Darul Hikmatul Khalidiyya - دارالحکمة الخالديه

Darul Hikmatul Khalidiyya - دارالحکمة الخالديه دارالحکمة الخالديه

کتاب: استعراج نفس8.10   حلوے کا تھال  –  توکّل اور عجز ثمر آفریں ہیںایک شیخ اپنی سخاوت کی وجہ سے اکثر مقروض رہتے تھے۔ وہ...
20/08/2026

کتاب: استعراج نفس
8.10 حلوے کا تھال – توکّل اور عجز ثمر آفریں ہیں

ایک شیخ اپنی سخاوت کی وجہ سے اکثر مقروض رہتے تھے۔ وہ مالداروں سے قرضے لیتے اور غریبوں مسکینوں پر خرچ کر دیتے۔ انہوں نے اپنی خانقاہ کی تعمیر میں اپنا گھر بار بھی فروخت کر دیا۔ اللہ تعالٰی ان کا قرض کسی نہ کسی ذریعے سے اتارنے کا سبب کر دیتا۔
نبی پاکؐ نے فرمایا کہ بازاروں میں دو فرشتے دل سے دعا کرتے ہیں کہ یا اللہ خرچ کرنےوالےکو اور دے اور بخیلوں کو ہلاکت دے۔ اللہ تعالٰی مال خرچ کرنے والے کو بڑھا چڑھا کر مال عطا کرتا ہے۔ اور اللہ کے رستے میں گلہ (گردن) دینے والے کو یعنی جان دینے والے کو کئی جانیں عطا کرتا ہے،اسی لئے شہید ہمیشہ زندہ اور خوش و خرم رہتے ہیں۔
جب ان کی آخری عمر آ گئی اور بستر مرگ پر پڑے تھے تو قرض خواہوں کی کثیر تعداد ان کے بستر کے گرد بیٹھے اپنے اپنے قرض کا مطالبہ کر رہے تھے۔ وہ نا امید اور ناراض تھے کہ اگر شیخ وفات پا گئے تو ان کا قرض کیسے وصول ہو گا۔ شیخ نے فرمایا کہ ان بد گمانوں کو دیکھو، کیا اللہ تعالٰی کے پاس چار سو دینار بھی نہیں ہیں جو ان قرض خواہوں کا کل مطالبہ ہے۔
اتنے میں باہر سے ایک حلوہ بیچنے والے بچے نے آواز لگائی کہ بادام کا خوشبو دار حلوہ لے لو۔ شیخ نے اپنے خادم کو ہاتھ سے اشارہ کیا کہ لڑکے سے سارا حلوہ خرید لو۔ خادم نے آدھے دینار میں سارے تھال کا سودا کیا اور تھال اٹھا کر اندر لے آیا۔ شیخ نے وہ حلوہ سارے قرض خواہوں کو پیش کیا۔
سب نے خوب پیٹ بھر کر حلوہ کھایا۔ جب تھال خالی ہو گیا تو اس حلوہ فروش لڑکے نے اپنے آدھے دینار کا مطالبہ کیا۔ خادم نے شیخ کی طرف سے بتایا کہ ہمارے پاس تو ابھی پیسے نہیں ہیں۔ ایسے میں لڑکے نے چِلاّنا شروع کر دیا کہ ہائے میں تو مارا گیا۔ میرا استا د مجھے بہت مارے گا کہ سارا حلوہ بغیر پیسے لئے ضائع کر دیا۔ اس پر باقی قرض خواہ بھی چمگوئیاں کرنے لگ گئے کہ پیسے نہیں تھے تو حلوہ کیوں خریدا۔ البتہ شیخ اس تمام شور سے الگ تھلگ بالکل خاموش اور پر سکون تھے اور ان کی نظر اللہ تعالٰی کے خزانوں کی طرف تھی۔ ایسے ہی جیسے آسمان پر چمکتا چاند زمین پر بھونکنے والے کتوں کی آواز سے بالکل بے نیاز ہوتا ہے۔
تھوڑی دیر بعد باہر دروازے پر دستک ہوئی اور ایک امیر آدمی کا خادم شیخ کی خدمت میں پیش کرنے کے لئے ہدیہ کے طور پر ایک تھال لایا جس پر کپڑا پڑا تھا۔ شیخ نے وہ ہدیہ قبول کیا۔ خادم نے جب کپڑا اٹھایا تو اس میں چار سو دینار پڑے تھے۔ ساتھ ہی ایک کاغذ میں آدھا دینار بھی لپٹا ہوا تھا۔ یوں تمام قرض خواہوں اور حلوہ فروش لڑکے کو اپنی رقم وصول ہو گئی۔ یہ دیکھ کر تمام قرض خواہ حیران رہ گئے کہ یہ کیا معاملہ ہے۔ وہ سب گڑگڑائے کے اے شیخ ہمیں معاف کر دیجئیے ہم نے خواہ مخواہ آپ کے ساتھ جھگڑا کیا۔ ہم آپ کے راز سے واقف نہیں تھے۔
شیخ نے کہا میں نے وہ تمام لڑائی جھگڑا تمہیں معاف کر دیا ہے۔ اور سارے معاملے میں راز یہ تھا کہ جب تک وہ حلوہ فروش بچہ رویا نہیں اللہ کی رحمت نے جوش نہیں مارا۔ اے بھائی وہ حلوہ فروش بچہ تمہاری آنکھ ہے۔ جب تک آنکھ کا بچہ روتا نہیں تب رحمت الٰہی کو جوش نہیں آتا۔ ہمارا مقصد دل کے رونے پر مو فوت ہے۔ گڑگڑائے بغیر ہماری کامیابی مشکل ہے۔ اگر تو چاہتا ہے کہ تیری مشکلات حل ہو جائیں اور تیری محرومی کے کانٹے پھول بن جائیں تو پھر تو آنکھ کے بچے کو جسم کی ضرورت پر رُلا دے۔ یعنی رو کر عاجزی کے ساتھ اپنے رب سے اپنی ضروریات طلب کر۔

خلاصہ
اس حکایت میں حضرت مولانا رومیؒ ہمیں خرچ کرنے، توکّل کرنے اور اللہ تعالٰی کے حضور رونے اور عجز اختیار کرنے کی تلقین کرتے ہیں۔ ہمارے رونے اور عجز اختیار کرنے سے اللہ تعالٰی کی رحمت کا سمندر جوش میں آتا ہے اور ہمارے اوپر نوازشات کی بارش ہوتی ہے۔

These books are available for reading online or downloading from our website https://dhk.com.pk/publications/
, , , , ,
, , , , , , , , , , ,
, , , , , ,
#تصوف, #روحانیت,

Book: Short Sufi TalesTale  #014Time and Space  A stream flowed in a valley in between the mountains from north to south...
18/08/2026

Book: Short Sufi Tales
Tale #014
Time and Space

A stream flowed in a valley in between the mountains from north to south. The stream was wide and its water flowed at a fast speed.

There was also an echo and noise in the valley created by the flow of water.


Every day many trees broke from the ridges of the mountains fell down in the stream, and flowed with the water from north to south.

However; a big tree was standing firmly on the right shore of this stream. Every day this tree saw his broken fellow trees flowing from north to south but he himself stood independent and unharmed from the clutches of this stream.



Hints:

Stream
: This world.
Water flow
: The flow of time.
Width of stream
: Space.
North to south : The time frame of an

individual’s life.
Flowing in the stream

Standing outside : Being occupied in and by time and space.
the stream
: To rise above this grip of time and space.

These books are available for reading online or downloading from our website https://dhk.com.pk/publications/
, , , , ,
, , , , , , , , , , ,
, , , , , ,
#تصوف, #روحانیت,

کتاب: حکایت عثمانیحکایت نمبر 87.کالا چہرہ   ایک آدمی رات کو سویا تو کسی نے سوتے میں اس کے چہرے پر کالک مل دی۔ وہ صبح آٹھ...
16/08/2026

کتاب: حکایت عثمانی
حکایت نمبر 87.
کالا چہرہ
ایک آدمی رات کو سویا تو کسی نے سوتے میں اس کے چہرے پر کالک مل دی۔ وہ صبح آٹھ کر بازار چلا گیا۔ جس دکان پر جاتا لوگ اسے دیکھ کر ہنستے ، کچھ لوگ اس سے خوف بھی کھاتے۔

بعض لوگوں نے اس کو توجہ بھی دلائی کہ تمہارے چہرے پر کالک ملی ہوئی ہے اور تمہیں اس چہرے کو دھونے کی ضرورت ہے لیکن وہ ان کی باتوں کو مذاق ہی سمجھتا رہا۔

جیسے تیسے اس نے بازار میں اپنی ضرورت کی چیزیں خریدیں اور گھر واپس آ گیا۔ اسکو اپنے صحیح ہونے کا ادراک اس قدر گہرا تھا کہ اتنی زحمت بھی نہ کی کہ اپنے ہاتھ سے چہرے کو چھو کر ہی دیکھ لیتا کہ کیا واقعی کالک لگی ہے۔

وہ بدستور اپنے آپ کے صحیح ہونے کے زعم میں ہی رہا حتی کہ صبح سے شام ہو گئی اور وہ ایک دفعہ پھر سونے کے لیے بستر پہ لیٹ گیا۔

اشارہ: کسی آدمی کے صحیح ہونے کا معیا ر خود اس کی اپنی سوچ نہیں ہو سکتی بلکہ اس کو اپنے آپ کو کسی معیاری کسوٹی سے جانچنا چاہیے۔

These books are available for reading online or downloading from our website https://dhk.com.pk/publications/
, , , , ,
, , , , , , , , , , ,
, , , , , ,
#تصوف, #روحانیت,

Book: Short Sufi TalesTale  #013A Talking Car   A beautiful car reached Lahore at a thrilling speed of over one hundred ...
11/08/2026

Book: Short Sufi Tales
Tale #013
A Talking Car

A beautiful car reached Lahore at a thrilling speed of over one hundred kilometers.

Immediately upon arrival, the front seat of the car said, “Great! I have reached Lahore so comfortably and totally fresh.”

The dashboard was also in a boasting mood. It said, “I am clean and shining, absolutely no sign of traveling and tiredness on my face.”

Both the front seat and dashboard then started backbiting tires of the car. “What a dirty part of the car they are. They must have passed through mud and filth on the way to Lahore.”

When the tires heard this, they replied, “No doubt we have faced all kinds of difficult situations on the way to Lahore, and our bodies have become coated with mud and filth. But had we not suffered all this pain, how would you have both reached your destination sitting so neat and clean.”


The car driver with the car key in his hand listened to their conservation and laughed loudly.

Hint:

The people who possess knowledge of higher realities and have cosmic consciousness, respect all creatures, regardless of differences in their immediate ranks.

These books are available for reading online or downloading from our website https://dhk.com.pk/publications/
, , , , ,
, , , , , , , , , , ,
, , , , , ,
#تصوف, #روحانیت,

کتاب: حکایت عثمانیحکایت نمبر 86.بری صحبت  ایک امرود کی ٹہنی پر دو امرود کے پھل ساتھ ساتھ پیدا ہوئے۔ دیکھتے ہی دیکھتے صحت...
09/08/2026

کتاب: حکایت عثمانی
حکایت نمبر 86.
بری صحبت
ایک امرود کی ٹہنی پر دو امرود کے پھل ساتھ ساتھ پیدا ہوئے۔ دیکھتے ہی دیکھتے صحت مند پھل بن گئے۔ ان میں ایک امرود نہایت صاف ستھرا رہتا اور اپنے جسم پر کوئی میل مٹی پسند نہ کرتا۔ اس کے برعکس دوسرے امرود کو نہ صرف میل مٹی پسند تھی بلکہ اس نے کیڑوں سے بھی دوستی کر رکھی تھی۔
صاف امرود نے اپنے ساتھی امرود کو منع کیا کہ کیڑوں سے دوستی نہ بڑھاؤ یہ تمہاری اندرونی ذات کو فاسد کر دیں گے۔ بھلا کب وہ اپنے ساتھی کی بات ماننے کو تیار تھا ۔ اس نے کیڑوں سے دوستی نہ چھوڑی حتی کہ وہ اس کی ذات میں راہ بنانے میں کامیاب ہو گئے۔
جب پھل اتارنے کی باری آئی تو اس صاف امرود کو الگ رکھا گیا اور وہ بکتا ہوابادشاہ کے پھلوں کی ٹرے کی زینت بنا۔ دوسرے کیڑوں والے امرود کو ادھر ہی نیچے پھینک دیا گیا جہاں وہ کچھ ہی دنوں میں گل سڑ کر مٹی ہو گیا۔

اشارہ: صحبت صالح تر صالح کند صحبت طالع ترا طالع کند۔
نیکوں کی صحبت تمہیں نیک بناتی ہے اور بُروں کی صحبت تمہیں بُرا بناتی ہے
These books are available for reading online or downloading from our website https://dhk.com.pk/publications/
, , , , ,
, , , , , , , , , , ,
, , , , , ,
#تصوف, #روحانیت,

کتاب: استعراج نفس8.9 سپیرے کا سانپ  –  دعا قبول نہ ہونے کی حکمتایک چور نے ایک سپیرے کا سانپ اس کی پٹاری سمیت چوری کر لیا...
06/08/2026

کتاب: استعراج نفس
8.9 سپیرے کا سانپ – دعا قبول نہ ہونے کی حکمت
ایک چور نے ایک سپیرے کا سانپ اس کی پٹاری سمیت چوری کر لیا۔ چور کا خیال تھا کہ اس پٹاری میں کچھ خاص خزانہ ہے۔
سپیرا دعا کرتا رہا کہ کاش وہ اس چور کو پکڑ لے اور اپنا سانپ واپس لے لے۔ لیکن اس کی دعا قبول نہ ہوئی۔
کچھ دنوں بعد ایک شخص کو اس کے پاس لایا گیا جس کو سانپ نے ڈس لیا تھا اور وہ قریب المرگ تھا۔ اس شخص کو دیکھ کر سپیرے کو فوراً پتا لگ گیا کہ اسے اس کے سانپ نے ہی ڈسا ہے اور یہی شخص چور تھا۔
اللہ تعالٰی کی مصلحت یہی تھی کہ یہ چور اس سانپ سے ڈسا جائے اس لئے اس نے سپیرے کی سانپ کی واپسی کی دعا قبول نہ کی۔ سپیرے نے خدا کا شکر ادا کیا کہ اس کی دعا رد ہوئی اور وہ سانپ کے ڈسنے سے بچ گیا اور چور اس سانپ سے ڈسا گیا۔
خلاصہ
اس حکایت میں حضرت مولانا رومیؒ یہ سمجھانا چاہتے ہیں کہ ہماری دعاؤں کے قبول نہ ہونے میں کئی حکمتیں اور منفعتیں ہوتی ہیں جنہیں ہمارا ربّ ہی جانتا ہے.

These books are available for reading online or downloading from our website https://dhk.com.pk/publications/
, , , , ,
, , , , , , , , , , ,
, , , , , ,
#تصوف, #روحانیت,

Book: Short Sufi TalesTale  #012Ramu’s Tonga   Ramu had a horse of a smart breed. He had trained this horse to pull the ...
04/08/2026

Book: Short Sufi Tales
Tale #012
Ramu’s Tonga


Ramu had a horse of a smart breed. He had trained this horse to pull the cart, thus making it a source of income for his daily life.

Once Ramu told his horse that in England there occurs a horse race named the Derby. In this race many horses of smart breeds from around the world arrive and take part.


By listening to those words, the horse became more attentive to Ramu’s speech. Ramu continued, “The winning horse is awarded with a prize to the tune of millions of dollars.”

When the horse heard this, he became quiet for some time and then suddenly spoke out. “We horses neither know how to use money nor do we have any requirement for this money. What, then, is the use of this millions of dollars prize for the winning horse?”




Ramu replied, “Oh, you fool! Although that money is won by the horse, it is the owner of the horse who takes it over for his own use.”

Hint:

What one achieves out of his hard work should be of the nature that the person doing this hard work can also enjoy it. If that is not the case, it is only a futile exercise.

These books are available for reading online or downloading from our website https://dhk.com.pk/publications/
, , , , ,
, , , , , , , , , , ,
, , , , , ,
#تصوف, #روحانیت,

کتاب: حکایت عثمانیحکایت نمبر 85.گلاب کا پھول  ایک ویرانے میں گلاب کے پودے پر سرخ گلاب کا پھول کِھلا۔ گہری رنگت اور شاندا...
02/08/2026

کتاب: حکایت عثمانی
حکایت نمبر 85.
گلاب کا پھول
ایک ویرانے میں گلاب کے پودے پر سرخ گلاب کا پھول کِھلا۔ گہری رنگت اور شاندار مہک نے اس پھول کی جوانی کو چار چاند لگا دیے۔ وہ اپنے آپ میں تخلیق کا ایک کامل نمونہ تھا۔
لیکن اس ویرانے میں اسے دیکھنے اور سونگھنے والا کوئی نہ تھا اور یوں اسے تنہائی کا احساس ہونے لگا۔ اتفاق سے اپنی اس ڈالی پر بھی وہ اکیلا ہی پھول تھا۔ یہ داخلی اور خارجی تنہائی اسے شدت سے محسوس ہونے لگی۔
آہستہ آہستہ یہ تنہائی اور گہری ہوتی گئی۔ قریب تھا کہ وہ پھول اپنی فراق کی کیفیت کی حدت سے پتی پتی ہو کر گر جاتا کہ اچانک اس کے اندر ایک اور جان پیدا ہو گئی۔
اسے اپنے اندر سے آواز آئی کہ اس ہجر و فراق کا غم نہ کھا۔ تیرا وجود فقط ان پتیوں سے نہیں بلکہ تیری ایک مستقل حقیقت بھی ہے۔ عنقریب تم اپنا سرخ جامہ چا ک کر کے اپنی حقیقت کے ساتھ جا ملو گے۔

اشارہ: روحانی لوگوں کو اپنی تنہائی کے احساس کو حقیقت کے پا لینے تک احسن طریقے سے برداشت کرنا چاہیے۔

کتاب: استعراج نفس8.7 حضرت لقمانؑ  -  اللہ تعالٰی کی ذات سب سے دانا ہےحضرت لقمانؑ اپنے آقا کے سامنے باقی غلاموں سے کم درج...
30/07/2026

کتاب: استعراج نفس
8.7 حضرت لقمانؑ - اللہ تعالٰی کی ذات سب سے دانا ہے
حضرت لقمانؑ اپنے آقا کے سامنے باقی غلاموں سے کم درجے کے تھے۔ ان کے آقا نے غلاموں کو باغ سے میوے لانے کے لئے کہا۔ وہ باغ میں گئے اور خوب میوے کھائے اور کچھ آقا کے لئے بھی لے آئے۔ آکر انہوں نے شکایت کی کہ لقمانؑ نے آقا کے لئے لائے میووں میں سے بہت سے میوے کھا لئے ہیں۔ آقا کو غصّہ آیا اور لقمانؑ سے پوچھا کہ ایسا کیوں کیا۔ حضرت لقمانؑ نے کہا اے میرے آقا تو ہم سب کو گرم پانی پلا اور جنگل میں لے جا کر دوڑا اور خود پیچھے گھوڑے پر آ، تجھے خود ہی پتا چل جائے گا کہ میوے کس نے کھائے ہیں۔ آقا نے ایسا ہی کیا۔ گرم پانی پی کر ڈور نے سے ان سب کو قے آئی اور یوں آقا کو پتا چل گیا کہ لقمانؑ کی قے میں فقط پانی تھا جبکہ باقی غلاموں کی قے سے میوے نکلے۔
حضرت لقمانؑ کی دانائی کرشمہ دکھا سکتی ہے تو رب تعالیٰ کی حکمت کیا ہو گی۔ وہ ہم سب کی اصلیت اور کردار کو خوب جانتا ہے۔ کافر کو آگ کی سزا اس لئے ہے کہ پتھر کی آزمائش آگ سے ہی ہوتی ہے۔ ان کے دل پتھر کے ہیں کہ ان پر کوئی نصیحت اثر نہیں کرتی۔ خبیثوں کے لئے خبیث جوڑے ہی ہیں۔ بُرے کا جوڑا برا ہی ہے۔ پس اے انسان تو جو مرضی چاہے جوڑا بنا لے، جس رستے پر چلنا چاہے چل۔ تو پہچان لیا جائے گا اور تیرا ویسا ہی انجام کیا جائے گا۔
خلاصہ
اس حکایت میں حضرت مولانا رومیؒ اس بات کی طرف توجہ دلاتے ہیں کہ اللہ تعالٰی کی ذات انتہائی باریک بین ہے۔ وہ اچھے اور برے کو خوب پہچانتی ہے اور جیسے ہم ہیں ویسے ہی ہمارا انجام ہوگا۔

These books are available for reading online or downloading from our website https://dhk.com.pk/publications/
, , , , ,
, , , , , , , , , , ,
, , , , , ,
#تصوف, #روحانیت,

Book: Short Sufi TalesTale  #011 Tailor and Sewing Machine  A tailor had a routine of opening his shop early in the morn...
28/07/2026

Book: Short Sufi Tales
Tale #011
Tailor and Sewing Machine

A tailor had a routine of opening his shop early in the morning and continuing sewing garments till evening.

During this time, he could hardly stitch one piece of suit by working on his manual sewing machine from morning to evening.


He then advisedly decided to set up an electric motor to run his sewing machine. By doing so, he sped up his workmanship and now he could prepare two pieces of suit per day.

He tried to do even better but could not cross this production limit. In fact, the movement of time clock hanged in his shop, the speed of sewing machine and his own skill and capacity to work could not yield any better result. He had to stay satisfied with this limit.


Hints:

Tailor : Human.
Sewing machine : Individual human capacity.

Electric motor : Advisable enhanced individual capacity but still has a limit.

Clock : An individual’s lifetime.

These books are available for reading online or downloading from our website https://dhk.com.pk/publications/
, , , , ,
, , , , , , , , , , ,
, , , , , ,
#تصوف, #روحانیت,

Address

Rawalpindi

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Darul Hikmatul Khalidiyya - دارالحکمة الخالديه posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The School

Send a message to Darul Hikmatul Khalidiyya - دارالحکمة الخالديه:

Shortcuts

Share

Category