بیشک دلوں کا سکون اللّٰہ کے کلام میں ہے
Iqra online quran academy
i provide for online Quran tutor
سات سو سال قبل لکھی گئی ابن خلدون کی تحریر گویا مستقبل کے تصور کا منظر نامہ ہے:
“مغلوب قوم کو ہمیشہ فاتح کی تقلید کا شوق ہوتا ہے، فاتح کی وردی اور وردی پر سجے تمغے، طلائی بٹن اور بٹنوں پر کنندہ طاقت کی علامات، اعزازی نشانات، اس کی نشست و برخاست کے طور طریقے، اس کے تمام حالات، رسم و رواج ، اس کے ماضی کو اپنی تاریخ سے جوڑ لیتے ہیں، حتیٰ کہ وہ حملہ آور فاتح کی چال ڈھال کی بھی پیروی کرنے لگتے ہیں، اور اس کی وجہ یہ ہے کہ لوگ جس طاقتور سے شکست کھاتے ہیں اس کی کمال مہارت پر آنکھیں بند کر کے یقین رکھتے ہیں۔
محکوم معاشرہ اخلاقی اقدار سے دستبردار ہو جاتا ہے ، ظلمت کا دورانیہ جتنا طویل ہوتاہے، ذہنی و جسمانی طور پر محکوم سماج کا انسان اتنا ہی جانوروں سے بھی بدتر ہوجاتا ہے،ایک وقت آتاہے کہ محکوم صرف روٹی کے لقمے اورجنسی جبلت کے لیے زندہ رہتاہے
جب ریاستیں ناکام اور قومیں زوال پذیر ہوتی ہیں تو ان میں نجومی،بھکاری، منافق، ڈھونگ رچانے والے چغل خور، کھجور کی گٹھلیوں کے قاری، درہم و دینار کے عوض فتویٰ فروش فقہیہ، جھوٹے راوی، ناگوار آواز والے متکبر گلوکار، بھد اڑانے والے شاعر، غنڈے، ڈھول بجانے والے، خود ساختہ حق سچ کے دعویدار، زائچے بنانے والے، خوشامدی، طنز اور ہجو کرنے والے، موقع پرست سیاست دانوں اور افواہیں پھیلانے والے مسافروں کی بہتات ہوجاتی ہے ۔
ہر روز جھوٹے روپ کے نقاب آشکار ہوتے ہیں مگر یقین کوئی نہیں کرتا ، جس میں جو وصف سرے سے نہیں ہوتا وہ اس فن کا ماہر مانا جاتا ہے، اہل ہنر اپنی قدر کھو دیتے ہیں، نظم و نسق ناقص ہو جاتا ہے، گفتار سے معنویت کا عنصر غائب ہوجاتا ہے ، ایمانداری کو جھوٹ کے ساتھ، اور جہاد کو دہشت گردی کے ساتھ ملا دیا جاتا ہے۔
جب ریاستیں برباد ہوتی ہیں، تو ہر سو دہشت پھیلتی ہے اور لوگ گروہوں میں پناہ ڈھونڈنے لگتے ہیں، عجائبات ظاہر ہوتے ہیں اور افواہیں پھیلتی ہیں، بانجھ بحثیں طول پکڑتی ہیں، دوست دشمن اور دشمن دوست میں بدل جاتا ہے، باطل کی آواز بلند ہوتی ہے اور حق کی آواز دب جاتی ہے، مشکوک چہرے زیادہ نظر آتے ہیں اور ملنسار چہرے سطح سے غائب ہو جاتے ہیں، حوصلہ افزا خواب نایاب ہو جاتے ہیں اور امیدیں دم توڑ جاتی ہیں، عقلمند کی بیگانگی بڑھ جاتی ہے، لوگوں کی ذاتی شناخت ختم ہوجاتی ہے اور جماعت، گروہ یا فرقہ ان کی پہچان بن جاتے ہیں۔
مبلغین کے شور شرابے میں دانشوروں کی آواز گم ہو جاتی ہے۔ بازاروں میں ہنگامہ برپا ہو جاتا ہے اور وابستگی کی بولیاں لگ جاتی ہیں، قوم پرستی، حب الوطنی، عقیدہ اور مذہب کی بنیادی باتیں ختم ہو جاتی ہیں اور ایک ہی خاندان کے لوگ خونی رشتہ داروں پر غداری کے الزامات لگاتے ہیں
بالآخر حالات اس نہج پر پہنچ جاتے ہیں کہ لوگوں کے پاس نجات کا ایک ہی منصوبہ رہ جاتا ہے اور وہ ہے "ہجرت"، ہر کوئی ان حالات سے فرار اختیار کرنے کی باتیں کرتا ہے، تارکین وطن کی تعداد میں اضافہ ہونے لگتا ہے، وطن ایک سرائے میں بدل جاتا ہے، لوگوں کا کل سازو سامان سفری تھیلوں تک سمٹ آتا ہے، چراگاہیں ویران ہونے لگتی ہیں، وطن یادوں میں، اور یادیں کہانیوں میں بدل جاتی ہیں۔”
منقول
مقدمہ ابن خلدون سے...
ابن خلدون خدا آپ پر رحم کرے! کیا آپ ہمارے مستقبل کی جاسوسی کر رہے تھے؟ آپ سات صدیاں قبل وہ دیکھنے کے قابل تھے جو ہم آج تک دیکھنے سے قاصر ہیں!
اس شخص کی قرآن مجید سے محبت دیکھیں
اگر ہمیں اپنی آزادی سے کوئی غرض نہیں تو عالمی برادری یا کسی طاقت کو ہماری آزادی سےکیا غرض ہو سکتی ہے ؟
قومیں آزادی کا ماحول بناتی ہیں تبھی دنیا کی توجہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوتی ہیں ۔ درست وقت پہ درست سمت میں آگے بڑھنا اور پوری قوت سے آواز بلند کرنا محکوم قوموں اور انکی آزادی کے لیے نبرد آزما انکی تنظیموں کی بنیادی ذمہ داری ہوتی ہے۔ اپنی صفوں میں اور اپنے ذہنوں میں کسی قسم کی مایوسی اور ناامیدی کو جگہ مت دیجئے ۔ آگے بڑھیے ، بڑھتے رہیے اور آخری فتح کے حصول تک جدوجہد جاری رکھیے۔ جدوجہد میں ہی ہمارا اجتماعی مفاد اور قومی وقار پوشیدہ ہے ۔
22 جولائی کو اپنے گھروں سے نکل کر ریاست کی وحدت کی بحالی اور آزادی کے لیے آواز بلند کیجیے ۔
22 جولائی کو تیتری نوٹ پہنچیے اور اپنا فرض ادا کیجئیے ۔
22 جولائی کو یسین ملک اور اسیران وطن کی آواز میں آواز ملائیے
22 جولائی کو زندہ اور قربانیوں کی وارث قوم بن جائیے۔
22 جولائی کو مٹی سے محبت کا اظہار کیجئیے ۔
22 جولائی کو اپنی آنے والی نسلوں کے تحفظ کیلئے ایسے نکلیے جیسے کسی باغیرت قوم کے نکلنے کا حق ہوتا ہے ۔
آپ کی شرکت کے منتظر ۔۔۔
آپ کے بھائی ، بیٹے، بہنیں ،بیٹیاں
جموں کشمیر لبریشن فرنٹ و سٹوڈنٹس لبریشن فرنٹ
#22جولائی
20/06/2022
Please like and share
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Contact the school
Telephone
Website
Address
Rawalpindi
29/01/2023