13/01/2024
اہل رجب کہاں ہیں؟
شیخ صدوق علیه الرحمه: "إِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ نَادَى مُنَادٍ مِنْ بُطْنَانِ الْعَرْشِ أَيْنَ الرَّجَبِيُّونَ فَيَقُومُ أُنَاسٌ يُضِيءُ وُجُوهُهُمْ لِأَهْلِ الْجَمْعِ عَلَى رُءُوسِهِمْ تِيجَانُ الْمُلْكِ مُكَلَّلَةً بِالدُّرِّ وَ الْيَاقُوتِ مَعَ كُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمْ أَلْفُ مَلَكٍ عَنْ يَمِينِهِ وَ أَلْفُ مَلَكٍ عَنْ يَسَارِهِ يَقُولُونَ هَنِيئاً لَكَ كَرَامَةُ اللَّهِ عَزَّ وَ جَلَّ يَا عَبْدَ اللَّهِ فَيَأْتِي النِّدَاءُ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ جَلَّ جَلَالُهُ عِبَادِي وَ إِمَائِي وَ عِزَّتِي وَ جَلَالِي لَأُكْرِمَنَّ مَثْوَاكُمْ وَ لَأُجْزِلَنَّ عَطَاكُمْ [عَطَايَاكُمْ] وَ لَأُوتِيَنَّكُمْ مِنَ الْجَنَّةِ غُرَفاً تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهارُ خالِدِينَ فِيها نِعْمَ أَجْرُ الْعامِلِينَ إِنَّكُمْ تَطَوَّعْتُمْ بِالصَّوْمِ لِي فِي شَهْرٍ عَظَّمْتُ حُرْمَتَهُ وَ أَوْجَبْتُ حَقَّهُ مَلَائِكَتِي أَدْخِلُوا عِبَادِي وَ إِمَائِي الْجَنَّةَ ثُمَّ قَالَ جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ع هَذَا لِمَنْ صَامَ مِنْ رَجَبٍ شَيْئاً وَ لَوْ يَوْماً وَاحِداً فِي [مِنْ] أَوَّلِهِ أَوْ وَسَطِهِ أَوْ آخِرِهِ."
"جب قیامت ہوگی تو عرش سے ایک منادی ندا دے گا، رجبیون (اہل رجب )کہاں ہیں۔؟؟ اس وقت کچھ لوگ اٹھیں گے، جن کے چہرے چمک رہے ہونگے۔ ان کے سروں پر بادشاہوں کی طرح گوہر و موتی اور یاقوت کے تاج ہونگے، ان میں سے ہر ایک کی دائیں طرف ہزار فرشتے اور بائیں طرف ہزار فرشتے ہونگے اور وہ کہہ رہے ہوں گے، اے خدا کے بندے کرامت خدا تیرے لئے مبارک ہو۔ اس کے بعد خدا کی طرف سے ندا آئے گی، اے میرے بندے اور میری کنیزوا، میری عزت و جلالت کی قسم، تمہارے مقام کو بہت محترم اور اور تمہاری جزا کو بہت فراوان قرار دونگا، جنت کے کچھ ایسے گھر تمہارے نام کر دونگا، جن کے نیچے نہریں جاری ہونگیں، جس میں ہمیشہ رہوگے، یہ نیک عمل کرنے والوں کے لئے بہترین اجر ہے، تم نے روزے کے ذریعے اس مہینے میں میری اطاعت کی ہے، جس کی حرمت کو میں نے بہت عظیم بنایا ہے، میں نے اپنے فرشتوں پر واجب قرار دیا کہ ان میں میرے بندوں اور کنیزوں کو جنت میں داخل کریں۔ اس کےبعد امام صادق علیہ السلام نے فرمایا، یہ اس کے لئے ہے، جس نے ماہ رجب میں ایک دن روزہ رکھا، چاہے اول رجب کو یا درمیان میں یا مہینے کے آخر میں۔۔۔"
مستدرک الوسائل ج7، ص535
فقہ جعفری fiqha jaffari فقہ جعفری Fiqha Jaffari