17/07/2024
یوم عاشور کا حقیقی پیغام
۔
میں نے لاہور کے بابوں میں بیٹھے ایک داستان سنی۔ سن سینتالیس کے اجاڑے کے بعد عید تھی اس وقت کے عمران خانوں کے پیچھے لگ کر قوم نے "حقیقی آزادی" لے لی تھی۔ خیر عید کی نماز ہوئی لوگ ایک دوسرے سےگلے مل رہے تھے۔ اچانک عید گاہ میں ایک چیخ نے سب کو اپنی طرف متوجہ کر لیا۔ ہوا ایسے کہ ایک شخص کے تمام ضبط کے بندھن ٹوٹ گئے اس نے روتے اور دھاڑتے ہوئے پنجابی میں کہا۔
ہائے لوکو کوئی مین وی تے ملے ہائے میرا کوئی وی نہیں جیہڑا مین جپھا مار کے ملے
(ہائے لوگو کوئی تو مجھے بھی گلے لگائے میرا کوئی بھی نہیں ہے)
ذرا چشم تصورات میں اس شخص کا کرب تو لائیں۔
ہم نے جو کچھ مولویوں اور ذاکروں سے واقعہ کربلا کی داستان سن رکھی ہے اس میں بھی امام زین العابدین اور دیگر خانوادے کی غریب الوطنی کے بارے میں بتایا جاتا ہے۔
میرے نذدیک کربلا کے جو درس ہیں ان میں ایک جو منظر کشی ہے وہ غریب الوطنی اور تنہائی کا کرب ہے،
بس عاشور پہ کسی ایسے جو زبان حال سے کہ رہا ہو
میں ہوں بے وطن مسافر میرا نام بے کسی ہے
میرا کوئی بھی نہیں ہے جو گلے لگا کے روئے
اسے گلے لگا کر آنسو پونچھ لیں
۔
از چودھی مبشر