Noor Imam Mubeen A.S

Noor Imam Mubeen A.S

Share

Noor imam Mubeen AS

07/04/2026
07/04/2026

نور نبی ع اور نور علی ع اپنے اباد و اجداد اور اپنے نسل پاک میں ھمشیہ قائم و دائم ھے اور یہ امامت کا دائمی تصور ھےاحدیث مبارک میں دلائیل
حضرت امام سلطان محمد شاہ صلوات اللہ علیہ السلام نے فرمایا
جماعتو! تم ہمیں چھوٹا مت سمجھنا ہم ال رسول ہیں ہمارے دادا حضرت امیر المومنین مرتضی علی اور دادی خاتون جنت بی بی فاطمۃ الزہرا ہے ہم علی اور نبی دونوں کے نور ہیں ہمارا نور ازل سے ایک ہی نور چلا ایا ہے مولا مرتضی علی علیہ السلام اور ہمارے اباؤ اجداد(آئمہ طاہرین) میں ایک ہی نور تھا اور ہم میں بھی وہی نور ہے نور ازل سے ایک ہی ہے ظاہر میں ہم جامہ پہنتے ہیں اور اتارتے ہیں اور تم کو ھم میں ایک ہی نور دیکھنا چاہے یہ اخر زمانہ ہے اس میں جو ایماندار ھیں ان کو اپنے زمانے کے امام کی قدرت اور کرامات نظر ائے گی لیکن جو ادھور ے دل والے ہیں وہ ظاہری کرامات دیکھیں گے پھر بھی ان کو جھوٹا سمجھیں گے جن لوگوں نے پیغمبر نبی اور امام کی قدرت کو نہیں مانا ایسے لوگوں کی مثال اندھے کی طرح ہے اندھے کو اگر ائینہ اور ٹھیکڑی دے تو ان کے نزدیک دونوں برابر ہیں ہمیں ادھوری دل والے اپنا جیسا سمجھتے ہیں ظاہر میں ہم درویشی اختیار کر بیٹھے ہیں لیکن ہمیں خداوند تعالی کی بارگاہ سے بزرگی ملی ہوئی ہے وجہ یہ ہے ہم پیغمبر کی ال پاک ہیں ہمارے گھر کی تعریفیں اور قدرت جو علم میں واقف کار ہے وہ سمجھیں گے ادھوری دل والوں کو ہم پر بالکل بھروسہ نہ ہوگا جو ایسے ہیں وہ ہمیں کس طرح پیارے ہو سکتے ہیں وہ اپنے اپ کو نقصان پہنچائیں گے ہمیں کچھ بھی نہیں ہوگا
فرمان نمبر1 تاریخ یکم ستمبر 1885
مقام بمبئ
کلام امام مبین اسماعیلی کتاب
وروى ابن المغازلي بإسناده عن سلمان، قال: «سمعت حبيبي محمّداً يقول: كنت أنا وعلي نوراً بين يدي الله عزّوجلّ، يسبح الله ذلك النور ويقدسه قبل أن يخلق الله آدم بألف عام، فلما خلق الله آدم ركّب ذلك النور في صلبه فلم يزل في شيء واحد حتى افترقنا في صلب عبد المطلب، ففيّ النبوة وفي علي الخلافة»(5).
اللہ تعالی نے ھمارا نور حضرت آدم علیہ السلام سے 14ھزار سال پہلے خلق فرمایا..
.حضرت آدم علیہ السلام کی پشت میں نور محمدی رکھا گیا وہ چلتے چلتے حضرت عبدالمطلب علیہ السلام کی پشت میں آیا
پھر اللہ پاک نے اس نور کے دو حصے کیے ایک حصہ حضرت عبداللہ علیہ السلام کی پشت میں رکھا دوسرے کو حضرت ابوطالب علیہ السلام کی پشت میں رکھا
حضرت عبداللہ علیہ السلام سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلیہ وسلم کی ولادت ہوئی اور جناب ابوطالب علیہ السلام کی پشت میں جو نور تھا اس سے مولا علی علیہ السلام کی ولادت ھوئی۔پس علی علیہ السلام مجھے سے ھے اور میں صلعم اس سے ھوں
فرائد السّمطين، ج1، ص40.
(كفاية الطّالب، ص314.
المصدر ص315، ورواه الخوارزمي في المناقب، ص88.
مناقب عليّ بن أبي طالب ص88، الحديث130.
الفضائل (المناقب) ج1، الحديث 240، مخطوط، ورواه سبط ابن الجوزي في تذكرة الخواص ص46.
جناب جابر -نے پیغمبر اکرم (ص)سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا: بتحقیق خدا نے مجھے اور علی - کو حضرت آدم -کی خلقت سے دوہزار سال پہلے دو نور کی شکل میں عرش کے سامنے خلق کیا اور ہم خدا کی تسبیح و تقدیس کرتے تھے ۔جب خدا نے حضرت آدم -کو خلق فرمایا تو ہمارے نورکو ان کے صلب مبارک میں قرار دے دیا پھر ان کے صلب سے پاک و پاکیزہ اصلاب کے ذریعہ منتقل کرکے حضرت ابراہیم - کے صلب میں ٹھہرایا،پھر ان کے صلب اور پشت سے نکال کر جناب عبد المطّلب- کے صلب میں منتقل کیا پھر جناب عبد المطلب -کے صلب سے یہ نور اس طرح تقسیم ہواکہ دو حصے حضرت عبد اللہ بن عبد المطّلب- کے صلب میں قرار دیا گیاجبکہ ایک حصہ جناب ابو طالب بن عبد المطلب کے صلب میں قرار دیاگیا،پھر اس نور کے دونوں حصے فاطمہ = کے وجود مبارک میں جمع ہوئے لہٰذا حسن- و حسین- اللہ تعالیٰ کے دو نور ہیں۔اس روایت پر غور کیا جانا چاہئے کیونکہ گذشتہ روایت میں حضرت پیغمبر اکرم (ص)اور حضرت علی - کے نور کا کائنات کی خلقت سے پہلے موجود ہونے کو بتایا گیا ۔ اس روایت میں حضرت آدم - کی خلقت سے پہلے حضرت پیغمبر (ص) اور حضرت علی - کا نورخلق ہونے کی خبر ...بحوالہ کتاب اثنا عشری
.بحار الانوارج ١٥ ص٩۔
- عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ وَ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ عَنْ سَهْلِ بْنِ زِيَادٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ شَمُّونٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَصَمِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ صَالِحِ بْنِ سَهْلٍ الْهَمْدَانِيِّ قَالَ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ ع‏ فِي قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى- اللَّهُ نُورُ السَّماواتِ وَ الْأَرْضِ‏ مَثَلُ نُورِهِ‏ كَمِشْكاةٍ فَاطِمَةُ ع‏ فِيها مِصْباحٌ‏ الْحَسَنُ- الْمِصْباحُ فِي زُجاجَةٍ الْحُسَيْنُ- الزُّجاجَةُ كَأَنَّها كَوْكَبٌ دُرِّيٌ‏ فَاطِمَةُ كَوْكَبٌ دُرِّيٌّ بَيْنَ نِسَاءِ أَهْلِ الدُّنْيَا- يُوقَدُ مِنْ شَجَرَةٍ مُبارَكَةٍ إِبْرَاهِيمُ ع- زَيْتُونَةٍ لا شَرْقِيَّةٍ وَ لا غَرْبِيَّةٍ لَا يَهُودِيَّةٍ وَ لَا نَصْرَانِيَّةٍ- يَكادُ زَيْتُها يُضِي‏ءُ يَكَادُ الْعِلْمُ يَنْفَجِرُ بِهَا- وَ لَوْ لَمْ تَمْسَسْهُ نارٌ نُورٌ عَلى‏ نُورٍ إِمَامٌ مِنْهَا بَعْدَ إِمَامٍ- يَهْدِي اللَّهُ لِنُورِهِ مَنْ يَشاءُ يَهْدِي اللَّهُ لِلْأَئِمَّةِ مَنْ يَشَاءُ- وَ يَضْرِبُ اللَّهُ الْأَمْثالَ‏ لِلنَّاسِ‏ قُلْتُ‏ أَوْ كَظُلُماتٍ‏ قَالَ الْأَوَّلُ وَ صَاحِبُهُ- يَغْشاهُ‏ مَوْجٌ‏ الثَّالِثُ- مِنْ فَوْقِهِ مَوْجٌ‏ ظُلُمَاتٌ الثَّانِي- بَعْضُها فَوْقَ بَعْضٍ‏ مُعَاوِيَةُ لَعَنَهُ اللَّهُ‏ وَ فِتَنُ بَنِي أُمَيَّةَ- إِذا أَخْرَجَ يَدَهُ‏ الْمُؤْمِنُ فِي ظُلْمَةِ فِتْنَتِهِمْ- لَمْ يَكَدْ يَراها وَ مَنْ لَمْ يَجْعَلِ اللَّهُ لَهُ نُوراً إِمَاماً مِنْ وُلْدِ فَاطِمَةَ ع- فَما لَهُ مِنْ نُورٍ إِمَامٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَ قَالَ فِي قَوْلِهِ- يَسْعى‏ نُورُهُمْ بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَ بِأَيْمانِهِمْ‏ أَئِمَّةُ الْمُؤْمِنِينَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ تَسْعَى بَيْنَ يَدَيِ الْمُؤْمِنِينَ وَ بِأَيْمَانِهِمْ حَتَّى يُنْزِلُوهُمْ مَنَازِلَ أَهْلِ الْجَنَّةِ.

5۔ امام جعفر صادق (ع) نے آیہ اللہ نور السمٰوات والارض مثل نور مشکوٰۃ میں، مشکوٰۃ (چراغدان ) سے مراد فاطمہ ہیں اور فیھا مصباح (اس میں چراغ ) میں مصباح سے مراد حسن (ع) ہیں اور وہ چراغ شیشہ میں ہیں اور شیشہ سے مراد حسین (ع) ہیں اورفاطمہ زنان عالم کے درمیان روشن ستارہ ہیں اور وہ چراغ روشن ہے شجر مبارک ابراہیم سے تیل اس چراغ کا زیتون ہے جو نہ شرقی ہے نہ غربی ہے یعنی نہ یہودی ہے نہ نصرانی اس کا روغن روشن ہے یعنی قریب ہے کہ علم اس سے پھوٹ نکلے اور اگر چہ آگ مس نہ کرے تب بھی نور علی نور ہے یعنی امام کے بعد امام ، خدا اس نور سے جس کو چاہتا ہے ہدایت کرتا ہے یعنی آئمہ کے ذریعہ سے اور اللہ ایسی ہی مثالیں بیان کرتا ہے میں نے پوچھا اور ظلمات سے کیا مراد ہے فرمایا اول اس کا صاحب جس کو ڈھانپ لیا ۔ ثالث نے تاریک کی موجیں ایک دوسرے پر چڑھی ہوئی ہیں اور وہ معاویہ اس کے زمانے کے قصے ہیں اور اس میں لم یجعل اللہ لہ نورا سے یہ مراد جس کو اولاد فاطمہ زہرا(س) کے نور سے ہدایت نہ ہوتی اس کے لئے روز قیامت نور نہ ہوگا اور آیت میں جو یہ ہے ان کا نور ان کے سامنے اور داہنی طرف دوڑتا ہوگا تو اس سے مراد آئمہ مومنین ہیں جن کا نور مومنین کے سامنے اور داہنی طرف دوڑے گا اور وہ ان کو منازل جنت کی طرف لی جائیگا
اصول کافی
بَابُ أَنَّ الْأَئِمَّةَ ع نُورُ اللَّهِ عَزَّ وَ جَلَ‏
1- الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ مُعَلَّى بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ مِرْدَاسٍ قَالَ حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ يَحْيَى وَ الْحَسَنُ بْنُ مَحْبُوبٍ عَنْ أَبِي أَيُّوبَ عَنْ أَبِي خَالِدٍ الْكَابُلِيِّ قَالَ: سَأَلْتُ أَبَا جَعْفَرٍ ع عَنْ قَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَ جَلَّ- فَآمِنُوا بِاللَّهِ وَ رَسُولِهِ وَ النُّورِ الَّذِي أَنْزَلْنا فَقَالَ يَا أَبَا خَالِدٍ النُّورُ وَ اللَّهِ- الْأَئِمَّةُ مِنْ آلِ مُحَمَّدٍ ص إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَ هُمْ وَ اللَّهِ نُورُ اللَّهِ الَّذِي أَنْزَلَ وَ هُمْ وَ اللَّهِ نُورُ اللَّهِ فِي السَّمَاوَاتِ وَ فِي الْأَرْضِ وَ اللَّهِ يَا أَبَا خَالِدٍ لَنُورُ الْإِمَامِ فِي قُلُوبِ الْمُؤْمِنِينَ أَنْوَرُ مِنَ الشَّمْسِ الْمُضِيئَةِ بِالنَّهَارِ وَ هُمْ وَ اللَّهِ يُنَوِّرُونَ قُلُوبَ الْمُؤْمِنِينَ وَ يَحْجُبُ اللَّهُ عَزَّ وَ جَلَّ نُورَهُمْ عَمَّنْ يَشَاءُ فَتُظْلِمُ قُلُوبُهُمْ وَ اللَّهِ يَا أَبَا خَالِدٍ لَا يُحِبُّنَا عَبْدٌ وَ يَتَوَلَّانَا حَتَّى يُطَهِّرَ اللَّهُ قَلْبَهُ وَ لَا يُطَهِّرُ اللَّهُ قَلْبَ عَبْدٍ حَتَّى يُسَلِّمَ لَنَا وَ يَكُونَ سِلْماً لَنَا فَإِذَا كَانَ سِلْماً لَنَا سَلَّمَهُ اللَّهُ مِنْ شَدِيدِ الْحِسَابِ وَ آمَنَهُ مِنْ فَزَعِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ الْأَكْبَرِ.
1۔ ابوخالد سے مروی ہے کہ میں نے امام محمدباقر (ع) سے آیہ فآمنو باللہ و رسولہ والنور الذی انزلنا کے متعلق پوچھا ۔ فرمایا اے ابو خالد نور سے مراد نور آئمہ (ع) ہیں ۔ آل محمد سے قیامت تک ہونے والے اور وہی وہ نور ہیں جو نازل کیا گیا اور وہی اللہ کے نور ہیں زمین و آسمان میں واللہ اے ابو خالد نور امام قلوب مومنین میں سے ہے وہ نصف النہار کے سورج سے زیادہ روشن ہوتا ہے اور وہ (آئمہ) قلوب مومنین کو منور کر دیتے ہیں اور اللہ ان کے نور کو جس سے چاہتا ہے چھپاتا ہے ان کے قلوب تاریک ہو جاتے ہیں واللہ ۔ اے ابوخالدہم سے نہیں محبت کرتا کوئی بندہ اور نہیں دوست رکھتا ہم کو ، مگر یہ کہ اللہ اس کے قلوب کو پاک کرتا ہے اور پاک نہیں کرتا ، کسی کے دل کو جب تک وہ ہمیں زمانے اور ہم سے صلح نہ کرے پس جب ہم سے صلح کرتا ہے تو خدا اس کو سخت عذاب سے اور روز قیامت کے خوف عظیم سے محفوظ رکھتا ہے ۔
اصول کافی
اس احدیث مبارکہ اور آئمہ طاہرین علیہم السلام اجمعین کی فرامین سے پتہ چلا کہ اسماعیلی عقیدے رسول اللہ اور مولا علی کا نور ان آل اور اولاد کے ھر زمانے امام میں حاضر موجود ھے اس لیے نبی اور علی کا نور ھر زمانے کے امام کی صورت ۔لوگوں کے اعمال پر گواہ اور رحمت ھے اسلیے قرآن کریم میں رسول اللہ کو رحمت العالمین فرمایا گیا ھے
اللھم صلی علی محمد و آلہ محمد

04/04/2026

حدیث مبارک مولا علی علیہ السلام میرے ساتھ وہی نسبت رکھتے ہیں جو ہارون ع کو موسی ع کے ساتھ تھا
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا حَاتِمُ

بْنُ إِسْمَاعِيلَ عَنْ بُكَيْرِ بْنِ مِسْمَارٍ عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَهُ وَخَلَّفَهُ فِي بَعْضِ مَغَازِيهِ فَقَالَ عَلِيٌّ أَتُخَلِّفُنِي مَعَ النِّسَاءِ وَالصِّبْيَانِ قَالَ يَا عَلِيُّ أَمَا تَرْضَى أَنْ تَكُونَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى إِلَّا أَنَّهُ لَا نُبُوَّةَ بَعْدِي وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ يَوْمَ خَيْبَرَ لَأُعْطِيَنَّ الرَّايَةَ رَجُلًا يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَيُحِبُّهُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ فَتَطَاوَلْنَا لَهَا فَقَالَ ادْعُوا لِي عَلِيًّا فَأُتِيَ بِهِ أَرْمَدَ فَبَصَقَ فِي عَيْنِهِ وَدَفَعَ الرَّايَةَ إِلَيْهِ فَفَتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِ وَلَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ نَدْعُ أَبْنَاءَنَا وَأَبْنَاءَكُمْ دَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلِيًّا وَفَاطِمَةَ وَحَسَنًا وَحُسَيْنًا فَقَالَ اللَّهُمَّ هَؤُلَاءِ أَهْلِي

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے کسی غزوہ میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کو اپنے پیچھے اپنا نائب بنا کر چھوڑ دیا ، حضرت علی رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ آپ مجھے عورتوں اور بچوں کے ساتھ چھوڑے جا رہے ہیں ؟ نبی ﷺ نے فرمایا علی ! کیا تم اس بات پر خوش نہیں ہو کہ تمہیں میرے ساتھ وہی نسبت ہو جو حضرت ہارون علیہ السلام کو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ تھی ؟ البتہ اتنی بات ضرور ہے کہ میرے بعد نبوت کا سلسلہ نہیں ہے ۔ نیز میں نے غزوہ خیبر کے موقع پر نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا کہ کل میں یہ جھنڈا اس شخص کو دوں گا جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہو گا اور خود اللہ اور اس کے رسول کو محبوب ہو گا ، ہم نے اس سعادت کے لئے اپنے آپ کو نمایاں کرنے کی کوشش کی ، لیکن لسان نبوت سے ارشاد ہوا علی کو میرے پاس بلا کر لاؤ ، جب انہیں بلا کر لایا گیا تو معلوم ہوا کہ انہیں آشوب چشم کا عارضہ لاحق ہے ، نبی ﷺ نے ان کی آنکھوں میں اپنا لعاب دہن لگا دیا اور جھنڈا ان کے حوالے کر دیا ، اللہ نے ان کے ہاتھ پر مسلمانوں کو فتح عطاء فرمائی ۔ اور جب یہ آیت نازل ہوئی کہ ہم اپنے بیٹوں کو بلاتے ہیں اور تم اپنے بیٹوں کو بلاؤ ، تو نبی ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ ، حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا ، حضرت حسن اور حضرت حسین رضی اللہ عنہما کو بلایا اور فرمایا اے اللہ ! یہ میرے اہل خانہ ہیں ۔

مسند احمد #1608
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ
Status: صحیح
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ - وَاللَّفْظُ لِأَبِي بَكْرٍ - قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، عَنْ زَكَرِيَّاءَ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ شَيْبَةَ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ، قَالَتْ: قَالَتْ عَائِشَةُ: خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَدَاةً وَعَلَيْهِ مِرْطٌ مُرَحَّلٌ، مِنْ شَعْرٍ أَسْوَدَ، فَجَاءَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ فَأَدْخَلَهُ، ثُمَّ جَاءَ الْحُسَيْنُ فَدَخَلَ مَعَهُ، ثُمَّ جَاءَتْ فَاطِمَةُ فَأَدْخَلَهَا، ثُمَّ جَاءَ عَلِيٌّ فَأَدْخَلَهُ، ثُمَّ قَالَ: {إِنَّمَا يُرِيدُ اللهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا} [الأحزاب: 33]

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ نبی کریم ﷺ صبح کے وقت نکلے ، آپ کے جسد اطہر پر کجاووں کے نقوش والی کالی اون کی ایک موٹی چادر تھی ۔ حضرت حسن رضی اللہ عنہ آئے تو آپ نے انھیں چادر کے اندر لے لیا ، پھر حسین رضی اللہ عنہ آئے تو وہ بھی اندر داخل ہو گئے ، پھر فاطمہ رضی اللہ عنہا آئیں تو انھیں بھی اندر لے لیا ، پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ آئے تو انھیں بھی اندر لے لیا ، پھر فرمایا ( یہ آیت پڑھی : ) اللہ چاہتا ہے کہ ( ہر قسم کی ) ناشایان بات کو تم سے دور رکھے ، اے گھر والو ! اور تمھیں اچھی طرح سے پاک کر دے ۔‘‘

صحیح مسلم #6261
کتاب: صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے فضائل ومناقب
Status: صحیح
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ الْأَصْبَهَانِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، رَبِيبِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا سورة الأحزاب آية 33 فِي بَيْتِ أُمِّ سَلَمَةَ، ‏‏‏‏‏‏فَدَعَا فَاطِمَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَحَسَنًا، ‏‏‏‏‏‏وَحُسَيْنًا فَجَلَّلَهُمْ بِكِسَاءٍ وَعَلِيٌّ خَلْفَ ظَهْرِهِ فَجَلَّلَهُ بِكِسَاءٍ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قَالَ:‏‏‏‏ اللَّهُمَّ هَؤُلَاءِ أَهْلُ بَيْتِي، ‏‏‏‏‏‏فَأَذْهِبْ عَنْهُمُ الرِّجْسَ وَطَهِّرْهُمْ تَطْهِيرًا ، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ:‏‏‏‏ وَأَنَا مَعَهُمْ يَا نَبِيَّ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَنْتِ عَلَى مَكَانِكِ وَأَنْتِ عَلَى خَيْرٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ عَطَاءٍ عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ.

جب آیت «إنما يريد الله ليذهب عنكم الرجس أهل البيت ويطهركم تطهيرا» ”اللہ تعالیٰ یہی چاہتا ہے کہ اے نبی کی گھر والو! تم سے وہ ( ہر قسم کی ) گندگی کو دور کر دے اور تمہیں خوب پاک کر دے“ ( الاحزاب: ۳۳ ) ، ام سلمہ رضی الله عنہا کے گھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئی تو آپ نے فاطمہ و حسن حسین ( رضی الله عنہم ) کو بلایا اور انہیں ایک چادر کے نیچے ڈھانپ دیا، علی رضی الله عنہ آپ کی پیٹھ کے پیچھے تھے آپ نے انہیں بھی چادر کے نیچے کر لیا، پھر فرمایا: ”اے اللہ یہ ہیں میرے اہل بیت، میرے گھر والے، ان سے ناپاکی دور کر دے اور انہیں ہر طرح کی آلائشوں سے پوری طرح پاک و صاف کر دے“، ام سلمہ رضی الله عنہا کہتی ہیں: اور میں بھی انہیں کے ساتھ ہوں، اے اللہ کے رسول؟ آپ نے فرمایا: ”تم اپنی جگہ ہی ٹھیک ہو، تمہیں خیر ہی کا مقام و درجہ حاصل ہے“ ۱؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے جسے عطاء عمر بن ابی سلمہ سے روایت کرتے ہیں غریب ہے۔

سنن ترمذی #3205
کتاب: تفسیر قرآن کریم
Status: صحیح

22/03/2026

4- أَحْمَدُ بْنُ مِهْرَانَ عَنْ عَبْدِ الْعَظِيمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْحَسَنِيِّ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَسْبَاطٍ وَ الْحَسَنِ بْنِ مَحْبُوبٍ عَنْ أَبِي أَيُّوبَ عَنْ أَبِي خَالِدٍ الْكَابُلِيِّ قَالَ: سَأَلْتُ أَبَا جَعْفَرٍ ع عَنْ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى- فَآمِنُوا بِاللَّهِ وَ رَسُولِهِ وَ النُّورِ الَّذِي أَنْزَلْنا فَقَالَ يَا أَبَا خَالِدٍ النُّورُ وَ اللَّهِ الْأَئِمَّةُ ع يَا أَبَا خَالِدٍ لَنُورُ الْإِمَامِ فِي قُلُوبِ الْمُؤْمِنِينَ أَنْوَرُ مِنَ الشَّمْسِ الْمُضِيئَةِ بِالنَّهَارِ وَ هُمُ الَّذِينَ يُنَوِّرُونَ قُلُوبَ الْمُؤْمِنِينَ وَ يَحْجُبُ اللَّهُ نُورَهُمْ عَمَّنْ يَشَاءُ فَتُظْلِمُ قُلُوبُهُمْ وَ يَغْشَاهُمْ بِهَا.

4۔ ابو خالد سے مروی ہے کہ میں نے امام جعفر صادق (ع) سے اس آیت کے متعلق سوال کیا ایمان لاؤ اللہ پراور اس کے رسول پر ، اتباع کرو اس نور کا جو ہم نے نازل کیا ہے فرمایا، ابوخالد واللہ نور سے مراد آئمہ علہیم السلام ہیں اے ابو خالدا نور امام ہے قلوب مومنین نور ہیں اور دن میں چمکنے والے سورج سے زیادہ روشن ہیں وہ آئمہ (ع) وہ ہیں جو قلوب مومنین کو روشن کرتے ہیں اور اس روک دیتا یہے اللہ جس سے چاہتا ہے پس ان کے پاس قلوب تاریک ہو جاتے ہیں اور ان پر پردے پڑجاتے ہیں ۔
دعائم الاسلام
اصول کافی

22/03/2026

حدیث مبارک نورسےمراد آئمہ ال محمد ھے
- أَحْمَدُ بْنُ مِهْرَانَ عَنْ عَبْدِ الْعَظِيمِ
بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْحَسَنِيِّ عَنْ عَلِيّ أَسْبَاطٍ وَ الْحَسَنِ بْنِ مَحْبُوبٍ عَنْ أَبِي أَيُّوبَ عَنْ أَبِي خَالِدٍ الْكَابُلِيِّ قَالَ: سَأَلْتُ أَبَا جَعْفَرٍ ع عَنْ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى- فَآمِنُوا بِاللَّهِ وَ رَسُولِهِ وَ النُّورِ الَّذِي أَنْزَلْنا فَقَالَ يَا أَبَا خَالِدٍ النُّورُ وَ اللَّهِ الْأَئِمَّةُ ع يَا أَبَا خَالِدٍ لَنُورُ الْإِمَامِ فِي قُلُوبِ الْمُؤْمِنِينَ أَنْوَرُ مِنَ الشَّمْسِ الْمُضِيئَةِ بِالنَّهَارِ وَ هُمُ الَّذِينَ يُنَوِّرُونَ قُلُوبَ الْمُؤْمِنِينَ وَ يَحْجُبُ اللَّهُ نُورَهُمْ عَمَّنْ يَشَاءُ فَتُظْلِمُ
قُلُوبُهُمْ وَ يَغْشَاهُمْ بِهَ

۔ ابو خالد سے مروی ہے کہ میں نے

امام جعفر صادق (ع) سے آیت کے متعلق سوال کیا ایمان لاؤ اللہ پراور اس کے رسول پر ، اتباع کرو اس نور کا جو ہم نے نازل کیا ہے فرمایا، ابوخالد واللہ نور سے مراد آئمہ علہیم السلام ہیں اے ابو خالدا نور امام ہے قلوب مومنین نور ہیں اور دن میں چمکنے والے سورج سے زیادہ روشن ہیں وہ آئمہ (ع) وہ ہیں جو قلوب مومنین کو روشن کرتے ہیں اور اس روک دیتا یہے اللہ جس سے چاہتا ہے پس ان کے پاس قلوب تاریک ہو جاتے ہیں اور ان پر پردے پڑجاتے ہیں ۔
دعائم لاسلام
اصول کافی

18/03/2026

حدیث مبارک آللہ تعالیٰ جس سے چاہتا ھےاپنے نور کو چھپاتا ھے اس کے قلوب تاریک ھوجاتا ھے
بَابُ أَنَّ الْأَئِمَّةَ ع نُورُ اللَّهِ عَزَّ وَ جَلَ‏ الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ مُعَلَّى بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ مِرْدَاسٍ قَالَ حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ يَحْيَى وَ الْحَسَنُ بْنُ مَحْبُوبٍ عَنْ أَبِي أَيُّوبَ عَنْ أَبِي خَالِدٍ الْكَابُلِيِّ قَالَ: سَأَلْتُ أَبَا جَعْفَرٍ ع عَنْ قَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَ جَلَّ- فَآمِنُوا بِاللَّهِ وَ رَسُولِهِ وَ النُّورِ الَّذِي أَنْزَلْنا فَقَالَ يَا أَبَا خَالِدٍ النُّورُ وَ اللَّهِ- الْأَئِمَّةُ مِنْ آلِ مُحَمَّدٍ ص إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَ هُمْ وَ اللَّهِ نُورُ اللَّهِ الَّذِي أَنْزَلَ وَ هُمْ وَ اللَّهِ نُورُ اللَّهِ فِي السَّمَاوَاتِ وَ فِي الْأَرْضِ وَ اللَّهِ يَا أَبَا خَالِدٍ لَنُورُ الْإِمَامِ فِي قُلُوبِ الْمُؤْمِنِينَ أَنْوَرُ مِنَ الشَّمْسِ الْمُضِيئَةِ بِالنَّهَارِ وَ هُمْ وَ اللَّهِ يُنَوِّرُونَ قُلُوبَ الْمُؤْمِنِينَ وَ يَحْجُبُ اللَّهُ عَزَّ وَ جَلَّ نُورَهُمْ عَمَّنْ يَشَاءُ فَتُظْلِمُ قُلُوبُهُمْ وَ اللَّهِ يَا أَبَا خَالِدٍ لَا يُحِبُّنَا عَبْدٌ وَ يَتَوَلَّانَا حَتَّى يُطَهِّرَ اللَّهُ قَلْبَهُ وَ لَا يُطَهِّرُ اللَّهُ قَلْبَ عَبْدٍ حَتَّى يُسَلِّمَ لَنَا وَ يَكُونَ سِلْماً لَنَا فَإِذَا كَانَ سِلْماً لَنَا سَلَّمَهُ اللَّهُ مِنْ شَدِيدِ الْحِسَابِ وَ آمَنَهُ مِنْ فَزَعِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ الْأَكْبَرِ
ابوخالد سے مروی ہے کہ میں نے امام محمدباقر (ع) سے آیہ فآمنو باللہ و رسولہ والنور الذی انزلنا کے متعلق پوچھا ۔ فرمایا اے ابو خالد نور سے مراد نور آئمہ (ع) ہیں ۔ آل محمد سے قیامت تک ہونے والے اور وہی وہ نور ہیں جو نازل کیا گیا اور وہی اللہ کے نور ہیں زمین و آسمان میں واللہ اے ابو خالد نور امام قلوب مومنین میں سے ہے وہ نصف النہار کے سورج سے زیادہ روشن ہوتا ہے اور وہ (آئمہ) قلوب مومنین کو منور کر دیتے ہیں اور اللہ ان کے نور کو جس سے چاہتا ہے چھپاتا ہے ان کے قلوب تاریک ہو جاتے ہیں واللہ ۔ اے ابوخالدہم سے نہیں محبت کرتا کوئی بندہ اور نہیں دوست رکھتا ہم کو ، مگر یہ کہ اللہ اس کے قلوب کو پاک کرتا ہے اور پاک نہیں کرتا ، کسی کے دل کو جب تک وہ ہمیں زمانے اور ہم سے صلح نہ کرے پس جب ہم سے صلح کرتا ہے تو خدا اس کو سخت عذاب سے اور روز قیامت کے خوف عظیم سے محفوظ رکھتا ہے ۔
--------------
اصول کافی

07/03/2026

قرآنی آیت اور احدیث مبارک داعی کے بارے میں
قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ ضَرَبَ مَثَلًا صِرَاطًا مُسْتَقِيمًا عَلَى كَنَفَيْ الصِّرَاطِ سُورَانِ فِيهِمَا أَبْوَابٌ مُفَتَّحَةٌ وَعَلَى الْأَبْوَابِ سُتُورٌ وَدَاعٍ يَدْعُو عَلَى رَأْسِ الصِّرَاطِ وَدَاعٍ يَدْعُو مِنْ فَوْقِهِ وَاللَّهُ يَدْعُو إِلَى دَارِ السَّلَامِ وَيَهْدِي مَنْ يَشَاءُ إِلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ فَالْأَبْوَابُ الَّتِي عَلَى كَنَفَيْ الصِّرَاطِ حُدُودُ اللَّهِ لَا يَقَعُ أَحَدٌ فِي حُدُودِ اللَّهِ حَتَّى يُكْشَفَ سِتْرُ اللَّهِ وَالَّذِي يَدْعُو مِنْ فَوْقِهِ وَاعِظُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ
حضرت نواس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا اللہ نے ایک مثال بیان فرمائی ہے کہ ایک صراط مستقیم ہے جس کی دونوں جانب دیواریں ہیں ، ان دیواروں میں کھلے ہوئے دروازے ہیں ، دروازوں پر پردے لٹک رہے ہیں اور راستے کے مرکزی دروازے پر ایک داعی کھڑا کہہ رہا ہے اور ایک داعی اس کے اوپر سے پکار رہا ہے ، اللہ سلامتی والے گھر کی دعوت دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے صراط مستقیم کی طرف ہدایت دیتا ہے ۔

مسند احمد #17786
Status: صحیح

داعی کا لفظ درج دع وکے مادہ سے ہے ، اس کے اصطلاحی معنی ہیں: دینِ حق کی طرف دعوت کرنے والا ، جیسا کہ آیہ سراج میں اس کا ذکر ہوا کہ داعی دراصل حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ہیں تاہم اس کا اطلاق آپ کے نمائندوں یہ بھی ہو جاتا ہے، داعی کو جناح کہاجاتا ہے، کیونکہ یہ عالم شخصی میں قوت جبریلیہ ہے ، جس میں پرواز کی طاقت ہے یا واضع طور پر یوں کہا جائے کہ داعی کی روح عالم شخص میں خیال یعنی جبرائیل ہے، داعی دو قسم کے ہوا کرتے ہیں : داعی محدود ، اور داعی مطلق اسی طرح ہر جزیرے میں تیس دعاۃ دعوت کا فریضہ انجام دیتے ہیں، اور زمین کے بارہ جزیروں میں 360 داعی کار دعوت کے لئے مقرر ہیں ۔

Surat No 16 : سورة النحل - Ayat No 125

اُدۡعُ اِلٰی سَبِیۡلِ رَبِّکَ بِالۡحِکۡمَۃِ وَ الۡمَوۡعِظَۃِ الۡحَسَنَۃِ وَ جَادِلۡہُمۡ بِالَّتِیۡ ہِیَ اَحۡسَنُ ؕ اِنَّ رَبَّکَ ہُوَ اَعۡلَمُ بِمَنۡ ضَلَّ عَنۡ سَبِیۡلِہٖ وَ ہُوَ اَعۡلَمُ بِالۡمُہۡتَدِیۡنَ ﴿۱۲۵﴾
اپنے رب کی راہ کی طرف لوگوں کو حکمت اور بہترین نصیحت کے ساتھ بلائیے اور ان سے بہترین طریقے سے گفتگو کیجئے یقیناً آپ کا رب اپنی راہ سے بہکنے والوں کو بھی بخوبی جانتا ہے اور وہ راہ یافتہ لوگوں سے پورا واقف ہے ۔

وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّہ
صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ضَرَبَ اللَّهُ مَثَلًا صِرَاطًا مُسْتَقِيمًا وَعَنْ جَنَبَتَيِ الصِّرَاطِ سُورَانِ فِيهِمَا أَبْوَابٌ مُفَتَّحَةٌ وَعَلَى الْأَبْوَابِ سُتُورٌ مُرَخَاةٌ وَعِنْدَ رَأْسِ الصِّرَاطِ دَاعٍ يَقُولُ: اسْتَقِيمُوا عَلَى الصِّرَاطِ وَلَا تَعْوَجُّوا وَفَوْقَ ذَلِكَ دَاعٍ يَدْعُو كُلَّمَا هَمَّ عَبْدٌ أَنْ يَفْتَحَ شَيْئًا مِنْ تِلْكَ الْأَبْوَابِ قَالَ: وَيْحَكَ لَا تَفْتَحْهُ فَإِنَّكَ إِنْ تَفْتَحْهُ تَلِجْهُ . ثُمَّ فَسَّرَهُ فَأَخْبَرَ: أَنَّ الصِّرَاطَ هُوَ الْإِسْلَامُ وَأَنَّ الْأَبْوَابَ الْمُفَتَّحَةَ مَحَارِمُ اللَّهِ وَأَنَّ السُّتُورَ الْمُرَخَاةَ حُدُودُ اللَّهِ وَأَنَّ الدَّاعِيَ عَلَى رَأْسِ الصِّرَاطِ هُوَ الْقُرْآنُ وَأَنَّ الدَّاعِيَ مِنْ فَوْقِهِ وَاعِظُ اللَّهِ فِي قَلْبِ كُلِّ مُؤمن)
رَوَاهُ رزين وَأحمد

حضرت ابن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اللہ نے صراط مستقیم کی مثال بیان فرمائی ، کہ راستے کے دونوں طرف دو دیواریں ہیں ، ان میں دروازے کھلے ہوئے ہیں اور دروازوں پر پردے لٹک رہے ہیں ، راستے کے سرے پر ایک داعی ہے ، وہ کہہ رہا ہے ، سیدھے چلتے جاؤ ، ٹیڑھے مت ہونا ، اور اس کے اوپر ایک اور داعی ہے ، جب کوئی شخص ان دروازوں میں سے کسی چیز کو کھولنے کا ارادہ کرتا ہے تو وہ کہتا ہے : تم پر افسوس ہے ، اسے مت کھولو ، کیونکہ اگر تم نے اسے کھول دیا تو تم اس میں داخل ہو جاؤ گے ۔‘‘ پھر آپ ﷺ نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا :’’ راستہ اسلام ہے ، کھلے ہوئے دروازے ، اللہ کی حرام کردہ اشیاء ہیں ، لٹکے ہوئے پردے ، اللہ کی حدود ہیں ، راستے کے سرے پر داعی : قرآن ہے ، اور اس کے اوپر جو داعی ہے ، وہ ہر مومن کے دل میں اللہ کا خیال ہے ۔‘‘

مشکوٰة المصابیح #191
کتاب ایمان کا بیان

Status: صحیح

07/03/2026

Happy birthday our beloved Ali Muhammad AS noorani family

25/02/2026

حدیث ھر زمانے کا امام علیہ السلام کی معرفت بندوں پر خدا کی حجت ھے
بَابُ أَنَّ الْحُجَّةَ لَا تَقُومُ لِلَّهِ عَلَى خَلْقِهِ إِلَّا بِإِمَامٍ‏
1- مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الْعَطَّارُ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى عَنِ ابْنِ أَبِي عُمَيْرٍ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مَحْبُوبٍ عَنْ دَاوُدَ الرَّقِّيِّ عَنِ الْعَبْدِ الصَّالِحِ ع قَالَ: إِنَّ الْحُجَّةَ لَا تَقُومُ لِلَّهِ عَلَى خَلْقِهِ إِلَّا بِإِمَامٍ حَتَّى يُعْرَفَ‏ .
فرمایا مام باقر (ع) نے کہ بغیر امام کی معرفت کرائے، خدا کی حجت بندوں پر تمام نہیں ہوتی ۔
اصول کافی

22/02/2026

نور نبی ع اور نور علی ع اپنے اباد و اجداد اور اپنے نسل پاک میں ھمشیہ قائم و دائم ھے اور یہ امامت کا دائمی تصور ھےاحدیث مبارک اور فرامین آئمہ برحق ع میں دلائیل
حضرت امام سلطان محمد شاہ صلوات اللہ علیہ السلام نے فرمایا
جماعتو! تم ہمیں چھوٹا مت سمجھنا ہم ال رسول ہیں ہمارے دادا حضرت امیر المومنین مرتضی علی اور دادی خاتون جنت بی بی فاطمۃ الزہرا ہے ہم علی اور نبی دونوں کے نور ہیں ہمارا نور ازل سے ایک ہی نور چلا ایا ہے مولا مرتضی علی علیہ السلام اور ہمارے اباؤ اجداد(آئمہ طاہرین) میں ایک ہی نور تھا اور ہم میں بھی وہی نور ہے نور ازل سے ایک ہی ہے ظاہر میں ہم جامہ پہنتے ہیں اور اتارتے ہیں اور تم کو ھم میں ایک ہی نور دیکھنا چاہے یہ اخر زمانہ ہے اس میں جو ایماندار ھیں ان کو اپنے زمانے کے امام کی قدرت اور کرامات نظر ائے گی لیکن جو ادھور ے دل والے ہیں وہ ظاہری کرامات دیکھیں گے پھر بھی ان کو جھوٹا سمجھیں گے جن لوگوں نے پیغمبر نبی اور امام کی قدرت کو نہیں مانا ایسے لوگوں کی مثال اندھے کی طرح ہے اندھے کو اگر ائینہ اور ٹھیکڑی دے تو ان کے نزدیک دونوں برابر ہیں ہمیں ادھوری دل والے اپنا جیسا سمجھتے ہیں ظاہر میں ہم درویشی اختیار کر بیٹھے ہیں لیکن ہمیں خداوند تعالی کی بارگاہ سے بزرگی ملی ہوئی ہے وجہ یہ ہے ہم پیغمبر کی ال پاک ہیں ہمارے گھر کی تعریفیں اور قدرت جو علم میں واقف کار ہے وہ سمجھیں گے ادھوری دل والوں کو ہم پر بالکل بھروسہ نہ ہوگا جو ایسے ہیں وہ ہمیں کس طرح پیارے ہو سکتے ہیں وہ اپنے اپ کو نقصان پہنچائیں گے ہمیں کچھ بھی نہیں ہوگا
فرمان نمبر1 تاریخ یکم ستمبر 1885
مقام بمبئ
کلام امام مبین اسماعیلی کتاب
وروى ابن المغازلي بإسناده عن سلمان، قال: «سمعت حبيبي محمّداً يقول: كنت أنا وعلي نوراً بين يدي الله عزّوجلّ، يسبح الله ذلك النور ويقدسه قبل أن يخلق الله آدم بألف عام، فلما خلق الله آدم ركّب ذلك النور في صلبه فلم يزل في شيء واحد حتى افترقنا في صلب عبد المطلب، ففيّ النبوة وفي علي الخلافة»(5).
اللہ تعالی نے ھمارا نور حضرت آدم علیہ السلام سے 14ھزار سال پہلے خلق فرمایا..
.حضرت آدم علیہ السلام کی پشت میں نور محمدی رکھا گیا وہ چلتے چلتے حضرت عبدالمطلب علیہ السلام کی پشت میں آیا
پھر اللہ پاک نے اس نور کے دو حصے کیے ایک حصہ حضرت عبداللہ علیہ السلام کی پشت میں رکھا دوسرے کو حضرت ابوطالب علیہ السلام کی پشت میں رکھا
حضرت عبداللہ علیہ السلام سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلیہ وسلم کی ولادت ہوئی اور جناب ابوطالب علیہ السلام کی پشت میں جو نور تھا اس سے مولا علی علیہ السلام کی ولادت ھوئی۔پس علی علیہ السلام مجھے سے ھے اور میں صلعم اس سے ھوں
فرائد السّمطين، ج1، ص40.
(كفاية الطّالب، ص314.
المصدر ص315، ورواه الخوارزمي في المناقب، ص88.
مناقب عليّ بن أبي طالب ص88، الحديث130.
الفضائل (المناقب) ج1، الحديث 240، مخطوط، ورواه سبط ابن الجوزي في تذكرة الخواص ص46.
جناب جابر -نے پیغمبر اکرم (ص)سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا: بتحقیق خدا نے مجھے اور علی - کو حضرت آدم -کی خلقت سے دوہزار سال پہلے دو نور کی شکل میں عرش کے سامنے خلق کیا اور ہم خدا کی تسبیح و تقدیس کرتے تھے ۔جب خدا نے حضرت آدم -کو خلق فرمایا تو ہمارے نورکو ان کے صلب مبارک میں قرار دے دیا پھر ان کے صلب سے پاک و پاکیزہ اصلاب کے ذریعہ منتقل کرکے حضرت ابراہیم - کے صلب میں ٹھہرایا،پھر ان کے صلب اور پشت سے نکال کر جناب عبد المطّلب- کے صلب میں منتقل کیا پھر جناب عبد المطلب -کے صلب سے یہ نور اس طرح تقسیم ہواکہ دو حصے حضرت عبد اللہ بن عبد المطّلب- کے صلب میں قرار دیا گیاجبکہ ایک حصہ جناب ابو طالب بن عبد المطلب کے صلب میں قرار دیاگیا،پھر اس نور کے دونوں حصے فاطمہ = کے وجود مبارک میں جمع ہوئے لہٰذا حسن- و حسین- اللہ تعالیٰ کے دو نور ہیں۔اس روایت پر غور کیا جانا چاہئے کیونکہ گذشتہ روایت میں حضرت پیغمبر اکرم (ص)اور حضرت علی - کے نور کا کائنات کی خلقت سے پہلے موجود ہونے کو بتایا گیا ۔ اس روایت میں حضرت آدم - کی خلقت سے پہلے حضرت پیغمبر (ص) اور حضرت علی - کا نورخلق ہونے کی خبر ...بحوالہ کتاب اثنا عشری
.بحار الانوارج ١٥ ص٩۔
- عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ وَ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ عَنْ سَهْلِ بْنِ زِيَادٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ شَمُّونٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَصَمِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ صَالِحِ بْنِ سَهْلٍ الْهَمْدَانِيِّ قَالَ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ ع‏ فِي قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى- اللَّهُ نُورُ السَّماواتِ وَ الْأَرْضِ‏ مَثَلُ نُورِهِ‏ كَمِشْكاةٍ فَاطِمَةُ ع‏ فِيها مِصْباحٌ‏ الْحَسَنُ- الْمِصْباحُ فِي زُجاجَةٍ الْحُسَيْنُ- الزُّجاجَةُ كَأَنَّها كَوْكَبٌ دُرِّيٌ‏ فَاطِمَةُ كَوْكَبٌ دُرِّيٌّ بَيْنَ نِسَاءِ أَهْلِ الدُّنْيَا- يُوقَدُ مِنْ شَجَرَةٍ مُبارَكَةٍ إِبْرَاهِيمُ ع- زَيْتُونَةٍ لا شَرْقِيَّةٍ وَ لا غَرْبِيَّةٍ لَا يَهُودِيَّةٍ وَ لَا نَصْرَانِيَّةٍ- يَكادُ زَيْتُها يُضِي‏ءُ يَكَادُ الْعِلْمُ يَنْفَجِرُ بِهَا- وَ لَوْ لَمْ تَمْسَسْهُ نارٌ نُورٌ عَلى‏ نُورٍ إِمَامٌ مِنْهَا بَعْدَ إِمَامٍ- يَهْدِي اللَّهُ لِنُورِهِ مَنْ يَشاءُ يَهْدِي اللَّهُ لِلْأَئِمَّةِ مَنْ يَشَاءُ- وَ يَضْرِبُ اللَّهُ الْأَمْثالَ‏ لِلنَّاسِ‏ قُلْتُ‏ أَوْ كَظُلُماتٍ‏ قَالَ الْأَوَّلُ وَ صَاحِبُهُ- يَغْشاهُ‏ مَوْجٌ‏ الثَّالِثُ- مِنْ فَوْقِهِ مَوْجٌ‏ ظُلُمَاتٌ الثَّانِي- بَعْضُها فَوْقَ بَعْضٍ‏ مُعَاوِيَةُ لَعَنَهُ اللَّهُ‏ وَ فِتَنُ بَنِي أُمَيَّةَ- إِذا أَخْرَجَ يَدَهُ‏ الْمُؤْمِنُ فِي ظُلْمَةِ فِتْنَتِهِمْ- لَمْ يَكَدْ يَراها وَ مَنْ لَمْ يَجْعَلِ اللَّهُ لَهُ نُوراً إِمَاماً مِنْ وُلْدِ فَاطِمَةَ ع- فَما لَهُ مِنْ نُورٍ إِمَامٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَ قَالَ فِي قَوْلِهِ- يَسْعى‏ نُورُهُمْ بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَ بِأَيْمانِهِمْ‏ أَئِمَّةُ الْمُؤْمِنِينَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ تَسْعَى بَيْنَ يَدَيِ الْمُؤْمِنِينَ وَ بِأَيْمَانِهِمْ حَتَّى يُنْزِلُوهُمْ مَنَازِلَ أَهْلِ الْجَنَّةِ.

5۔ امام جعفر صادق (ع) نے آیہ اللہ نور السمٰوات والارض مثل نور مشکوٰۃ میں، مشکوٰۃ (چراغدان ) سے مراد فاطمہ ہیں اور فیھا مصباح (اس میں چراغ ) میں مصباح سے مراد حسن (ع) ہیں اور وہ چراغ شیشہ میں ہیں اور شیشہ سے مراد حسین (ع) ہیں اورفاطمہ زنان عالم کے درمیان روشن ستارہ ہیں اور وہ چراغ روشن ہے شجر مبارک ابراہیم سے تیل اس چراغ کا زیتون ہے جو نہ شرقی ہے نہ غربی ہے یعنی نہ یہودی ہے نہ نصرانی اس کا روغن روشن ہے یعنی قریب ہے کہ علم اس سے پھوٹ نکلے اور اگر چہ آگ مس نہ کرے تب بھی نور علی نور ہے یعنی امام کے بعد امام ، خدا اس نور سے جس کو چاہتا ہے ہدایت کرتا ہے یعنی آئمہ کے ذریعہ سے اور اللہ ایسی ہی مثالیں بیان کرتا ہے میں نے پوچھا اور ظلمات سے کیا مراد ہے فرمایا اول اس کا صاحب جس کو ڈھانپ لیا ۔ ثالث نے تاریک کی موجیں ایک دوسرے پر چڑھی ہوئی ہیں اور وہ معاویہ اس کے زمانے کے قصے ہیں اور اس میں لم یجعل اللہ لہ نورا سے یہ مراد جس کو اولاد فاطمہ زہرا(س) کے نور سے ہدایت نہ ہوتی اس کے لئے روز قیامت نور نہ ہوگا اور آیت میں جو یہ ہے ان کا نور ان کے سامنے اور داہنی طرف دوڑتا ہوگا تو اس سے مراد آئمہ مومنین ہیں جن کا نور مومنین کے سامنے اور داہنی طرف دوڑے گا اور وہ ان کو منازل جنت کی طرف لی جائیگا
اصول کافی
بَابُ أَنَّ الْأَئِمَّةَ ع نُورُ اللَّهِ عَزَّ وَ جَلَ‏
1- الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ مُعَلَّى بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ مِرْدَاسٍ قَالَ حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ يَحْيَى وَ الْحَسَنُ بْنُ مَحْبُوبٍ عَنْ أَبِي أَيُّوبَ عَنْ أَبِي خَالِدٍ الْكَابُلِيِّ قَالَ: سَأَلْتُ أَبَا جَعْفَرٍ ع عَنْ قَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَ جَلَّ- فَآمِنُوا بِاللَّهِ وَ رَسُولِهِ وَ النُّورِ الَّذِي أَنْزَلْنا فَقَالَ يَا أَبَا خَالِدٍ النُّورُ وَ اللَّهِ- الْأَئِمَّةُ مِنْ آلِ مُحَمَّدٍ ص إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَ هُمْ وَ اللَّهِ نُورُ اللَّهِ الَّذِي أَنْزَلَ وَ هُمْ وَ اللَّهِ نُورُ اللَّهِ فِي السَّمَاوَاتِ وَ فِي الْأَرْضِ وَ اللَّهِ يَا أَبَا خَالِدٍ لَنُورُ الْإِمَامِ فِي قُلُوبِ الْمُؤْمِنِينَ أَنْوَرُ مِنَ الشَّمْسِ الْمُضِيئَةِ بِالنَّهَارِ وَ هُمْ وَ اللَّهِ يُنَوِّرُونَ قُلُوبَ الْمُؤْمِنِينَ وَ يَحْجُبُ اللَّهُ عَزَّ وَ جَلَّ نُورَهُمْ عَمَّنْ يَشَاءُ فَتُظْلِمُ قُلُوبُهُمْ وَ اللَّهِ يَا أَبَا خَالِدٍ لَا يُحِبُّنَا عَبْدٌ وَ يَتَوَلَّانَا حَتَّى يُطَهِّرَ اللَّهُ قَلْبَهُ وَ لَا يُطَهِّرُ اللَّهُ قَلْبَ عَبْدٍ حَتَّى يُسَلِّمَ لَنَا وَ يَكُونَ سِلْماً لَنَا فَإِذَا كَانَ سِلْماً لَنَا سَلَّمَهُ اللَّهُ مِنْ شَدِيدِ الْحِسَابِ وَ آمَنَهُ مِنْ فَزَعِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ الْأَكْبَرِ.
1۔ ابوخالد سے مروی ہے کہ میں نے امام محمدباقر (ع) سے آیہ فآمنو باللہ و رسولہ والنور الذی انزلنا کے متعلق پوچھا ۔ فرمایا اے ابو خالد نور سے مراد نور آئمہ (ع) ہیں ۔ آل محمد سے قیامت تک ہونے والے اور وہی وہ نور ہیں جو نازل کیا گیا اور وہی اللہ کے نور ہیں زمین و آسمان میں واللہ اے ابو خالد نور امام قلوب مومنین میں سے ہے وہ نصف النہار کے سورج سے زیادہ روشن ہوتا ہے اور وہ (آئمہ) قلوب مومنین کو منور کر دیتے ہیں اور اللہ ان کے نور کو جس سے چاہتا ہے چھپاتا ہے ان کے قلوب تاریک ہو جاتے ہیں واللہ ۔ اے ابوخالدہم سے نہیں محبت کرتا کوئی بندہ اور نہیں دوست رکھتا ہم کو ، مگر یہ کہ اللہ اس کے قلوب کو پاک کرتا ہے اور پاک نہیں کرتا ، کسی کے دل کو جب تک وہ ہمیں زمانے اور ہم سے صلح نہ کرے پس جب ہم سے صلح کرتا ہے تو خدا اس کو سخت عذاب سے اور روز قیامت کے خوف عظیم سے محفوظ رکھتا ہے ۔
اصول کافی
اس احدیث مبارکہ اور آئمہ طاہرین علیہم السلام اجمعین کی فرامین سے پتہ چلا کہ اسماعیلی عقیدے رسول اللہ اور مولا علی کا نور ان آل اور اولاد کے ھر زمانے امام میں حاضر موجود ھے اس لیے نبی اور علی کا نور ھر زمانے کے امام کی صورت ۔لوگوں کے اعمال پر گواہ اور رحمت ھے اسلیے قرآن کریم میں رسول اللہ کو رحمت العالمین فرمایا گیا ھے
اللھم صلی علی محمد و آلہ محمد

Want your school to be the top-listed School/college in Rawalpindi?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Website

Address


Rawalpindi
46000