Hafiz Uzair Waheed

Hafiz Uzair Waheed

Share

جس دن میری جبیں اللہ کے سوا کسی اور در پر جھکے
اس دن اللہ میرے سر میں شگاف ڈال دے

01/05/2026

میری تنخواہ ایک مزدور کے برابر مقرر کی جائے اگر میرا گزارا نہ ہوا تو مزدور کی اجرت بڑھا دُونگا۔

حضرت ابوبکر صدیق
یوم مزدور پر اس سے بڑا پیغام کوئی نہیں

27/03/2026

اسلام آباد I-8 مرکز AA Exchange برانچ میں گارڈ کے ہاتھوں غلطی سے گن چل جانے کی وجہ سے آفس بوائے جانبحق ۔

26/03/2026

مشرکین انبیائے کرام علیہم السلام سے تو معجزات کا مطالبہ کرتے تھے،مگر جن بتوں کی وہ پوجا کرتے تھے ان سے کبھی کوئی معجزہ طلب نہیں کیا،بلکہ بغیر کسی ادنی سی دلیل کے ان کی پُوجا پاٹ شروع کر دی،اسی طرح ہم باطل کے پیروکار کو اہلِ حق سے تو دلائل کا مطالبہ کرتے دیکھ
سکتے ہیں،جب کہ اپنے باطل رؤسا سے کوئی دلیل طلب نہیں کرتے.

16/01/2026
05/09/2025

صلی اللّٰہ علیہ وسلم

13/08/2025

Courtesy. Basharat Qureshi

*بشیرا مراثی اور معاشرتی المیہ*
۔"" "" "" "" "
کہتے ہیں کے بشیرا نام کا ایک میراثی اپنے گاؤں اور میراثی فیملی کو چھوڑ کے شہر آ گیا ۔ کام پیدائش سے ایک ہی کرتا چلا آیا تھا۔ تو شہر میں بھی گلے میں ڈھول ڈالے، رنگین کپڑے پہنے ، لمبے بال دھمال کے انداز میں ہلاتے تابڑ توڑ ڈھول بجاتا پھرتا تھا ۔ جیسا کہ ہر کسی کا ایک دن آتا ہے تو اسے بھی ایک دن کسی میوزک ڈائریکٹر نے اپنے اسٹوڈیو میں بھرتی کر لیا۔ جہاں سے بشیرا ترقی کرتے کرتے پہلے اسسٹنٹ ڈائریکٹر بنا اور پھر اپنا الگ سٹوڈیو بنا کر میوزک ڈائریکٹر “استاد بشیر خاں” کے نام سے شہرت پائی۔

وقت گزرتا گیا۔ استاد بشیر کی دُھنیں عالمی سطح پر مقبول ہوئیں۔ فلموں میں استاد کا نام میوزک کی مد میں شامل ہونا کامیابی کی ضمانت ہوتا ۔ بات نگار ایوارڈ سے تمغۂ حسنِ کارکردگی تک پہنچی ۔ لالی سے بالی اور پھر ہالی تک کا سفر منٹوں میں طے ہوا ۔ آسکر کے لئے نامزدگی ہوئی ۔ امریکہ منتقلی اور پھر مستقل سکونت اختیار کی۔ گوری میم سے شادی ہوئی ۔ ڈاکٹریٹ کی اعزازی سند آکسفورڈ نے عطا کی ۔ میلوں ، نمائشوں کے فیتے کٹوائے گئے۔ فراری میں ڈرافٹنگ اور فائیو اسٹار ہوٹلوں کے سوئمنگ پول میں ڈبکیاں لگیں ۔ دنیا کے سفر اور پذیرائی ملی ۔ برطانیہ میں مشرق کی آواز ، جاپان میں مہاتما بودھ کا پرتو اور افغانستان میں واجب القتل قرار دیا گیا۔ کیسینو میں لاکھوں کی شرطیں لگیں اور بیگ سے ڈرگز برآمد ہوئی۔ کپڑوں کا ایک انٹرنیشنل برانڈ متعارف کرایا۔ “چودھری بشیر اینڈ سنز” کے نام سے سپر اسٹورز کی ایک چین بھی بنائی۔

پچاس سال گزر گئے ۔ چوہدری بشیر کے گٹھنے سیڑھیاں چڑھتے کٹک کٹک کرنے لگے۔ گوری میم بھی “ٹائی ٹینک” میں “بلیو ہارٹ” سمندر بُرد کرنے والی بُڈھی جیسی ہو گئی۔ اب چوہدری صاحب کو خدا یاد آیا ۔ حج کیا، برف جیسی سفید داڑھی چھوڑی، پانچ وقت نماز شروع کی ۔ وطن واپس آئے، انسانیت کی خدمت کے لئے ٹرسٹ قائم کیا ۔ وعظ و نصیحت کی، رمضان ٹرانسمین میں غریبوں کے گردے کے آپریشن کرانے ۔ اپنے گاؤں میں بقیہ زندگی گزارنے کا فیصلہ کیا ۔ گاؤں میں حویلی تعمیر کی، کنواں کھدوایا، اسکول بنوایا، اپنے ماں باپ کی قبر پر مقبرہ اور “استاد حاجی رشید خاں مرحوم” اور “حجن بی بی اللّٰہ بچائی خاتون مرحومہ” کا کتبہ آویزاں کیا ۔ مسجد و مدرسے کی تعمیر کی اور حویلی میں آخری ایام یادِ الٰہی میں گزارنے لگے۔

تو صاحبو! گاؤں میں چوہدری بشیر خاں کی عزت و احترام اور رعب و دبدبے کا یہ عالم کہ جہاں سے وہ کلف لگے سوٹ اور اونچے شملے کی پگڑی میں ملبوس گزرتے، لوگ 'سلام چوہدری صاحب' کہہ کر جھکتے ۔ اہم مسائل کے فیصلے چوہدری صاحب کی حویلی کے صحن میں سنائے جاتے ۔ غریبوں کا علاج ہو کہ بچیوں کی شادی ، اسکول کی تقسیمِ اسناد ہو یا الیکشن مہم، چوہدری صاحب کی شرکت کے بغیر سب ادھورا تھا ۔

پھر ایک روز چوہدری صاحب کی خوبرو پوتی ان سے ملنے امریکہ سے گاؤں آئی ۔ پہلی بار گاؤں کا ماحول اور کلچر دیکھا، اچھا لگا، چند دن رہنے کا فیصلہ کیا۔ گاؤں سے باہر کار میں گھومنے نکلی، ایک پراڈو سے گاڑی کا معمولی سا ایکسیڈنٹ ہوا۔ پراڈو سوار سے بحث، تعارف ، دوستی اور پھر محبت ہوئی ۔ بات شادی تک پہنچی ۔ چوہدری صاحب لڑکے کے باپ سے ملے، حسب نسب پوچھا، جواب ملا چوہدری فرزند علی نام ہے ۔ پڑوس کے گاؤں میں جاگیر ہے، پیسے کی ریل پیل ہے، اچھا اور بااثر خاندان ہے ۔ چوہدری صاحب نے فیصلہ بچوں پر چھوڑ دیا ۔ بقیہ خاندان بھی گاؤں آیا ۔ نکاح کی تاریخ طے ہو گئی ۔ حویلی سجا دی گئی۔

شادی کی محفل تھی ۔ بارات پہنچی ۔ پتا چلا کہ لڑکی کے دادا شہر سے آئے ہیں ۔ چوہدری صاحب کی نشست کے برابر میں لڑکی کے دادا براجمان ہوئے ۔ تعارف ہوا، کچھ آنکھیں چار ہوئیں، کچھ یادداشت کھنگالی گئی، آخر کار ایک دوسرے کو پہچان لیا گیا ۔ پرانی شناسائی نکلی ۔ “اوئے بشیرے کنجر! تو کاہے کا چوہدری” سوال ہوا ۔ “اوئے بوٹے مسیح ! مسلی تو کب مسلمان ہوا؟” کا جواب ملا ۔ تلخ کلامی ہوئی “اوئے لعنتی دی اولاد”اوئے میراثیاں دا ٹولہ” ، “اوئے بلی، کتے کھان والیو” ۔ “اوئے دلیو، شیدے ، ناجیز اولادو” ، ”اوئے سورا” ۔۔۔ شرکاء حیرت سے دیکھ رہے تھے ۔ گالیاں ایسی تھیں کہ لوگوں کے وضو ٹوٹ جائیں ۔ لوگ کانوں کو ہاتھ لگاتے واپس جا رہے تھے ۔

اونچے شملے تھے، کلف لگے سوٹ تھے، دولت تھی، عزت تھی، سوشل ورک تھا، اعزازی ڈگری تھی ۔۔۔ پر زبان بازاری تھی ۔ ماؤں کے بچے چھوڑ کے آشناؤں کے ساتھ بھاگ جانے کے قصے تھے ۔ ناجائز تعلقات کی داستانیں تھیں ۔ بشیرے میراثی کو چوہدری بشیر خاں بننے میں گو پچاس برس لگے ہوں، واپسی پانچ منٹ میں ہوئی تھی ۔ سب کو سبق مل گیا تھا کہ زمان و مکاں کی تبدیلی ہو یا پوزیشن و لباس کی ۔ اسے ایوان اقتدار پر براجمان کیا جائے یا عطر میں بسا کر منبر و محراب کا ٹھیکہ دار بنا دیا جائے، انسان کی اصل کبھی تبدیل نہیں ہوتی اور منہ کھولتے ہی اوقات کا پتا چل جاتا ہے۔

18/07/2025

07/07/2025

حالیہ خبروں میں انکشاف ہوا ہے کہ اسلام آباد کے شفا انٹرنیشنل ہسپتال نے ایک میت کو سات دن تک رکھنے کے لیے یومیہ 100,000 روپے وصول کیے، جس سے لواحقین کو کل 7 لاکھ روپے کا بل دیا گیا۔ یہ مریض ابتدائی طور پر پمز میں انتقال کر گیا تھا اور پھر شفا انٹرنیشنل منتقل کر دیا گیا تھا۔ یہ معاملہ قومی اسمبلی کی ذیلی کمیٹی برائے صحت کے اجلاس کے دوران سامنے آیا، جس کی صدارت ڈاکٹر امجد نے کی، جہاں کمیٹی کے ارکان نے غیر اخلاقی بلنگ، مریضوں کے حقوق، شفافیت اور ہسپتال کی نگرانی پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ شفا انٹرنیشنل واحد نجی ہسپتال تھا جس نے ریگولیٹری تعمیل کے بارے میں سوالات اٹھاتے ہوئے کمیٹی کو اپنا لیز معاہدہ جمع نہیں کرایا۔

اس انکشاف کے بعد، کمیٹی نے اسلام آباد کے نجی اسپتالوں کے نمائندوں کو مزید پوچھ گچھ کے لیے 9 جولائی کو طلب کرنے کا فیصلہ کیا، جس کا مقصد معاملے کی مکمل چھان بین کرنا اور الزامات کی تصدیق ہونے پر ممکنہ سزاؤں پر غور کرنا ہے۔ اس واقعے نے سوشل میڈیا پر عوامی غم و غصے کو بھی جنم دیا ہے، پاکستان میں پرائیویٹ ہسپتالوں کے سخت ضابطوں اور نگرانی کے مطالبات کے ساتھ۔

ابھی تک، کوئی ٹھوس حکومتی کارروائی کی اطلاع نہیں ہے، لیکن کمیٹی کی انکوائری اور عوامی دباؤ جلد ہی مزید پیشرفت کا باعث بن سکتا ہے۔ یہ کیس پاکستان میں نجی ہسپتالوں کے غیر چیک شدہ طریقوں اور مریضوں اور ان کے خاندانوں کو استحصال سے بچانے کے لیے ریگولیٹری اصلاحات کی فوری ضرورت کے بارے میں وسیع تر خدشات کو اجاگر کرتا ہے۔

Want your school to be the top-listed School/college in Rawalpindi?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Address


Rawalpindi