سینے ہیں اور پس منظر میں گولی ہے
ہر ایک تصویر میں مظلوموں کے گرم لہو کی ہولی ہے
سڑکوں پہ جو ہیں جو فریاد کناں ان ماؤں کی ڈنڈا ڈولی ہے
کھچتی ہے جو میرے تصور میں غم کی تصویر خریدو گے
میں تعبیروں کا تاجر ہوں کیا تم تعبیر خریدو گے
ڈل جھیل کے خون ملے پانی سے بھر کر کچھ جگ لایا ہوں
پتھرائی ہوئی آنکھوں کے ہیرے موتی اور نگ لایا ہوں
گلیوں میں سسکتی لاشوں نے جو دی ہے و ہ شہ رگ لایا ہوں
اُن سب نے بس اتنا پوچھا ہے تم کب کشمیر خریدو گے؟
میں تعبیروں کا تاجر ہوںکیا تم تعبیر خریدو گے
اصحابِِ نبی ﷺکے گلشن کی کلیوں سے سجی کچھ چھڑیاں ہیں
سنت کے سچے موتی ہیں قرآن کی قیمتی لڑیاں ہیں
کچھ عشق نبی ﷺکے حلقے ہیں کچھ خوف خدا کی کڑیاں ہیں
ہر طوق سے جو آزاد کرے کیا وہ زنجیر خریدو گے ؟
میں تعبیروں کا تاجر ہوں کیا تم تعبیر خریدو گے
(تکبیر کے پر ہیبت نعرے بھی توحیدی للکار بھی ہے
دشمن کی صفیں جو چیر کے رکھ دے اک ایسی یلغار بھی ہے
میرے تھیلے میں جذبوں کی دھار ہے جس پر وہ تلوار بھی ہے
کوئی تیغ و تبر کوئی خنجر نیزہ کوئی شمشیر خریدو گے؟) خبردار یہ اتنا اب غداری ہوچکا ہے
میں تعبیروں کا تاجر ہوں کیا تم تعبیر خریدو گے
سلیم ناز بریلوی
جن کی آواز پر کشمیری اٹھے اور لاکھوں کشمیر یوں اور کشمیری مجاہدین نے اپنی جانیں قربان کیں مگر کشمیر کو خرید نہ پائے ۔۔۔۔۔۔پھر بھی کبھی پتھر ، کبھی روڑہ ، کبھی چٹان ، کبھی آواز اور کبھی احتجاج بنے رہے !
مگر اب "ہماری ریاست مدینہ" کے وزیراعظم نے کشمیری مہاجرین و مجاہدین کے لئے کوئی ایسا کوئی قدم اٹھانا غداری قرار دےدیا ہے ، ایف اے ٹی ایف کی محنتوں کی بدولت حکمرانوں کی اجازت کے بغیرکشمیریوں کے لئے تحریک کشمیر کو جاری رکھنے کے "ناجائز " ہونے کے فتوے جاری ہوچکے ہیں ۔
دوسرے لفظوں میں مودی کو کھلی چھٹی مل گئی نہ کوئی روڑہ ، نہ کوئی پتھر ، نہ کوئی چٹان ، نہ کوئی آواز اور نہ ہی کوئی احتجاج کچھ بھی رکاوٹ نہیں رہی ۔
بس چندمہینوں کے بعد ایک تقریر کشمیریوں کے لئے کل سرمایا و متاع باقی ہے جو تحفۃ پیش کردی جاتی ہے جو مودی کے کئی بڑے اور سنگین اقدامات کے بعد پیش کردی جاتی ہے مگر بے نتیجہ ، کیوں کہ ابھی تک وہ جوئیں پیدا ہی نہیں ہوپائیں جو جدید انسانیت کے کانوں پر رینگ پائیں !خاص کر مظلوموں کے لئے اور مزیدخاص کر مظلوم مسلمانوں کے لئے !
چناچہ
کشمیر برائے فروخت ہے
اورفروخت جاری ہے
مگر صرف مودی کے بھارتیوں کے لئے !
Blogger
Free weblog publishing tool from Google, for sharing text, photos and video.
22/10/2020
WorkChest - Pakistan's largest freelance marketplace has amazing opportunities
WorkChest - Pakistan's largest freelance marketplace has amazing opportunities https://workchest.com Want to talk to me? Click this link: https://www.beinggu...
22/08/2020
https://myurducolumns1.blogspot.com/
اسرائیل ، عرب امارات معاہدہ کیاہے اوراس کے اثرات
column/کالم
08/01/2018
http://urdunewsnetwork.pk/?p=4560
جنگی اصطلاحات کا عام مفہوم (پہلی قسط ) تحریر: شاہد تراب
تازہ ترین خبریں روزانہ اپنے میل باکس میں حاصل کرنے کے لیے ہمارے نیوز لیٹر میں سبسکرائب کریں۔ بے فکر رہیں، ہمیں بھی سپیمنگ سے نفرت ہے!