Salafi Quran Academy Online

Salafi Quran Academy Online We are provide Islamic education online all over the world �

28/12/2025
10/09/2025

ابن القیم رحمہ اللہ نے خصوصاً چار حالتیں ذکر کیں جن میں انسان پر جنات اور شیطان کا تسلط زیادہ بڑھ جاتا ہے اور وہ اس کے جسم میں داخل ہوسکتا ہے:

Contect:
https://wa.me/923135833738

✦ شیطان کے داخل ہونے کی چار حالتیں:

1. شدید غصہ (غَضَب)

غصہ آنے پر انسان پر عقل اور ضبط کمزور ہوجاتا ہے، یہی موقع شیطان کو انسان پر غالب آنے کا ملتا ہے۔

دلیل: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"غصہ شیطان سے ہے، اور شیطان آگ سے پیدا ہوا ہے، اور آگ کو پانی ہی بجھاتا ہے۔ پس جب تم میں سے کسی کو غصہ آئے تو وضو کرے۔"
(أبو داود: 4784)

2. شدید خوف (خَوف)

خوف کی حالت میں انسان کا دل کمزور پڑ جاتا ہے اور اس پر وساوس اور وہم حملہ کرتے ہیں۔

دلیل: اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
{إِنَّمَا ذَلِكُمُ الشَّيْطَانُ يُخَوِّفُ أَوْلِيَاءَهُ}
"یہ تو شیطان ہے جو اپنے دوستوں کو ڈراتا ہے۔"
(آل عمران: 175)

3. شدید شہوت (شَهوَة)

جب انسان اپنی خواہشاتِ نفس کے پیچھے چلتا ہے اور ضبطِ نفس کھو بیٹھتا ہے تو شیطان اس پر غلبہ پا لیتا ہے۔

دلیل: نبی ﷺ نے فرمایا:
"عورت کی طرف (بغیر نکاح کے) نگاہ شیطان کے تیروں میں سے ایک تیر ہے۔"
(حاکم، صحیح الاسناد)

4. شدید غفلت (غَفلَة)

جب انسان ذکر الٰہی اور طاعت سے غافل ہوتا ہے تو اس پر شیطان تسلط پا لیتا ہے۔

دلیل: قرآن میں ہے:
{وَمَنْ يَعْشُ عَنْ ذِكْرِ الرَّحْمَـٰنِ نُقَيِّضْ لَهُ شَيْطَانًا فَهُوَ لَهُ قَرِينٌ}
"جو رحمٰن کے ذکر سے غافل ہوتا ہے ہم اس پر ایک شیطان مقرر کر دیتے ہیں جو اس کا ساتھی بن جاتا ہے۔"
(الزخرف: 36)

✅ خلاصہ

امام ابن القیم رحمہ اللہ کے مطابق شیطان کے داخل ہونے کے چار بنیادی مواقع ہیں:

1. غصہ

2. خوف

3. شہوت

4. غفلت

اسی لیے شریعت نے ان تمام چاروں چیزوں کا علاج ذکرِ الٰہی، وضو، نماز، اور صبر کے ذریعے بتایا ہے۔

امام ابن القيم الجوزيّة رحمہ اللہ نے اپنی کتاب "زاد المعاد" (ج 4، ص 126-127، دار عالم الفوائد) میں یہ مسئلہ بیان فرمایا ہے۔ ان کی اصل عربی عبارت یہ ہے:

📜 عبارتِ ابن القيم رحمہ اللہ

> "وَتَأَمَّلْ حَالَ هَذَا الْمَسْكِينِ الَّذِي قَدْ تَسَلَّطَ عَلَيْهِ عَدُوُّهُ، فَأَدْخَلَهُ فِي غَايَةِ الذُّلِّ وَالْمَهَانَةِ، وَقَيَّدَ قَلْبَهُ وَرِجْلَيْهِ وَيَدَيْهِ بِالْغَفْلَةِ، وَالْهَوَى، وَالْغَضَبِ، وَالْخَوْفِ، فَهُوَ فِي أَسْرِ عَدُوِّهِ الْحَقِيقِيِّ أَسِيرٌ، مَعَ هَذَا فَهُوَ يَحْسَبُ أَنَّهُ فِي أَحْسَنِ حَالٍ، فَيَا لِلَّهِ مَا أَشَدَّ غُرُورَهُ!"

📖 ترجمہ (سادہ اردو میں):

"اس بیچارے انسان کی حالت پر غور کرو جس پر اس کا دشمن (شیطان) مسلط ہوگیا ہے۔ اس نے اسے ذلت اور رسوائی کی انتہا تک پہنچا دیا ہے اور اس کے دل، ہاتھ اور پاؤں کو غفلت، خواہشِ نفس (شہوت)، غصہ اور خوف کے ذریعے قید کر لیا ہے۔ پس وہ اپنے حقیقی دشمن (شیطان) کا قیدی بن چکا ہے، مگر (اس کے باوجود) یہ سمجھ رہا ہے کہ وہ بہترین حالت میں ہے۔ تو اللہ کی پناہ! یہ کتنا بڑا دھوکہ ہے!"

---

یعنی:
🔹 غفلت
🔹 شہوت (ہویٰ)
🔹 غصہ
🔹 خوف

یہ چار حالتیں ابن القيم رحمہ اللہ کے کلام میں واضح ہیں۔


03/09/2025

عالمہ۔کورس آنلائن فری
وٹسپ میسج کریں
+92 341 5487469

Address

30
Rawalpindi
46000

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Salafi Quran Academy Online posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category