13/11/2025
کسی رشتے دار کی شادی کی ویڈیو وی سی آر پر لگی تھی۔۔ پورا خاندان ایسے دیکھنے بیٹھا تھا جیسے کوئی بہت بڑی بلاک بسٹر ہے۔۔شاید میں سات یا آٹھ سال کی تھی۔۔رخصتی کا منظر تھا۔۔ ایک سین میں دلہن روتی ہوئی گاڑی میں بیٹھتی ہے۔۔ اگلے میں سسرال اترتی ہے۔۔ جیسے ہی گھر کے دروازے پر قدم رکھا۔۔ ایک بھاری بھرکم آنٹی بھاگتی ہوئی آئیں اور بھرئے ہوئے پانی کے لوٹے کو دلہن کے پیروں میں انڈیل دیا۔۔
دلہن نے جونہی اگلا قدم اٹھایا۔۔ پھسل گئیں۔۔
کچھ ہنسے کچھ نے افسوس کیا۔۔ کمخواب کا بھاری کامدار جوڑا بھیگ گیا۔۔ جو خفت ہوئی وہ الگ۔۔
میرے دماغ میں الارم سا بجا۔۔
آنٹی نے ایسا کیوں کیا۔۔ میں نے زور سے پوچھا۔۔
یہ رسم ہے ۔۔کسی اور آنٹی نے کہا
رسم؟ کس لئے؟ اس سے کیا ہوتا ہے؟ اور نہ کرتے تو کیا ہوتا کم از کم دلہن گرتی تو نہیں۔۔ میں نے بھی ڈھٹائی سے موقف رکھا۔۔
کسی نے جواب نہ دیا۔۔ اگنور کر کے ویڈیو دیکھتے رہے۔۔
میں نے پھر پوچھا۔۔ اس رسم کا کیا مقصد ہے۔۔
جواباً مجھے صلواتیں سنا کر کمرے سے نکال دیا۔۔
تھوڑی بڑی ہوئی۔۔ تو بات بات پر میری کیوں کا الارم بج جاتا۔۔
جائے نماز کا کونا موڑ دو۔۔
کیوں؟
کالا رنگ منحوس ہے
کیوں؟
منگل کے دن کپڑے نہ سیو
کیوں؟
زیادہ سوال نہ کرو۔۔
کیوں؟؟
جتنی بار بڑوں کی کوئی بے منطق بات سنتی میرا ایک ہی سوال ہوتا کہ کیوں ں ں؟؟
اور بڑوں کا ایک ہی جواب
“ہمارے بڑے ہمیں جو کہتے ہم مان لیتے ۔۔ہم نے کبھی اپنے بڑوں سے کیوں نہیں پوچھا”
میں پھرکہتی کہ ارے “کیوں نہیں پوچھا؟”
کیوں کے بارے میں پوچھا ہوتا تو ہر چیز کی لاجک معلوم ہوتی۔۔
پھر مجھے صلواتوں سے بچانے کے لئے مجھے آمادہ کیا گیا کہ ہر چیز کی لاجک نہیں ہوتی!
اب تو میں نے اس کو چیلنج کی طرح ایکسیپٹ کیا!
دنیا میں کوئی بھی چیز مقصد کے بغیر نہیں ہوتی۔۔ تو یہ کیسے بغیر سوچے سمجھے رسم رواج اور تہذیب کے نام پر الٹی سیدھی چیزیں ہوتی ہیں۔۔
مجھے یہ رویہ بہت عجیب لگتا کہ کسی بات کی وجہ معلوم نہ ہو اور آپ نسل در نسل اسے کرتے جائیں۔۔ اس لئے مین نے سوچا کہ ہر چیز کی لاجک معلوم کروں گی اور کبھی کسی کو ایسی چیز کی ترغیب نہ دوں گی جس کی لاجک نہ پتہ ہو!
خیر یہ مسئلہ اسکول کالج میں بھی ساتھ رہا۔۔ کالج میں ایک دن زولوجی کی کلاس میں ٹیچر نے کہا کہ پورے جسم میں صرف ہاتھ کی ہڈی ہی ٹوئسٹ موومنٹ کرسکتی ہے۔۔
میں نے پہلے ہاتھ گھما کے دیکھا پھرحیرت سے پوچھا وہ کیسے؟
کہنے لگیں خدا کی قدرت ہے!
میں نے کہا ہاں تو اس قدرت کی کوئی ایکسپلینئشن تو ہوگی۔۔ انہوں نے کہا کہ نہیں ہے!
میں سارا دن سوچتی رہی کہ کیسے پتہ لگاؤں ۔۔ انٹرنیٹ اتنا عام نہ تھا۔۔ نہ سرچنگ اتنی آتی تھی۔۔
ہمارے گھر سے کچھ گلیاں پہلے میری ایک دوست ایم بی بی ایس کے پہلے سال میں تھی۔۔ واپسی میں اس کے گھر رکی اور Anatomy کی کتاب مانگی
اگلے دن ٹیچر کے آنے پہلے میں نے بوڑڈ پر ہڈی کی تصویر بنائی اور ٹیچر سمیت سب کو تفصیل سے اللہ کی قدرت سمجھائی۔۔ ٹیچر بہت خوش ہوئیں اور پوچھا کہ میں نے کیسے پتہ لگایا۔۔ جب میں نے کہا کہ میں نے کتاب میں پڑھا۔۔ تو انہوں نے مزید حوصلہ افزائی کی۔۔
بس اس کے بعد میں نے اپنے آس پاس کوئی کتاب نہ چھوڑی۔۔ مذہب، تاریخ، جغرافیہ، ادب۔۔ سب پڑھ ڈالا۔۔
اور پھر ہر کیوں کا تسلی بخش جواب ملا۔۔
اب چاہے میرا بیٹا سوال کرے یا میرے اسٹوڈنٹ ۔۔ کسی کو صلواتیں نہیں ملتیں۔۔ بلکہ سوال کرنے پر شاباش ملتی ہے۔۔ اور اس کو مکمل لاجک ، تفصیل اور سیاق و سباق بتانے کے ساتھ میں کہتی ہوں میری سب باتوں پر یقین نہیں کرنا کیونکہ میں بھی غلط ہو سکتی ہوں۔۔ تحقیق ضرور کرنا علم حاصل کرنا اور اگر کبھی تم آ کر میری غلطی درست کروگے تو مجھے لگے گا میں کامیاب ہوگئی ہوں۔۔
ہر ترقی یافتہ قوم اپنے اسکولوں میں critical thinking, independent learning اور decision making سکھاتی ہے۔۔
اور ہمارے معاشرے میں فیصلہ کرنے والوں کو نافرمان، سوچنے والے کو ناہنجار اور سوال کرنے والے کو بدتمیز کہا جاتا ہے۔۔ یہی وجہ ہے کہ ہم ترقی نہیں کرتے۔۔
مغرب اپنے بچوں کو اڑنے کے لئے کھلا آسمان دیتا ہے۔۔ اس لئے وہ ہر فن میں طاق ہوتے ہیں۔۔ ہم اپنے بچوں کو صرف اپنی گود دیتے ہیں۔ ساری زندگی اس میں دبک کر زندگی کی سچائیوں سے منہ موڑنا سکھاتے ہیں۔۔ پھر عملی زندگی میں انہیں ہارتا ہوئے دیکھ کر کامیاب لوگوں کو کوستے ہیں۔۔
اگر آپ استاد ہیں تو خود پر محنت کریں۔۔ آپ کو جواب نہیں آتا اس کا یہ مطلب نہیں کہ بچہ سوال نہ کرے۔۔ بلکہ آپ بچے کے ساتھ مل کر اس کا جواب ڈھونڈیں۔۔ اور یہی فرض والدین کا بھی ہے۔۔ ہوسکتا ہے بچے اپنے سوالوں سے ہی ہمیں روشنی کی جانب کو رستہ دکھا سکیں۔۔ اور ہم سینہ بہ سینہ منتقل ہونے والی جہالت سے نکل سکیں۔۔
مجھے اچھا لگتا ہے جب میرا بیٹا بھی مئرئ طرح “کیوں” پوچھتا ہے اور میں اس کے ہر کیوں کا جواب دے پاتی ہوں۔۔ سب بچے ایسی ہی فطرت پر پیدا ہوتے ہیں کیونکہ اللہ بھی انسان کو فلر کی ترغیب دیتا ہے۔۔ وہ کہتا ہے کہ دیکھنے والوں کے لئے نشانیاں ہیں۔۔ لیکن ہم ہی اپنے بچوں کو کبھی دیکھنے نہیں دیتے!
اللہ ہم سب کے بچوں کو ذہانت اور ایمان کی طاقت دے۔۔ آمین۔۔
وردہ 🖋️