11/05/2026
When The World Was Engulfed In Darkness,
Allah Sent Muhammad Mustafa ﷺ as The Final Guidance For Humanity.
After Him ﷺ, There Was No Need For Any New Prophet
Nor For any New Revelation.
The Qur’an Was Perfected, The Religion Was Completed,
and Prophethood Reached its Seal and Completion Through Him ﷺ.
The Belief in The Finality of Prophethood
is The light That Keeps Faith alive in The Hearts.
A Heart That Firmly Believes
That Prophet Muhammad ﷺ is The Last and Final Prophet,
is Truly illuminated With The Love of The Messenger Of Allah ﷺ.
The Proclamation of Our Tongues
and The Testimony of Our Hearts.
Muhammad ﷺ is The Last Prophet of Allah.
And This Belief
is among The Greatest Signs of a True Believer’s Faith.
✒️ Written by Muhammad Abbas Khan
24/04/2026
وہ چاند نور سے جس کے نہا حیات گئی.
عرب کے بام پر چمکا سیاہ رات گئی.
ثم يُقال...!!! 🌹يا مُحمَّد🌹
ارفعْ رأسكَ، وسَلْ تُعطَ، واشفعْ تُشَفّع
فأرفع رأسي فأقول
أمّتي يا ربي، أمّتي
🌹صَلُّوا عليه....!🌹
پھر کہا جائے گا: اے محمدؐ!
اپنا سر اٹھائیے، مانگیے آپ کو عطا کیا جائے گا، اور شفاعت کیجئے آپ کی شفاعت قبول کی جائے گی.
تو میں سر اٹھاؤں گا اور عرض کروں گا
اے میرے رب. میری امت، میری امت...!!!
14/04/2026
امـام احمد بن حنـبل رحمه الله فـرمـاتے ہیں.
والدین کے سـاتھ حسنِ سلـوک کرنـا بڑے (کبیرہ) گنـاہوں کا کفـارہ بن جـاتـا ہے...!!!
حواله
ابن رجب، جـامع العلوم والحکم 2/521
14/05/2025
🌹سـلـسـلہ قـــرآن کـی عـظـمـتـیـں اور اس کـے مـعـجـزے
قـسـط نـمـبـر (3)
ابـتـدائـیـه
اعجازِ قرآن کے چند گوشے
( 1 ) قرآن مجید کا سب سے بڑا اور بنیادی اعجاز اس کا ایک مکمل دستورِ حیات اور نظامِ زندگی پیش کرنا ہے۔ قرآنِ حکیم نے ایمان و عقائد، افکار ونظریات، اقتصاد ومعیشت، امارت ومشاور ت، نظامت وعدالت، معاشرت و معاملات، علم وعمل، غرضیکہ دین ودنیا کے ہر گوشے کے بارے میں ایسا آخری ہدایت نامہ اور نظامِ عمل پیش کیا ہے کہ اس سے زیادہ محکم واُستوار، جامع، واضح اور نافع ہدایت نامہ دنیا میں آج تک پیش نہیں کیا جا سکا۔ اس سے پہلے کے ادیان اور الہامی کتب بھی چونکہ اپنے اپنے وقت کے ساتھ محدود و مخصوص تھیں، اس لیے وہ بھی اس کے مقابلے میں (وہ درجہ نہیں رکھتیں جو اس مبارک کتاب قرآن کی عظمت ہے) ۔اس نے انسانی زندگی کے انفرادی واجتماعی، جسمانی وروحانی، معاشی ومعاشرتی، تہذیبی وتمدنی، عدالتی وتجارتی، سیاسی وعمرانی اور حکمرانی وفرمانروائی، غرض زندگی کے ہر گوشے کے بارے میں ایسے احوال وکلیات پیش کیے ہیں کہ اب ان میں کسی قسم کی کمی بیشی، ترمیم وتنسیخ اور تغیر وتبدل کی ضرورت نہیں بلکہ قرآن کے جملہ محاسن اور کمالات کا استقصا اور استیعاب بھی حدِ امکان سے باہر ہے۔
قرآن کے حقائق ومعارف
قرآن کا دوسرا عظیم اعجازی پہلو اس کے بے پایاں علوم ومعارف اور حقائق ودقائق ہیں ۔ انسان کا علم جس قدر ترقی کرتا جائے گا اوراس کی آنکھوں سے جتنے پردے اُٹھتے جائیں گے، قرآنی علوم ومعارف اسی قدر نکھر کر سامنے آتے جائیں گے۔ مشہور فرانسیسی محقق موریس بوکائے کی کتاب کے عنوان سے چھپی ہے۔ اس کا عربی ترجمہ دراسۃ الکتب المقدسۃ فی ضوء المعارف الحدیثیۃ کے عنوان سے اور اردو ترجمہ ’’بائبل، قرآن اور سائنس‘‘ کے نام سے شائع ہوا ہے۔ محقق موصوف نے اس کتاب کے باب اول میں لکھا ہے: ’’ان سائنسی خیالات نے، جو قرآن کے ساتھ زیادہ مماثلت رکھتے ہیں، مجھے ہکا بکاکر دیا۔ میں نے سوچا بھی نہیں تھا کہ ایک ایسی تحریر میں،جو تیرہ صدیوں سے بھی پہلے ظاہرہوئی اور جس میں انتہائی مختلف النوع مضامین بیان ہوئے ہیں، میرے لیے یہ ممکن ہو گا کہ میں اس میں سے ایسے بیانات ڈھونڈ نکالوں گا جو جدید سائنسی معلومات سے کلی طور پر ہم آہنگ ہوں گے۔‘‘[1]اور کتاب کے آخر میں لکھا ہے: ’’حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کی معلومات کی نوعیت کو دیکھتے ہوئے یہ بات ناقابلِ تصور معلوم ہوتی ہے کہ قرآن کے بہت سے وہ بیانات جو سائنس سے متعلق ہیں، کسی بشر کا کلام ہو سکتے ہیں، لہٰذا یہ بات مکمل طور پر صحیح ہے کہ قرآن کو وحیِٔ آسمانی کا اظہار سمجھا جائے۔‘‘[2]
یہ حقیقت ہمیشہ یاد رکھنی چاہیے کہ قرآنِ مجید میں ان حقائق واشیاء کا تذکرہ ہوا ہے جن کا تعلق تاریخ، جغرافیہ، طبیعیات، فلکیات، اجرامِ سماوی، علم الحیات، انسان کی تخلیق، اس کے جسم کی تکوین وترکیب اور دوسرے ایسے علوم سے ہے جن کے بارے میں اس دورِ جدید میں حقائق ومعارف کا نیا عالم منکشف ہوا ہے اور پرانے انسانی علوم کے زمین وآسمان بدل گئے ہیں، وہ قرآن کا اصل موضوع ومقصدنہیں ہیں۔ قرآن کا اصل مقصد انسان کو اللہ رب العزت کی بندگی کی دعوت دینا ہے، اس لیے قرآنِ مجید میں جدید علمی حقائق تلاش کرنا اور ان کو جدید تحقیقات اور نت نئے انکشافات سے ہم آہنگ کرنے کی کوشش کرنا ایک بالکل مختلف، نازک اور پر خطر کام ہے کیونکہ علم وتحقیق کے جو نتائج اس وقت ثابت شدہ حقائق نظر آتے ہیں، وہ آئندہ ادوار میں بدل سکتے ہیں یا ان کے ثبوت وقطعیت مشکوک ومجروح بھی ہو سکتے ہیں، اس لیے قرآنی حقائق ومعارف کو کسی قدیم یا جدید نظریے سے تطبیق دینے کی ضرورت نہیں ۔ علم وتحقیق کی تاریخ میں اس کا تجربہ کئی بار ہو چکا ہے کہ ایک دور کے مسلّمات وحقائق دوسرے دور میں یکسر بدل گئے۔ کبھی زمین کو مرکز ِکائنات ٹھہرایا گیا اور کبھی آفتاب کو۔ زمین کبھی مسطح ثابت ہوئی اور کبھی گول۔ سیاروں پر آبادی کبھی ناممکن قرار دی گئی اور کبھی ممکن۔ کبھی زمین متحرک ٹھہری اور کبھی ساکن، البتہ یہ بات قطعی اور یقینی ہے کہ قرآنِ مجید میں ہرگز کوئی ایسی بات نہیں ہے جسے خلافِ واقعہ ثابت کیا
جا سکے۔ قرآنی حقائق ومعارف کی جدید سائنسی انکشافات سے تطبیق جدید علم وتحقیق سے مرعوبیت کا نتیجہ بھی ہو سکتی ہے۔
اعجازِ قرآن کا تیسرا پہلو:
قرآن کریم کے بیان کردہ غیبی واقعات اس کے اعجاز کا تیسرا پہلو ہیں۔ قرآنِ مجید میں انبیائے سابقین اور گزشتہ امم کے بارے میں جو واقعات بیان کیے گئے ہیں، وہ بجائے خود قرآن کا ایک مستقل معجزہ ہیں کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ان کی اطلاعات کا سرچشمہ اور ماخذ، علمِ الٰہی کے فیض اور وحی کے سوا کچھ نہیں۔ یہ تمام واقعات وحیِ ٔ الٰہی کا کرشمہ ہیں۔ اعجاز کے اس پہلو کی طرف قرآنِ مجید بار بار توجہ دلاتا ہے۔ حضرت مریم علیہاالسلام اور حضرت یحییٰ علیہ السلام کی ولادت کے واقعات کی بعض جزئیات بیان کرنے کے بعد فرمایا:
﴿ ذَٰلِكَ مِنْ أَنبَاءِ الْغَيْبِ نُوحِيهِ إِلَيْكَ ۚ وَمَا كُنتَ لَدَيْهِمْ إِذْ يُلْقُونَ أَقْلَامَهُمْ أَيُّهُمْ يَكْفُلُ مَرْيَمَ وَمَا كُنتَ لَدَيْهِمْ إِذْ يَخْتَصِمُونَ﴾
’’یہ غیب کی خبریں ہیں جو ہم آپ کی طرف وحی کر رہے ہیں۔ اور آپ اس وقت ان کے پاس نہ تھے جب وہ اپنے اپنے قلم پھینک رہے تھے (کہ قرعہ ڈال کر فیصلہ کر لیں) کہ کون مریم کی کفالت کرے اور نہ آپ اس وقت ان کے پاس تھے جب وہ جھگڑ رہے تھے۔‘‘[3]
حضرت نوح علیہ السلام کا واقعہ بیان کرنے کے بعد فرمایا:-
﴿ تِلْكَ مِنْ أَنبَاءِ الْغَيْبِ نُوحِيهَا إِلَيْكَ ۖ مَا كُنتَ تَعْلَمُهَا أَنتَ وَلَا قَوْمُكَ مِن قَبْلِ هَـٰذَا﴾
’’یہ غیب کی خبریں ہیں جو ہم آپ کی طرف وحی کر رہے ہیں۔ اس (وحی) سے پہلے نہ آپ یہ خبریں جانتے تھے اور نہ آپ کی قوم ۔‘ ‘[4]
قرآن مجید نے کفار کے اس الزام کی، کہ یہ واقعات آپ کی پرانی یا قلمی یادداشت ہیں، تردید کرتے ہوئے فرمایا:
﴿ وَقَالُوا أَسَاطِيرُ الْأَوَّلِينَ اكْتَتَبَهَا فَهِيَ تُمْلَىٰ عَلَيْهِ بُكْرَةً وَأَصِيلًا ﴿٥﴾ قُلْ أَنزَلَهُ الَّذِي يَعْلَمُ السِّرَّ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۚ إِنَّهُ كَانَ غَفُورًا رَّحِيمًا﴾
’’اور وہ کہتے ہیں (یہ قرآن) اگلے لوگوں کے قصے کہانیاں ہیں جو اس نے لکھوا رکھے ہیں جو صبح وشام اس کو پڑھ کر سنائے جاتے ہیں۔ فرما دیجیے: اسے (قرآن کو) اسی نے اتارا ہے جو آسمان اور زمین کی پوشیدہ چیزوں کو جانتا ہے، بے شک وہ بڑا بخشنے والا، انتہائی مہربان ہے۔‘‘[5]
سورۂ عنکبوت میں آپ کی ان چیزوں سے بیگانگی اور آپ کی ناخواندگی کا تذکرہ کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ آپ اس ماحول سے قطعاً ناآشنا اور علم کے سامان ولوازم سے بالکل بیگانہ تھے، اس لیے شکوک وشبہات کا اظہار کرنے والوں کے لیے آپ کے علم کے ماخذ ومصدر میں کسی شک وشبہ کی گنجائش نہیں،
چنانچہ فرمایا:
﴿ وَمَا كُنتَ تَتْلُو مِن قَبْلِهِ مِن كِتَابٍ وَلَا تَخُطُّهُ بِيَمِينِكَ ۖ إِذًا لَّارْتَابَ الْمُبْطِلُونَ﴾
’’اور آپ اس (قرآن) سے پہلے نہ کوئی کتاب پڑھ سکتے تھے اور نہ اسے اپنے ہاتھ سے لکھ سکتے تھے۔ (اگر ایسا ہوتا) تو یہ باطل پرست ضرور شبہ کرتے ۔‘‘[6]
اس لیے یہ دعوٰی اور خیال کہ قرآنِ مجید کے واقعات تورات وانجیل سے ماخوذ ہیں، بالکل بے بنیاد اور بے اصل ہے۔ یہ دعوٰی کرنے والے کتبِ قدیمہ اور قرآنِ مجید دونوں سے ناآشنا ہیں۔ قرآنِ مجید اور تورات وانجیل دنیا میں موجود ہیں، ان کا آپس میں تقابل آسانی کے ساتھ ہو سکتا ہے جس کے نتیجے میں اصل حقیقت فوراً اُجاگر ہو سکتی ہے۔
موریس بوکائے نے بائبل اور قرآن کے بہت سے موضوعات کا تقابل کرنے کے بعد آخر میں لکھا ہے: ’’قرآن اور بائبل میں بڑے اختلافات ہیں۔ یہ اختلافات اس دعوے کو غلط ثابت کر دیتے ہیں جس میں بغیر کسی شہادت یا ثبوت کے یہ کہہ دیاجاتا ہے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کا متن پیش کرنے کے لیے بائبل کی نقل کر ڈالی۔‘‘ [7]
قرآنِ مجید کا چوتھا اعجازی پہلو:-
کتابِ الٰہی کی پیش گوئیاں قرآنی اعجاز کا چوتھا پہلو ہیں ۔معجزہ اس چیز کو کہتے ہیں جو خرقِ عادت طریقے پر محض قدرتِ ربّانی سے کسی رسول کی تصدیق کے لیے ظاہر ہواور انسانی عقل اس کی ظاہری توجیہ وتعلیل سے قاصر ہو۔ جن حالات میں یہ پیش گوئیاں کی گئی ہیں اور جس طرح ان کا ظہور ہوا ہے وہ ایک معجزہ ہے، ان میں اعجاز کے دو پہلو ہیں:
(1) بظاہر ناموافق حالات میں ان بعید از عقل اور اہم واقعات کی خبر واطلاع۔
(2) اس اطلاع کے عین مطابق ان کا ظہور اور وقوع۔
٭ ان سب پیش گوئیوں میں سب سے زیادہ صاف اور محیر العقول پیش گوئی رومیوں کا غلبہ ہے
جسے سورۂ روم کے آغاز میں بیان کیا گیا ہے۔
٭ اسی طرح موحّد اور مطیع مسلمانوں کی حکومت وخلافت کی پیش گوئی سورۂ نور، آیت: 55
﴿ وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ﴾ میں۔
٭ دین کے غلبے کی پیش گوئی سورۂ توبہ، آیت: 33,32 ، سورۂ فتح، آیت: 28، سورۂ صف، آیت:
9,8 میں۔
٭ فتح مکہ کی پیش گوئی سورۂ فتح، آیت: 3-1 اور سورۂ صف، آیت 13 میں۔
٭ صلح حدیبیہ اور غنائم کے حصول کی پیش گوئی، سورۂ فتح، آیت: 20-18، میں۔
٭ قرآنِ مجید کے جمع واشاعت اور تبیین کی پیش گوئی سورۂ قیامہ میں۔
٭ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے قرب اور اشاعتِ اسلام کی پیش گوئی سورۂ نصر میں کی گئی ہے۔
٭ اسی طرح اور بھی پیش گوئیاں ہیں جو حرف بحرف پوری ہوئیں۔
*قرآنی ہدایت کا انقلابی پہلو:-*
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآنِ مجید اور اس کی عملی تفسیر، یعنی اپنی سیرتِ مقدسہ اور کردار و اخلاق [کَانَ خُلُقُہُ الْقُرْآنَ] ’’آپ کا اخلاق قرآن ہی ہے۔‘‘[8] کے ذریعے سے جو ذہنی، فکری، اعتقادی، روحانی، اخلاقی، نفسیاتی، معاشرتی، اجتماعی اور سیاسی انقلاب برپا فرمایا، پوری انسانی تاریخ میں اس کی نظیر نہ پہلے ملتی ہے ، نہ آپ کے بعد۔ یہ قرآن کا ایک معجزہ ہے۔ اس انقلاب کے زیرِ اثرجو افراد اور جماعتیں وجود میں آئیں ان میں سے ہر جلیل القدر صحابی خصوصًا عشرۂ مبشرہ، حضرت ابوہریرہ، عبادلۂ اربعہ (عبداللہ بن عباس، عبداللہ بن مسعود، عبداللہ بن عمر اور عبداللہ بن زبیررضی اللہ عنہم) وغیرہ میں سے ہر ایک انفرادی طور پر بجائے خود علومِ دین کا مستقل سرچشمہ ہے۔ انسانی تاریخ میں کسی وقت کسی جگہ اور کسی گروہ میں اتنے قلیل عرصے میں اس قدر وسیع انقلاب کا مشاہدہ نہیں ہو سکا۔ اس میں اعجاز کا پہلو یہ ہے کہ یہ ہمہ گیر انقلاب ان تمام وسائل وذرائع کے بغیر رونما ہوا جن سے دنیا آشنا ہے۔ قرآنِ مجید نے اعجاز کے اس پہلو کی طرف بھی اشارہ فرمایا ہے اور بتایا ہے کہ وہ لوگ جو ایک دوسرے کے خون کے پیاسے تھے، ان میں بے مثل قلبی مَوَدَّت ومحبت اور وحدت ویگانگت پیدا کی، اسی کے متعلق فرمایا:
﴿ هُوَ الَّذِي أَيَّدَكَ بِنَصْرِهِ وَبِالْمُؤْمِنِينَ ﴿٦٢﴾ وَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِهِمْ ۚ لَوْ أَنفَقْتَ مَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا مَّا أَلَّفْتَ بَيْنَ قُلُوبِهِمْ وَلَـٰكِنَّ اللّٰهَ أَلَّفَ بَيْنَهُمْ ۚ إِنَّهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ﴾
’’وہی تو ہے جس نے اپنی نصرت اور مومنو ں کے ذریعے سے آپ کو قوت بہم پہنچائی اور مسلمانوں کے دلوں کو جوڑ دیا (ان میں الفت پیدا کر دی) اگر آپ ساری زمین کا مال بھی خرچ کر دیتے تب بھی ان کے دلوں میں الفت پیدا نہ کر سکتے تھے۔ لیکن اللہ نے ان کے ما بین الفت پیدا کر دی۔ بلاشبہ وہ غالب اور بڑی حکمت والا ہے۔‘‘ [9]
زمانۂ جاہلیت اور دورِ اسلام کا فرق نمایاں کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:
﴿ وَاذْكُرُوا نِعْمَتَ اللّٰهِ عَلَيْكُمْ إِذْ كُنتُمْ أَعْدَاءً فَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِكُمْ فَأَصْبَحْتُم بِنِعْمَتِهِ إِخْوَانًا﴾
’’اور تم اللہ تعالیٰ کی اس نعمت (احسان) کو یاد کرو جب تم ایک دوسرے کے دشمن تھے تو اس نے تمھارے دلوں میں الفت پیدا کر دی اور تم اس کی نعمت کے باعث بھائی بھائی بن گئے۔‘‘[10]
[1] بائبل، قرآن اور سائنس192
[2] بائبل، قرآن اور سائنس402
[3] آل عمران 44:3
[4] ہود 49:11
[5] الفرقان 6,5:25
[6] العنکبوت 48:29
[7] بائبل، قرآن اور سائنس 402
[8] مسند أحمد216/6: عن عائشۃ رضی اللّٰه عنہا
[9] الأنفال 63,62:8
[10] آل عمران 103:3
22/12/2024
☜ قسـط نمبـر 26 ♥
حضـرت سـعید بن زیـد رضی اللٰه عنه
زید بن عمرو بن نفیل لوگوں سے الگ تھلگ کچھ فاصلے پر کھڑے قریش کو عید کی خوشیاں مناتے ہوئے دیکھ رہے تھے، انہوں نے دیکھا کہ قریش کے نوجوان بیش بہا قیمت ریشمی عمامے باندھے اور قیمتی یمنی لباس زیب تن کئے بڑے طمطراق سے ادھر ادھر پھر رہے ہیں، عورتوں اور بچوں نے بھی نہایت دیدہ زیب لباس پہنا ہوا ہے، انہوں نے یہ منظر بھی دیکھا کہ کچھ لوگ جانوروں کو نہلا دھلا کر بتوں کے حضور ذبح کرنے کے لئے لے جا رہے ہیں۔
وہ یہ حیران کن مناظر دیکھ کر کعبے کی دیوار کے ساتھ ٹیک لگا کر فرمانے لگے: "اے خاندان قریش! ایک بکری جسے اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا، آسمان سے اس کے لیے بارش نازل کی، جس کا پانی پی کر وہ سیراب ہوئی، زمین میں سے اس کے لئے گھاس اُگائی، جسے کھا کر اس نے اپنا پیٹ بھرا، پھر تم اس بکری کو غیرُاللہ کے نام پر ذبح کرتے ہو، میرے خیال میں یہ بہت بڑی جہالت کی بات ہے۔" یہ الفاظ سنتے ہی ان کے چچا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کے والد خطاب غصے سے بھر اٹھے، آؤ دیکھا نہ تاؤ، ان کے چہرے پر ایک زناٹے دار تھپڑ رسید کردیا اور پھر کہا:
تو تباہ ہو جائے، ہم کتنی دیر سے تیری یہ فضول باتیں سن رہے ہیں؟ لیکن صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے اور ساتھ ہی اپنی قوم کے چند سر پھروں کو برانگیختہ کیا، انہوں نے حضرت زید رضی اللہ عنہ پر حملہ کر دیا اور اس قدر تکلیف پہنچائی کہ انہیں مکہ معظمہ سے نکل جانے پر مجبور کردیا، انہوں نے حراء پہاڑ کے دامن میں جا کر پناہ لی، خطاب نے نوجوانوں کو اس کام کے لئے تیار کیا کہ زید رضی اللہ عنہ دوبارہ مکہ میں داخل نہ ہو سکے، لیکن یہ چوری چھپے کبھی کبھار مکہ معظمہ میں آ جاتے۔
ایک روز قریش سے آنکھ بچا کر حضرت زید رضی اللہ عنہ مکہ معظمہ میں داخل ہوئے اور وہاں ان کی ملاقات ورقہ بن نوفل، عبداللہ بن جحش، عثمان بن حارث اور حضور ﷺ کی پھوپھی امیمہ بنت عبدالمطلب سے ہوئی اور یہ لوگ آپس میں اس قسم کی باتیں کر رہے تھے کہ موجودہ دور میں قریش گمراہی کے اتھاہ سمندر میں غرق ہوچکے ہیں۔ان کی گفتگو سن کر زید رضی اللہ عنہ نے کہا: بخدا! آپ جانتے ہیں کہ آپ کی قوم گمراہ ہوچکی ہے، دین ابراہیم علیہ السلام سے منحرف ہو گئی ہے، کم از کم آپ تو صحیح دین اختیار کرنے والے بن جائیں، اسی میں آپ کی نجات ہے۔ان میں سے چار یہود ونصاریٰ کے علماء کی تلاش میں نکل کھڑے ہوئے تاکہ دینِ ابراہیمی کو صحیح صورت میں حاصل کر سکیں، ورقہ بن نوفل نے عیسائیت قبول کرلی، عبداللہ بن جحش اور عثمان بن حارث کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکے، لیکن جناب زید بن عمرو بن نفیل کی عجیب داستان ہے، ہم یہ دلچسپ کہانی آپ کو ان کی ہی زبانی سناتے ہیں، حضرت زید فرماتے ہیں:
میں نے یہودیت ونصرانیت کی تحقیق شروع کردی، لیکن میں ان دونوں مذاہب سے مطمئن نہ ہوسکا، پھر میں نے دین ابراہیم علیہ السلام کی تلاش میں دنیا کا کونہ کونہ چھان مارا، بالآخر اسی جستجو میں ملک شام پہنچا، مجھے کسی نے بتایا کہ یہاں ایک راہب رہتا ہے جو بہت بڑا عالم ہے، میں اس سے ملا اور اپنی داستان سنائی، اس نے مجھ سے کہا: "میرے خیال میں آپ دین ابراہیم علیہ السلام کی تلاش میں ہیں؟" میں نے کہا: میں اسی تلاش میں ہوں۔
وہ کہنے لگا: "آپ ایک ایسے دین کی تلاش میں ہیں جو اپنی اصل صورت میں کہیں بھی نہیں پایا جاتا، آپ اپنے شہر مکہ معظمہ تشریف لے جائیں، وہاں اللہ تعالیٰ ایک نبی مبعوث فرمائیں گے، جو دینِ ابراہیمی کی تجدید کرے گا، اگر وہ آپ کو مل جائے تو اس کا دامن تھام لینا۔"
حضرت زید رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کی تلاش میں اسی وقت مکہ معظمہ واپس لوٹ آئے، زید رضی اللہ عنہ ابھی راستے ہی میں تھے اور مکہ معظمہ نہ پہنچ پائے تھے کہ ان کو راستے میں چند بدوؤں نے قتل کردیا، اس طرح انہیں یہ موقع ہی نہ مل سکا کہ رسولِ اقدس ﷺ کی زیارت کا سُرمہ اپنی آنکھوں میں ڈال سکیں، جب آپ زندگی کے آخری سانس لے رہے تھے، اچانک اپنی نگاہ آسمان کی طرف اٹھائی اور یہ دعا کی کہ:
"الہی! اگر تونے مجھے دیدارِ نبی ﷺ جیسی نعمت سے محروم رکھا ہے تو میرے بیٹے سعید کو اس خیر و برکت سے محروم نہ رکھنا"
اللہ تعالیٰ نے حضرت زید رضی اللہ عنہ کی دعا کو شرف قبولیت بخشا، رسول اللہ ﷺ نے جب لوگوں کے سامنے اسلام کی دعوت پیش کی تو حضرت سعید بن زید رضی اللہ عنہ کو یہ شرف حاصل ہوا کہ آپ ان خوش نصیبوں میں سے تھے جو پہلے مرحلے میں اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور نبی اکرم ﷺ کی رسالت پر ایمان لائے۔
یہ کوئی اچھنبے کی بات نہ تھی، اس لئے کہ حضرت سعید رضی اللہ عنہ نے ایسے گھرانے میں پرورش پائی تھی جو شروع ہی سے قریش کی جہالت اور گمراہی سے متنفر تھا اور یہ ایک ایسے باپ کی گود میں پروان چڑھے تھے جس نے اپنی پوری زندگی حق کی تلاش میں گزاردی تھی، جب وہ فوت ہوئے تو اس وقت بھی حق کی تلاش میں سرگرداں تھے۔
حضرت سعید تنہا مسلمان نہیں ہوئے بلکہ ان کے ساتھ ان کی بیوی فاطمہ بنت خطاب یعنی فاروق اعظم کی بہن نے بھی اسلام قبول کرلیا تھا، اس قریشی نوجوان نے اسلام قبول کرنے کے بعد اپنے خاندان کے ہاتھوں بہت تکلیفیں اٹھائیں، لیکن قریش انہیں حق سے منحرف نہ کرسکے، بلکہ میاں بیوی نے مشترکہ جدوجہد سے قریش کی بھاری بھرکم شخصیت کو ان سے چھین لیا، یعنی یہ دونوں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے اسلام قبول کرنے کا باعث بنے۔
حضرت سعید رضی اللہ عنہ نے خدمتِ اسلام کے لئے اپنی جوانی کھپا دی، قبولِ اسلام کے وقت ان کی عمر بیس سال سے زیادہ نہ تھی، غزوۂ بدر کے علاوہ تمام معرکوں میں رسولِ اکرم ﷺ کے ساتھ رہے، غزوہ بدر سے غیر حاضر ہونے کی وجہ یہ تھی کہ انہیں آنحضرت ﷺ نے ایک خاص مہم پر بھیجا تھا۔
کسریٰ کا تخت چھیننے اور قیصر کی سلطنت کو تہس نہس کرنے میں وہ مسلمانوں کے شریک کار رہے اور ہر معرکے میں کارہائے نمایاں سر انجام دیئے، سب سے بڑھ کر بہادری کے جوہر غزوہ یرموک میں دکھلائے، ہم یہ حیرت انگیز واقعہ انہیں کی زبانی قارئین کو سناتے ہیں:
حضرت سعید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: غزوہ یرموک میں مجاہدین کی تعداد تقریباً چوبیس ہزار تھی اور رومیوں کی فوج ایک لاکھ بیس ہزار افراد پر مشتمل تھی، وہ ہماری طرف بڑے جاہ وجلال اور طمطراق سے بڑھتے چلے آرہے تھے، یوں معلوم ہوتا جیسے کوئی پہاڑ ہماری طرف چلا آرہا ہے، لشکر کے آگے بڑے بڑے پوپ اور پادری صلیب اٹھائے بآواز بلند ورد کرتے ہوئے چل رہے تھے، پورے لشکر کی آواز بجلی کی طرح گونج رہی تھی، جب مسلمانوں نے انہیں اس حالت میں دیکھا تو ان کی کثرت اور جاہ و جلال سے خوف زدہ ہو گئے۔اس نازک مرحلے پر حضرت عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ جوش اور جذبے سے مسلمانوں کو جہاد کے لئے ابھارتے ہوئے ارشاد ربانی سناتے ہیں:
"ان تنصرو اللہ ینصرکم و یثبت اقداکم"
"اگر تم اللہ کی مدد کرو گے تو وہ تمہاری مدد کرے گا اور تمہارے قدم جما دے گا"
اللہ کے بندو! صبر کرو بلاشبہ صبر ہی کفر سے نجات، رب تعالیٰ کی خوشنودی اور عار وننگ کو زائل کرنے کا باعث ہے، سنو! اپنے نیزے درست کرلو اور چھپائے رکھو، خاموشی اختیار کرلو، دلوں کو یاد الٰہی سے سرشار کرو، یہاں تک کہ میں تمہیں یکدم حملے کا حکم دوں۔
حضرت سعید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: مجاہدین کی صفوں میں سے ایک شخص آگے بڑھا اور اس نے ابو عبیدہ سے کہا: میں نے عزم کیا ہے کہ میں ابھی اپنا فرض انجام دے دوں (اور راہ حق میں شہید ہوجاؤں) کیا آپ کوئی رسول اللہ ﷺ کو پیغام دینا چاہتے ہیں؟ حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہاں! رسول اللہ ﷺ کو میرا اور تمام مسلمانوں کا سلام کہنا۔
حضرت سعید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے اس شخص کی بات سنی اور اسے دیکھا کہ وہ اسی وقت اپنی تلوار نیام سے نکالتا ہے اور دشمنانِ خدا سے نبرد آزما ہونے کے لئے دوڑ پڑتا ہے، اس کے بعد میں نے چست لگائی، اپنا گھٹنا باندھا، نیزہ سنبھالا اور دشمن کے اُس شہسوار کو نشانہ بنایا جس نے سب سے پہلے لشکرِ اسلام کی طرف پیش قدمی کی تھی، پھر جذبۂ جہاد سے سرشار ہوکر دشمن پر ٹوٹ پڑا اور اللہ تعالیٰ نے میرے دل سے دشمن کا خوف بالکل نکال دیا، سب مجاہدین خم ٹھونک کر دشمن کے مقابلے میں آکھڑے ہوئے اور اس وقت تک ان سے بر سر پیکار رہے، جب تک فتح ونصرت نے مسلمانوں کے قدم نہ چوم لئے۔
اس کے بعد حضرت سعید بن زید رضی اللہ عنہ کو فتح دمشق میں شریک ہونے کا اعزاز حاصل ہوا، جب باشندگانِ دمشق نے مسلمانوں کی اطاعت قبول کرلی تو حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ نے آپ کو دمشق کا گورنر بنادیا، آپؓ پہلے مسلمان ہیں جنہیں دمشق کا گورنر بننے کا اعزاز حاصل ہوا۔
بنو امیہ کے دورِ خلافت میں حضرت سعید بن زید رضی اللہ عنہ کو ایک ایسا حادثہ پیش آیا، جو بہت مدت تک باشندگانِ یثرب کا موضوعِ گفتگو بنا رہا۔
وہ واقعہ یہ تھا کہ ارویٰ بنت اویس نے یہ الزام عائد کیا کہ حضرت سعید بن زید رضی اللہ عنہ نے اپنے اختیارات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے میری کچھ زمین غصب کرکے اپنی زمین میں شامل کرلی ہے، وہ جہاں جاتی ہر شخص کے سامنے اس کا تذکرہ کرتی اور اپنی مظلومیت کا ڈھنڈورا پیٹتی، بالآخر اس نے مدینہ طیبہ کے گورنر مروان بن حَکم کی عدالت میں حضرت سعید بن زید رضی اللہ عنہ کے خلاف دعویٰ دائر کردیا، مروان بن حکم نے حضرت سعید رضی اللہ عنہ سے اس سلسلے میں بات کرنے کے لئے ان کے پاس ایک وفد بھیجا، حضرت سعید رضی اللہ عنہ پر یہ بات بہت گراں گزری، آپؓ افسردگی کے عالم میں فرمانے لگے:
یہ سب لوگ میرے متعلق کیا خیال کرتے ہوں گے کہ میں نے اس عورت کی زمین ہتھیاکر بہت بڑا ظلم کیا ہے؟ میں بھلا اس گھناؤنے جرم کا کیسے ارتکاب کر سکتا ہوں، جبکہ میں نے رسولِ اکرم ﷺ کا یہ ارشاد سنا ہے:
"جس نے کسی کی ایک بالشت زمین بھی ناجائز طور پر اپنے قبضے میں لی، قیامت کے دن ساتوں زمینوں کا طوق اس کے گلے میں ڈالا جائے گا۔"
اس کے بعد دربار الٰہی میں عرض پر دار ہوئے:
"الٰہی! تو جانتا ہے کہ میں بےگناہ ہوں، میں نے اس عورت پر کوئی ظلم نہیں کیا، الٰہی! تو جانتا ہے کہ وہ جھوٹی ہے اور اسے اس کے جھوٹ کی یہ سزا دے کہ اندھا کر کے کنویں میں گرا جس سے لوگوں کے سامنے یہ بات واضح ہو جائے کہ میں نے اس عورت پر کوئی ظلم نہیں کیا ہے۔"
تھوڑے ہی عرصے بعد وادی عتیق میں زبردست سیلاب آیا، ایسا سیلاب پہلے کبھی نہ آیا تھا، اس سیلاب سے وہ حد بندی واضح ہوگئی جو دونوں کے درمیان باعث نزاع تھی، مسلمانوں پر یہ بات واضح ہوگئی کہ حضرت سعید رضی اللہ عنہ سچے ہیں، اس کے ایک ماہ بعد وہ عورت اندھی ہوگئی، ایک دن وہ اپنی زمین میں چل پھر رہی تھی کہ اچانک کنوئیں میں گر کر ہلاک ہوگئی۔
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہم بچپن میں یہ بات سنا کرتے تھے کہ ایک شخص غصے کی حالت میں میں دوسرے کو کہتا: "تجھے اللہ اسی طرح اندھا کرے جس طرح ارویٰ نامی عورت کو اندھا کیا تھا۔" یہ کوئی تعجب خیز بات نہیں۔
رسول اللہ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے:
"مظلوم کی آہ سے بچو، کیونکہ مظلوم اور اللہ تعالیٰ کے درمیان کوئی پردہ حائل نہیں ہوتا۔"
بھلا ایسا کیوں نہ ہوتا جبکہ مظلوم حضرت سعید بن زید رضی اللہ عنہ جیسی وہ عظیم شخصیت تھی جو کہ اُن خوش نصیب دس صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سے ہیں جنہیں زندگی میں جنت کی بشارت دے دی گئی تھی۔حضرت سعید بن زید رضی اللہ عنہ کے مفصل حالاتِ زندگی معلوم کرنے کے لئے درج ذیل کتابوں کا مطالعہ کریں:
1۔ طبقات ابن سعد: 275/3
2۔ تھذیب ابن عساکر: 127/6
3۔ صفۃ الصفوۃ: 141/1
4۔ حلیۃ الاولیاء: 95/1
5۔ الریاض النضرۃ: 302/2
جاری ہے...!!!
تالیف: ڈاکٹر عبد الرحمن رافت الباشا
ترجمہ: محمود احمد غضنفر
12/11/2024
سـلـسـلہ قـــرآن کـی عـظـمـتـیـں اور اس کـے مـعـجـزے ♥
قـسـط نـمـبـر ②
☜ ابـتـدائـیـہ
★قرآن سابقہ کتب سماویہ کا مصداق اورنگران ہے★
اللہ تعالیٰ فرماتے ہے...!
وَأَنزَلْنَا إِلَيْكَ الْكِتَابَ بِالْحَقِّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهِ مِنَ الْكِتَابِ وَمُهَيْمِنًا عَلَيْهِ
اور ہم نے آپ کی طرف بامقصد کتاب اتاری ہے جو سابقہ کتابوں کی تصدیق کرنے والی اور ان کے مضامین کی نگران ونگہبان ہے۔‘‘[1]
قرآن نگران ونگہبان اس لیے ہے کہ (ا) دین کے اصول وکلیات تمام کتبِ سماوی اور آسمانی تعلیمات میں یکساں اور مشترک ہیں، چنانچہ فرمایا:-
﴿ شَرَعَ لَكُم مِّنَ الدِّينِ مَا وَصَّىٰ بِهِ نُوحًا وَالَّذِي أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ وَمَاوَصَّيْنَا بِهِ إِبْرَاهِيمَ وَمُوسَىٰ وَعِيسَىٰ ۖ أَنْ أَقِيمُوا الدِّينَ وَلَا تَتَفَرَّقُوا فِيهِ﴾
’’تمھارے لیے وہی دین مقرر کیا ہے جس کا حکم اس نے نوح ( علیہ السلام ) کو دیا تھا اور جس کی وحی ہم نے آپ کی طرف کی ہے اور جس کی تاکید ہم نے ابراہیم، موسٰی اور عیسٰی ( علیہم السلام ) کو کی تھی، یہ کہ تم دین کو قائم کرو اور اس میں پھوٹ نہ ڈالو۔‘‘[2]
نیز فرمایا:-
﴿ إِنَّ هَـٰذِهِ أُمَّتُكُمْ أُمَّةً وَاحِدَةً﴾
’’(بلاشبہ تمھارا) دین ، ایک ہی دین ہے۔‘‘[3] یعنی تمھاری یہ امت ایک ہی امت ہے۔
(ب) قرآن سے پہلی کتب اور صحیفے اپنے اپنے وقت کے لیے تھے اور اس کا ایک حصہ تھے،
چنانچہ فرمایا:-
﴿ أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ أُوتُوا نَصِيبًا مِّنَ الْكِتَابِ يُدْعَوْنَ إِلَىٰ كِتَابِ﴾
’’کیا آپ نے ان لوگوں کے حال پر غور نہیں فرمایا جنھیں کتاب کا کچھ حصہ دیا گیا تھا، انھیں اللہ کی (پوری) کتاب کی طرف بلایا جاتا ہے۔‘‘[4]
یہ صحیفے ایک خاص وقت تک محفوظ رہے مگر بعد ازاں محفوظ نہ رہ سکے اور تحریف وتغیر کا شکار ہو گئے۔
(ج) قرآن دائمی صحیفہ اور آخری کتاب ہے، اس میں دین کے تمام اصول وضوابط کامل شکل میں پوری طرح آگئے ہیں۔ اسی لیے فرمایا:-
﴿ الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا﴾
’’آج کے دن میں نے تمھارے لیے تمھارا دستورِ زندگی مکمل کر دیا اور اپنی نعمت (شریعت) تم پر پوری کر دی اور تمھارے لیے اسلام کو بطور ضابطۂ حیات پسند کر لیا۔‘‘[5]
اللہ تعالیٰ نے اس کی حفاظت کی ذمہ داری بھی خود لی ہے، ارشادِ باری ہے:-
﴿ إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ﴾
’’بے شک (یہ) ذکر (قرآن) ہم ہی نے اتارا ہے اور ہم ہی اس کے محافظ ہیں۔‘‘[6]
قرآن مجید وہ آئینہ ہے جس میں مختلف عقائد، افکار وخیالات، متفرق اخلاق واعمال اور سیرت وکردار کے لوگ اپنا اپنا چہرہ دیکھ سکتے ہیں اوراس کسوٹی ومیزان پر اپنی جانچ پڑتال کر سکتے ہیں۔ اس میں کہیں اشارتاً کہیں صراحتاً، کہیں سابقہ اقوام و افراد کے حالات کے پیرائے میں اور کہیں براہِ راست قرآن کے مخاطب افراد کا تذکرہ موجود ہے۔ فرمانِ باری تعالیٰ ہے:-
﴿ لَقَدْ أَنزَلْنَا إِلَيْكُمْ كِتَابًا فِيهِ ذِكْرُكُمْ ۖ أَفَلَا تَعْقِلُونَ ﴾
’’بلاشبہ ہم نے تمھاری طرف ایک کتاب نازل کی ہے جس میں تمھارا ہی تذکرہ ہے تو کیا تم عقل نہیں رکھتے ؟‘‘[7]
امام ابوعبداللہ محمد بن نصر مروزی ( 294-202ھ) نے اپنی کتاب ’’ قیام اللیل‘‘ میں عظیم تابعی اور حلم وبردباری میں ضرب المثل سردار احنف بن قیس کا ایک عبرت انگیزاور سبق آموز واقعہ بیان کیا ہے جس سے اس آیت کے سمجھنے میں مدد ملتی ہے اور سلف کے زاویۂ نگاہ اور تدبّرِ قرآن کے اسلوب پر روشنی پڑتی ہے۔ حضرت احنف بن قیس ایک جگہ تشریف فرما تھے کہ انھیں یہ آیت سُنائی دی:-
﴿ لَقَدْ أَنزَلْنَا إِلَيْكُمْ كِتَابًا فِيهِ ذِكْرُكُمْ ۖ أَفَلَا تَعْقِلُونَ ﴾
’’بلاشبہ ہم نے تمھاری طرف ایک کتاب نازل کی ہے، اس میں تمھارا ہی تذکرہ ہے،
کیا پھر بھی تم نہیں سمجھتے؟‘‘ [8]
یہ آیت سن کر وہ چونک پڑے اور فرمایا: ذرا قرآن مجید لاؤ، میں اس میں اپنا تذکرہ تلاش کروں اور دیکھوں کہ میں کس درجے میں ہوں،کن لوگوں کے ساتھ ہوں اور مجھے کن سے مماثلت یا مشابہت ہے؟ قرآن مجید میں کچھ لوگوں کا تذکرہ ان الفاظ میں آیا ہے:-
﴿ يَبِيتُونَ لِرَبِّهِمْ سُجَّدًا وَقِيَامًا﴾
’’وہ (لوگ جو) اپنے رب کے حضور سجدے اور قیام کر کے رات گزارتے ہیں۔‘‘[9]
پھر انھوں نے قرآن میں ان لوگوں کا تذکرہ پڑھا جو راتوں کو اپنے بستروں سے الگ ہو کر اپنے رب کو خوف اور امید سے پکارتے ہیں۔ اور وہ لوگ بھی سامنے آئے جو راتوں کو تھوڑا سا سوتے ہیں اور سحری تک اپنے اللہ سے استغفار کرتے ہیں۔ اسی طرح اللہ کی راہ میں خرچ کرنے والوں، اپنے آپ پر دوسروں کو ترجیح دینے والوں اور کبیرہ گناہوں، فواحش ومنکرات سے بچنے والوں کا تذکرہ پڑھ کر کہنے لگے: ’’میرا تو ان لوگوں میں شمار نہیں ہے۔‘‘
پھر ورق گردانی کی تو قرآن میں کلمے کا انکار اور تکبر کرنے والوں اور اللہ وحدہ لاشریک کے ذکر سے ناخوش اور بتوں کی یاد سے خوش ہونے والوں، بے نمازوں، کھانا نہ کھلانے والوں اور قیامت کا انکار کرنے والوں کا ذکر پڑھ کر فرمانے لگے: ’’اے اللہ! ان لوگوں سے تیری پناہ! میں ان لوگوں سے بری ہوں۔‘‘
اب وہ اپنے تذکرے کی تلاش میں قرآن پڑھتے پڑھتے ان آیات پر رُک گئے:-
﴿ وَآخَرُونَ اعْتَرَفُوا بِذُنُوبِهِمْ خَلَطُوا عَمَلًا صَالِحًا وَآخَرَ سَيِّئًا عَسَى اللّٰهُ أَن يَتُوبَ عَلَيْهِمْ ۚ إِنَّ اللّٰهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ ﴾
’’اور کچھ دیگر لوگ ہیں جنھوں نے اپنے گناہوں کا اعتراف کیا اور ملے جلے عمل کیے،
کچھ اچھے اور کچھ برے۔ امید ہے اللہ ان پر رحمت کے ساتھ توجہ فرمائے گا۔ بلاشبہ اللہ بخشنے والا، نہایت مہربان ہے۔‘‘[10]
اس موقع پر ان کی زبان سے بے ساختہ نکلا: ’’ہاں! ہاں! بے شک یہی میرا تذکرہ ہے۔‘‘ [11]
قرآن مجید ایک مُعْجِز (عاجز کردینے والی)کتاب ہے:
قرآن کریم نے اپنے معجِز ہونے کا دعوی کیا ہے اور ان لوگوں کو دعوت مقابلہ دی ہے جو اس کے کتابِ الٰہی ہونے کا انکار یا اس میں شک وشبہے کا اظہار کرتے ہیں۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
﴿ قُل لَّئِنِ اجْتَمَعَتِ الْإِنسُ وَالْجِنُّ عَلَىٰ أَن يَأْتُوا بِمِثْلِ هَـٰذَا الْقُرْآنِ لَا يَأْتُونَ بِمِثْلِهِ وَلَوْ كَانَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ ظَهِيرًا ﴾
’’(اے نبی!) فرما دیجیے: اگر سارے انسان اور سارے جن مل کر بھی چاہیں کہ اس جیسا قرآن لے آئیں تب بھی اس طرح کا نہیں لا سکیں گے، چاہے وہ ایک دوسرے کی مدد کریں۔‘‘[12]
پھر اس میں تخفیف کرتے ہوئے فرمایا:-
﴿ أَمْ يَقُولُونَ افْتَرَاهُ ۖ قُلْ فَأْتُوا بِعَشْرِ سُوَرٍ مِّثْلِهِ مُفْتَرَيَاتٍ وَادْعُوا مَنِ اسْتَطَعْتُم مِّن دُونِ اللّٰهِ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ ﴿١٣﴾ فَإِلَّمْ يَسْتَجِيبُوا لَكُمْ فَاعْلَمُوا أَنَّمَا أُنزِلَ بِعِلْمِ اللّٰهِ ﴾
’’کیا وہ کہتے ہیں: اس نے قرآن گھڑ لیا ہے؟ فرما دیجیے: اگر تم سچے ہو تو دس سورتیں اس جیسی (گھڑی ہوئی) لے آؤ، اور اللہ کے سوا جن جن کو بلا سکتے ہو بلا لو، پھر اگر یہ تمھاری بات نہ مانیں تو یقین کر لو کہ یہ (قرآن) صرف اللہ کا علم لے کر اترا ہے۔‘‘[13]
مزید تخفیف کرتے ہوئے فرمایا:-
﴿ أَمْ يَقُولُونَ افْتَرَاهُ ۖ قُلْ فَأْتُوا بِسُورَةٍ مِّثْلِهِ وَادْعُوا مَنِ اسْتَطَعْتُم مِّن دُونِ اللّٰهِ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ﴾
’’کیا یہ لوگ کہتے ہیں: اس نے اسے (یونہی ) جھوٹ مُوٹ بنا لیا ہے؟ فرما دیجیے: اگر تم سچے ہو تواس جیسی ایک سورت ہی لے آؤ اور اللہ کے سوا جن کو بلا سکتے ہو بلا لو۔‘‘[14]
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے جس قدر انبیاء اور رسل گزرے ہیں، ان سب کو اللہ تعالیٰ نے ایسے ایسے معجزات سے نوازا تھا جو ان کی نبوت ورسالت کی دلیل بن سکتے تھے۔ چونکہ ان کی نبوت ورسالت ایک محدود وقت اور ایک مخصوص قوم کے لیے ہوتی تھی، اس لیے ان کے معجزات ان کے ہاتھوں ظاہر ہوتے اور ان کے ساتھ ہی ختم ہو جاتے تھے۔ لیکن حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت ورسالت چونکہ عالمگیر اور دائمی ہے، یعنی جب تک یہ دنیا قائم ہے، آپ کی رسالت برقرار رہے گی، اس لیے آپ کو ایسا معجزہ دیا گیا جو قیامت تک باقی رہنے والا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:-
((مَا مِنَ اْلأَنْبِیَآئِ نَبِيٌّ إِلَّا أُعْطِيَ مِنَ الْآیَاتِ مَا مِثْلُہٗ آمَنَ عَلَیْہِ الْبَشَرُ، وَإِنَّمَا کَانَ الَّذِی أُوتِیتُہٗ وَحْیًا أَوْحَاہُ اللّٰہُ إِلَيَّ))
’’ہر نبی کو ایسا معجزہ دیا گیا جس کی بنا پر لوگ ایمان لا سکتے تھے اور جو معجزہ مجھے دیا گیا ہے، وہ ایک ایسی وحی ہے جو اللہ تعالیٰ نے میری طرف کی ہے۔‘‘[15]
اس لیے جب آپ سے معجزات کا مطالبہ کیا گیا تو یہ ارشادِ باری تعالیٰ نازل ہوا:-
﴿ أَوَلَمْ يَكْفِهِمْ أَنَّا أَنزَلْنَا عَلَيْكَ الْكِتَابَ يُتْلَىٰ عَلَيْهِمْ ۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَرَحْمَةً وَذِكْرَىٰ لِقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ﴾
’’کیا (یہ بطور نشانی) ان کے لیے کافی نہیں ہے کہ ہم نے آپ پر (کامل) کتاب اتاری ہے جو ان کو پڑھ کر سنائی جاتی ہے؟ بے شک اس میں ان لوگوں کے لیے رحمت اور یاد دہانی (نصیحت) ہے جو ایمان رکھتے ہیں۔‘‘[16]
اہلِ کتاب اور مشرکین کو قرآن کا مثل لانے کا چیلنج دیا گیا، پھر یہ چیلنج دس سورتوں تک محدود کر دیا، پھر صرف ایک ہی سورت کا مثیل لانے کا چیلنج دیا۔ حق یہ ہے کہ کوئی کلام یا کتاب قرآن یا اس کی کسی سورت کی مثل اس وقت تک نہیں ہو سکتی جب تک اس کے اعجاز کے تمام پہلوؤں اور اس کی تمام خصوصیات کی حامل نہ ہو۔ قرآن صرف اپنے الفاظ وتراکیب، فصاحت وبلاغت ہی کے اعتبار سے معجزہ نہیں ہے بلکہ یہ جس طرح اپنے الفاظ وتراکیب اور فصاحت وبلاغت میں لاثانی، بے مثل اور معجزہ ہے، اسی طرح اپنے معانی ومضامین، اپنے بلند پایہ حقائق ومعارف، اپنی غیبی معلومات، حقائقِ ابدی اور اپنی پیش کی ہوئی دینی، اخلاقی، معاشی، معاشرتی اور مدنی واجتماعی تعلیمات میں بھی سراسر معجزہ ہے حتیٰ کہ اپنے اثرات ونتائج، انقلاب انگیزی اور پیش گوئیوں میں بھی لاجواب ہے۔ اگر صرف الفاظ اور تراکیب میں، جو اس کے اعجاز کا محض ایک پہلو ہے، اس کا کوئی مقابلہ نہیں کر سکا تو اس کے اعجاز کے تمام پہلوؤں کا مقابلہ بھلاکس کے بس کی بات ہے...!
[1]المآئدۃ48:5
[2] الشورٰی13:42
[3] الأنبیآء92:21
[4] آل عمران23:3
[5] المآئدۃ 3:5
[6] الحجر 9:15
[7] الأنبیآء 10:21
[8] الأنبیآء 10:21
[9] الفرقان 64:25
[10] التوبۃ 102:9
[11] تفصیل کے لیے دیکھیے مختصر قیام اللیل 66-64
[12] بني إسرآئیل 88:17
[13] ہود 14,13:11
[14] یونس 38:10
[15] صحیح البخاري، فضائل القرآن، باب کیف نزل الوحي…، حدیث:4981
[16] العنکبوت51:29