تم نے کہاں غلطی کی؟
ایک کھلا خط: نریندر مودی اور امیت شاہ کے نام
اقبال لطیف
© اقبال لطیف، 2025 – جملہ حقوق محفوظ ہیں
محترم وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امیت شاہ،
میں یہ خط کیوں لکھ رہا ہوں؟
میں یہ خط کسی حریف یا مخالف قوم پرست کی حیثیت سے نہیں لکھ رہا۔
میں ایک تاریخ کے مشاہد کی حیثیت سے لکھ رہا ہوں — ایک ایسا مشاہد جو سمجھتا ہے کہ جب داؤ پر ایٹمی سلامتی ہو اور خطہ آتش فشاں ہو، تو سچائی کو غرور سے بلند بولنا چاہیے۔
یہ خط انتقام کے لیے نہیں لکھا گیا۔
یہ جوابدہی کے لیے لکھا گیا ہے۔
یہ اسٹریٹجک عاجزی کی ضرورت کے لیے لکھا گیا ہے — کیونکہ جب وہ غلطیاں کرتے ہیں جو افواج کے کمانڈر ہیں، تو خاموشی کوئی خوبی نہیں رہتی۔
بھارت نے صرف ایک کارروائی نہیں کی—بلکہ پورے خطے کا توازن بدل دیا۔
اور اس عمل میں، اس نے ایک ایسی برابری کو جنم دیا جس کا برسوں سے انکار کیا جاتا رہا تھا۔
یہ خط غصے میں نہیں لکھا گیا۔
یہ اس سنجیدہ شعور کے ساتھ لکھا گیا ہے جو کسی اسٹریٹجک سانحے کے بعد پیدا ہوتا ہے۔
آپ نے صرف فوجی لحاظ سے غلطی نہیں کی۔
آپ نے نظریہ غلط سمجھا، حریفوں کا غلط اندازہ لگایا، جغرافیائی سیاست کو نظر انداز کیا، اور اس بنیادی توازن کو توڑ دیا جو اب تک اس خطے کو تباہی سے بچائے ہوئے تھا۔
سنسرشپ اور اسٹریٹجک خودفریبی
سالوں تک آپ کے حلقہ اثر نے ان تمام آوازوں کو دبایا جو عاجزی کا درس دیتی تھیں۔
ہر اس تجزیہ کار کو جو رافیل طیاروں کی حد سے زیادہ تشہیر پر سوال اٹھاتا، ملک دشمن کہا گیا۔
ہر اس سفارتکار کو جو مذاکرات کا مشورہ دیتا، کمزور قرار دیا گیا۔
آپ نے اپنے ارد گرد مشیروں کی بجائے آئینے کھڑے کر لیے۔
چنانچہ آپ نے یہ گمان کر لیا کہ چار کھرب ڈالر کی معیشت برتری خرید سکتی ہے۔
کہ وقار کا مطلب خوف ہے۔
کہ کوئی آپ کو چیلنج نہیں کرے گا۔
لیکن آپ کو ان میزائلوں نے جواب دیا جنہیں آپ ناکارہ کہتے تھے۔
ان فضائی پلیٹ فارمز نے جواب دیا جنہیں آپ فرسودہ کہتے تھے۔
اور ایک ایسے نظریے نے جو آپ کی نظروں سے اوجھل رہا۔
تنسیخ، اشتعال انگیزی — اور کوئی تحقیقات نہیں
آپ نے کارگل کے بعد سب سے بڑی علاقائی کشیدگی کو بھڑکایا بغیر کسی فرانزک تحقیق، بغیر کسی سیٹلائٹ امیجری، اور بغیر کسی بین الاقوامی تفتیش کے—صرف قوم پرستی کے مظاہروں کی بنیاد پر۔
آپ نے آبی معاہدوں کو ختم کرنے کا اعلان کیا، ان میں سے ایک انڈس واٹرز ٹریٹی بھی تھی—جو ماضی کی جنگوں میں بھی قائم رہی تھی۔
آپ نے کہا:
> "پاکستان کو ایک قطرہ پانی بھی نہیں ملے گا۔"
یہ محض بیانیہ نہیں تھا—بلکہ آبی جنگ کا اعلان تھا، جو بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت جنگی جرم ہے۔
پھر آپ نے پیشگی فضائی حملے کا حکم دیا، یہ سوچ کر کہ خوف کے ذریعے پاکستان کو جھکایا جا سکتا ہے۔
لیکن اس کے جواب میں، پاکستان نے چند گھنٹوں میں ہی آپ کو پسپا ہونے پر مجبور کر دیا۔
آپ کہاں غلط ہو گئے؟
آپ نے افسانے پر بھروسا کیا، حقیقت پر نہیں۔
آپ نے میڈیا کی پیش گوئیوں پر اعتبار کیا، نہ کہ سٹیلائٹ ڈیٹا پر۔
آپ نے PR ایونٹس کو حکمت عملی سمجھ لیا۔
آپ نے اختلاف کی آوازوں کو دبا کر خود کو طاقتور سمجھ لیا۔
آپ نے پاکستان کے تحمل کو کمزوری سمجھ لیا۔
اور جب حقیقت سامنے آئی — پاکستان کے ریڈار اور میزائل نظام کے ذریعے — تب آپ کو معلوم ہوا کہ اصل مقابلہ نعرے بازی سے نہیں، نظریے سے تھا۔
ایک نظریہ جسے آپ نے کبھی سمجھا ہی نہیں
جب آپ کے ستر طیارے اڑے، تو وہ ایک ڈیجیٹل کل ویب کے شکار بنے۔
آپ کے 290 ملین ڈالر والے رافیل طیارے—جن کی قیمت پاکستان کے پورے بیڑے سے تین گنا تھی—شکار بنے، جام کیے گئے، اور واپس لوٹنے پر مجبور ہوئے۔
کچھ لوٹ ہی نہ سکے۔
آپ کے ڈرون، جن سے آپ نے غزہ جیسی دہشت پھیلانے کی امید کی تھی، خود نشانے بن گئے۔
آپ کا S-400 دفاعی نظام، جسے علاقائی برتری کا ضامن کہا گیا تھا، ناکام ہو گیا۔
پاکستان کے نو میں سے دس میزائل گجرات، راجستھان، اور سنٹرل کمانڈ کے فضائی اڈوں پر نشانے پر لگے۔
جبکہ آپ اب بھی دنیا کو یہ باور کرانے کی کوشش کر رہے تھے کہ اسلام آباد گر چکا ہے۔
اسٹریٹجک اثرات
بھارت کا کواڈ میں چین کے خلاف توازن کا کردار ختم ہو گیا۔
مغربی اتحادی اب دیکھ رہے ہیں کہ چین سے مربوط پلیٹ فارمز ان کے اپنے ہتھیاروں سے بہتر کارکردگی دکھاتے ہیں۔
خلیجی ریاستیں اب پاکستان اور چین کے اتحاد کو ایک سنجیدہ دفاعی محور کے طور پر دیکھتی ہیں۔
آپ سبق سکھانے نہیں گئے تھے—بلکہ سبق سیکھنے گئے تھے۔
وہ بھی پوری دنیا کے وار کالجوں کے لیے ایک "مطالعہ کیس" بن کر۔
کراچی نہیں گرا—دہلی کا نظریہ گر گیا
آئیے حقیقت تسلیم کریں:
کراچی آج بھی قائم ہے۔
عاصم منیر مکمل کنٹرول میں ہیں۔
پاکستان کا سیاسی ڈھانچہ برقرار ہے۔
لیکن بھارت کا "فوری اور فیصلہ کن جوابی کارروائی" کا نظریہ ٹوٹ چکا ہے۔
اور یہ صرف علامتی شکست نہیں—عملی شکست ہے۔
برتری سے تنہائی تک
بھارت کی معاشی طاقت ایک اسٹریٹجک جمود میں بدل گئی۔
مودی کا بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا "ماسٹر اسٹریٹجسٹ" کا امیج ختم ہو گیا۔
اب صرف ایک تلخ حقیقت باقی ہے:
> میزائل پرواہ نہیں کرتے کہ پریس ریلیز کس نے لکھی ہے۔
نظریہ تکبر کو نگل جاتا ہے۔
یہ آپ کی اسٹریٹجک غلطی تھی
آپ نے پاکستان کو توڑنے کی کوشش میں،
اپنے ہی نقائص کو نمایاں کر دیا:
معاشی حد سے زیادہ خود اعتمادی
نظریاتی کمزوری
جنگی اصولوں کی بے توقیری
اور میں پوچھتا ہوں — آپ کہاں غلط ہو گئے؟
جب آپ نے طاقت کو ناقابل تسخیر ہونے کا مترادف سمجھا۔
جب آپ نے جنگ کو بغیر انجام سوچے چھیڑا۔
جب آپ نے پانی، جنگ اور خاموشی کو قابو پانے کے آلے سمجھے۔
یہ دیود اور جالوت کی جنگ نہ تھی—
یہ تو وہ جالوت تھا جو حد سے زیادہ شور کر رہا تھا،
اور دیود خاموشی سے سنتا رہا—اور صحیح موقع پر وار کیا۔
آپ نے صرف زمین نہیں کھوئی۔ آپ نے حکمت عملی کا بیانیہ کھو دیا۔
آپ نے سوچا کراچی پاکستان کی شہ رگ ہے۔
آپ نے بندرگاہ بند کرنے کے خواب دیکھے۔
آپ نے INS Vikrant کو تھیٹر میں تعینات کیا گویا فتح یقینی ہو۔
لیکن حقیقت یہ ہے:
جس کراچی کو آپ مٹانا چاہتے تھے—اسی کراچی نے دکھا دیا کہ ممبئی کو بھی خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔
آپ کی مشرقی بندرگاہیں — وشاکھاپٹنم، چنئی، پردیپ — بھی کمزور ہیں۔
یہ بڑھاوا نہیں۔ یہ برابری ہے۔
اسٹریٹجک برابری
آپ نے اپنی غلط حکمت عملی سے پاکستان کو اسٹریٹجک مساوات عطا کر دی ہے۔
جسے آپ "خستہ حال ریاست" کہتے تھے—
آج وہ آپ کی کھربوں ڈالر کی معیشت کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔
یہ صرف ہتھیاروں کی بات نہیں تھی—
یہ عزم اور استقامت کی جنگ تھی۔
اور سب سے بڑی ستم ظریفی؟
آپ نے پاکستان کی روایتی مزاحمتی صلاحیت کو جائز حیثیت دے دی ہے۔
دنیا نے دیکھا کہ کس طرح پاکستان ایئر فورس نے پرسکون اور منظم انداز میں بریفنگز دیں، اور کیسے ایک ذمہ دار جوہری طاقت کا تاثر پیش کیا۔
نتیجہ
آپ سبق سکھانے نہیں گئے تھے—بلکہ اپنی حکمت عملی کا ڈھانچہ کھو آئے۔
آپ جنگ میں گئے—اور بغیر کسی فائدے کے واپس آئے۔
اور اس عمل میں،
آپ نے پورے جنوبی ایشیا کا توازن بدل دیا۔
---
PS: میں نے یہ خط کیوں لکھا؟
یہ خط دشمنی یا نفرت سے نہیں لکھا گیا—بلکہ حقیقت کی زمین پر کھڑے ہو کر ایک خطرناک افسانوی بیانیے کی اصلاح کی کوشش ہے۔
جب اربوں جانوں کا سوال ہو، تو ہمیں شور و غوغا کو حکمت عملی سے الگ کرنا ہوگا۔
اقبال لطیف
Hamara Rawalpindi
Hamara Rawalpindi
پنجاب بھر کے ڈویژنوں کے اضلاع اور تحصیلوں کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا
ضلع کوٹ ادو اور تحصیل چوک سرور شہید بھی نئے نوٹیفکیشن میں شامل کر دئیے گئے
پاکستان کا صوبہ پنجاب 10 ڈویژنز، 41 اضلاع اور 156 تحصیلوں پر مشتمل ہے
لاہور ڈویژن کے 4 اضلاع، لاہور، قصور ،شیخوپورہ، ننکانہ صاحب کی 22 تحصیلیں ہیں
گوجرانوالہ ڈویژن کے 3 اضلاع گوجرانوالہ ،سیالکوٹ، نارووال کی 11 تحصیلیں ہیں
گجرات ڈویژن کے 4 اضلاع گجرات ،حافظ آباد، منڈی بہاؤالدین، وزیر آباد کی 12 تحصیلیں ہیں
راولپنڈی ڈویژن 6 اضلاع راولپنڈی، مری ،چکوال ،اٹک ،جہلم ،تلہ گنگ کی 24 تحصیلوں پر مشتمل ہے
ملتان ڈویژن 4 اضلاع ملتان، لودھراں، وہاڑی، خانیوال کی 14 تحصیلوں پر مشتمل ہے
ساہیوال ڈویژن 3 اضلاع ساہیوال، پاکپتن ،اوکاڑہ کی 7 تحصیلوں پر مشتمل ہے
بہاولپور ڈویژن 3 اضلاع بہاولپور ،بہاولنگر، رحیم یار خان کی 15 تحصیلوں پر مشتمل ہے
ڈیرہ غازی خان ڈویژن 6 اضلاع ڈیرہ غازی خان، تونسہ ،راجن پور، لیہ ،مظفرگڑھ، کوٹ ادو کی 16 تحصیلوں پر مشتمل ہے
فیصل آباد ڈویژن 4 اضلاع فیصل آباد ،جھنگ ،چنیوٹ ،ٹوبہ ٹیک سنگھ کی 17 تحصیلوں پر مشتمل ہے
سرگودھا ڈویژن 4 اضلاع سرگودھا ،خوشاب، میانوالی، بھکر کی 18 تحصیلوں پر مشتمل ہے
سب سے زیادہ اضلاع راولپنڈی ڈویژن اور ڈیرہ غازی خان ڈویژن میں ہیں
سب سے زیادہ تحصیلیں راولپنڈی ڈویژن اور لاہور ڈویژن میں ہیں۔
*اگر کوئی آپ کو کہے کہ*
*میرے لیے دعا کرنا۔"*
تو رسماً نہ کہیے کہ...!!
*`(جی ضرور)`*
بلکہ واقعی کر دیا کیجیے،
*کیا معلوم اس لمحے۔"*
"یہ دنیا اس پر کتنی
بھاری پڑ رہی ہو۔"
اور آپ کی دعا پر اس وقت
" کُن " کی مہر لگی ہو۔"
*معمولی باتوں سے ...
اپنے ماتھے پر پڑنے والی شِکنوں کو ...
گہرا سانس لے کر ختم کریں ...
ورنہ یہی مُستقبل میــــں ...
آپـــــــــ کے چہرے کی ...
جُھریاں ہوں گی ........!!!*
💞 💞
موسم تبدیل ہو رہا ہے احتیاط کریں
ٹھنڈا پانی نہ پئیں
رات کو کمبل اوڑھیں، نمونے آپ پہلے ہی ہیں
کہیں نمونیا نہ ہو جائے __🤭😁
* گریٹ سموگ آف لاہور*
‘ پنجاب پچھلے تین برسوں سے شدید سموگ کا شکار چلا آ رہا ہے‘
نومبر کے مہینے میں لاہور‘ بہاولنگر‘ پاکپتن‘ فیصل آباد اور ٹوبہ ٹیک سنگھ زہریلی دھند میں گم ہو جاتے ہیں‘
پنجاب اس بار بھی سموگ میں دفن ہے‘
ہماری فضا میں اگر 80 مائیکرو گرام زہریلے مادے ہوں تو ہمارے پھیپھڑے انہیں برداشت کر جاتے ہیں لیکن لاہور اور اس کے مضافات میں اس وقت آلودگی کی شرح 200 مائیکرو گرام کیوبک میٹر ہے‘
ہم اگر فضا کا ٹیسٹ کریں تو ہمیں اس میں کاربن مانو آکسائیڈ‘ سلفر اور نائیٹروجن کی بھاری مقدار ملے گی‘ یہ تمام مادے زہر ہیں‘
لاہور کی فضا میں تین سو سے چار سو فٹ تک آکسیجن کی شدید کمی بھی ہے‘
یہ فضا کتنی مضر صحت ہے آپ اس کا اندازہ سگریٹ سے لگا لیجئے‘ ہم اگر روزانہ 50 سگریٹ پئیں تو ہمارے پھیپھڑوں کو اتنا نقصان ہو گا جتنا لاہور کی فضا میں ایک دن سانس لینے سے ہو رہا ہے‘
بھارت ہم سے بھی بری صورتحال کا شکار ہے‘
بھارت میں 2012ء میں سموگ کی وجہ سے پندرہ لاکھ لوگ مر گئے ‘
لاہور میں بھی اس سال چار لاکھ لوگ متاثر ہوئے ہیں‘ یہ لوگ 2018ء کے دوران انتقال فرما گئے۔
یہ سموگ کہاں سے آ رہی ہے‘ یہ سوال بہت اہم ہے‘
اس کے چار بڑے سورس ہیں‘
پہلا سورس بھارتی پنجاب کا شہر ہریانہ ہے‘ ہریانہ میں دس سال میں چاول کی فصل میں آٹھ گنا اضافہ ہوا‘ ہریانہ کے کسان اکتوبر کے آخر میں چاول کے پودے کے خشک ڈنڈل اور خالی سٹے جلاتے ہیں‘ بھارتی کسانوں نے اس سال 3 کروڑ 50 لاکھ ٹن ڈنڈل جلائے‘ ڈنڈلوں کے دھوئیں نے دہلی سے لے کر لاہور تک پورے پنجاب کی مت مار دی‘
دو‘ لاہور کی فیکٹریوں میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے‘ یہ فیکٹریاں دھواں پیدا کر رہی ہیں‘
تین‘ حکومت نے لاہور کے گردونواح میں درجن کے قریب بڑے پاور پلانٹس لگائے‘ بجلی کا ایشو ختم ہو گیا لیکن فضا آلودہ ہو گئی اور
چوتھا سورس گاڑیاں ہیں‘ لاہور شہر میں دس لاکھ گاڑیاں ہیں‘ ہمارے پٹرول کا معیار انتہائی پست ہے چنانچہ یہ گاڑیاں چلتا پھرتا سموگ ہیں‘
ان چاروں سورسز کے علاوہ بھی سورسز ہیں‘
لاہور میں ٹائروں کو جلا کر تاریں اور تیل حاصل کیا جاتا ہے‘ شہر میں ٹائر جلانے والے سینکڑوں احاطے ہیں اور سیالکوٹ ریجن میں بھی اس موسم میں مونجی کی باقیات جلائی جاتی ہیں‘ لاہور کی آبادی بھی پھیل رہی ہے‘ مضافات میں جنگل‘ کھیت اور کھلیان بھی ختم ہو رہے ہیں اور دیہات بھی‘ آپ لاہور کے گرد ہاﺅسنگ سوسائٹیوں کا ڈیٹا نکال کر دیکھ لیجئے‘ آپ سر پیٹ کر رہ جائیں گے‘یہ ان سوسائٹیوں کا کمال ہے‘ ہم اب سبزیاں‘ پھل اور اناج بھی چین سے امپورٹ کر رہے ہیں‘ ہم امرود‘ تربوز‘ آڑو‘ کینو اور آم بھی درآمد کر رہے ہیں
چنانچہ لاہور تیزی سے سموگ میں ڈوبتا چلا جا رہا ہے۔ ہمیں ماننا ہوگا ترقی انتہائی اہم ہےاور لاہور اس وقت ملک کا خوبصورت اور ترقی یافتہ ترین شہر بن چکا ہے‘
پنجاب میں انگریز کے بعد بے شمار بڑے پیمانے پر ترقیاتی کام ہوئے‘ لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی حقیقت ہے کہ ترقی کا جھنڈا لاشوں پر نہیں لگا کرتا‘ پنجاب اگر اس ترقی کے ہاتھوں بیمار ہو گیا یا لوگ اگر مرنا شروع ہو گئے تو یہ ذمہ داری بھی بہرحال پنجاب حکومت کے کندھوں پر جائے گی
چنانچہ ہماری درخواست ہے پنجاب حکومت فوری طور پر کلین پنجاب کمیشن بنائے‘
فضائی آلودگی کی وجوہات تلاش کرے‘ اصلاحات کرے‘ اسمبلی سے منظوری لے اور لاہور کو لندن کی سپرٹ سے صاف کرنا شروع کر دے‘
لاہور اور اس کے گردونواح میں اصلی شجرکاری کرائے‘ فیکٹریاں باہر شفٹ کرائے‘ گاڑیوں کی تعداد کنٹرول کرے‘ پٹرول کا معیار بہتر بنائے‘ کوڑا‘ ٹائر اور کوئلہ جانے پر پابندی لگائے اور درخت کاٹنے کی سزا متعین کرے‘ حکومت کلین ائیر لندن ایکٹ سے بھی مدد لے سکتی ہے اور یہ بھوٹان ماڈل کو بھی سٹڈی کر سکتی ہے‘
یہ بھارتی حکومت کے ساتھ مل کر دھان کی باقیات جلانے پر بھی پابندی لگا سکتی ہے اور یہ بچوں کے سلیبس میں ماحولیات کا مضمون بھی متعارف کرا سکتی ہے‘
یہ اقدامات ضروری ہیں ورنہ دوسری صورت میں پنجاب باالخصوص لاہور ایک ترقی یافتہ قبرستان بن جائے گا اور اورنج لائین ٹرین مردے ڈھونے کے کام آئے گی۔
کیا پنجاب سرکار یہ چاہتی ہے۔
*تعلیمی ادارے بند کرنا سموگ کا حل نہیں بلکہ تعلیمی ادارے بند کرنے سے اس ملک کے نونہالوں کو ناقابل تلافی نقصان ہوگا' جو سموگ کے نقصانات سے کہیں بڑھ کر ہوگا*.
13/11/2024
"عربی ادب سے"
لیڈر بھیڑیے نے جب اپنے نوجوان بھیڑیوں(wolves) کو زندگی کا سبق اور جینے کا ہنر سکھانا چاہا تو وہ انھیں لے کر بھیڑوں (sheeps) کے ریوڑ کے پاس گیا اور ان سے مخاطب ہو کر کہا:
"ان بھیڑوں کا گوشت لذیذ ہوتا ہے"
اس کے بعد اس نے دور کھڑے چرواہے کیطرف اشارہ سے خبردار کرتے ہوئے کہا؛
"اس آدمی کی لاٹھی کی ضرب تکلیف دہ ہوتی ہے، اس لیے سنبھل کر احتیاط سے شکار کرنا"
اور جب ان جوان بھیڑیوں (wolves) نے ان بھیڑوں (sheeps) کے ریوڑ کے پاس ایک کتا کھڑا دیکھا تو انہوں نے لیڈر سے کہا:
"یہ تو دیکھنے میں ہوبہو ہماری طرح لگ رہا ہے"
لیڈر نے یہ سن کر انھیں نہایت پُر اثر جواب دیا کہ:
"جیسے ہی اس کتے کا وجود نظر آجائے تو وہاں سے فوراً فرار ہو جاؤ ! کیونکہ ہم نے اپنی زندگی میں اب تک جو کچھ درد بھی سہا ہے وہ ان لوگوں کی وجہ سے سہا ہے جو ہم جیسے نظر تو آتے ہیں مگر وہ ذرہ برابر بھی ہمارے بنتے نہیں ہیں...!!!"
*پاکستان نے آسٹریلیا میں 22 سال بعد ون ڈے سیریز جیت کر تاریخ رقم کردی*
پاکستان نے آسٹریلیا کو تیسرے اور فیصلہ کن میچ میں 8 وکٹوں سے شکست دی اور یوں کینگروز کے خلاف ہوم گراؤنڈ پر 22 سال بعد ون ڈے سیریز جیت کر نئی تاریخ رقم کردی۔
پرتھ میں کھیلے گئے ایک روزہ سیریز کے آخری میچ میں پاکستانی پیس بیٹری نے کینگروز کی بیٹنگ لائن کے پرخچے اڑا دیے، قومی ٹیم نے 31.5 اوورز میں آسٹریلیا کے 9 کھلاڑی 140 رنز پر آؤٹ کردیے جب کہ ایک کھلاڑی انجری کی وجہ سے دوبارہ بیٹنگ کے لیے میدان میں نہیں اترے۔
Hamara Rawalpindi
پاکستان نے مطلوبہ ہدف 27 اوورز میں 2 وکٹ کے نقصان پر حاصل کرلیا، قومی ٹیم کی اوپننگ جوڑی نے ایک بار پھر پر اعتماد انداز میں بیٹنگ کا آغاز کیا اور ٹیم کو 84 رنز کا آغاز فراہم کیا۔
پچھلے میچ میں نصف سنچریاں بنانے والے صائم ایوب نے 42 رنز کی اننگز کھیلی جب کہ عبداللہ شفیق 37 رنز بناکر آؤٹ ہوئے۔ کپتان محمد رضوان 30 اور بابراعظم 28 رنز پر ناقابل شکست رہے۔
آسٹریلیا کی جانب سے دونوں وکٹیں لینس موریس نے حاصل کیں۔
07/11/2024
برتھ ڈے(Birth Day) کیا ہے؟
یہ سوال *BBC WORLD* کے ایک پروگرام میں موجود دنیا کے کچھ پڑھی لکھی شخصیات حاضرین سے دریافت کیا گیا تھا۔
جسکا جواب ہر کسی نے اپنے اپنے انداز میں دینے کی کوشش کی۔۔۔لیکن سب سے خوبصورت جواب Dr APJ Abdul kalam نے دیا
انھوں نے کہا birthday آپ کی زندگی کا وہ واحد دن ھے جب آپ کے رونےکی آواز سن کر آپ کی ماں مسکرائی تھی ۔
اس کے بعد پھر ایسا دن کبھی نہیں آیا کہ اپنی اولاد کے رونے پر ماں مسکرائی ھو۔۔۔۔۔
*غیور اساتذہ کرام*
کل کے ٹیسٹ کا بھی شیڈول جاری ہو چکا ہے
*آپ نے اسی استقامت کا مظاہرہ کرتے ہوئے کل بھی TNA کامکمل بائیکاٹ کرنا ہے* ۔
کوئی بھی ٹیچر کسی بھی صورت میں سینٹرز کا رخ نہیں کرے گا۔
ڈیئنگی ایکٹیویٹی
دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی
زیادہ تر پرائمری سکولوں میں ایک یا دو استاد ہیں لیکن چھ جماعتیں ہیں۔
1- صبح سکول پہنچتے ہی ایک ٹیچر موبائل یا سکول ٹیب کا کیمرہ کھول کر سکول سے مچھر ڈھونڈنے کی کوشش کرے گا اگر مچھر مل گیا تو محکمہ کو رپورٹ کروائے گا اور اگر مچھر نہیں ملتا تو وہ زمین کی بیوقوف شخص کی طرح تصویر لے کر شئیر کر دے گا.
اس سارے عمل کو محکمہ تعلیم کی زبان میں ڈئینگی ایکٹیویٹی کہتے ہیں. یہ لازمی سرگرمی ہے.
بچوں کی پڑھائی کا کئی مہینوں تک حکام بالا نہیں پوچھتے لیکن مچھر کی تصویریں لینا اساتذہ بھول گئے تو کالز پہ کالز اور بعض اوقات تو سکول ہیڈ کو شوکاز تک جاری کر دیا جاتا ہے جس کا جواب ڈپٹی آفس میں جمع کروانے جانا پڑتا چاہے وہ ڈپٹی آفس ایجوکیشن چاہے متعلقہ سکول سے 50 کلومیٹر کے فاصلہ پر واقع ہو.
میرا پہلا سوال یہ ہے کہ مچھر ہونے یا ہونے کی صورت میں لی گئی ان تصاویر کا طلباء کی تعلیم یا اساتذہ کی کارگردگی سے کیا تعلق ہے؟
2- ڈیئنگی ایکٹیویٹی کرنے کے فوراً بعد استاد درجہ سویپر یعنی صفائی کرنے والا بن جاتا ہے. وہ جھاڑو لے کر سارے سکول کی صفائی کرتا ہے.
اس کے بعد سارے سکول میں اور پودوں پر پانی کا چھڑکاؤ کرتا ہے تاکہ بچوں کو صاف ماحول دیا جائے.
اس کے بعد واش رومز کو اچھی طرح پانی اور تیزاب سے واش کرتا ہے.
میرا دوسرا سوال یہ ہے کہ
کیا سکول، واش رومز کی صفائی اور سارے سکول میں پانی کا چھڑکاؤ کرنا استاد کی ذمہ داری ہے یا ایک چوکیدار ہونا چاہیے؟
کیا استاد کو صفائی کرنے اور پانی چھڑکنے کے لیے سکولز میں رکھا گیا ہے یا بچوں کو پڑھانے کے لیے؟
اس زندگی میں تمام حقیقی چیزیں صرف ایک بار ہوتی ہیں، موت، پیدائش، محبت،
کچھ بھی دو بار نہیں ہوتا سوائے وہم کے۔
کارلوس زاوون🥀
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Address
Rawalpindi