20/08/2026
کتاب: استعراج نفس
8.10 حلوے کا تھال – توکّل اور عجز ثمر آفریں ہیں
ایک شیخ اپنی سخاوت کی وجہ سے اکثر مقروض رہتے تھے۔ وہ مالداروں سے قرضے لیتے اور غریبوں مسکینوں پر خرچ کر دیتے۔ انہوں نے اپنی خانقاہ کی تعمیر میں اپنا گھر بار بھی فروخت کر دیا۔ اللہ تعالٰی ان کا قرض کسی نہ کسی ذریعے سے اتارنے کا سبب کر دیتا۔
نبی پاکؐ نے فرمایا کہ بازاروں میں دو فرشتے دل سے دعا کرتے ہیں کہ یا اللہ خرچ کرنےوالےکو اور دے اور بخیلوں کو ہلاکت دے۔ اللہ تعالٰی مال خرچ کرنے والے کو بڑھا چڑھا کر مال عطا کرتا ہے۔ اور اللہ کے رستے میں گلہ (گردن) دینے والے کو یعنی جان دینے والے کو کئی جانیں عطا کرتا ہے،اسی لئے شہید ہمیشہ زندہ اور خوش و خرم رہتے ہیں۔
جب ان کی آخری عمر آ گئی اور بستر مرگ پر پڑے تھے تو قرض خواہوں کی کثیر تعداد ان کے بستر کے گرد بیٹھے اپنے اپنے قرض کا مطالبہ کر رہے تھے۔ وہ نا امید اور ناراض تھے کہ اگر شیخ وفات پا گئے تو ان کا قرض کیسے وصول ہو گا۔ شیخ نے فرمایا کہ ان بد گمانوں کو دیکھو، کیا اللہ تعالٰی کے پاس چار سو دینار بھی نہیں ہیں جو ان قرض خواہوں کا کل مطالبہ ہے۔
اتنے میں باہر سے ایک حلوہ بیچنے والے بچے نے آواز لگائی کہ بادام کا خوشبو دار حلوہ لے لو۔ شیخ نے اپنے خادم کو ہاتھ سے اشارہ کیا کہ لڑکے سے سارا حلوہ خرید لو۔ خادم نے آدھے دینار میں سارے تھال کا سودا کیا اور تھال اٹھا کر اندر لے آیا۔ شیخ نے وہ حلوہ سارے قرض خواہوں کو پیش کیا۔
سب نے خوب پیٹ بھر کر حلوہ کھایا۔ جب تھال خالی ہو گیا تو اس حلوہ فروش لڑکے نے اپنے آدھے دینار کا مطالبہ کیا۔ خادم نے شیخ کی طرف سے بتایا کہ ہمارے پاس تو ابھی پیسے نہیں ہیں۔ ایسے میں لڑکے نے چِلاّنا شروع کر دیا کہ ہائے میں تو مارا گیا۔ میرا استا د مجھے بہت مارے گا کہ سارا حلوہ بغیر پیسے لئے ضائع کر دیا۔ اس پر باقی قرض خواہ بھی چمگوئیاں کرنے لگ گئے کہ پیسے نہیں تھے تو حلوہ کیوں خریدا۔ البتہ شیخ اس تمام شور سے الگ تھلگ بالکل خاموش اور پر سکون تھے اور ان کی نظر اللہ تعالٰی کے خزانوں کی طرف تھی۔ ایسے ہی جیسے آسمان پر چمکتا چاند زمین پر بھونکنے والے کتوں کی آواز سے بالکل بے نیاز ہوتا ہے۔
تھوڑی دیر بعد باہر دروازے پر دستک ہوئی اور ایک امیر آدمی کا خادم شیخ کی خدمت میں پیش کرنے کے لئے ہدیہ کے طور پر ایک تھال لایا جس پر کپڑا پڑا تھا۔ شیخ نے وہ ہدیہ قبول کیا۔ خادم نے جب کپڑا اٹھایا تو اس میں چار سو دینار پڑے تھے۔ ساتھ ہی ایک کاغذ میں آدھا دینار بھی لپٹا ہوا تھا۔ یوں تمام قرض خواہوں اور حلوہ فروش لڑکے کو اپنی رقم وصول ہو گئی۔ یہ دیکھ کر تمام قرض خواہ حیران رہ گئے کہ یہ کیا معاملہ ہے۔ وہ سب گڑگڑائے کے اے شیخ ہمیں معاف کر دیجئیے ہم نے خواہ مخواہ آپ کے ساتھ جھگڑا کیا۔ ہم آپ کے راز سے واقف نہیں تھے۔
شیخ نے کہا میں نے وہ تمام لڑائی جھگڑا تمہیں معاف کر دیا ہے۔ اور سارے معاملے میں راز یہ تھا کہ جب تک وہ حلوہ فروش بچہ رویا نہیں اللہ کی رحمت نے جوش نہیں مارا۔ اے بھائی وہ حلوہ فروش بچہ تمہاری آنکھ ہے۔ جب تک آنکھ کا بچہ روتا نہیں تب رحمت الٰہی کو جوش نہیں آتا۔ ہمارا مقصد دل کے رونے پر مو فوت ہے۔ گڑگڑائے بغیر ہماری کامیابی مشکل ہے۔ اگر تو چاہتا ہے کہ تیری مشکلات حل ہو جائیں اور تیری محرومی کے کانٹے پھول بن جائیں تو پھر تو آنکھ کے بچے کو جسم کی ضرورت پر رُلا دے۔ یعنی رو کر عاجزی کے ساتھ اپنے رب سے اپنی ضروریات طلب کر۔
خلاصہ
اس حکایت میں حضرت مولانا رومیؒ ہمیں خرچ کرنے، توکّل کرنے اور اللہ تعالٰی کے حضور رونے اور عجز اختیار کرنے کی تلقین کرتے ہیں۔ ہمارے رونے اور عجز اختیار کرنے سے اللہ تعالٰی کی رحمت کا سمندر جوش میں آتا ہے اور ہمارے اوپر نوازشات کی بارش ہوتی ہے۔
These books are available for reading online or downloading from our website https://dhk.com.pk/publications/
, , , , ,
, , , , , , , , , , ,
, , , , , ,
#تصوف, #روحانیت,