13/06/2025
Al-Wahab Islamic Educational Complex الوھاب اسلامک ایجوکیشنل کمپلیکس
Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Al-Wahab Islamic Educational Complex الوھاب اسلامک ایجوکیشنل کمپلیکس, Education, Rawalpindi.
13/06/2025
مفت میں اپنا گھر حاصل کریں۔
مزید معلومات کے لیے رابطہ کریں
سیرت النبیﷺ قسط نمبر1
آج سے سیرت النبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مبارک سلسلہ شروع کیا جا رھا ھے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت پاک کے تذکرہ سے پہلے بہت ضروری ھے کہ آپ کو سرزمین عرب اور عرب قوم اور اس دور کے عمومی حالات سے روشناس کرایا جاۓ تاکہ آپ زیادہ بہتر طریقے سے سمجھ سکیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیدائش کے وقت عرب اور دنیا کے حالات کیسے تھے..
ملک عرب ایک جزیرہ نما ھے جس کے جنوب میں بحیرہ عرب , مشرق میں خلیج فارس و بحیرہ عمان , مغرب میں بحیرہ قلزم ھے.. تین اطراف سے پانی میں گھرے اس ملک کے شمال میں شام کا ملک واقع ھے.. مجموعی طور پر اس ملک کا اکثر حصہ ریگستانوں اور غیر آباد بے آب و گیاہ وادیوں پر مشتمل ھے جبکہ چند علاقے اپنی سرسبزی اور شادابی کے لیے بھی مشھور ھیں.. طبعی لحاظ سے اس ملک کے پانچ حصے ھیں..
یمن :
یمن جزیرہ عرب کا سب سے زرخیز علاقہ رھا ھے جس کو پرامن ھونے کی وجہ سے یہ نام دیا گیا.. آب و ھوا معتدل ھے اور اسکے پہاڑوں کے درمیان وسیع و شاداب وادیاں ھیں جہاں پھل و سبزیاں بکثرت پیدا ھوتے ھیں.. قوم "سبا" کا مسکن عرب کا یہی علاقہ تھا جس نے آبپاشی کے لیے بہت سے بند (ڈیم) بناۓ جن میں "مارب" نام کا مشھور بند بھی تھا.. اس قوم کی نافرمانی کی وجہ سے جب ان پر عذاب آیا تو یہی بند ٹوٹ گیا تھا اور ایک عظیم سیلاب آیا جس کی وجہ سے قوم سبا عرب کے طول و عرض میں منتشر ھوگئی..
حجاز :
یمن کے شمال میں حجاز کا علاقہ واقغ ھے.. حجاز ملک عرب کا وہ حصہ ھے جسے اللہ نے نور ھدائت کی شمع فروزاں کرنے کے لیے منتخب کیا.. اس خطہ کا مرکزی شھر مکہ مکرمہ ھے جو بے آب و گیاہ وادیوں اور پہاڑوں پر مشتمل ایک ریگستانی علاقہ ھے.. حجاز کا دوسرا اھم شھر یثرب ھے جو بعد میں مدینۃ النبی کہلایا جبکہ مکہ کے مشرق میں طائف کا شھر ھے جو اپنے سرسبز اور لہلہاتے کھیتوں اور سایہ دار نخلستانوں اور مختلف پھلوں کی کثرت کی وجہ عرب کے ریگستان میں جنت ارضی کی مثل ھے.. حجاز میں بدر , احد , بیر معونہ , حدیبیہ اور خیبر کی وادیاں بھی قابل ذکر ھیں..
نجد :
ملک عرب کا ایک اھم حصہ نجد ھے جو حجاز کے مشرق میں ھے اور جہاں آج کل سعودی عرب کا دارالحکومت "الریاض" واقع ھے..
حضرموت :
یہ یمن کے مشرق میں ساحلی علاقہ ھے.. بظاھر ویران علاقہ ھے.. پرانے زمانے میں یہاں "ظفار" اور "شیبان" نامی دو شھر تھے..
مشرقی ساحلی علاقے (عرب امارات) :
ان میں عمان ' الاحساء اور بحرین کے علاقے شامل ھیں.. یہاں سے پرانے زمانے میں سمندر سے موتی نکالے جاتے تھے جبکہ آج کل یہ علاقہ تیل کی دولت سے مالا مال ھے..
وادی سیناء :
حجاز کے شمال مشرق میں خلیج سویز اور خلیج ایلہ کے درمیان وادی سیناء کا علاقہ ھے جہاں قوم موسی' علیہ السلام چالیس سال تک صحرانوردی کرتی رھی.. طور سیناء بھی یہیں واقع ھے جہاں حضرت موسی' علیہ السلام کو تورات کی تختیاں دی گئیں..
نوٹ :
ایک بات ذھن میں رکھیں کہ اصل ملک عرب میں آج کے سعودی عرب , یمن , بحرین , عمان کا علاقہ شامل تھا جبکہ شام , عراق اور مصر جیسے ممالک بعد میں فتح ھوۓ اور عربوں کی ایک کثیر تعداد وھاں نقل مکانی کرکے آباد ھوئی اور نتیجتہ" یہ ملک بھی عربی رنگ میں ڈھل گئے لیکن اصل عرب علاقہ وھی ھے جو موجودہ سعودیہ , بحرین , عمان اور یمن کے علاقہ پر مشتمل ھے اور اس جزیرہ نما کی شکل نقشہ میں واضح طور دیکھی جاسکتی ھے..
عرب کو "عرب" کا نام کیوں دیا گیا اس کے متعلق دو آراء ھیں.. ایک راۓ کے مطابق عرب کے لفظی معنی "فصاحت اور زبان آوری" کے ھیں.. عربی لوگ فصاحت و بلاغت کے اعتبار سے دیگر اقوام کو اپنا ھم پایہ اور ھم پلہ نہیں سمجھتے تھے اس لیے اپنے آپ کو عرب (فصیح البیان) اور باقی دنیا کو عجم (گونگا) کہتے تھے..
دوسری راۓ کے مطابق لفظ عرب "عربہ" سے نکلا ھے جس کے معنی صحرا اور ریگستان کے ھیں.. چونکہ اس ملک کا بیشتر حصہ دشت و صحرا پر مشتمل ھے اس لیے سارے ملک کو عرب کہا جانے لگا..
-->جاری ھے.
روزانہ قسط وار سیرت النبی صلعم کا مطالعہ کرنے کے لیے یہ پیج جوائن کریں اور شئیر کجیئے شکریہ
الوھاب انٹرنیشنل اسلامک ایجوکیشنل کمپلیکس
✍اسلام کے ٹھیکیدار جب لڑکی کی ازواجی زندگی کی شروعات کا پیپر سائن کرواتے ہیں تو اللہ اور اسکے پیارے نبی کریم محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہی مذہب پر چلنے والے اسی کے مذہب کی خلاف ورزی کرتے ہیں اپنی مرضی سے
اس لڑکی کی مرضی پوچھے بنا طلاق کا حق جہاں لکھا ہوتا ہے وہاں کراس کر کے لاتے ہیں لڑکیوں کو تو یہ بھی نہیں پتا ہوتا کہ اسلام نے اسے بھی ویسے ہی طلاق دینے کا حق دیا ہے جیسے کہ مرد کو
جہاں شروع ہی دوسرے کے حقوق مارنے سے ہو اسکا اختتام کیسا کیسا ہوتا ہے اور وہ کیا کیا بھگتتی ہے پتا نہیں پھر کتنے ہی حق مارے جاتے ہیں اسکے اور بہت سے بگاڑ پیدا ہوتے ہیں
تو پلیز
زیادہ سمجھدار مت بنو تم لوگ اللہ اور اسکے نبی کریم محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے زیادہ سمجھدار نہیں بن سکتے نا ہو تو اپنی مرضی سے بہانے بنا کر حقوق مت مارو کہ اسلیے کراس لگاتے ہیں یا اسلیے کراس لگاتے ہیں
اور لڑکیو تم بھی جس مذہب میں ہو اسکے پورے حقوق جانو اور انہیں لو بھی تاکہ معاشرہ سدھرا رہے
✍نورین الماس
الوھاب انٹرنیشنل اسلامک ایجوکیشنل کمپلیکس
ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺩﮨﻠﯽ ﮐﮯ ﺭﺍﺳﺘﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﮐﻨﻮﺍﮞ ﭘﮍﺗﺎ ﺗﮭﺎ ﺟﺲ ﺳﮯ ﻧﻮﺭ ﺣﯿﺎﺕ ﻧﺎﻣﯽ ﺷﺨﺺ ﺁﺗﮯ ﺟﺎﺗﮯ ﻣﺴﺎﻓﺮﻭﮞ ﮐﻮ ﭘﺎﻧﯽ ﭘﻼﺗﺎ تھا
ﺍﯾﮏ ﺩﻓﻌﮧ ﻭﮨﺎﮞ ﺳﮯ ﮐﺴﯽ ﻭﻟﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﺎ ﮔﺰﺭ ﮨﻮﺍ ، ﻧﻮﺭ ﺣﯿﺎﺕ ﻧﮯﺍﻧﮭﯿﮟ ﺑﮍﯼ ﺗﮑﺮﯾﻢ ﺳﮯﭘﺎﻧﯽ ﮐﺎ ﭘﯿﺎﻟﮧ ﭘﯿﺶ ﮐﯿﺎ ، ﭘﺎﻧﯽ ﭘﯽ ﮐﺮ ﺟﺐ ﺍﻥ ﮐﺎ ﺩﻝ ﭨﮭﻨﮉﺍ ﮨﻮﺍ ﺗﻮ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﮯ ﻣﺎﻧﮓ ﮐﯿﺎ ﻣﺎﻧﮕﺘﺎﮨﮯ؟
ﺍُﺱ ﻧﮯ ﮨﺎﺗﮫ ﭘﮭﯿﻼﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮐﮩﺎ ﺟﻮ ﭼﺎﮨﯿﮟ ﻋﻄﺎ ﮐﺮﺩﯾﮟ ! ﺍﻧﮭﻮﮞ ﻧﮯ ﻧﻮﺭ ﺣﯿﺎﺕ ﮐﯽ ﮨﺘﮭﯿﻠﯽ ﭘﺮ ﺍﯾﮏ ﮐﺎ ﮨﻨﺪﺳﮧ ﮈﺍﻝ ﺩﯾﺎ ﺍﺏ ﮐﯿﺎ ﺗﮭﺎ ﺭﻭﺯﺍﻧﮧ ﻧﻮﺭ ﺣﯿﺎﺕ ﮐﻮ ﺍﯾﮏ ﺭﻭﭘﯿﮧ ﻣﻨﺎﻓﻊ ﮨﻮﺗﺎ ﮐﭽﮫ ﻋﺮﺻﮯ ﺑﻌﺪ ﻭﮨﺎﮞ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﺍﻭﺭ ﻭﻟﯽ ﮔﺰﺭﮮ ، ﻧﻮﺭﺣﯿﺎﺕ ﻧﮯ ﺍﻧﮭﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﭘﺎﻧﯽ ﭘﯿﺶ ﮐﯿﺎ ، ﺍﻧﮭﻮﮞ ﻧﮯﺑﮭﯽ ﺧﻮﺵ ﮨﻮﮐﺮﮐﮩﺎ ﻣﺎﻧﮓ ﮐﯿﺎ ﻣﺎﻧﮕﺘﺎ ﮨﮯ؟ ﻧﻮﺭﺣﯿﺎﺕ ﻧﮯ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺁﮔﮯ ﮨﺎﺗﮫ ﭘﮭﯿﻼﯾﺎ ، ﺗﻮ ﺍﻧﮭﻮﮞ ﻧﮯ ﺳﻮﭼﺎ ﮐﮧ ﮐﻮﺋﯽ ﻣﺮﺩ ﺧﺪﺍ ﺍﯾﮏ ﭘﮩﻠﮯ ﮨﯽ ﮈﺍﻝ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ ، ﮐﯿﻮﮞ ﻧﮧ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺻﻔﺮ ﻟﮕﺎﺩﻭﮞ ؛ ﺗﻮ ﺍﻧﮭﻮﮞ ﻧﮯ ﺻﻔﺮ ﻟﮕﺎﺩﯼ ﺍﺏ ﻧﻮﺭﺣﯿﺎﺕ ﮐﻮﺭﻭﺯﺍﻧﮧ ﺩﺱ ﺭﻭﭘﮯ ﻣﻨﺎﻓﻊ ﻣﻠﻨﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮨﻮﮔﯿﺎ ﮐﭽﮫ ﻋﺮﺻﮯ ﺑﻌﺪ ﺍﯾﮏ ﺍﻭﺭ ﻭﻟﯽ ﻭﮨﺎﮞ ﺳﮯ ﮔﺰﺭﮮ ، ﺍﻧﮭﻮﮞ ﻧﮯ ﺑﮭﯽ ﭘﺎﻧﯽ ﭘﯽ ﮐﺮﻧﻮﺭ ﺣﯿﺎﺕ ﮐﯽ ﮨﺘﮭﯿﻠﯽ ﭘﮧ ﺍﯾﮏ ﺻﻔﺮ ﮈﺍﻝ ﺩﯼ ، ﺍﻭﺭ ﻧﻮﺭ ﺣﯿﺎﺕ ﮐﻮ ﺭﻭﺯﺍﻧﮧ ﺳﻮﺭﻭﭘﯿﮧ ﻧﻔﻊ ﻣﻠﻨﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮨﻮﮔﯿﺎ ﺗﮭﻮﮌﮮ ﻋﺮﺻﮯﺑﻌﺪﻭﮨﺎﮞ ﺳﮯ ﮐﺴﯽ ﻗﻄﺐ ﮐﺎ ﮔﺰﺭ ﮨﻮﺍ ، ﺍﻧﮭﻮﮞ ﻧﮯ ﺑﮭﯽ ﭘﺎﻧﯽ ﭘﯽ ﮐﺮ ﺧﻮﺷﯽ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ ﻣﺎﻧﮕﻮ ﮐﯿﺎ ﻣﺎﻧﮕﺘﮯ ﮨﻮ ؟ ﻧﻮﺭ ﺣﯿﺎﺕ ﻧﮯ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺁﮔﮯ ﮨﺎﺗﮫ ﭘﮭﯿﻼﯾﺎ ﺗﻮ ﺍﻧﮭﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﺻﻔﺮ ﮐﺎ ﻣﺰﯾﺪ ﺍﺿﺎﻓﮧ ﮐﺮﺩﯾﺎ ﺍﺏ ﺍﺳﮯ ﺭﻭﺯﻧﮧ ﮨﺰﺍﺭ ﺭﻭﭘﯿﮧ ﻣﻨﺎﻓﻊ ﮨﻮﺗﺎ ، ﺩﻥ ﺑﮧ ﺩﻥ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺣﺎﻻﺕ ﺑﺪﻟﺘﮯ ﮔﺌﮯ ، ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺑﮩﺖ ﻣﺎﻟﺪﺍﺭ ﮨﻮﮔﯿﺎ ، ﺍﺱ ﻧﮯ ﮐﻨﻮﯾﮟ ﮐﻮ ﺧﯿﺮ ﺑﺎﺩ ﮐﮧ ﺩﯾﺎ ﮐﭽﮫ ﮨﯽ ﻣﺎﮦ ﮔﺰﺭﮮ ﺗﮭﮯ ﮐﮧ ﭘﮩﻠﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺩﺭﻭﯾﺶ ﻭﺍﭘﺲ ﻟﻮﭨﮯ ، ﺟﻮ ﻣﺴﺎﻓﺮﻭﮞ ﮐﻮ ﭘﺎﻧﯽ ﭘﻼﺗﺎ ﺗﮭﺎ ؟ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻧﮯﮐﮩﺎ ﺣﻀﺮﺕ ! ﻭﮦ ﯾﮧ ﮐﺎﺭﺧﯿﺮ ﭼﮭﻮﮌ ﮐﺮ ﺍﭘﻨﮯ ﮐﺎﺭﻭﺑﺎﺭ ﻣﯿﮟ ﻣﺸﻐﻮﻝ ﮨﻮﮔﯿﺎ ﮨﮯ ﻓﺮﻣﺎﻧﮯ ﻟﮕﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﺱ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﻟﮯ ﭼﻠﻮ ﺟﺐ ﺍﺱ ﮐﮯ ﮨﺎﮞ ﭘﮩﻨﭽﮯ ﺗﻮ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮐﮧ ﺍﺳﮯ ﻣﺎﻝ ﻭﻣﻨﺎﻝ ﻧﮯ ﺑﮩﺖ ﺑﺪﻝ ﺩﯾﺎ ﮨﮯ ، ﺍﻧﮭﻮﮞ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮨﺎﺗﮫ ﻣﺠﮭﮯ ﺩﮐﮭﺎﺅ ! ﺟﺐ ﺍﺱ ﻧﮯ ﮨﺎﺗﮫ ﺁﮔﮯ ﮐﯿﺎ ﺗﻮ ﺍﻧﮭﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﺎ ﺍﯾﮏ ﻣﭩﺎ ﺩﯾﺎ ؛ ﺍﯾﮏ ﻣﭩﻨﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺻﻔﺮﻭﮞ ﮐﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﻭﻗﻌﺖ ﻧﮧ ﺭﮨﯽ ، ﺍﺳﮯ ﺟﻮ ﺭﻭﺯﺍﻧﮧ ﮨﺰﺍﺭ ﺭﻭﭘﯿﮧ ﻣﻠﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﻭﮦ ﺑﻨﺪ ﮨﻮﮔﯿﺎ ؛ ﮐﯿﻮﮞ ﮐﮧ ﺍﺻﻞ ﺗﻮ ﻭﮦ ﺍﯾﮏ ﺗﮭﺎ ﺟﺲ ﻧﮯ ﺻﻔﺮﻭﮞ ﮐﻮ ﻭﺟﻮﺩ ﻋﻄﺎ ﮐﯿﺎ !! ﺑﻼﺗﻤﺜﯿﻞ ﻭﺗﺸﺒﯿﮧ ، ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﮧﷺ ﮐﯽ ﻣﺤﺒﺖ همارا ﺍﯾﮏ هے۔۔۔۔!!!
اور ﻧﻤﺎﺯ ﺭﻭﺯﮦ ، ﺣﺞ ، ﺯﮐﻮﺓ ، ﺍﻭﺭ ﺩﯾﮕﺮ ﻋﺒﺎﺩﺍﺕ ﺻﻔﺮﯾﮟ ؛ ﯾﮧ ﺟﺐ ﺗﮏ ﺍﯾﮏ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﮨﯿﮟ ﺍﻥ ﮐﯽ ﻗﯿﻤﺖ ﺳﻮ ، ﮨﺰﺍﺭ ، ﻻﮐﮫ ، ﮐﺮﻭﮌ ﮨﮯ ؛ ﺍﮔﺮ ﺍﻥ ﺳﮯ ﻣﺤﺒﺖ ﺭﺳﻮﻝ ﷺ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﮨﭩﺎ ﺩﯾﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﺗﻮ ﺑﮯ ﻗﯿﻤﺖ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﮔﯽ ، ﭼﺎﮨﯿﮟ ﺟﺘﻨﯽ ﺑﮭﯽ ﮨﻮﮞ اللَّهَ ﮨﻤﺎﺭﺍ "ﺍﯾﮏ " ﺳﻼﻣﺖ ﺭﮐﮭﮯ !!
ﺁﻣﯿــﻦ ﺛﻢ ﺁﻣﯿــﻦ ﻳﺎ ﺭﺏ ﺍﻟﻌﺎﻟﻤـﯾﻦ
💫 کہانی ایک مومن خاتون کی 💫
بیان کیا جاتا ہے کہ ایک نیک شخص نے نہایت خوبرو و پرہیز گار خاتون سے شادی کی، دونوں ایک دوسرے سے خوب محبت کرتے تھے، مسرت بھرے دن گزر رہے تھے،ایک مرتبہ شوہر کو طلب رزق کے لئے سفر کی حاجت آپڑی، فکر لاحق ہوئی کہ اپنی بیوی کو گھر میں تنہا کیسے چھوڑے، قرابت داروں میں کسی معتبر شخص کی تلاش شروع کی، اسے اپنے سگے بھائی کے علاوہ کوئی معتبر ذمہ دار نہ ملا، بھائی کے گھر میں بیوی کو چھوڑا ، مگر پیارے نبیﷺ کا یہ فرمان بھول گیا ’’الحمو الموت‘‘ دیور موت ہے، اور وہ سفر پر روانہ ہوگیا۔
دن گزرتے گئے، ایک روز دیور نے اپنی بھابھی کو شہوت رانی پر اکسایا، مگر اس پاکباز خاتون نے اسے سختی سے ڈانٹا اور کہا : تم چاہتے ہو کہ میری عزت کی دھجیاں بکھیرو اور میں شوہر کی خائن بن جاؤں، ہرگز نہیں! دیور نے بھابھی کو رسوا کرنے کی دھمکی دی ، مگر بھابھی پر دھمکی کا اثر نہیں ہوا، کہا :تم جو کرنا چاہو کرو، میرے ساتھ میرا رب ہے۔ اس نیک خاتون کا شوہر جب سفر سے لوٹا تو اس کے بھائی نے فوراً اپنی بھابھی پر الزام لگادیا کہ تمہاری بیوی نے مجھے بدکاری پر اکسایا تھالیکن میں نے منع کیا، شوہر نے بغیر سوچے سمجھے اسی وقت پارسا بیوی کو طلاق دیدی اور کہا: مجھے اپنی بیوی سے کچھ نہیں سننا ہے، میرا بھائی سچا ہے۔
وہ متقی اور خدا ترس خاتون گھر سے انجان منزل کی طرف نکل پڑی، راستے میں ایک عابد و زاہد کا گھر پڑا، دروازہ پر دستک دی اور اپنی ساری کہانی عابد سے کہہ ڈالی، اس عبادت گزار بندے نے اپنے چھوٹے بیٹے کی نگہداشت پر اسے مامور کردیا، ایک دن عابد گھر سے کسی کام کے لئے باہر گیا، گھر کا نوکر موقع پاکر اس خاتون پر ڈورے ڈالنے لگا، مگر عزم و ثبات کی پیکر نے اللہ کی معصیت سے انکار کیا، اور کہا: نبی ﷺ نے ہم سب کو تنبیہ کی ہے کہ کوئی شخص کسی اجنبی خاتون کے ساتھ خلوت میں ہرگز نہ ہو، اس لئے کہ ان کا تیسرا شیطان ہوتا ہے، نوکر نے خاتون کو دھمکی دی کہ میں تمہیں بڑی مصیبت میں پھنسا دونگا، مگر اس پیکر عفت کے پاؤں میں لغزش بھی نہیں آئی، نوکر نے عابد کے بچے کو قتل کردیا اور عابد کے گھر لوٹنے پر قتل کا الزام اس خاتون پر عائد کردیا، اس اللہ والے عابد کو غصہ تو بہت آیا مگر اللہ سے اجر کی امید باندھ کر صبر کر گیا، دو دینار اجرت کے طور پر خاتون کو دئے اور گھر چھوڑنے کا حکم دیا، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: غصہ پی جانے والوں اور عفو ودرگزر کرنے والوں کو اللہ محبوب رکھتا ہے۔
عابد کا گھر چھوڑا ،شہر کی طرف رخ کیا، وہاں دیکھا کہ ایک بھیڑ ایک شخص کو پیٹے جارہی ہے، اس نے پوچھا تم لوگ اسے کیوں مار رہے ہو؟ ایک آدمی نے بتایا اس کے ذمہ قرض ہے یا تو قرض ادا کرے یا ہماری غلامی کرے، خاتون نے پوچھا اس پر کتنا قرض ؟ کہا: دو دینار، اس پر خاتون نے انہیں دو دینار دیکر اس شخص کو آزاد کرایا، آزاد ہونے والے شخص نے پوچھا تم کون ہو؟ اس خاتون نے اپنی پوری کہانی بیان کردی، اس پر اس آدمی نے کہا: کہ ہم دونوں ساتھ کام کریں گے اور نفع برابر بانٹ لیں گے، خاتون نے حامی بھر دی، اس آدمی نے کہا: ہم یہ گندی بستی چھوڑ کر سمندری سفر پر نکلتے ہیں، خاتون نے کہا ٹھیک ہے، دونوں کشتی کے پاس پہونچے ، نوجوان نے کہا کہ پہلے تم کشتی پر سوار ہو، وہ سوار ہوگئی اور وہ شخص کشتی کے مالک کے پاس گیا اور کہا: یہ میری لونڈی ہے میں اسے فروخت کرنا چاہتا ہوں، چنانچہ کشتی کے مالک نے پیسے چکائے اور خاتون کو اس کی لاعلمی میں اسے خرید لیا، وہ شخص پیسہ لیکر بھاگ نکلا، کشتی روانہ ہوئی، خاتون اس شخص کو ڈھونڈنے لگی مگر نہیں پایا، کشتی کے عملہ نے اسے گھیر لیا اور اس سے چھیڑ چھاڑ کرنے لگے، خاتون کو تعجب ہوا، اس پر کشتی کے کپتان نے بتایا کہ میں نے تمہیں تمہارے مالک سے خرید لیا ہے اور اب تم وہ سب کرو جس کا حکم دیا جائے، اس نے ملتجیانہ لہجے میں کہا: میں اللہ کی نافرمانی نہیں کرسکتی مجھے چھوڑ دو ، یہ کہنا ہی تھا کہ سمندر میں آندھی اور طوفان آیا، کشتی ڈوب گئی ، جہاز کا عملہ اور سارے مسافر ڈوب گئے لیکن وہ صابر خاتون بچ گئی، اس وقت امیر شہر ساحل سمندر پر تفریح میں مشغول تھا، بے موسم کی آندھی کو دیکھ کر وہ بھی گھبرایا لیکن اس کا اثر ساحل پر نہیں تھا، پھر یکایک اس کی نگاہ اس خاتون پر پڑی جو ایک تختہ کے سہارے ساحل کی طرف آرہی تھی، امیر نے گارڈوں کو حکم دیا کہ اسے میرے پاس لایا جائے۔
اس خاتون کو محل لے جایا گیا، ماہر اطباء کی نگرانی میں اس کا علاج شروع ہوا، جب اسے افاقہ ہوا تو امیر شہر نے اس سے دریافت کیا تو اس نے ساری حکایت بیان کر ڈالی، دیور کی خیانت سے لیکر کشتی والوں کی شرارت تک سارے واقعے بیان کئے، حاکم شہر کو اس کے صبر نے موہ لیااور اس سے شادی کرلی، امور سلطنت میں مشیر کار کی حیثیت ملی اور چند ہی دنوں میں اس کی زبردست رائے اور قوت فیصلہ کی شہرت دور دور تک پھیل گئی۔
وقت گزرتا رہا، نیک حاکم کا انتقال ہوگیا، اعیان شہر اکٹھا ہوئے، کہ کس کو اب حاکم بنایا جائے، متفقہ طور پہ لوگوں نے اس ذہین اور عاقل خاتون (زوجۂ امیر شہر) کو اپنا امیر منتخب کرلیا، حاکم بنتے ہی اس خاتون نے ایک وسیع میدان میں کرسی لگانے کا اور شہر کے تمام مردوں کو حاضر ہونے کا حکم دیا، تمام مرد حضرات اس کے سامنے سے گزرنے لگے، اس نے اپنے سابق شوہر کو دیکھا اور کنارے ہوجانے کا اشارہ کیا، پھر اس کے بھائی (دیور) کو کنارے ہونے کا حکم دیا، عابد کو بھی ایک کنارے کیا، پھر اس نے عابد کے نوکر کو دیکھا اسے بھی مجمع سے الگ کھڑے ہونے کا حکم دیا پھر اس خبیث شخص کو دیکھا جسے اس خاتون نے آزاد کرایا تھا، اسے بھی کنارے کھڑے ہونے کا حکم دیا۔
اب باری باری فیصلہ کرنے لگی، سب سے پہلے سابق شوہر سے مخاطب ہوئی: تم کو تمہارے بھائی نے دھوکے میں رکھا اس لئے بری ہو، لیکن تمہارے بھائی کو حد قذف لگائی جائے گی اس لئے کہ اس نے مجھ پر جھوٹی تہمت لگائی تھی، پھر عابد سے مخاطب ہوئی اور کہا: تم کو تمہارے خادم نے گمراہ کیا لہٰذا تم بھی بری ہو ، لیکن تمہارا خادم قصاصاً قتل کیا جائے گا، کیونکہ اسی نے تمہارے بچے کو قتل کیا تھا، پھر وہ مخاطب ہوئی اس خبیث سے: تمہیں حبس دوام کی سزا دی جاتی ہے، تمہاری خیانت اور ایسی عورت کو فروخت کردینے کے جرم میں، جس نے تجھے غلامی سے نجات دلائی تھی۔
اللہ کی ذات پاک ہے ، کسی کے اچھے عمل کو ضائع ہونے نہیں دیتا، فرماتا ہے: جو اللہ سے تقویٰ اختیار کرتا ہے اللہ اس کے لئے ایسے راستے ہموار کردیتا ہے اور ایسی جگہ سے رزق عطا کرتا ہے جس کا اسے گمان نہیں ہوتا۔
دیکھا آپ نے کہ کس طرح اللہ تعالیٰ نے کرب و بلاء میں گرفتار خاتون کی مدد کی، تقویٰ مومن کا شعار ہے یہ شعار ہمیشہ باقی رہنا چاہئے اس لئے کہ اللہ تعالیٰ تقویٰ ہی کی وجہ سے سخت حالات کو موافق و سازگار بنادیتا ہے۔
عربی سے ترجمہ
💞🌹💞🌹💞🌹💞🌹💞🌹💞
ہم شادی کیوں کرتے ہیں اورکیاہم اس کی اہمیت جانتے ہیں ؟
ہمارے معاشرے میں شادی کی تیاری کا مطلب ہے کہ شادی کی شاپنگ کرنا ،شادی کی تقریبات کا انتطام کرنا ۔کیا ہم نے کبھی اس بات کو سمجھنے کی ضرورت محسوس کی ہے کہ جن بچوں کی شادی ہورہی ہے ، ان کو قرآن وحدیث کی روشنی میں ایک دوسرے کے حقوق و فرائض سمجھانے کی کوشش کی ہے۔کیا والدین ان کو سورۃ النساء،سورۃ النور اور سورۃ البقرہ کی چند آیات جو کہ شادی سے متعلق ہیں ،اس کا ترجمہ اور تفسیر پڑھنے کے لیے وقت نکالتے ہیں تاکہ دولہا ،دولہن اپنے رشتے کی نوعیت کو بہترین طریقے سے جان سکیں ۔ہم میں سے کتنے افراد ایسے ہیں جو جانتے ہیں کہ شادی کا اصل مقصد کیا ہے ْ؟اگر سوال کیا جائے کہ شادی کا مقصد کیا ہے تو زیادہ تر افراد کا جواب یہ ہوتا ہے کہ سنت رسول ﷺ ہے یا پھر نسل کی بقا کے لیے ضروری ہے ۔
نکا ح مذہبی فریم ورک ہے اور اسی فریم ورک کو مدنظر رکھیں تودرحقیت نکاح کے دو بنیادی مقاصد ہیں ۔پہلا مقصد فرد کی نفسیاتی ،جذباتی اورجبلی ضرورت کی تکمیل ہے اور تکمیل تعلق کے نتیجے میں ہوتی ہے ۔انسان کی تکمیل تب ہی ممکن ہے جب انسان حقیقی خوشی اور اطمینان محسوس کرتا ہے اور یہ نکاح کے دیر پا تعلق کے ساتھ ہی ممکن ہے ۔وہ تعلق جو نکاح کے بغیر قائم ہوتا ہے اس میں وقتی خوشی تو ہو سکتی ہے لیکن اطمینان اور سکون سے محروم ہو گا اور ایسا تعلق دیر پا نہیں ہو تا۔
نکاح کا دوسرا مقصد معاشرے کو نیکی کی راہ پر گامزن کرنا ہے ۔نکاح میں اعلان شرط ہے جس کے تحت انسان پر دوسرے انسان کی ذمہ داری عائد ہو تی ہے اور جب ان ذمہ داریوں کو احسن طریقے سے نبھایا جاتاہے تو معاشرے میں خیر ونیکی اور پاکیزگی کا عنصر نمو پا تا ہے۔نکاح کے نتیجے میں ہونے والی اولاد کی بہترین تربیت کی ذمہ داری ماں باپ دونوں پر ہے اور معاشرے میں امن وسکون تب ہی ممکن ہے جب معاشرے میں موجود افراد اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے نبھاہیں۔اس تعلق کو بہترین انداز میں نبھانے کے لیے شوہر اور بیوی پر ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں جو نکاح کے رشتے کو دائمی خوشی اور مضبوطی عطا کرتی ہیں۔
شوہر کی ذمہ داری
شوہر کی سب سے بڑی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ اپنی بیوی کو تحفظ فراہم کرے۔
اپنی بیوی کی عزت نفس کو ٹھیس نہ پہنچائے اور اس کی عزت کرے۔
اپنی بیوی کی تمام ضروریات کی تکمیل کرے ،اس کو توجہ ،محبت دے ،اس کی تعریف کرے اور اس کا شکریہ ادا کرے کہ اس کے گھر کے تمام افراد کا خیال ر کھتی ہے۔
شوہر کو یہ سمجھنا بہت ضروری ہے کہ کس رشتے کو کتنی اہمیت دینی ہے اور کون سا رشتہ سب سے اہم ہے ؟
شوہر کو ہر رشتے میں توازن رکھنا آنا چاہیے کیونکہ جب وہ رشتوں میں توازن قائم نہیں رکھ پاتا تو مسائل جنم لیتے ہیں۔
بیوی کی ذمہ داری
شوہر کی اور اپنی عزت کی حفاظت کرنے کے ساتھ ساتھ شوہر کی ذاتی ،نفسیاتی اور جذباتی ضرورت کا خیال کرنا ۔
بیوی کو شادی کے بعد اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ وہ اب وہ بیٹی ،بہن ہونے کے ساتھ بیوی ،بہو ،بھابی اور ماں بھی ہے اور اس کی ذمہ داری کی نوعیت تبدیل ہوگئی ہے ۔
مرد کو اللہ نے سربراہ بنایا ہے اس حقیقت کو خوشی اور محبت سے قبول کرتے ہوئے اس کی جائز باتوں کو مانتے ہوئے شوہر کو عزت اور احترم دیں ۔
ایک دوسرے کے عیبوں کا پردہ رکھیں اور اللہ سے اصلاح کی دعا کریں۔
اگر آپ کے شوہر اور آپ کی بیوی کے لیے آپ کی ذات بچوں سے زیادہ اہم ہے تو اس کا مطلب ہے کہ آپ کے رشتے میں محبت ،سکون اور اطمینان ہے ۔بقول روتھ بیل کے :
’’خوشگوار شادی شدہ زندگی ان دو افراد کا مجموعہ ہے جو ایک دوسر ے کو معاف کرنا سیکھ جاتے ہیں ۔‘‘
شادی صرف جسمانی تعلق کا نام نہیں ہے بلکہ ایک دوسرے کی خامیوں ،پسندیدگیوں کے ساتھ جینا اور اپنی شخصیت کے نوکیلے کونوں کو تراشنے کا نام ہے۔
__________________________
شاہ شمس تبریز رحمتہ اللّه علیہ مولانا جلال الدین رومی رحمتہ اللّه علیہ کے پیر و مرشد تھے..
یہ ان دنوں کا واقعہ ھے جب مولانا رومی شاہ شمس سے واقف کار نہ تھے.. ایک دن شاہ شمس تبریز مولانا رومی کے مکتب جا پہنچے.. وھاں مولانا رومی بیٹھے کچھ کتابوں کا مطالعہ کررھے تھے تو شاہ شمس نے ان سے پوچھا..
"ایں چیست..❓" یہ کیا ھے..
مولانا رومی نے ان کو کوئی عام ملنگ سمجھ کر جواب دیا.. " ایں آں علم است کہ تو نمی دانی.."
یہ وہ علم ھے جسکو تو نہیں جانتا.. شاہ شمس یہ جواب سن کر چپ ہو گئے.. تھوڑی دیر بعد مولانا رومی کسی کام سے اندر کسی جگہ گئے.. واپس آۓ تو اپنی وہ نادر و نایاب کتابیں غائب پائیں.. چونکہ شاہ شمس وھیں بیٹھے تھے تو ان سے پوچھا.. شاہ شمس نے مکتب کے اندر کے پانی کے تالاب کی طرف اشارہ کیا اور کہا.. " میں نے اس میں ڈال دیں..
" یہ سن کر مولانا رومی حیران و پریشان رہ گئے..
جیسے کاٹو تو بدن میں لہو نہیں.. اتنی قیمتی کتابوں کے ضائع ھونے کا احساس انکو مارے ہی جارھا تھا.. ( تب کتابیں کچی سیاھی سے ھاتھ سے لکھی جاتی تھیں.. پانی میں ڈلنے سے ان کی سب سیاھی دھل جاتی تھی.. ) شاہ شمس سے دکھ زدہ لہجے میں بولے.. " میرے اتنے قیمتی نسخے ضائع کردیے.. " شاہ شمس انکی حالت دیکھ کر مسکراۓ اور بولے.. " اتنا کیوں گبھرا گئے ھو.. ابھی نکال دیتا ھوں.. " یہ کہہ کر شاہ شمس اٹھے اور تالاب سے ساری کتابیں نکال کر مولانا رومی کے آگے ڈھیر کردیں.. یہ دیکھ کر مولانا رومی کی حیرت کی انتہا نہ رھی کہ سب کتابیں بلکل خشک ھیں
. مولانا چلا اٹھے.. " ایں چیست..❓ " یہ کیا ھے..
شاہ شمس نے جواب دیا..
" ایں آں علم است کہ تو نمی دانی.." یہ وہ علم ھے جسکو تو نہیں جانتا.
یہ کہہ کر شاہ شمس چل پڑے.. ادھر مولانا رومی کے اندر کی دنیا جیسے الٹ پلٹ ہو چکی تھی.. اپنی دستار پھینک کر شاہ شمس تبریز کے پیچھے بھاگے اور جا کر ان کے پاؤں میں گرپڑے کہ خدا کے لیے مجھے معاف کردیجیے اور مجھے اپنے قدموں میں جگہ دیجیے..
" شاہ شمس نے انہیں اٹھا کر سینے سے لگایا اور کہا..
💞 " میں تو خود ایک عرصے سے تیری تلاش میں تھا "💞
_احوال اولیاء۔ کشف اولیاء۔ حالات اولیاء کم از کم ١٢٠ کتب میں یہ واقعہ موجود ہے۔_
︗︗︗︗︗︗︗︗︗︗︗︗︗
#عبرت
ایک رات ایک لڑکی اپنے خاوند کے ساتھ چرپائی پر لیٹی ہوئی تھی، کہ آدھی رات اچانک وہ آرام کے ساتھ موبائیل ہاتھ میں لیااور باہر کمرے سے نکلی، اس کا خاوند کو شک ہوگیا کہ میری بیوی کیا کرنے باہر نکلی ،
تھوڑی دیر بعد اس کی بیوی واپس آکر آرام کے ساتھ اپنے خاوند کے ساتھ چرپائی پر لیٹ گئی،
دوسری رات اس کے خاوند نے اپنا سیم کارڈ نکال کر اس کے موبائیل میں ڈال دیا اور بیوی کا سیم کارڈ اپنے موبائیل میں ڈالہ
جب آدھی رات ہوگئی تو اس کی بیوی پھر سے آرام کے ساتھ موبائیل اٹھایا اور کمرے سے باہر نکل گئی خاوند کو اور شک ہوگیا، اور انتظار کر رہا تھا کہ اب کوئی تو اس کے نمبر پر کال کریگا لیکن ، کسی نے بھی کال نہیں کیا اور اس کی بیوی واپس آکے لیٹ گئی جب خاوند نے اس کا موبائیل چیک کیا تو اس میں کوئی بھی نہ کال آیا اور نہ ہی گیا
تو اس کا خاوند اور شک میں پڑ گیا اور سوچھا کہ شائد نمبر ڈیلیٹ کیا ہوگا
تیسری رات پھر ویسا ہی ہوا لڑکی کمرے سے باہر نکلی
5 منٹس بعد اس کا خاوند بھی چپ چپ کے اس کے پیچے گیا اور وہاں ایک سائیڈ میں جا کے بیٹھ گیا دیکنھے کیلئے کہ اس کی بیوی آخر کیا کرتی ہے،
تو جب دیکھا اس کا بیوی گھر کے ایک کنارے میں جائے نماز بچایا تھا اور موبائیل کا لائیٹ On کیا تھا اور کھڑی ہو کر نماز میں مشغول تھی
جب سلام پھیرا
تو دعا کی کہ۔ یا اللہ اگر میری عمر میرے خاوند کی عمر سے زیادہ ہو تو میری آدھی عمر میرے خاوند کو دے دو۔۔۔۔۔
میری یہ دعا ہے کہ اللہ سب کو ایسے ہی بیوی دے
آمین
قصے کا مقصد یہ تھا کہ شک کرنے سے پہلے تحقیق کرو
جزاک اللہ خیر
ھم ”تربوز“ خریدتے ہیں مثلاً پانچ کلو کا ایک دانہ.. جب اسے کھاتے ھیں تو پہلے اس کاموٹا چھلکا اتارتے ھیں.. پانچ کلو میں سے کم ازکم ایک کلو چھلکا نکلتا ہے.. یعنی تقریبا بیس فیصد.. کیا ھمیں افسوس ھوتا ہے؟ کیا ھم پریشان ھوتے ھیں؟ کیا ھم سوچتے ھیں کہ ھم تربوز کو چھلکے کے ساتھ کھا لیں؟..
نہیں بالکل نہیں.. یہی حال کیلے، مالٹے کا ہے..
ھم خوشی سے چھلکا اتار کر کھاتے ھیں.. حالانکہ ھم نے چھلکے سمیت خریدا ھوتا ہے.. مگر چھلکا پھینکتے وقت تکلیف نہیں ھوتی..
ھم مرغی خریدتے ھیں.. زندہ، ثابت.. مگر جب کھانے لگتے ھیں تو اس کے بال، کھال اور پیٹ کی آلائش نکال کر پھینک دیتے ھیں.. کیا اس پر دکھ ہوتا ہے؟.. نہیں..
تو پھر چالیس ہزار میں سے ایک ہزار دینے پر.. ایک لاکھ میں سے ڈھائی ہزار دینے پر کیوں بہت سے مسلمانوں کو تکلیف ہوتی ہے؟.. حالانکے یہ صرف ڈھائی فیصد بنتا ہے.. یعنی سو روپے میں سے صرف ڈھائی روپے..
یہ تربوز، کیلے، آم اور مالٹے کے چھلکے اور گٹھلی سے کتنا کم ہے.. اسے ”زکوۃ“ فرمایا گیا ہے.. یہ پاکی ہے.. مال بھی پاک.. ایمان بھی پاک.. دل اور جسم بھی پاک.. اتنی معمولی رقم یعنی چالیس روپے میں سے صرف ایک روپیہ.. اور فائدے کتنے زیادہ.. اجر کتنا زیادہ.. برکت کتنی زیادہ.. مگر یہ ایک روپیہ نکالنا بھی.. اتنا تکلیف دہ کہ.. اکثر مسلمان زکوۃ میں ڈنڈی مارتے ھیں..
آخر تربوز اور روپے میں اتنا فرق کیوں ہے؟
الوھاب انٹرنیشنل اسلامک ایجوکیشنل کمپلیکس
سب کا ٹی وی اے آئی اسلام آباد
مردہ باد آمریکہ
شیعہ اجتماعات جہاں بھی ہوں چاہے وہ نماز جمعہ ہو یا نماز پنجگانہ ہو یا کوئی دوسری تقریب آپ دیکھیں گے
کہ شیعہ مردہ باد امریکہ، مردہ باد روس اور مردہ باد اسرائیل کے نعرے لگاتے ہیں
وہاں کبھی مسلمانوں کے خلاف کفر کے فتوے صادر نہیں کئے جاتے۔ مسلمانوں کے خلاف کافر کافر کے نعرے ہمارے ہاں نہیں لگائے جاتے۔
ہم سمجھتے ہیں کہ ہم سے مردہ باد امریکہ، مردہ باد روس اور مردہ باد اسرائیل کہنے کا انتقام لیا جا رہا ہے۔ اگر ہم گہرائی میں جائیں تو یہ واضح ہو جائے گا کہ ہمارے ملکی حالات کی خرابی کی سب سے بڑی وجہ امریکہ ہے۔ یہ امریکہ بڑا شیطان ہے۔ یہ امریکہ ہی ہے کہ جس کی وجہ سے ہمارے حالات اس حد تک پہنچ گئے ہیں۔ یہ امریکہ ہے کہ جو ہمیں کبھی فرقہ واریت کے نام سے لڑوا رہا ہے اور کبھی قومیت کے نام سے آپس میں نفرتیں پیدا کر رہا ہے۔ کبھی سیاست کے میدان میں ہمارے لئے مشکلات پیدا کر رہا ہے۔ اگر ہم پاکستان میں اپنے مسائل کو حل کرنا چاہتے ہیں تو جب تک ہم امریکہ کی غلامی سے آزاد نہیں ہوں گے جب تک ہم اسلام اور خدا کے سائے میں پناہ نہیں لیں گے تو اس وقت تک ہمارے مسائل میں اضافہ ہی ہوگا اور کمی ہر گز نہیں ہو گی۔ تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کو یہ فخر حاصل ہے کہ وہ نہ تو امریکہ کے ساتھ مربوط ہے اور نہ ہی روس کے ساتھ مربوط ہے اور دونوں کو اسلام اور مسلمانوں کا دشمن سمجھتی ہے اور یہ تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کا امتیازی نشان ہے کہ اس کے جلسوں میں مردہ باد امریکہ، مردہ باد روسیہ اور مردہ باد اسرائیل کے نعرے لگائے جاتے ہیں۔ ہمیں اس میں کوئی عار نہیں ہے۔
Copy
بسم اللہ الرحمان الرحیم
زکات فطرہ کے حوالے سے ایک بہت بڑی غلطی کا ازالہ
لوگوں کے (بلکہ اہل علم کے بھی) ذھن میں یہ بات ہے کہ زکات فطرہ اس چیز سے نکالنا ضروری ہے جو انسان پورے سال اپنے گھر میں استعمال کرتا رہا ہے،
مثلا کوئی گندم کھاتا رہا ہے تو گندم کے حساب سے اور جو چاول کھاتا رہا ہے تو چاول کے حساب سے نکالے،
بلکہ بعض یہ خیال کرتے ہیں کہ جو مھنگا چاول کھاتا رہا ہے وہ مھنگے چاول کے حساب سے اور جو سستا چاول کھاتا رہا ہے وہ اس حساب سے نکالے
جبکہ یہ بات درست نہیں ہے بلکہ زکات فطرہ کا معیار یہ ہے کہ انسان جس شہر میں زکات فطرہ نکالنا چاہتا ہے اس شھر میں رائج چیز کے حساب سے نکالے گا نہ کہ خود اپنے گھر میں کیا کھاتا رہا ہے یہ دیکھا جائے گا۔
یہی وجہ ہے
پہلی بات: 👈👈 کہ اگر کوئی شخص مثلا امریکہ میں موجود ہے اور وہاں مہنگا چاول کھاتا رہا ہے لیکن وہ ایران میں کسی کو وکیل بنا کر ایران میں فطرہ دینا چاہتا ہے تو یہ دیکھا جائے گا کہ ایران میں کیا چیز رائج ہے وہ یا اسکی قیمت دے نہ کہ امریکہ کے حساب سے
اگر خود جو کھاتا رہا ہے وہ معیار ہوتا تو یہ نہیں کہ سکتے تھے کہ ایران کے حساب سے نکالے بلکہ یہ لکھتے کہ خود جو چیز امریکہ میں کھاتا رہا ہے اس حساب سے وہ یا اسکی قیمت ایران میں نکالے۔ (وہ بات الگ ہے کہ کوئی اپنی طرف سے زیادہ نکالے)
دوسری بات:👈👈
یہ کہ اگر خود انسان کیا کھاتا رہا ہے یہ ملاک ہو تو فرض کرتے ہیں ایک شخص سال بھر مھنگا چاول کھاتا رہا ہے اور عید کی رات کسی ایسے شخص کے ہاں جاتا ہے جو گندم کھاتا رہا ہے تو کیا اس پر واجب ہے اپنا فطرہ گندم سے اور مھمان کا چاول سے نکالے ؟
جواب: واجب نہیں ہے بلکہ شہر میں رائج کھانے سے نکالے کافی ہے
تیسری بات :
اگر خود جو کھاتا رہا ہے وہ معیار ہے تو
دودھ پیتے بچے کا فطرہ کیسے نکالیں گے؟ وہ تو صرف دودھ پیتا ہے؟
چوتھی بات :
اکثر مراجع اعلان کرتے ہیں اور
بعض اپنے دفاتر کے باہر لکھ دیتے ہیں کہ
اس سال فطرہ کی رقم اتنی ہے،
اور یہ اس بات کی دلیل ہے کہ ہر شخص کا اپنا کھانا معیار نہیں ہے ورنہ یقینا ہر شخص کا کھانا ایک جیسا نہیں ہے بلکہ مختلف ہے لھذا مراجع فطرہ کی رقم معین نہ کرتے بلکہ یہ بتا دیتے کہ ہر شخص جو کھاتا رہا ہے اس حساب سے فطرہ نکالے۔
لھذا یہ بات یقینی ہے کہ معیار شہر میں رائج کھانا ہے نہ کہ انسان خود جو کھاتا رہا ہے وہ۔
چند سوال وجواب ملاحظہ فرمائیں
پرسش: من در آمریکا مشغول به تحصیل هستم می خواستم در مورد زکات فطریه بپرسم که به چه صورت و چه مقدار باید بپردازم. آیا می توانم این مبلغ را نگهدارم و وقتی برگشتم به ایران به افراد نیازمند بدهم؟
پاسخ: می توانید به فامیلهای خود در ایران وکالت دهید که از طرف شما از اموال خودتان زکات فطره را پرداخت کنند و اگر در ایران پول نداشته باشید می توانید از آنها بخواهید که به شما قرض دهند سپس آن را بعنوان زکات فطره با وکالت از طرف شما به فقیر بدهد. و مقدار آن ۳ کیلو گندم یا برنج یا قیمت آن در ایران.
١السؤال: ما هو الضابط في جنس زكاة الفطرة؟
الجواب: الضابط في جنس زكاة الفطرة ان يكون قوتاً شايعاً لأهل البلد ، يتعارف عندهم التغذي به وان لم يقتصروا عليه ، سواء أكان من الأجناس الأربعة ( الحنطة ، والشعير ، والتمر ، والزبيب ) أم من غيرها كالأرز والذرة ، وأما ما لا يكون كذلك ـ فالأحوط لزوماً ـ عدم اخراج الفطرة منه وان كان من الأجناس الأربعة ، كما أنّ ـ الأحوط لزوماً ـ ان لا تخرج الفطرة من القسم المعيب ، ويجوز اخراجها من النقود عوضاً عن الأجناس المذكورة ، والعبرة في القيمة بوقت الإخراج ومكانه ، ومقدار الفطرة صاع وهو أربعة أمداد ، ويكفي فيها اعطاء ثلاث كيلوغرامات.
یہاں واضح لکھا ہوا ہے کہ جس جگہ اور جس وقت فطرہ نکالا جائے وہ معیار ہے
السؤال: هل يجوز دفع زكاة الفطرة والكفارات والفدية وغيرها بقيمة بلد المحتاج أم يجب اخراجها بقيمة بلد المكلف علماً انني اسكن في بلد لا يتوفر فيه مساكين يستحقون ذلك ؟
الجواب: المعتبر في زكاة الفطرة دفع قيمة بلد الاخراج وهو بلد المكلف عادة ، واما الكفارات والفدية فالواجب دفع الطعام بعينه
روایت میں بھی شھر کو معیار بنایا ہے
12186- 2-[4] وَ بِإِسْنَادِهِ عَنْ عَلِيِّ بْنِ حَاتِمٍ الْقَزْوِينِيِّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو عَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ الْحَسَنِ الْحُسَيْنِيِ[5] عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدٍ الْهَمَذَانِيِ[6] اخْتَلَفَتِ الرِّوَايَاتُ فِي الْفِطْرَةِ فَكَتَبْتُ إِلَى أَبِي الْحَسَنِ صَاحِبِ الْعَسْكَرِ ع- أَسْأَلُهُ عَنْ ذَلِكَ فَكَتَبَ أَنَّ الْفِطْرَةَ صَاعٌ مِنْ قُوتِ بَلَدِكَ عَلَى أَهْلِ مَكَّةَ وَ الْيَمَنِ- وَ الطَّائِفِ وَ أَطْرَافِ الشَّامِ وَ الْيَمَامَةِ وَ الْبَحْرَيْنِ- وَ الْعِرَاقَ..
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Telephone
Website
Address
Rawalpindi