*💜 سورۃ اٰل عمرٰن💜*
*💙آیت نمبر 15 تا 20💙*
قُلْ أَؤُنَبِّئُكُمْ بِخَيْرٍ مِنْ ذَلِكُمْ لِلَّذِينَ اتَّقَوْا عِنْدَ رَبِّهِمْ جَنَّاتٌ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا وَأَزْوَاجٌ مُطَهَّرَةٌ وَرِضْوَانٌ مِنَ اللَّهِ وَاللَّهُ بَصِيرٌ بِالْعِبَادِ
کہہ دے کیا میں تمھیں اس سے بہتر چیز بتائوں، جو لوگ متقی بنے ان کے لیے ان کے رب کے پاس باغات ہیں، جن کے نیچے سے نہریں بہتی ہیں، ان میں ہمیشہ رہنے والے ہیں اور نہایت پاک صاف بیویاں اور اللہ کی جانب سے عظیم خوشنودی ہے اور اللہ بندوں کو خوب دیکھنے والاہے۔
آل عمران : 15الَّذِينَ يَقُولُونَ رَبَّنَا إِنَّنَا آمَنَّا فَاغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ
جو کہتے ہیں اے ہمارے رب! بے شک ہم ایمان لے آئے، سو ہمیں ہمارے گناہ بخش دے اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچا۔
آل عمران : 16الصَّابِرِينَ وَالصَّادِقِينَ وَالْقَانِتِينَ وَالْمُنْفِقِينَ وَالْمُسْتَغْفِرِينَ بِالْأَسْحَارِ
جو صبر کرنے والے اور سچ کہنے والے اور حکم ماننے والے اور خرچ کرنے والے اور رات کی آخری گھڑیوں میں بخشش مانگنے والے ہیں۔
آل عمران : 17شَهِدَ اللَّهُ أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ وَالْمَلَائِكَةُ وَأُولُو الْعِلْمِ قَائِمًا بِالْقِسْطِ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ
اللہ نے گواہی دی کہ بے شک حقیقت یہ ہے کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں اور فرشتوں نے اور علم والوں نے بھی، اس حال میں کہ وہ انصاف پر قائم ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، سب پر غالب، کمال حکمت والا ہے۔
آل عمران : 18إِنَّ الدِّينَ عِنْدَ اللَّهِ الْإِسْلَامُ وَمَا اخْتَلَفَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ إِلَّا مِنْ بَعْدِ مَا جَاءَهُمُ الْعِلْمُ بَغْيًا بَيْنَهُمْ وَمَنْ يَكْفُرْ بِآيَاتِ اللَّهِ فَإِنَّ اللَّهَ سَرِيعُ الْحِسَابِ
بے شک دین اللہ کے نزدیک اسلام ہی ہے اور وہ لوگ جنھیں کتاب دی گئی انھوں نے اختلاف نہیں کیا مگر اس کے بعد کہ ان کے پاس علم آ چکا، آپس میں ضد کی وجہ سے اور جو اللہ کی آیات کا انکار کرے تو بے شک اللہ بہت جلد حساب لینے والاہے۔
آل عمران : 19فَإِنْ حَاجُّوكَ فَقُلْ أَسْلَمْتُ وَجْهِيَ لِلَّهِ وَمَنِ اتَّبَعَنِ وَقُلْ لِلَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ وَالْأُمِّيِّينَ أَأَسْلَمْتُمْ فَإِنْ أَسْلَمُوا فَقَدِ اهْتَدَوْا وَإِنْ تَوَلَّوْا فَإِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلَاغُ وَاللَّهُ بَصِيرٌ بِالْعِبَادِ
پھر اگر وہ تجھ سے جھگڑا کریں تو کہہ دے میں نے اپنا چہرہ اللہ کے تابع کر دیااور اس نے بھی جس نے میری پیروی کی، اور ان لوگوں سے جنھیں کتاب دی گئی ہے اور ان پڑھ لوگوں سے کہہ دے کیا تم تابع ہوگئے؟ پس اگر وہ تابع ہو جائیں تو بے شک ہدایت پا گئے اور اگر وہ منہ پھیر لیں تو تیرے ذمے تو صرف پہنچا دینا ہے اور اللہ بندوں کو خوب دیکھنے والا ہے۔
آل عمران : 20
The Holy Quran Teacher
We offer online Holy Quran reading with tajweed ,translation and tafseer for both childrens and olds
*⊰ بسم اللّٰه الرحمن الرحيم ⊱*
*🤲یارب ھمیں نعمتوں کا قدردان بنادے*
*اَللّٰهُ اَكبَرُ كَبِيرًا وَّالحَمدُ لِلّٰہِ كَثِيرًاوَّسُبحَانَ اللّٰهُِ بُكرَةً وَّاَصِيلَا*
*اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٓى مُحَمَّدٍ وَّعَلٓى اٰلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيتَ عَلٓى إِبرَاهِيمَ وَعَلٓى اٰلِ إِبرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَّجِيدٌ*
*اَللّٰهُمَّ بَارِك علٓى مُحَمَّدٍ وَّعَلٓى اٰلِ مُحَمَّدٍ كَمَابَارَکتَ عَلٓى إِبرَاهِيمَ وَعَلٓى اٰلِ إِبرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَّجِيد*
*🕋🤲 اَللّٰهُمَّ إِنِّیْ أَعُوْذُبِکَ مِنْ یَوْمِ السُّوْءِ، وَمِنْ لَیْلَةِ السُّوْءِ، وَمِنْ سَاعَةِ السُّوْءِ، وَمِنْ صَاحِبِ السُّوْءِ، وَمِنْ جَارِ السُّوْءِ فِیْ دَارِ الْمُقَامَةِ*
*🤲اے اللہ ! بے شک میں تیری پناہ مانگتی ہوں برے دن سے اور بری رات سے اور بری گھڑی سے اور برے دوست سے اور سکونت کے گھر میں برے ہمسایہ سے*
*🤲یا اللُٰہ رب العزت*
بے شک ھم تیری پناہ مانگتے ہیں مکان سے گر کر مرنے سے اور مکان کے نیچے دب کر مرنے سے اور ڈوب کر مرنے سے اور جل کر مرنے سے اور پناہ مانگتے ہیں تیری کہ مرنے کے قریب شیطان ھم کو اچک لے اور یہ کہ تیری راہ میں پیٹھ پھیر کر مریں اور پناہ مانگتے ہیں تیری (سانپ وغیرہ) کے ڈسنے سے ھم مریں
*🤲 یا ارحم الراحمین*
ھم تجھے ان (اپنے دشمن) کے نرغوں(گردنوں) پر رکھتے ہیں اور ان کے شر سے تیری پناہ چاہتے ہیں
*🤲 یا رب العالمین*
اپنی رحمت سے ھمیں معاف فرما ، مومن مردوں کو اور مومن عورتوں کو اور مسلمان مرد اور مسلمان عورتوں کو جو زندہ ہیں اور جو وفات پاچُکے
اے رحم کرنے والوں میں سے سب سے زیادہ رحم کرنے والے
*🤲 یا رب العرش العظیم*
ھماری بہترین عمر ھماری آخری عمر کو بنادینا اور ھمارے بہترین اعمال ھمارے آخری اعمال کو بنادینا ، ھماری زندگی کا سب سے بہترین دن وہ بنادینا کہ جس میں ھم تجھ سے ملیں یعنی موت کا دن
اللہ ھمارا خاتمہ ایمان پر کرنا اپنے کرم سے
*رَبَّنَا تَقَبَّل مِنَّا إِنَّكَ أَنتَ السَّمِيعُ العَلِيم وَتُب عَلَينَا إِنَّكَ أَنتَ التَّوَّابُ الرَّحِيم تَوَفَّنَا مُسْلِمًا وَأَلْحِقْنَا بِالصَّالِحِينَ*
*آمِین یَا رَبَّ العٰلَمِین*
*اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٓى مُحَمَّدٍ وَّعَلٓى اٰلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيتَ عَلٓى إِبرَاهِيمَ وَعَلٓى اٰلِ إِبرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَّجِيدٌ*
*اَللّٰهُمَّ بَارِك علٓى مُحَمَّدٍ وَّعَلٓى اٰلِ مُحَمَّدٍ كَمَابَارَکتَ عَلٓى إِبرَاهِيمَ وَعَلٓى اٰلِ إِبرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَّجِيد*
______________________
*اَلسَّلَامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اللّٰهِ وَبَرَكَاتُهُ*
______________________
*💫نصیحت*
*ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ وہ تین راتوں سےزیادہ اپنے بھائی سے قطعِ تعلقی رکھے بایں طور کہ ان کا آمنا سامنا ہو تو وہ ایک دوسرے سے منہ موڑ لیں۔ ان میں سے بہتر وہ ہے جو سلام میں پہل کر لے*
*📝اس حدیث کی روشنی میں اپنا جائزہ لیجیے ! ۔۔۔۔۔۔*
الم
الۤمۤ۔
آل عمران : 1اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ
اللہ (وہ ہے کہ) اس کے سوا کوئی معبود نہیں، زندہ ہے، ہر چیز کو قائم رکھنے والا ہے۔
آل عمران : 2نَزَّلَ عَلَيْكَ الْكِتَابَ بِالْحَقِّ مُصَدِّقًا لِمَا بَيْنَ يَدَيْهِ وَأَنْزَلَ التَّوْرَاةَ وَالْإِنْجِيلَ
اس نے تجھ پر یہ کتاب حق کے ساتھ اتاری، اس کی تصدیق کرنے والی ہے جو اس سے پہلے ہے اور اس نے تورات اور انجیل اتاری۔
آل عمران : 3مِنْ قَبْلُ هُدًى لِلنَّاسِ وَأَنْزَلَ الْفُرْقَانَ إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا بِآيَاتِ اللَّهِ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِيدٌ وَاللَّهُ عَزِيزٌ ذُو انْتِقَامٍ
اس سے پہلے، لوگوں کی ہدایت کے لیے۔ اور اس نے (حق و باطل میں) فرق کرنے والی (کتاب) اتاری، بے شک جن لوگوں نے اللہ کی آیات کا انکار کیا ان کے لیے بہت سخت عذاب ہے اور اللہ سب پر غالب، بدلہ لینے والا ہے۔
آل عمران : 4إِنَّ اللَّهَ لَا يَخْفَى عَلَيْهِ شَيْءٌ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي السَّمَاءِ
بے شک اللہ وہ ہے جس پر کوئی چیز نہ زمین میں چھپی رہتی ہے اور نہ آسمان میں۔
آل عمران : 5هُوَ الَّذِي يُصَوِّرُكُمْ فِي الْأَرْحَامِ كَيْفَ يَشَاءُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ
وہی ہے جو رحموں میں تمھاری صورت بناتا ہے، جس طرح چاہتا ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، سب پر غالب، کمال حکمت والا ہے۔
آل عمران : 6هُوَ الَّذِي أَنْزَلَ عَلَيْكَ الْكِتَابَ مِنْهُ آيَاتٌ مُحْكَمَاتٌ هُنَّ أُمُّ الْكِتَابِ وَأُخَرُ مُتَشَابِهَاتٌ فَأَمَّا الَّذِينَ فِي قُلُوبِهِمْ زَيْغٌ فَيَتَّبِعُونَ مَا تَشَابَهَ مِنْهُ ابْتِغَاءَ الْفِتْنَةِ وَابْتِغَاءَ تَأْوِيلِهِ وَمَا يَعْلَمُ تَأْوِيلَهُ إِلَّا اللَّهُ وَالرَّاسِخُونَ فِي الْعِلْمِ يَقُولُونَ آمَنَّا بِهِ كُلٌّ مِنْ عِنْدِ رَبِّنَا وَمَا يَذَّكَّرُ إِلَّا أُولُو الْأَلْبَابِ
وہی ہے جس نے تجھ پر یہ کتاب اتاری، جس میں سے کچھ آیات محکم ہیں، وہی کتاب کی اصل ہیں اور کچھ دوسری کئی معنوں میں ملتی جلتی ہیں، پھر جن لوگوں کے دلوں میں تو کجی ہے وہ اس میں سے ان کی پیروی کرتے ہیں جو کئی معنوں میں ملتی جلتی ہیں، فتنے کی تلاش کے لیے اور ان کی اصل مراد کی تلاش کے لیے، حالانکہ ان کی اصل مراد نہیں جانتا مگر اللہ اور جو علم میں پختہ ہیں وہ کہتے ہیں ہم اس پر ایمان لائے، سب ہمارے رب کی طرف سے ہے اور نصیحت قبول نہیں کرتے مگر جو عقلوں والے ہیں۔
آل عمران : 7رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا وَهَبْ لَنَا مِنْ لَدُنْكَ رَحْمَةً إِنَّكَ أَنْتَ الْوَهَّابُ
اے ہمارے رب! ہمارے دل ٹیڑھے نہ کر، اس کے بعد کہ تو نے ہمیں ہدایت دی اور ہمیں اپنے پاس سے رحمت عطا فرما، بے شک تو ہی بے حد عطا کرنے والا ہے۔
آل عمران : 8
28/07/2022
بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم
2 : سورة البقرة 177
نیکی یہ نہیں ہے کہ تم نے اپنے چہرے مشرق کی طرف کر لیے یا مغرب کی طرف ، بلکہ نیکی یہ ہے کہ آدمی اللہ کو اور یوم آخر اور ملائکہ کو اور اللہ کی نازل کی ہوئی کتاب اور اس کے پیغمبروں کو دل سے مانے اور اللہ کی محبت میں اپنا دل پسند مال رشتے داروں اور یتیموں پر ، مسکینوں اور مسا فروں پر ، مدد کے لیے ہاتھ پھیلانے والوں پر اور غلاموں کی رہائی پر خرچ کرے ، نماز قائم کرے اور زکوٰة دے ۔ اور نیک وہ لوگ ہیں کہ جب عہد کریں تو اسے وفا کریں ، اور تنگدستی و مصیبت کے وقت میں اور حق و باطل کی جنگ میں صبر کریں ۔ یہ ہیں راستباز لوگ اور یہی لوگ متقی ہیں ۔
مشرق و مغرب کو اس کے لئے خاص کیا گیا کہ یہود مغرب کی طرف اور نصاریٰ مشرق کی طرف منہ کیا کرتے تھے ، پس غرض یہ ہے کہ یہ تو صرف لفظی ایمان ہے ایمان کی حقیقت تو عمل ہے ،
حضرت ابن عباس اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ تم نمازیں پڑھو اور دوسرے اعمال نہ کرو یہ کوئی بھلائی نہیں ۔
سورۃالدھر آیت نمبر 8-9
مسلمان باوجود کھانے کی چاہت کے مسکینوں یتیموں اور قیدیوں کو کھانا کھلاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم تمہیں اللہ کی خوشنودی کے لئے کھلاتے ہیں نہ تم سے اس کا بدلہ چاہتے ہیں نہ شکریہ
صحیح حدیث شریف میں ہے
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں افضل صدقہ یہ ہے کہ تو اپنی صحت اور مال کی محبت کی حالت میں اللہ کے نام دے باوجودیکہ مال کی کمی کا اندیشہ ہو اور زیادتی کی رغبت بھی ہو ( بخاری ومسلم )
سورۃ الحشر آیت نمبر 59
یعنی باوجود اپنی حاجت اور ضرورت کے بھی وہ دوسروں کو اپنے نفس پر مقدم کرتے ہیں
پس یہ لوگ بڑے پایہ کے ہیں کیونکہ پہلی قسم کے لوگوں نے تو اپنی پسندیدہ چیز باوجود اس کی محبت کے دوسروں کو دی لیکن ان بزرگوں نے اپنی چاہت کی وہ چیز جس کے وہ خود محتاج تھے دوسروں کو دے دی اور اپنی حاجت مندی کا خیال بھی نہ کیا ۔
سورۃ الرعد آیت نمبر 13
یہ لوگ اللہ کے عہد کو پورا کرتے ہیں اور وعدے نہیں توڑتے ،
وعدے توڑنا نفاق کی خصلت ہے ،
جیسے حدیث میں ہے منافق کی تین نشانیاں ہیں ، بات کرتے ہوئے جھوٹ بولنا ، وعدہ خلافی کرنا ، امانت میں خیانت کرنا ،
ایک اور حدیث میں ہے جھگڑے کے وقت گالیاں بکنا ۔
آیت مبارکہ کے آخری حصے کے متعلق فرمان رسول صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم ہے کہ
فقر و فقہ میں مال کی کمی کے وقت بدن کی بیماری کے وقت لڑائی کے موقعہ پر دشمنان دین کے سامنے میدان جنگ میں جہاد کے وقت صبر و ثابت قدم رہنے والے اور فولادی چٹان کی طرح جم جانے والے ۔ صابرین کا نصب بطور مدح کے ہے ان سختیوں اور مصیبتوں کے وقت صبر کی تعلیم اور تلقین ہو رہی ہے ، اللہ تعالیٰ ہماری مدد کرے ہمارا بھروسہ اسی پر ہے ۔ پھر فرمایا ان اوصاف والے لوگ ہی سچے ایمان والے ہیں ان کا ظاہر باطن قول فعل یکساں ہے اور متقی بھی یہی لوگ ہیں کیونکہ اطاعت گزار ہیں اور نافرمانیوں سے دور ہیں ۔
سورۃ التغابن آیت نمبر 14
اے لوگو جو ایمان لائے ہو ، تمہاری بیویوں اور تمہاری اولاد میں سے بعض تمہارے دشمن ہیں ، ان سے ہوشیار رہو ۔ اور اگر تم عفو و درگزر سے کام لو اور معاف کر دو تو اللہ غفور و رحیم ہے
تفسیر لمبی ہے کوشش کریں کہ پوری پڑھی جائے مختصر کرکے مفہوم واضح نہیں ہو رہا تھا جزاک اللّٰہ
اس آیت کے دو مفہوم ہیں ۔ ایک مفہوم کے لحاظ سے اس کا اطلاق ان بہت سی مشکلات پر ہوتا ہے جو خدا کی راہ پر چلنے میں بکثرت اہل ایمان مردوں کو اپنی بیویوں سے اور عورتوں کو اپنے شوہروں سے اور والدین کو اپنی اولاد سے پیش آتی ہیں ۔ دنیا میں کم ہی ایسا ہوتا ہے کہ ایک مرد کو ایسی بیوی اور ایک عورت کو ایسا شوہر ملے جو ایمان اور راست روی میں پوری طرح ایک دوسرے کے رفیق و مدد گار ہوں ، اور پھر دونوں کو اولاد بھی ایسی میسر ہو جو عقیدہ و عمل اور اخلاق و کردار کے اعتبار سے ان کے لیے آنکھوں کی ٹھنڈک بنے ۔ ورنہ بالعموم ہوتا یہ ہے کہ شوہر اگر نیک اور ایماندار ہے تو بیوی اور اولاد اسے ایسی ملتی ہے جو اس کی دیانت و امانت اور راست بازی کو اپنے حق میں بد قسمتی سمجھتی ہے اور یہ چاہتی ہے کہ شوہر اور باپ ان کی خاطر جہنم مول لے اور ان کے لیے حرام و حلال کی تمیز چھوڑ کر ہر طریقے سے عیش و طرب اور فسق و فجور کے سامان فراہم کرے ۔ اور اس کے برعکس بسا اوقات ایک نیک مومن عورت کو ایسے شوہر سے سابقہ پیش آتا ہے جسے اس کی پابندی شریعت ایک آنکھ نہیں بھاتی ، اور اولاد بھی باپ کے نقش قدم پر چل کر اپنی گمراہی اور بد کرداری سے ماں کی زندگی اجیرن کر دیتی ہے ۔ پھر خصوصیت کے ساتھ جب کفر و دین کی کشمکش میں ایک انسان کے ایمان کا تقاضا یہ ہوتا ہے کہ اللہ اور اس کے دین کی خاطر نقصانات برداشت کرے ، طرح طرح کے خطرات مول لے ، ملک چھوڑ کر ہجرت کر جائے ، یا جہاد میں جا کر اپنی جان تک جوکھوں میں ڈال دے ، تو سب سے بڑھ کر اس کی راہ میں اس کے اہل و عیال ہی رکاوٹ بنتے ہیں ۔ دوسرے مفہوم کا تعلق ان مخصوص حالات سے ہے جو ان آیات کے نزول کے زمانہ میں بکثرت مسلمانوں کو پیش آرہے تھے اور آج بھی ہر اس شخص کو پیش آتے ہیں جو کسی غیر مسلم معاشرے میں اسلام قبول کرتا ہے ۔ اس وقت مکہ معظمہ میں اور عرب کے دوسرے حصوں میں عموماً یہ سورت پیش آتی تھی کہ ایک مرد ایمان لے آیا ہے ، مگر بیوی بچے نہ صرف اسلام قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں ، بلکہ خود اس کو اسلام سے پھیر دینے کے لیے کوشاں ہیں ۔ اور ایسے ہی حالات سے ان خواتین کو سابقہ پیش آتا تھا جو اپنے خاندان میں اکیلی اسلام قبول کرتی تھیں ۔ یہ دونوں قسم کے حالات جن اہل ایمان کو در پیش ہوں انہیں خطاب کرتے ہوئے تین باتیں فرمائی گئی ہیں : سب سے پہلے انہیں خبردار کیا گیا ہے کہ دنیوی رشتے کے لحاظ سے اگرچہ یہ لوگ وہ ہیں جو انسان کو سب سے زیادہ عزیز ہوتے ہیں ، لیکن دین کے لحاظ سے یہ تمہارے دشمن ہیں ۔ یہ دشمنی خواہ اس حیثیت سے ہو کہ وہ تمہیں نیکی سے روکتے اور بدی کی طرف مائل کرتے ہوں یا اس حیثیت سے کہ وہ تمہیں ایمان سے روکتے اور کفر کی طرف کھینچتے ہوں ، یا اس حیثیت سے کہ ان کی ہمدردیاں کفار کے ساتھ ہوں اور تمہارے ذریعہ سے اگر کوئی بات بھی مسلمانوں کے جنگی رازوں کے متعلق ان کے علم میں آ جائے تو اسے اسلام کے دشمنوں تک پہنچا دیتے ہوں ، اس سے دشمنی کی نوعیت و کیفیت میں تو فرق ہو سکتا ہے ، لیکن بہر حال یہ ہے دشمنی ہی ، اور اگر تمہیں ایمان عزیز ہو تو اس لحاظ سے تمہیں ان کو دشمن ہی سمجھنا چاہیے ، ان کی محبت میں گرفتار ہو کر کبھی اس بات کو نہ بھولنا چاہیے کہ تمہارے اور ان کے درمیان ایمان و کفر ، یا طاعت و معصیت کی دیوار حائل ہے ۔ اس کے بعد فرمایا گیا کہ ان سے ہوشیار رہو ۔ یعنی ان کی دنیا بنانے کے لیے اپنی عاقبت برباد نہ کر لو ۔ ان کی محبت کو کبھی اپنے دل میں اس حد تک نہ بڑھنے دو کہ وہ اللہ و رسول کے ساتھ تمہارے تعلق اور اسلام کے ساتھ تمہاری وفاداری میں حائل ہو جائیں ۔ ان پر کبھی اتنا اعتماد نہ کرو کہ تمہاری بے احتیاطی سے مسلمانوں کی جماعت کے اسرار انہیں معلوم ہو جائیں اور وہ دشمنوں تک پہنچیں ۔ یہ وہی بات ہے جس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک حدیث میں مسلمانوں کو خبر دار کیا ہے کہ یُؤْتیٰ برجلٍ یوم القیٰمۃ فیقالُ اکل عیالہ حَسَنا تِہٖ ۔ ایک شخص قیامت کے روز لایا جائے گا اور کہا جائے گا کہ اس کے بال بچے اس کی ساری نیکیاں کھا گئے ۔ آخر میں فرمایا گیا کہ اگر تم عفو و در گزر سے کام لو اور معاف کر دو تو اللہ غفور و رحیم ہے ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کی دشمنی سے تمہیں صرف اس لیے آگاہ کیا جا رہا ہے کہ تم ان سے ہوشیار رہو اور اپنے دین کو ان سے بچنے کی فکر کرو ۔ اس سے آگے بڑھ کر اس تنبیہ کا مقصد ہرگز یہ نہیں ہے کہ بیوی بچوں کو مارنے پیٹنے لگو ، یا ان کے ساتھ سختی سے پیش آؤ ، یا ان کے ساتھ تعلقات میں ایسی بد مزگی پیدا کر لو کہ تمہاری اور ان کی گھریلو زندگی عذاب بن کر رہ جائے ۔ یہ اس لیے کہ ایسا کرنے کے دو نقصانات بالکل واضح ہیں ۔ ایک یہ کہ اس سے بیوی بچوں کی اصلاح کے دروازے ہمیشہ کے لیے بند ہو جانے کا خطرہ ہے ۔ دوسرے یہ کہ اس سے معاشرے میں اسلام کے خلاف الٹی بدگمانیاں پیدا ہو سکتی ہیں اور گرد و پیش کے لوگوں کی نگاہ میں مسلمان کے اخلاق و کر دار کی یہ تصویر بنتی ہے کہ اسلام قبول کرتے ہی وہ خود اپنے گھر میں اپنے بال بچوں تک کے لیے سخت گیر اور بد مزاج بن جاتا ہے ۔ اس سلسلے میں یہ بات بھی نگاہ میں رہنی چاہیے کہ ابتدائے اسلام میں جب لوگ نئے نئے مسلمان ہوتے تھے ، تو ان کو ایک مشکل اس وقت پیش آتی تھی جب ان کے والدین کافر ہوتے تھے اور وہ ان پر دباؤ ڈالتے تھے کہ اس نئے دین سے پھر جائیں ۔ اور دوسری مشکل اس وقت پیش آتی جب ان کے بیوی بچے ( یا عورتوں کے معاملہ میں ان کے شوہر اور بچے ) کفر پر قائم رہتے اور دین حق کی راہ سے انہیں پھیرنے کی کوشش کرتے تھے ۔ پہلی صورت کے متعلق سورہ عنکبوت ( آیت 8 ) اور سورہ لقمان ( آیات 14 ۔ 15 ) میں یہ ہدایت فرمائی گئی کہ دین کے معاملہ میں والدین کی بات ہرگز نہ مانو ، البتہ دنیا کے معاملات میں ان کے سا تھ حسن سلوک کرتے رہو ۔ دوسری صورت کا حکم یہاں بیان کیا گیا ہے کہ اپنے دین کو تو اپنے بال بچوں سے بچانے کی فکر ضرور کرو ، مگر ان کے ساتھ سخت گیری کا برتاؤ نہ کرو ، بلکہ نرمی اور عفو و در گزر سے کام لو ۔
بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم
سورۃ الاعراف آیت نمبر 56
اور زمین میں اس کی اصلاح کے بعد فساد برپا نہ کرو ، اور اس کی عبادت اس طرح کرو کہ دل میں خوف بھی ہو اور امید بھی ۔ یقینا اللہ کی رحمت نیک لوگوں سے قریب ہے ۔
زمین میں فساد برپا نہ کرو ، یعنی زمین کے انتظام کو خراب نہ کرو ۔ انسان کا خدا کی بندگی سے نکل کر اپنے نفس کی یا دوسروں کی بندگی اختیار کرنا اور خدا کی ہدایت کو چھوڑ کر اپنے اخلاق ، معاشرت اور تمدن کو ایسے اصول وقوانین پر قائم کرنا جو خدا کے سوا کسی اور کی رہنمائی سے ماخوذ ہوں ، یہی وہ بنیادی فساد ہے جس سے زمین کے انتظام میں خرابی کی بے شمار صورتیں رونما ہوتی ہیں اور اسی فساد کو روکنا قرآن کا مقصود ہے ۔ اس کے بعد قرآن اس حقیقت پر بھی متنبہ کرتا ہے کہ زمین کے انتظام میں اصل چیز فساد نہیں ہے جس پر اصلاح وارد ہوئی ہو بلکہ اصل چیز اصلاح ہے جس پر فساد محض انسان کی جہالت اور سرکشی سے وارد ہوتا رہا ہے ۔ اسی فساد کو مٹانے اور نظام حیات کو از سرنو درست کردینے کے لیے اللہ تعالی وقتاً فوقتاً اپنے پیغمبر بھیجتا رہا ہے اور انہوں نے ہر زمانے میں انسان کو یہی دعوت دی ہے کہ زمین کا انتظام جس صلاح پر قائم کیا گیا تھا اس میں فساد برپا کرنے سے باز آؤ ۔
سچی عبادت کی شان اس آیت میں یہ بتائی گئی ہے کہ عبادت کرنے والے کے دل میں اپنی عبادت پر ناز ہونے کے بجائے یہ خوف ہونا چاہئے کہ نہ جانے میں عبادت کا حق ادا کرسکا یا نہیں۔ اور یہ اﷲ تعالیٰ کی بارگاہ میں قبولیت کی مستحق ہے یا نہیں۔ دوسری طرف اسے اپنی عبادت کی کوتاہیوں سے مایوسی کی بجائے اﷲ تعالیٰ کی رحمت سے یہ امید بھی ہونی چاہئے کہ وہ اپنے فضل و کرم سے اسے قبول فرما ہی لے گا۔ یعنی اپنی کوتاہی کا خوف اور اﷲ تعالیٰ کی رحمت کی بنیاد پر امید، دونوں چیزوں کا امتزاج ہے جو کسی عبادت میں سچائی پیدا کرتا ہے۔
اللّٰہ تبارک وتعالی ہمیں سمجھنے اور عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے! آمین
*عــلامــــاتِـــــ قیـــامتــــــ*
(رسول اللّٰہ ﷺ کی پیشین گوئیاں)
: *"رسول اللّٰہ ﷺ کی بعثت اور وفات"*
حضرت سہل بن سعد ؓ سے روایت ہے کہ میں نے نبی کریم ﷺ سے سُنا:
*آپ ﷺ نے اپنے انگوٹھے کے قریب والی (شہادت والی انگلی) اور درمیانی اٌنگلی (بڑی اُنگلی) سے اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: "مُجھے اور قیامت کو اِس طرح (ساتھ ساتھ) بھیجا گیا یے"*
(صحیــح مســــلم : 7403)
حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللّٰہ ﷺ نے فرمایا:
*”میری بعثت اور قیامت دونوں اس طرح قریب ہیں جیسے یہ دو اُنگلیاں (نزدیک نزدیک)"*
(صحیــح بخــــاری : 6504)
حضرت عوف بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللّٰہ ﷺ نے فرمایا:
*"قیامت سے پہلے چھ نشانیاں یاد رکھنا جن میں سے ایک میری وفات یے"*
(ابــنِ مـــاجـــــہ: 4042)
اہل جنت اور جہنم
*حارثہ بن وہب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں اہل جنت کے بارے میں نہ بتاؤں“؟ ہر وہ کمزور اور بے حال شخص جس کو لوگ کمزور سمجھیں، کیا میں تمہیں اہل جہنم کے بارے میں نہ بتاؤں؟ ہر وہ سخت مزاج، پیسہ جوڑ جوڑ کر رکھنے، اور تکبر کرنے والا“۔*🔹
«سنــن ابــن ماجہ-4116
بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم
سورۃ النساء آیت نمبر 6
اور یتیموں کی آزمائش کرتے رہو یہاں تک کہ وہ نکاح کے قابل عمر کو پہنچ جائیں پھر اگر تم اُن کے اندر اہلیت پاؤ تو اُن کے مال اُن کے حوالے کر دو ایسا کبھی نہ کرنا کہ حد انصاف سے تجاوز کر کے اِس خوف سے اُن کے مال جلدی جلدی کھا جاؤ کہ وہ بڑے ہو کر اپنے حق کا مطالبہ کریں گے یتیم کا جو سرپرست مال دار ہو وہ پرہیز گاری سے کام لے اور جو غریب ہو وہ معروف طریقہ سے کھائے پھر جب اُن کے مال اُن کے حوالے کرنے لگو تو لوگوں کو اس پر گواہ بنا لو، اور حساب لینے کے لیے اللہ کافی ہے
جسے ضرورت نہ ہو خود امیر ہو کھاتا پیتا ہو تو اسے تو چاہئے کہ ان کے مال میں سے کچھ بھی نہ لے ، مردار اور بہے ہوئے خون کی طرح یہ مال ان پر حرام ہے ، ہاں اگر والی مسکین محتاج ہو تو بیشک اسے جائز ہے کہ اپنی پرورش کے حق کے مطابق وقت کی حاجت اور دستور کے موجب اس مال میں سے کھا پی لے اپنی حاجت کو دیکھیئے اور اپنی محنت کو اگر حاجت محنت سے کم ہو تو حاجت کے مطابق لے اور اگر محنت حاجت سے کم ہو تو محنت کا بدلہ لے لے ، پھر ایسا ولی اگر مالدار بن جائے تو اسے اس کھائے ہوئے اور لئے ہوئے مال کو واپس کرنا پڑے گا یا نہیں؟ اس میں دو قول ہیں ایک تو یہ کہ واپس نہ دینا ہو گا اس لئے کہ اس نے اپنے کام کے بدلے میں لیا ہے امام شافعی کے ساتھیوں کے نزدیک یہی صحیح ہے ، اس لئے کہ آیت میں بغیر بدل کے مباح قرار دیا ہے اور مسند احمد وغیرہ میں ہے کہ ایک شخص نے کہا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس مال نہیں ایک یتیم میری پرورش میں ہے تو کیا میں اس کے کھانے سے کھا سکتا ہوں آپ نے فرمایا ہاں اس یتیم کا مال اپنے کام میں لا سکتا بشرطیکہ حاجت سے زیادہ نہ اڑا ، نہ جمع کر ، نہ یہ ہو کہ اپنے مال کو تو بچا رکھے اور اس کے مال کو کھاتا چلا جائے ، ابن ابی حاتم میں بھی ایسی ہی روایت ہے ، ابن حبان وغیرہ میں ہے کہ ایک شخص نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ میں اپنے یتیم کو ادب سکھانے کے لئے ضرورتاً کس چیز سے ماروں؟ فرمایا جس سے تو اپنے بچے کو تنبیہہ کرتا ہے اپنا مال بچا کر اس کا مال خرچ نہ کر نہ اس کے مال سے دولت مند بننے کی کوشش کر ،
تم یتیموں کا اتنا ہی خیال رکھو جتنا تم اپنی چھوٹی اولاد کا اپنے مرنے کے بعد چاہتے ہو ، یتیموں کے قرابت داروں پر لازم ہے کہ وہ ان کے مال کی حفاظت کا ذمہ لیں اور ان کے مال کا اسی طرح خیال رکھیں جس طرح وہ نہیں چاہتے کہ ان کے مال دوسرے ظلم سے کھا جائیں اور ان کی اولاد بالغ ہو کر فقیر رہ جائے
ابن ابی حاتم میں ہے صحابہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے معراج کی رات کا واقعہ پوچھا جس میں آپ نے فرمایا کہ میں نے بہت سے لوگوں کو دیکھا کہ ان کے ہونٹ نیچے لٹک رہے ہیں اور فرشتے انہیں گھسیٹ کر ان کا منہ خوب کھول دیتے ہیں پھر جہنم کے گرم پتھر ان میں ٹھونس دیتے ہیں جو ان کے پیٹ میں اتر کر پیچھے کے راستے سے نکل جاتے ہیں اور وہ بےطرح چیخ چلا رہے ہیں ہائے ہائے مچا رہے ہیں ۔ میں نے حضرت جبرائیل سے پوچھا یہ کون لوگ ہیں؟ کہا یہ یتیموں کا مال کھا جانے والے ہیں جو اپنے پیٹوں میں آگ بھر رہے ہیں اور عنقریب جہنم میں جائیں گے ، حضرت سدی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں یتیم کا مال کھا جانے والا قیامت کے روز اپنی قبر سے اس طرح اٹھایا جائے گا کہ اس کے منہ آنکھوں نتھنوں اور روئیں روئیں سے آگ کے شعلے نکل رہے ہوں گے ہر شخص دیکھتے ہی پہچان لے گا کہ اس نے کسی یتیم کا مال ناحق کھا رکھا ہے
20/09/2020
حـــدیثِ رســولﷺ
{50} بٙابُ الخٙوفِ(خشیتِ الہی کا بیان )*
سیـدنا مقداد بن اسود رضی اللّٰه عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللّٰه ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :
'' قیامت والے دن سورج کو مخلوق کے اس قدر قریب کردیا جائے گا کہ وہ ان سے ایک میل کے فاصلے پر ہوگا۔''*
(سلیم بن عامر (تابعی حدیث کے راوی) مقداد رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی قسم! *میں نہیں جانتا کہ ''میل'' سے آپ کی کیا مراد تھی؟ زمین کی مسافت یا وہ سلائی جس سے آنکھ میں سرمہ لگایا جاتا ہے؟ (پھر آپ نے فرمایا) پس لوگ اپنے اپنے اعمال کے مطابق پسینے میں ہوں گے۔ اور ان میں بعض کا پسینہ ان کے ٹخنوں تک، بعض کا ان کے گھٹنوں تک، بعض کا ان کی کمر تک اور ان میں سے بعض ایسے ہوں گے کہ انہیں پسینے نے لگام ڈالی ہوگی۔'' اور رسول اللہ ﷺ نے اپنے ہاتھ سے اپنے منہ کی طرف اشارہ کیا۔''*
[ صحیح مسلم - الجنة وصفة نعیمھا واھلھا : ٢٨٦٤ ]*
[ رياض الصالحين : ٤٠٢ ]*
📚دورہ ریاض الصالحين 📚 You can view and join right away.
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Contact the school
Telephone
Website
Address
Rawalpindi