07/01/2018
Mahmooda Syedan
Matmi Dasta Bawa Syed Sakhi Zaman Ali Kazmi
Al Musvi Motian Wali Sarkar Mahmoda Syedan
07/01/2018
07/06/2016
بلا عنوان
آج قریب 1 بجے دن میں چلچلاتی دھوپ میں راولپنڈی سے موٹر سائیکل پرگاؤں کی طرف جا رہا تھا کہ جب میں کچہری چوک کے قریب پہنچا تو وہاں ایک لگژری ائر کنڈیشنڈ بس چوک میں کھڑی تھی اور لوگ اس میں سوار ہو رہے تھے۔ بس کے فرنٹ پر راولپنڈی تا کلرسیداں لکھا تھا اور بس کے پیچھے ایک تحریر لکھی نظر آئی
"چوہدری نثار علی خان تیرا شکریہ"
میں حیرت اور تجسس کے سمندر میں ڈوب گیا کہ اتنی وی آئی پی لوکل بس سروس میں نے اس سے قبل کبھی پنڈی میں نہیں دیکھی اور بس کی پشت پر لکھی تحریر بھی میں نہ سمجھ سکا۔
بے ساختہ موٹر سائیکل سائیڈ پر کھڑا کرکے میں بھی بس میں سوار ہو گیا جیسے ہی میں بس میں داخل ہوا تو شدید گرمی میں ایک خوشگوار ٹھنڈک کا احساس ہوا ۔ بس میں بیٹھےایک بوڑھے مسافر سے میں نے مارے تجسس کے پوچھا کہ بابا جی یہ بس سروس کس کی ہے تو وہ فورا بولا کہ ہم وزیر داخلہ صاحب کے حلقہ انتخاب میں رہتے ہیں ۔ اور چوہدری صاحب نے ہمارے لیے خصوصی طور پر یہ ٹھنڈی بس چلائی ہے کہ ہمیں گرمی نہ لگے اور یہ سروس ہر آدھے گھنٹے کے بعد راجہ بازار سے نکلتی ہر اور ٹھیک 35 منٹ میں ہمیں کلر سیداں پہنچا دیتی ہے جبکہ یہ سروس چلنے سے پہلے ٹیوٹا ڈیڑھ گھنٹہ لگاتا تھا اور گرمی میں ہمارا برا حال ہو جاتا تھا۔
مسافر کا یہ برجستہ جواب سن کر مجھ پر سکتے کی سی کیفیت طاری ہو گئی اور میں مسافر کو بغیر کوئی جواب دئے بس سے نیچے اتر آیا۔
شدید حبس اور گرمی میں موٹر سائیکل چلاتے ہوئے میں راستے میں اس مسافر
کی ہی بات پر غور کرتا رہا اور جب میں چوہدری نثار صاحب کے آبائی گاؤں چکری کے قریب پہنچا تو ایک ٹیوٹا ہائی ایس چکری اڈا پر کھڑی تھی جو مسافروں سے کچھا کچھ بھری ہوئی تھی اور 18 سیٹر گاڑی میں کم از کم 25 افراد سوار تھے اور شدید دھوپ میں کم از کم اتنے ہی مسافر اس کی چھت اور سیڑھی پر بھی لٹکے ہوئے تھے جن میں بچے اور بوڑھے بھی شامل تھے۔
یہ افسوس ناک منظر دیکھ کر مجھے رہ رہ کر کلر سیداں کے اس بوڑھے مسافر کی بات یاد آنے لگی۔
اس دوران ایک اور بوڑھا شخص کچھ سامان اٹھائے گاڑی کی طرف لپکا میں نے بابا جی کو روک کر پوچھا کہ گاڑی میں تو جگہ ہی نہیں ہے آپ کہاں بیٹھیں گے تو بابا جی بولے کہ بیٹا مجبوری ہے دوسری گاڑی پتا نہیں کس ٹائم آئے گی اور جو گاڑی آئے گی وہ بھی اسی طرح بھری ہوئی ہو گی میرا پوتا ہسپتال میں داخل ہےاور میں نے جلدی پنڈی پہنچنا ہے اس دوران گاڑی پنڈی کی طرف چل پڑی اور بابا جی بمشکل دوڑ کر گاڑی کے پیچھے لمک گئے۔
گاڑی اپنے سفر پر گامزن ہو گئی اور میں کتنی ہی دیر وہاں کھڑا سوچتا رہا ۔
اور پھر میں سر جھٹک کر دوبارہ موٹر سائیکل پر سوار ہو گیا اور چکری روڈ کے کھڈوں سے بچتا بچاتا گھر کی طرف روانہ ہو گیا۔
چکری گاؤں کراس کرتے ہوئے سڑک کنارے آویزاں ایک بینر پر نظر پڑی جس پر لکھا تھا۔ "چوہدری نثار علی خان تیری عظمت کو سلام"
06/09/2015
06/09/2015
Bawa Syed Anyait Hussain Shah
06/09/2015
Peer Syed Iltaf Hussain Shah
06/09/2015
Syed Tanveer Asghar (late)
06/09/2015
Geo Chacha Sadique
06/09/2015
06/09/2015
Pola shah jeo murshad
06/09/2015
Bawa Syed Toqeer Shah
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Website
Address
P/o Chak Beli Khan
Rawalpindi