02/03/2019
Our Hero
Home tutors service in Rawalpindi
02/03/2019
Our Hero
21/11/2018
💞
یونیورسٹی لایف تک پہنچنا ہر نوجوان لڑکا لڑکی کی خواہش ہوتی ہے. یہ ایک سحر کی طرح ہوتی ہے جو ہم پر طاری ہو کر ہمیں حقیقت سے بے خبر کر دیتی ہے.
کلاس کوریڈورز میں فرش پر چوکڑی مار کر بے تکلفی سے بیٹھ جانا. کنٹین پر ساتھیوں کے ساتھ موسم کی ہر رت کا مزہ لینا.
ٹیچر کو دلائل سے ایمپریس کر کے سارا دن فخر سے گھومنا اور ساتھی فی میلز کا متاثر ہونا خود کو ڈیپارٹمنٹ کے ہیرو اور ہیروئین سمجھنا. بے تکلفیاں، خوش گپیاں اور شرارتیں اور یونیورسٹی کے در و دیوار میں گونجتے قہقہے. سب ایک دن خواب بن کر یادوں کے صحرا میں دفن ہو جائیں گے اور پاس اوٹ ہونے کے بعد جب آپ آخری بار مڑ کر یونیورسٹی کے گیٹ کو کراس کر کے پیچھے مڑ کر دیکھیں گے تو اپنا آپ اور باقی دوست وہیں ہنستے مسکراتے اور گھومتے نظر آئیں گے پھر اہیں ہوں گیں سسکیاں ہوں گیں اور آپ بوجھل دل سے گھر کو لوٹ آئیں گے.
اگلا دن بہت الگ ہو گا طویل بوجھل جیسے تپتی دھوپ کا پہلا جھٹکا لگے. پھر اپنی شناخت کی جدو جہد ہو گی جاب کیریر کی تلاش پھر آپکا چہرہ بھی بدل جاے گا جو یونیورسٹی مین تھا ویسا نہیں رہے گا.
عملی زندگی کی حقیقت چہرے کی معصوم لالی چھین لے گی اور چہرے پر گھر بار کے تفکر ڈیرے ڈال لیں گے. جدوجہد ہو گی کوشش ہو گی.
یونیورسٹی کی اٹھکھیلیاں سب بھول جائیں گیں چہرے پر سنجیدگی ہو گی جب عرصہ بعد آپ یونیورسٹی او گے تو بے چینی سے ادھر ادھر دیکھ کر دیوانہ وار اپنا آپ تلاش کرنیکی کوشش کرو گے یونیورسٹی کے حسین راستوں پر تنہا کھڑے ہو کر گم شدہ لمحوں کو بے قراری سے آوازیں دو گے لیکن وہ لوٹ کر نہیں اءیں گے پھر کنٹین کا رخ کرو گے کہ شاید وہاں کچھ مل جائے لیکن ناکام لوٹو گے وہاں تم اور تمہارے ساتھی نہیں ہوں گے لیکن وہاں بیٹھے انسانوں میں تمہیں کردار اپنے ہی نظر آئیں گے اور تم ان میں اپنا آپ محسوس کرو گے.
پھر تمہارے فیورٹ پروفیسر تمہیں دیکھ کر کہیں گے کہ تم کتنے بدل چکے ہو تمہارے چہرے پر زندگی کی تلخیوں کی دھول کے نشان دیکھ کر کہیں گے یار تم میچور ہو چکے ہو.... وقت تمہاری سوچ تمہارا چہرہ تک بدل دے گا کبھی یادوں کو یاد کر کے رو دو گے تو کبھی روتے روتے ہنس پڑو گے.
وہ نازنین بھی تمہاری طرح وقت کی بھینٹ چڑھ جاے گی جس کے ساتھ یونیورسٹی جنت لگتی تھی گردش وقت اسے بھی بدل دے گی. وہ بھی تمہاری طرح یادوں سے لڑتے زندگی جینے کے بہانے ڈھونڈے گی وہ کہا ہو گی تم کہا ہو گی کچھ خبر نہ ہو گی وقت تم دونوں سے بہت کچھ چھین لے گا. جب کبھی بارش ہو گی تو یونیورسٹی کا آنگن اور اس کی ہنسی کی یاد تمہاری جان نکال لے گی.
جب سردیوں میں دھند راج کرے گی تمہیں وہ گرم شال میں لپٹی یونیورسٹی کے خوبصورت یو ٹرنز پر مسکراتی نظر اے گی. جب کبھی عمدہ سموسے کھانے لگو گے تو ایک دم اسکی چھینا جھپٹی اور سوس کے لیے کنٹین پر ہنگامہ کرتی آواز سنائی دے گی تم کھاتے کھاتے رک جاو گے اور رو دو گے لیکن وقت پھر سوچ کو دھکا دے گا تم آگے بڑھ جاو گے.
سنو یہ تمہاری کہانی نہیں یونیورسٹی کے آنگن میں نہ جانے کتنی کہانیاں دفن ہیں اور سسکیاں لے رہی ہیں .. کچھ ادھوری کچھ مکمل. پھر تم اس راستے سے کترا کر گزرو گے جو یونیورسٹی کو جاتا ہو گا تم سوچو گے بار بار یادوں کی ازیت کیا سہنی پھر تم زمانہ کی گرد میں کھو کر کہی ان کہی ایک کہانی بن جاو گے.....😊
سوال سب کیلئے:
آپکی نظر میں سب سے زیادہ تکلیف دِہ کیا ہے؟؟؟
1:یک طرفہ محبت
2:حسد
3:کسی کی تکلیف پر کچھ کر نہ پانا
4:پچھتاوا
....
26/12/2017
کیا خاک مزا آے گاجب یار ہی نہیں ہے پہلو میں ..😏
آگ لگے اس موسم کو کوئی نام نہ لے اب بارش کا...!!
30 September last date for submission of admission form...
ہاۓ وۂ شخص جس کی نسبت سے....!
ایسے ویسے بھی اچھے لگتے ھیں....!
lost East Pakistan
lost ourselves in shape of APS students
10/12/2016
Juma Mobarik
Aj English dept ka seminar ks ks ne attend kiya tha...? Koi maza aia k ni...?