11/12/2025
Hassan Islamia Model School
Love, Learn, Lead. (🛑Admissions Open 🛑) Information is liberating. Education is the premise of progress, in every society, in every family.
"Teacher"
The dream begins with a teacher who believes in you, who tugs and pushes and leads you to the next plateau, sometimes poking you with a sharp stick called 'truth'
"Knowledge"
Knowledge is power. "Success"
The price of success is hard work, dedication to the job at hand, and the determination that whether we win or lose, we have applied the best of ourselves to the task at hand. "Lear
11/12/2025
11/12/2025
ڈاکٹر محمد طاہر القادری کی زندگی کے 5 اَن کہے پہلو
شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری کا نام پاکستان کی حالیہ تاریخ میں ایک ایسی شخصیت کے طور پر درج ہے جنہیں عوام اُن کے جارحانہ سیاسی دھرنوں اور مذہبی خطبات کے شعلوں سے پہچانتے ہیں۔ مگر جہاں عوام کی یادداشت کنٹینر کی سیاست پر اٹکی ہے، وہیں فرخ وڑائچ کو دیا گیا ایک حالیہ انٹرویو اس غیر معمولی اور فقید المثآل راہ نُما کے پیچھے چھپے ایک خاموش اور ادارہ ساز مفکر سے پردہ اٹھاتا ہے—ایک ایسا شخص جس کے اقتدار، پیسے اور خاندان سے متعلق اصول اسی نظام سے یکسر متصادم ہیں جسے وہ کبھی چیلنج کرنے نکلے تھے۔ یہ بلاگ پوسٹ اسی گفتگو سے اخذ کیے گئے چند سب سے گہرے اور غیر متوقع انکشافات آپ تک پہنچا رہی ہے جو شیخ الاسلام کی شخصیت کا ایک بالکل نیا رخ پیش کرتے ہیں۔
1. قیادت سے دست برداری: ایک ایسی مثال جو پاکستانی سیاست میں ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتی
ڈاکٹر طاہر القادری کا قیادت سے دستبرداری کا فلسفہ جنوبی ایشیا کی اس سیاسی ثقافت کے لیے ایک کاری ضرب ہے جہاں راہ نُما—خواہ سیاسی ہوں یا مذہبی—مرتے دم تک اقتدار و اختیار سے چمٹے رہتے ہیں۔ انہوں نے آج سے 25 سال قبل ہی منہاج القرآن کے روزمرہ انتظامی امور سے بتدریج خود کو الگ کرنا شروع کر دیا تھا اور یہ عمل سوچا سمجھا تھا۔ ہر روز سیکرٹریٹ جانے سے ہفتہ وار، پھر پندرہ روزہ اور پھر مہینوں پر محیط دوروں تک کا سفر، جس کا واحد مقصد قیادت کی اگلی نسل کو پروان چڑھانا اور مشن کو شخصیت پرستی کے سائے سے نکال کر ایک پائیدار ادارے کی شکل دینا تھا۔
انہوں نے اس سوچ کے پیچھے چھپے خطرے کو ایک طاقت ور استعارے سے واضح کیا کہ جو راہ نُما ریٹائر نہیں ہوتے، وہ ایک "بہت گھنے درخت" کی مانند ہوتے ہیں جس کے سائے تلے "ساری زندگی پودے رہیں گے، وہ درخت نہیں بن سکتے"۔ یہ محض ایک ذاتی فیصلہ نہیں، بلکہ شخصیت کے گرد گھومتی سیاست کا ایک گہرا تجزیہ ہے جو اداروں کو پنپنے نہیں دیتی۔
اگر لوگ ریٹائرمنٹ کو قبول کر لیں تو نظام مستحکم ہوگا۔ ہر شخص اپنی حیثیت میں مرتے دم تک پورے کے پورے کام کو اپنے ارد گرد گھمانا چاہتا ہے۔ وہ چاہتا ہے میں مرکز و محور رہوں اور میرے بغیر کوئی کام نہ ہو۔
2. ہزاروں کتابیں اور تقاریر، مگر ایک روپیہ بھی رائلٹی یا معاوضہ اور نذرانہ نہیں
ایک ایسے دور میں جہاں مذہب اور علم اکثر منافع بخش شعبے بن چکے ہیں، ڈاکٹر طاہر القادری کا اصول اس نظام پر ایک خاموش تنقید ہے۔ انہوں نے اپنی ایک ہزار کتابوں (جن میں سے 700 شائع ہو چکی ہیں) سے آج تک ایک روپیہ رائلٹی کی مد میں وصول نہیں کیا۔ یہ اصول صرف ان کی ذات تک محدود نہیں بلکہ ادارہ جاتی حیثیت اختیار کر چکا ہے؛ ان کے بیٹے پروفیسر حسن صاحب اور پروفیسر حسین صاحب، حتیٰ کہ ان کے پوتے شیخ حماد مصطفی بھی اپنی تصانیف پر کوئی رائلٹی یا معاوضہ نہیں لیتے۔
یہی اصول ان کے خطابات پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ وہ پوری زندگی میں دنیا بھر میں کی گئی تقاریر و خطابات کے لیے 'نذرانہ' قبول کرنے سے انکاری ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ جب میزبان بہت اصرار کرتے تو انہیں کہنا پڑتا کہ یہ ہدیہ قبول کرنا ان کے لیے اتنا ہی حرام ہے جتنا شراب پینا یا خنزیر کا گوشت کھانا۔ یہ محض ذاتی پرہیزگاری نہیں، بلکہ علمِ دین کی تجارتی قدر کے خلاف ایک اصولی موقف ہے۔ میں نے اپنی زندگی میں خدمت دین اور خطاب اور کتاب اور اللہ کے دین اور علم کو فروغ دے کر اس کا معاوضہ، ہدیہ، نذرانہ، تحفہ کسی نام سے بھی لینا اس طرح حرام کیا ہوا ہے جیسے شراب پینا یا خنزیر کا گوشت کھانا۔
3. امیر گھرانوں کے بجائے کارکنان کے گھروں میں بچوں کی شادیاں
شیخ الاسلام نے اپنے سب بچوں کی شادیاں اپنی ہی تنظیم کے کارکنان کے متوسط طبقے کے خاندانوں میں کی ہیں۔ اس کے پیچھے ان کی گہری سوچ یہ تھی کہ جو بچے "سونے یا چاندی کا چمچ" لے کر پیدا ہوتے ہیں، ان کی زندگی کی ترجیحات بدل جاتی ہیں۔ وہ چاہتے تھے کہ ان کا خاندان ہمیشہ اپنی نظریاتی اور سماجی بنیادوں سے جڑا رہے۔ اس فلسفے کا نچوڑ والدین اور نوجوانوں کے لیے ان کی اس نصیحت میں پنہاں ہے کہ جیون ساتھی کا انتخاب دراصل آنے والی نسل کی تقدیر کا انتخاب ہوتا ہے۔ پوری دنیا میں میری تعلیم ہے کہ جب آپ اپنی شریکۂ حیات کا انتخاب کریں تو آپ اپنی بیوی مت تلاش کریں، اپنی اولاد کی ماں تلاش کریں۔
4. جب شیخ الاسلام کو پنجاب یونیورسٹی میں 'سُرخا' کہا جاتا تھا
یہ انکشاف شاید سب سے زیادہ حیران کن ہے کہ 1970ء اور 1980ء کی دہائی میں، جب پنجاب یونی ورسٹی کی سیاست 'دائیں' اور 'بائیں' بازو کے نظریات میں شدت سے تقسیم تھی، شیخ الاسلام کو ان کے مخالفین leftist یا 'سُرخا' شمار کرتے تھے۔ ان کی دوستی اور فکری نشستیں مشاہد حسین سید، ڈاکٹر حسن عسکری اور ائیر مارشل اصغر خان کے صاحبزادے عمر اصغر خان جیسی شخصیات کے ساتھ تھیں، جنہیں ترقی پسند دانش ور سمجھا جاتا تھا۔ تاہم اس تجزیے کی اصل گہرائی اس تضاد کو سمجھنے میں ہے: ایک طرف انہیں 'سُرخا' کہا جاتا تھا، تو دوسری طرف کیمپس میں اسلامی افکار و نظریات کا سب سے مدلل اور کامیاب دفاع کرنے والے بھی وہی تھے۔ یہی دوہری حیثیت ان کی بے مثال انتخابی کامیابی کا سبب بنی۔ انہیں leftist بلاک کا 100 فیصد ووٹ اس لیے ملتا تھا کہ وہ فکری طور پر کھلے ذہن کے تھے، جبکہ rightist بلاک کا 50 فیصد سے زائد ووٹ اس لیے آتا تھا کہ مذہب کے روایتی "ٹھیکے داروں" کے برعکس وہ علمی اور عقلی دلائل سے اسلام کا مقدمہ پیش کرتے تھے۔
5. عمران خان سے گلے شکوے: وزیراعظم بننے کے بعد ایک بھی رابطہ نہیں
انٹرویو میں شیخ الاسلام نے عمران خان کے ساتھ اپنے تعلقات اور بعد میں ہونے والی گہری مایوسی پر بھی بات کی۔ ان کے مطابق 2014ء کے دھرنے میں جہاں ان کی تحریک نے عمران خان کو ایک مضبوط کندھا فراہم کیا، اس کے بعد عمران خان نے اپنی وزارتِ عظمیٰ کے پورے دور میں ان سے کوئی رابطہ نہیں کیا۔ یہ خاموشی اس وقت ٹوٹی جب عمران خان کی حکومت ختم ہو گئی۔ فون پر شیخ الاسلام نے صرف اتنا پوچھا: "آپ کو میری یاد کیسے آگئی؟" جس پر عمران خان نے مبینہ طور پر جواب دیا کہ ان کی ٹیم نے انہیں گمراہ کیا تھا۔ شیخ الاسلام نے خاص طور پر اس بات پر اپنے شدید شکوے کا اظہار کیا کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کے مظلوموں کو انصاف دلانے کے وعدے پر عمران خان کی حکومت میں کوئی پیش رفت نہ ہوسکی۔
خلاصہ
شیخ الاسلام کے یہ اصول محض ذاتی زندگی کے قصے نہیں، بلکہ ایک متبادل طرزِ حکمرانی اور سماجی ڈھانچے کا خاکہ پیش کرتے ہیں۔ یہ ایک ایسے شخص کی کہانی ہے جو ذاتی میراث کے بجائے پائیدار نظام کی تعمیر پر یقین رکھتا ہے—خواہ وہ اس کی اپنی تنظیم ہو، مالی معاملات ہوں یا خاندان۔ یہ سب ہمیں ایک مشکل سوال پوچھنے پر مجبور کرتا ہے: کیا پاکستان کا نہ ختم ہونے والا بحران کرشماتی راہ نُماؤں کی کمی کا نتیجہ ہے، یا پھر ادارہ جاتی دیانت کے ان اصولوں کے فقدان کا، جن پر شیخ الاسلام نے دہائیوں سے عمل کر کے دکھایا ہے؟
11/12/2025
سمندر کے ساتھ اک سمندر کھڑا ہے💯
شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری صاحب دامت برکاتہم العالیہ
Mini reel,Mega Fun🥳
22/11/2025
داڑھی کی شرعی حیثیت
سیدنا علی المرتضی رض اپنی داڑھی کو چہرے کے قریب سے کاٹتے تھے ۔۔۔اس روایت کو امام ابی شیبہ ، امام محمد بن عبدالبر ، امام زید سمیت عالم عرب سینکڑوں محدثین نے کتابوں کی زینت بنایا جب کہ پاکستان میں بھی بہت سارے محدثین مفتی عبدالقیوم ہزاروی ، مفتی یوسف وغیرہ نے بھی اسے اپنے آن لائن فتوی میں نقل کیا ۔۔
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی الله عنه قَالَ، قَالَ: رَسُولُ ﷲِ
صلیٰ الله عليه وآله وسلم جُزُّوا الشَّوَارِبَ وَأَرْخُوا
اللِّحَی خَالِفُوا الْمَجُوسَ:
إِنَّهُمْ يُوَفِّرُونَ سِبَالَهُمْ، وَيَحْلِقُونَ لِحَاهُمْ، فَخَالِفُوهُمْ:
""حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مونچھیں کم کرو اور داڑھیاں بڑھاؤ، مجوسیوں کی مخالفت کرو
وہ مونچھیں بڑھاتے ہیں اور داڑھیاں منڈاتے ہیں پس تم ان کی مخالفت کرو۔""
بخارى الصحيح، 2: 875، ر قم: 5893
مسلم، الصحيح، 1: 222، رقم: 260
أحمد بن حنبل، المسند، 2: 365، رقم: 8764، مصر: مؤسسة قرطبة
المصنف ابن ابي شيبه:۸؍۵۶۷۔۵۶۶،
المعجم الاوسط للطبراني:۱۰۵۵۔۱۶۴۵،
السنن الكبري للبيهقي:۱؍۱۵۱،
شعب الايمان للبيهقي:۶۰۲۷،وسنده الصحيح،
حدیث کی تشریح """
آقا کریم صلی علیہ و آلہ وسلم کے اس فرمان میں داڑھی رکھنے کا حکم تو ہے مگر داڑھی رکھنے کی کسی بھی مقدار کا حکم نہیں نبی کریم نے فقط اتنی داڑھی رکھنے کا حکم دیا جس سے داڑھی منڈوانے والے کی مخالفت ہو سکے یہی وجہ ہے کہ تمام صحابہ اکرام اپنی اپنی پسند کے مطابق داڑھی رکھتے تھے ۔
امام اعظم ابو حنیفہ رحمتہ اللہ علیہ مسلک حنفی یوں بیان کرتے ہیں ۔
عن أبى حنيفة عن حماد عن إبراهيم أنه قال لابأس ان ياعذ الرجل من لحية مألم مشتبه باهد الشرك
(امام ابو يوسف يعقوب بن إبراهيم متوفي ١٥٠ ه ، كتاب الآثار ٢٣٤)
امام اعظم ابو حنیفہ روایت کرتے ہیں کہ داڑھی کو چھوٹا
رکھنے میں کوئی حرج نہیں بشرطیکہ مشرکین (داڑھی منڈوانے والے) کی مخالفت ہو سکے ۔۔
٢٥٤٨٠-- حدثنا وكيع عن أبي هلال قال : سألت الحسن و ابن سيرين فقالا : لابأس به أن نأخذ صول لحيتك :
(كتاب المصنف ابن أبي شيبة حديث ٢٥٤٨٠)
ابو الھلال رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے امام حسن رضی اللہ عنہ اور امام ابن سرین رضی اللہ عنہ سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ داڑھی کو چھوٹا رکھنے میں کوئی حرج نہیں ۔۔۔
حضرت محمد صلی علیہ و آلہ وسلم
فرماتے ہیں ۔۔
" عَنِ اِبْنِ عَبَاسْ عن النبي صلى الله عليه و آله
وسلم قَالَ مِنْ سَعَادَةِ الرَّجُلِ خِفَّةُ لِحْيَتِهِ:
" ابن عباس روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا داڑھی کا چھوٹا ہونا مرد کی سعادت میں سے ہے-"
رواه الطبرانى ،باب البأس
مطبوعة بيروت
شرح المشكوة جلد ٨ ص ٢٩٨
باب الرجل فصل ثانى.
الکامل، ج 7 ص 128
تشریح """"ثابت ہوا کہ داڑھی کو چھوٹا رکھنا سعادت والی بات ہے ۔۔۔
عَنِ سَمَاکْ رضي الله عنه
كَانَِ عَلَيً رضي الله عنه يَأخُذُ مِنْ
لِحْيَتِهِ مِمَّا يَالِيْ وَجْهَهُ:
"حضرر علی اپنی داڑھی کو چہرے کے قریب سے داڑھی کاٹتے تھے۔"
المصنف ابن أبي شيبة، ٥ : ٢٢٥
رقم: ٢٥٤٨٠ مكتبة الرشد الرياض،
اہم علمی نقطہ ۔۔۔
امام اعظم ابو حنیفہ سے لے کر امام ابن عابدین شامی تک اہلسنت والجماعت کی 14 سو سالہ تاریخ میں کسی محدث نے بھی ایک مشت داڑھی کو واجب نہیں کہا مگر برصغیر پاک وہند میں گیارویں صدی عیسوی میں برصغیر کے ایک متاخر عالم دین شیخ عبدالحق محدث دہلوی رح نے محض اپنی رائے سے ایک مشت داڑھی کو واجب کہا ۔۔انڈیا و پاکستان میں بعد کے بہت سے محدثین نے شیخ عبدالحق محدث دہلوی کی پیروی کی ۔۔۔
یاد رہے کہ شیخ عبدالحق محدث دہلوی نے داڑھی کے وجوب پر کوئی دلیل پیش نہیں کی ۔۔۔
اصول فقہہ کے 11 مراتب ہیں ۔۔
ہر بڑے فتوی کے شروع کے صفحات میں علم فقہہ کے یہ 11 مراتب درج ہوتے ہیں ۔۔۔
امام ابن عابدین شامی رحمتہ اللہ علیہ کا مایہ ناز فتوی فتوی درمختار میں اصول فقہہ کے یہی 11 مراتب درج ہیں ۔۔
امام ابن عابدین شامی اصول فقہہ کے ان 11 مراتب میں واجب کی تعریف یوں لکھتے ہیں
جو قطعی الثبوت ظنی الدلالة یا ظنی الثبوت قطعی الدلالة نص سے ثابت ہو وہ واجب ہے ۔
یعنی واجب اسے کہتے ہیں جو دلیل ظنی سے ثابت ہو اور دلیل ظنی سے مراد یہ ہے کہ جس کام کا نبی کریم صلی علیہ و آلہ وسلم حکم دیں اور پھر اس کے ترک پر وعید فرمائیں اسے واجب کہتے ہیں ۔
( شامی ، درمختار : ۱/۹۵، طبہ بیروت)
( البحرالرائق ج 1 ص 17 )
( فتح القدیر ج 2 ص 39 بیروت )
( زبدۃ الفقہ جلد اول صفحہ 72 )
جب کہ دنیا جانتی ہے کہ نبی کریم صلی علیہ و آلہ وسلم نے تو داڑھی رکھنے کی کوئی بھی مقدار مقرر ہی نہیں کی ۔۔۔ ایک مشت داڑھی رکھنے کا تو نبی کریم صلی علیہ و آلہ وسلم نے حکم ہی نہیں دیا وعید سنانا تو بہت دور کی بات ہے ۔۔۔
اصول فقہہ کا ایک عام سا طالب علم بھی اگر داڑھی کی مقدار کو واجب کی اس تعریف پر پرکھے تو با آسانی پتہ چل جاتا کہ کہ داڑھی کی مقدار سنت غیر موقعدہ ہے کیوں کہ نبی کریم صلی علیہ و آلہ وسلم نے داڑھی رکھنے کی کوئی مقدار مقرر نہیں کی وعید سنانا تو دور کی بات ہے ۔۔
ثابت ہوا کہ داڑھی کی مقدار سنت غیر موکدہ ہے اس کی کوئی حد مقرر نہیں ۔۔۔۔ع
میں نے یہ پوسٹ فقط اس لیے اپلوڈ کی ہے کیوں کہ دیکھا گیا ہے کہ اکثر مولوی صاحبان شیخ عبدالحق محدث دہلوی کی ذاتی رائے کا سہارا لے کر چھوٹی داڑھی رکھنے والوں کی عزت کو مجروح کرنے سے باز نہیں آتے ۔۔۔
ہو سکتا ہے کہ یہ تحریر پڑھ کر مولوی صاحبان بغیر کسی شرعی دلیل کے لوگوں کی عزت کو مجروح کرنے سے باز آ جائیں ۔۔
طالبِ دعا:----- حفیظ اللہ جاوید
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Contact the school
Telephone
Address
Rawalpindi
46000
Opening Hours
| Monday | 09:00 - 13:00 |
| Tuesday | 09:00 - 13:00 |
| Wednesday | 09:00 - 13:00 |
| Thursday | 09:00 - 13:00 |
| Friday | 09:00 - 12:00 |
| Saturday | 09:00 - 13:00 |
11/12/2025
11/12/2025
25/11/2025