Mataaf-ul-Quran

Mataaf-ul-Quran

Share

Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Mataaf-ul-Quran, Education Website, house 1 street 1 Kashmir colony adyala Road Rawalpindi, Rawalpindi.

خانہ کعبہ کے گرد طواف کرنے کی جگہ کو کہتے ہیں۔ جس طرح ایک طواف ا یمان کے مرکز کے گرد گھومتا ہے، اسی طرح مطاف القرآن وہ پلیٹ فارم ہے جہاں ہمارے طالب علم زندگی کے ہر پہلو میں قرآن کو مرکز بنا کر علم کا روحانی سفر طے کرتے ہیں۔

12/05/2026

Mataaf-ul-Quran Academy

12/05/2026

سورہ آلِ عمران (آیات 101 سے 150) کا خلاصہ
​یہ حصہ مسلمانوں کی جماعت کو متحد رہنے، امر بالمعروف (نیکی کا حکم دینے) اور غزوہ احد کے اہم اسباق پر مشتمل ہے:
​اتحاد اور دعوتِ خیر (آیات 101-110):
اللہ تعالیٰ مومنین کو تقویٰ اختیار کرنے اور اللہ کی رسی (قرآن و دین) کو مضبوطی سے تھامنے کا حکم دیتا ہے تاکہ وہ تفرقے میں نہ پڑیں۔ مسلمانوں کو "بہترین امت" قرار دیا گیا ہے جس کا کام نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا ہے۔ اہل کتاب کی کج روی کا ذکر کر کے مسلمانوں کو خبردار کیا گیا ہے۔
​اہلِ کتاب کا موازنہ اور مومن کی پہچان (آیات 111-120):
اللہ فرماتا ہے کہ تمام اہل کتاب ایک جیسے نہیں، ان میں کچھ ایسے بھی ہیں جو راتوں کو اللہ کی آیات پڑھتے اور سجدہ کرتے ہیں۔ مسلمانوں کو مشورہ دیا گیا کہ وہ اپنوں کے سوا کسی کو اپنا رازدار (بطانہ) نہ بنائیں، کیونکہ دشمن تمہارے خلاف بغض چھپائے ہوئے ہیں۔
​غزوہ احد اور اللہ کی مدد (آیات 121-129):
یہاں سے غزوہ احد کے واقعات کا ذکر شروع ہوتا ہے۔ جب دو گروہ بزدلی دکھانے لگے تو اللہ نے انہیں سنبھالا۔ اللہ نے بدر کی فتح یاد دلائی جہاں تین ہزار فرشتوں سے مدد کی گئی تھی۔ یہ واضح کیا گیا کہ فتح و نصرت صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے، کسی نبی یا انسان کے اختیار میں نہیں۔
​سود کی حرمت اور توبہ (آیات 130-136):
جنگ کے تذکرے کے درمیان سود سے بچنے کا حکم دیا گیا تاکہ معاشرہ پاکیزہ رہے۔ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کی تلقین کی گئی اور اس جنت کی طرف دوڑنے کا کہا گیا جس کی وسعت زمین و آسمان کے برابر ہے، جو ان لوگوں کے لیے ہے جو غصے کو پیتے اور لوگوں کو معاف کرتے ہیں۔
​شکست کے بعد حوصلہ افزائی (آیات 137-150):
احد میں ہونے والے نقصان پر مسلمانوں کو تسلی دی گئی: "تم ہمت نہ ہارو اور غم نہ کرو، تم ہی غالب رہو گے اگر تم مومن ہو"۔ اللہ نے بتایا کہ یہ دن (فتح و شکست) وہ لوگوں کے درمیان بدلتا رہتا ہے تاکہ سچے مومنوں اور منافقوں کی پہچان ہو سکے۔ شہدا کے درجات اور موت کے اٹل ہونے کا ذکر کر کے ثابت قدمی کا سبق دیا گیا۔

12/05/2026

سورہ آلِ عمران (آیات 101 سے 150) کا خلاصہ
یہ حصہ مسلمانوں کی جماعت کو متحد رہنے، امر بالمعروف (نیکی کا حکم دینے) اور غزوہ احد کے اہم اسباق پر مشتمل ہے:
اتحاد اور دعوتِ خیر (آیات 101-110):
اللہ تعالیٰ مومنین کو تقویٰ اختیار کرنے اور اللہ کی رسی (قرآن و دین) کو مضبوطی سے تھامنے کا حکم دیتا ہے تاکہ وہ تفرقے میں نہ پڑیں۔ مسلمانوں کو "بہترین امت" قرار دیا گیا ہے جس کا کام نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا ہے۔ اہل کتاب کی کج روی کا ذکر کر کے مسلمانوں کو خبردار کیا گیا ہے۔
اہلِ کتاب کا موازنہ اور مومن کی پہچان (آیات 111-120):
اللہ فرماتا ہے کہ تمام اہل کتاب ایک جیسے نہیں، ان میں کچھ ایسے بھی ہیں جو راتوں کو اللہ کی آیات پڑھتے اور سجدہ کرتے ہیں۔ مسلمانوں کو مشورہ دیا گیا کہ وہ اپنوں کے سوا کسی کو اپنا رازدار (بطانہ) نہ بنائیں، کیونکہ دشمن تمہارے خلاف بغض چھپائے ہوئے ہیں۔
غزوہ احد اور اللہ کی مدد (آیات 121-129):
یہاں سے غزوہ احد کے واقعات کا ذکر شروع ہوتا ہے۔ جب دو گروہ بزدلی دکھانے لگے تو اللہ نے انہیں سنبھالا۔ اللہ نے بدر کی فتح یاد دلائی جہاں تین ہزار فرشتوں سے مدد کی گئی تھی۔ یہ واضح کیا گیا کہ فتح و نصرت صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے، کسی نبی یا انسان کے اختیار میں نہیں۔
سود کی حرمت اور توبہ (آیات 130-136):
جنگ کے تذکرے کے درمیان سود سے بچنے کا حکم دیا گیا تاکہ معاشرہ پاکیزہ رہے۔ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کی تلقین کی گئی اور اس جنت کی طرف دوڑنے کا کہا گیا جس کی وسعت زمین و آسمان کے برابر ہے، جو ان لوگوں کے لیے ہے جو غصے کو پیتے اور لوگوں کو معاف کرتے ہیں۔
شکست کے بعد حوصلہ افزائی (آیات 137-150):
احد میں ہونے والے نقصان پر مسلمانوں کو تسلی دی گئی: "تم ہمت نہ ہارو اور غم نہ کرو، تم ہی غالب رہو گے اگر تم مومن ہو"۔ اللہ نے بتایا کہ یہ دن (فتح و شکست) وہ لوگوں کے درمیان بدلتا رہتا ہے تاکہ سچے مومنوں اور منافقوں کی پہچان ہو سکے۔ شہدا کے درجات اور موت کے اٹل ہونے کا ذکر کر کے ثابت قدمی کا سبق دیا گیا۔

01/05/2026

سورہ آلِ عمران (آیات 51 سے 100) کا خلاصہ
​اس حصے میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی دعوت، اہل کتاب کے اعتراضات کے جوابات اور دینِ ابراہیمی کی اصل حقیقت بیان کی گئی ہے:
​حضرت عیسیٰؑ کی دعوت اور حواری (آیات 51-59):
حضرت عیسیٰؑ نے اپنی قوم کو پکارا کہ "اللہ ہی میرا اور تمہارا رب ہے، پس اسی کی عبادت کرو۔" جب آپؑ نے محسوس کیا کہ بنی اسرائیل کفر پر تلے ہوئے ہیں تو آپؑ نے پوچھا: "اللہ کی راہ میں میرا مددگار کون ہے؟" تب حواریوں نے لبیک کہا۔ اللہ نے حضرت عیسیٰؑ کو اطمینان دلایا کہ وہ انہیں اپنی طرف اٹھا لے گا۔ اللہ نے حضرت عیسیٰؑ کی مثال حضرت آدمؑ سے دی کہ دونوں کو بغیر باپ کے پیدا کر کے اپنی قدرت کا نشان بنایا۔
​واقعہ مباہلہ (آیات 60-63):
جب نجران کے عیسائیوں نے حق کو ماننے سے انکار کر دیا، تو اللہ نے نبی کریم ﷺ کو حکم دیا کہ انہیں مباہلہ (ایک دوسرے پر جھوٹے ہونے کی صورت میں اللہ کی لعنت بھیجنا) کی دعوت دیں۔ مگر وہ رسول اللہ ﷺ کی حقانیت سے ڈر کر پیچھے ہٹ گئے۔
​کلمہ سوا (برابر کی بات) کی دعوت (آیات 64-71):
اللہ نے اہل کتاب کو ایک ایسی بات کی طرف بلانے کا حکم دیا جو سب میں مشترک ہے: "یہ کہ ہم اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں۔" یہاں یہ واضح کیا گیا کہ حضرت ابراہیمؑ نہ یہودی تھے نہ نصرانی، بلکہ وہ "حنیف" (ایک اللہ کی طرف رخ کرنے والے) مسلم تھے۔
​عہد شکنی اور تحریف (آیات 72-91):
ان آیات میں اہل کتاب کی ان سازشوں کا ذکر ہے جہاں وہ حق کو باطل کے ساتھ ملاتے تھے۔ اللہ نے فرمایا کہ وہ لوگ جو اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کو تھوڑی سی قیمت پر بیچ دیتے ہیں، ان کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں۔
​نیکی کا معیار اور پہلا گھر (آیات 92-100):
اللہ نے فرمایا: "تم ہرگز نیکی کو نہیں پا سکتے جب تک اپنی پسندیدہ چیز اللہ کی راہ میں خرچ نہ کرو۔" اس کے بعد کعبہ کی فضیلت بیان ہوئی کہ یہ تمام جہانوں کے لیے برکت اور ہدایت کا پہلا گھر ہے، جہاں مقامِ ابراہیم جیسی نشانیاں ہیں۔

30/04/2026

With mahboob ali – I just got recognised as one of their top fans! 🎉

Want your school to be the top-listed School/college in Rawalpindi?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Telephone

Address


House 1 Street 1 Kashmir Colony Adyala Road Rawalpindi
Rawalpindi
46000