ایک آواز آیے گی

ایک آواز آیے گی

Share

The only Authentic Voice of Union Rehmanpour 🫀

12/05/2026

خبر آرہی ہے کہ رحمان پور یونین کا انٹرنیٹ آج پھر ڈس کنکٹ ہوا ہے ،وجہ وہی پرانا مسلہ کیبل کٹ۔لیکن ابھی تک اس بات کی کوئی کنفرمیشن نہیں کہ کیبل جان بُوجھ کے کاٹی گئی ہے یا کوئی کیبل بکس پر ٹیکنکل فالٹ ہے۔ہم ایس ۔سی او ٹیم سے اپیل کرتے ہیں کہ جلد از جلد معاملے کی نوعیت کو ڈیکلیئر کیا جائے اور کمیونیکیشن بحال کیا جائے تاکہ اگر کسی نے جان بوجھ کے ایسی چھیڑ خانی کی ہے تو ہماری ٹیم اس کا پتا لگا سکے۔۔۔۔۔۔۔
Rana Rana آئینہ استور ۔ Aaena e Astore Rana Saeed Ur Rehman Muheet Deen Engr Sanaullah Zaipore

@

10/05/2026

🚨 Rehmanpour Union 🚨

ہم نے اپنی پچھلی پوسٹ پہ کیبل کاٹنے والے چوروں کو لاسٹ وارننگ دی کہ اگر وہ بعض نہ آئے تو ان کا نام پبلک کیا جائے گا اور ملوث کرداروں کے کردار کو بھی واضح کیا جائے گا۔
پچھلے دو ہفتوں سے زئیپور جنگل کی بے دریغ کٹائی جاری ہے،جنگل گارڑز خواب خرگوش کی نیند سو رہے ہیں۔ان چوروں کو صرف اور صرف ڈر ہے تو سوشل میڈیا کا ،جس کے باعث وہ آئے روز کیبل کاٹتے ہیں ۔ان میں شامل چورت سے مقصود اور ملوک نامی شخص ہیں ،زئیپور سے رحیم اللہ نامی شخص ہے،دو تین دفعہ بذات خود انہوں نے کیبل کاٹا اور دو دفعہ دوسرے اپنے پیاروں کو سُپاری دے کر کٹوائی ہے وقت آنے پر ان کرداروں کو بھی واضح کیا جائے گا ۔جب تک انتظامیہ ان مجرموں کو شامل تفتیش نہ کرے یہ کیبل آئے روز کٹے گی۔افسوس کا مقام یہ ہے کہ یہ سب سپشل برانچ کے پولیس اہلکاروں کو پتا ہونے کے بعد بھی ان کے اوپر پردہ ڈالا جا رہا ہے۔
Rana Rana آئینہ استور ۔ Aaena e Astore Astore Tv Engr Sanaullah Zaipore Sharafat S D Rana Saeed Ur Rehman

04/05/2026

For union Rehmanpour :
Last Warning for Cable cutters🚨
لکڑی چوری چھپے جنگل سے لانے کے لیے رحمان پور یونین میں انٹرنیٹ کیبل کاٹی گئی ہے تاکہ کسی بھی طرح کی کاروائی سے بچ سکیں ۔۔۔سدھر جاؤ ورنہ اگلی دفعہ نام کے ساتھ تصاویر بھی شیئر کی جائیں گی ۔بجلی کے ملازمین اپنی ڈیوٹی کریں،دکاندار دکانداری کریں کیبل کے ساتھ چھیڑ خانی چھوڑیں ۔ورنہ نہ تو شکاریوں کو چھوڑا جائے گا اور نہ تو جنگل کے چوروں کو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔لاسٹ وارننگ ۔۔۔۔۔

27/10/2025

یونین کونسل رحمان پور،پاؤر ہاؤس تری شنگ کی بجلی کی ایک یونٹ مرمت کرکے لانے کے بعد بھی وہی بدترین لوڈ شیڈنگ بدستور جاری ہے،انتظامیہ نے دونوں مشینوں کے انسٹالیشن کے بعد یونین کے لوگوں کے لیے بجلی کی مسلسل فراہمی کی یقین دہانی کرائی تھی لیکن بجلی کا وہی پرانا شیڈول برقرار ہے۔عوام انتظامیہ سے اپیل کرتی ہے کہ موجودہ شیڈول اپڈیٹ کرکے عوام کو ریلیف فراہم کی جائے۔
Water and Power Astore Division
United group W&P Rahmanpur Union
Sub Divisional Officer W&P F/A Astore
Water & Power Department, Gilgit-Baltistan

07/10/2025
17/09/2025

تری شنگ پاور ہاؤس ،یونین رحمان پور، کی ایک مشین کو کھولے ہوے تقریباً دو دن ہوے لیکن اب تک ریپیرنگ کے لیے ورکشاپ نہیں لے جایا گیا ہے۔بجلی کی کمی کے باعث روزمرہ کے معاملات چاہے وہ گھریلو ہو یا کاروباری, اِن سب کی تکمیل میں دشواری کا سامنا ہے۔ہم انتظامیہ سے گزارش کرتے ہیں جلد از جلد مشینوں کے ریپرینگ کا کام جلد تکمیل کر کے بجلی کی مسلسل ترسیل یقینی بنائی جائے ۔

Water and Power Astore Division
Executive Engineer W&P Division Astore
Sub Divisional Officer W&P F/A Astore
Assistant Commissioner / SDM, Subdivision Shonthar, District Astore, GB
United group W&P Rahmanpur Union
Farman Ali Rana

10/09/2025

بنام:
ڈپٹی کمشنر صاحب،
ضلعی انتظامیہ استور

موضوع: ترشنگ پاور ہاؤس کی بار بار خرابی اور بجلی کی ترسیل میں تعطل کے حوالے سے شکایت

محترم جناب،

با ادب عرض ہے کہ ترشنگ پاور ہاؤس جو پوری رحمان پور یونین کے عوام کو بجلی فراہم کرنے کا بنیادی ذریعہ ہے، گزشتہ کئی عرصے سے مسلسل مسائل کا شکار ہے۔ یہ پاور ہاؤس تقریباً ہر ایک دن بعد کسی نہ کسی خرابی کی وجہ سے بند ہو جاتا ہے، جس کے باعث علاقے کے مکین شدید مشکلات سے دوچار ہیں۔

اہم نکات یہ ہیں:

١)مشینری کی بار بار خرابی: پاور ہاؤس کی مشینیں مسلسل فنی خرابی کا شکار ہیں لیکن ریجنل انجینئرز کو متعدد شکایات کے باوجود اس کا کوئی مستقل اور پائیدار حل فراہم نہیں کیا گیا۔ صرف وقتی مرمت کی جاتی ہے، جو ایک دو دن بعد دوبارہ ناکام ہو جاتی ہے۔

٢)اہلکاروں کا غیر ذمہ دارانہ رویہ: پاور ہاؤس میں تعینات اہلکار اپنی ڈیوٹی کی بجائے آپس میں لڑائی جھگڑوں میں مصروف رہتے ہیں، جس کے نتیجے میں بجلی کی ترسیل مزید متاثر ہو رہی ہے۔ اس رویے کی وجہ سے عوام کو نہ صرف بجلی کی سہولت سے محروم ہونا پڑ رہا ہے بلکہ تعلیمی، تجارتی اور گھریلو سرگرمیاں بھی شدید متاثر ہو رہی ہیں۔

٤)عوامی مشکلات: بار بار کی لوڈشیڈنگ اور بجلی کی عدم دستیابی کی وجہ سے علاقے کے طلبہ، کاروباری طبقہ اور گھریلو صارفین سب پریشانی کا شکار ہیں۔

لہٰذا گزارش ہے کہ:

اس مسئلے کا مستقل حل نکالنے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔

پاور ہاؤس کی مشینری کو مکمل طور پر اپ گریڈ یا تبدیل کیا جائے تاکہ بار بار کی خرابی سے نجات مل سکے۔

ڈیوٹی پر معمور اہلکاروں کے رویے کی تحقیقات کر کے ذمہ داران کے خلاف سخت تادیبی کارروائی کی جائے تاکہ مستقبل میں عوام کو اس قسم کی مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

ہمیں امید ہے کہ آپ عوامی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے اس شکایت پر فوری اور مؤثر کارروائی فرمائیں گے۔

با احترام،
[اہلیان رحمان پور یونین]
تاریخ: __10 ستمبر

31/07/2025

پاور ہاؤس رحمان پور یونین – غفلت، ناکامی اور عوامی اذیت کی داستان
رحمان پور یونین کا پاور ہاؤس، جو کہ بجلی کی فراہمی کا واحد اور بنیادی ذریعہ ہے، بدقسمتی سے ایک مسلسل ناکامی اور ناقص حکومتی نگرانی کی علامت بن چکا ہے۔ یہ پاور ہاؤس تقریباً ہر دوسرے ہفتے کسی نہ کسی فنی خرابی کی نذر ہو جاتا ہے۔ کبھی انجن جواب دے جاتا ہے، کبھی کیبل جل جاتی ہے، تو کبھی لوڈر بٹن اچانک خاموش ہو جاتا ہے۔ اور اگر تمام مشینری صحیح کام کر رہی ہو تو پانی کی زیادتی یا کمی کا بہانہ اس کا بہانہ بن جاتا ہے۔ گویا عوام کو کبھی سکون کی سانس لینا نصیب نہیں ہوتی۔ سال بھر میں صرف دو مہینے ایسے ہوتے ہیں جب یہ پاور ہاؤس مستقل طور پر فعال رہتا ہے، باقی دس مہینے عوام کو صرف "تکنیکی خرابیوں" کے فسانے سنائے جاتے ہیں۔

فنی خامیاں یا انتظامی نااہلی؟
پاور ہاؤس کی ناکامی کے پیچھے بہت سی وجوہات ہیں، جن میں سب سے بنیادی خرابی اس کی جگہ کا غیر موزوں انتخاب ہے۔ شدید سردی اور شدید گرمی دونوں موسموں میں اس کو یکساں طور پر چلانا مشکل ہے۔ اس کے علاوہ، پانی کی سپلائی لائن اور کولنگ سسٹم کا ایسا ناقص ڈیزائن بنایا گیا ہے جو دریا کا مکمل بہاؤ اپنی طرف موڑ کر ہی ولٹیج پیدا کر پاتا ہے، اور وہ بھی ناکافی۔ نتیجتاً، اکثر اوقات وولٹیج اتنا غیر مستحکم ہوتا ہے کہ ٹرانسفارمرز اور گھریلو آلات جلنے لگتے ہیں۔

اصل مجرم: ناتجربہ کار اور غیر تربیت یافتہ عملہ
پاور ہاؤس کی بربادی کا سب سے سنگین پہلو وہ عملہ ہے جو اسے چلانے پر معمور ہے۔ 99 فیصد عملہ ہیلپرز، لائن مین اور خودساختہ "دیسی انجینئرز" پر مشتمل ہے، جنہیں نہ تو مشینوں کے پیچیدہ فنکشنز کا علم ہے، نہ ہی پانی کے دباؤ، فلو ریٹ (flow rate)، یا وولٹیج ریگولیشن کے بنیادی اصولوں کی سمجھ ہے۔ ایک جدید ہائیڈرو پاور سسٹم کو چلانے کے لیے نہایت تکنیکی مہارت درکار ہوتی ہے، جیسے:

سرج ٹینک (Surge Tank) کی فنکشننگ، جو پانی کے دباؤ کو مستحکم رکھنے میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔

گورنر سسٹم (Governor Mechanism)، جو ٹربائن کی رفتار کو کنٹرول کرتا ہے تاکہ بجلی کی پیداوار یکساں رہے۔

ایکسائٹر یونٹ (Exciter Unit)، جو جنریٹر کے روٹر کو برقی کرنٹ فراہم کرتا ہے تاکہ بجلی پیدا ہو سکے۔

سکادا سسٹم (SCADA)، جو ریموٹ کنٹرول اور آٹومیشن کا پورا نظام ہے اور کسی خرابی کی صورت میں فوری تشخیص اور مرمت میں مدد دیتا ہے۔

یہ تمام نظام ایسے ہیں کہ انہیں سمجھنے اور چلانے کے لیے باقاعدہ تربیت یافتہ الیکٹریکل یا مکینیکل انجینئرز کی ضرورت ہوتی ہے۔ لیکن افسوس کہ یہاں دیسی طریقے آزمائے جا رہے ہیں جن سے مسائل مزید سنگین ہو جاتے ہیں۔

عوامی مسائل – اندھیروں میں ڈوبی زندگیاں
پاور ہاؤس کی غیر فعالیت صرف ایک فنی مسئلہ نہیں، یہ عوام کی روزمرہ زندگی پر شدید منفی اثر ڈال رہی ہے:

تعلیم کا نظام متاثر: طلبا اندھیرے میں نہ مطالعہ کر سکتے ہیں، نہ آن لائن کلاسز لے سکتے ہیں۔

کاروبار ٹھپ: دکان داروں، ویلڈرز، سلائی سینٹروں، اور دیگر چھوٹے کاروباروں کا انحصار بجلی پر ہے، جو مسلسل بندش کی وجہ سے شدید نقصان میں جا رہے ہیں۔

صحت کا نظام خطرے میں: دیہی مراکزِ صحت میں ویکسین، فریج، اور دیگر الیکٹریکل مشینری بجلی کے بغیر بے کار ہو جاتی ہے۔

گھریلو مسائل: پانی کی موٹریں، پنکھے، ہیٹر، واشنگ مشینیں سب کچھ ناکارہ ہو جاتا ہے۔ خواتین و بزرگ افراد سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔

پرزور مطالبہ: ہنر مند انجینئرز کی فوری تقرری
رحمان پور کے عوام، استور انتظامیہ، ڈپٹی کمشنر، ایکسن اور دیگر متعلقہ اداروں سے پُرزور اپیل کرتے ہیں کہ:

اس پاور ہاؤس میں کم از کم تین سے چار تجربہ کار انجینئرز کو فوری طور پر تعینات کیا جائے۔

عملے کو جدید مشینری کے استعمال کی باقاعدہ تربیت دی جائے۔

پاور ہاؤس کی ساخت، ڈیزائن اور پانی کی فراہمی کا نظام دوبارہ ماہرین سے جانچ کروایا جائے تاکہ طویل مدتی حل ممکن ہو سکے۔

یہ پاور ہاؤس عوام کا حق ہے، خیرات نہیں۔ اگر حکومت بنیادی سہولیات مہیا کرنے میں ناکام رہے، تو عوام کا اعتماد اور صبر دونوں ٹوٹ جائینگے اور عوام ہیڈ کوارٹر کی طرف مارچ کرنے پہ مجبور ہوجاےگی

29/07/2025

شکای ت برائے بندش بجلی گھر – یونین کونسل رحمانپور، ضلع استور

یونین کونسل رحمان پور کا بجلی گھر دو دن سے بند پڑا ہے کیونکہ اس کے انجن خراب ہو چکے ہیں۔ اس بندش کے باعث پورے علاقے میں بجلی کی شدید قلت پیدا ہو گئی ہے اور عوام کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

بجلی کی عدم دستیابی کی وجہ سے نہ صرف گھریلو زندگی متاثر ہو رہی ہے بلکہ تعلیمی سرگرمیاں، کاروبار، اور کمیونیکیشن نیٹورک جیسے اہم ادارے بھی شدید طور پر متاثر ہو رہے ہیں۔ عوام مسلسل شکایات کر رہے ہیں مگر متعلقہ انتظامیہ اور ذمہ داران کی جانب سے کوئی سنجیدہ اقدام نظر نہیں آ رہا۔

ہم استور انتظامیہ اور متعلقہ محکمے سے پرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ فوری طور پر اس مسئلے کا نوٹس لیا جائے، خراب انجن کو درست کیا جائے یا نئے انجن فراہم کیے جائیں تاکہ بجلی گھر کو بحال کر کے عوام کو اس اذیت سے نجات دلائی جا سکے۔

عوامی مفاد کے پیش نظر اس مسئلے کو ترجیحی بنیاد پر حل ہونے چاہئیں ،وگرنہ عوام احتجاج کال پر مجبور ہوجاےگی

Want your school to be the top-listed School/college in Rawalpindi?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Website

Address


Rawalpindi