*سونا اور چاندی دنیا میں کفار کےلیے جبکہ آخرت میں مسلمانوں کےلیے ہے۔*
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَهْلِ بْنِ إِسْحَقَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْأَشْعَثِ بْنِ قَيْسٍ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ سَمِعْتُهُ يَذْكُرُهُ عَنْ أَبِي فَرْوَةَ أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُكَيْمٍ قَالَ كُنَّا مَعَ حُذَيْفَةَ بِالْمَدَائِنِ فَاسْتَسْقَى حُذَيْفَةُ فَجَاءَهُ دِهْقَانٌ بِشَرَابٍ فِي إِنَاءٍ مِنْ فِضَّةٍ فَرَمَاهُ بِهِ وَقَالَ إِنِّي أُخْبِرُكُمْ أَنِّي قَدْ أَمَرْتُهُ أَنْ لَا يَسْقِيَنِي فِيهِ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَشْرَبُوا فِي إِنَاءِ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ وَلَا تَلْبَسُوا الدِّيبَاجَ وَالْحَرِيرَ فَإِنَّهُ لَهُمْ فِي الدُّنْيَا وَهُوَ لَكُمْ فِي الْآخِرَةِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ۔
*اردو ترجمہ*
سعید بن عمرو بن سہل بن اسحاق بن محمد بن اشعث بن قیس نے کہا : ہمیں سفیان بن عیینہ نے حدیث بیان کی ، کہا : میں نے انھیں ابوفروہ سے ذکر کرتے ہوئے سنا کہ انھوں نے عبداللہ بن عکیم رضی اللہ عنہ سے سنا ، کہا : ہم ( ایران کے سابقہ دارالحکومت ) مدائن میں حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے ، حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے پانی مانگا تو ایک زمیندار چاندی کے برتن میں مشروب لے آیا ، حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے اس ( مشروب ) کے سمیت وہ برتن پھینک دیا اور کہا : میں تم لوگوں کو بتا رہا ہوں کہ میں پہلے اس سے کہہ چکا ہوں کہ وہ مجھے اس ( چاندی کے برتن ) میں نہ پلائے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے :’’ سونے اور چاندی کے برتن میں نہ پیو اور دیباج اور حریر نہ پہنو کیونکہ یہ چیزیں دنیا میں ان ( کافروں ) کے لیے ہیں اور آخرت میں قیامت کے دن تمھارے لیے ہیں ۔‘‘
*English translation*
Abdullah b. Ukaim reported:
While we were with Hudhaifa in Mada'in he asked for water. A villager brought a drink for him in a silver vessel. He (Hudhaifa) threw it away saying: I inform you that I have already conveyed to him that he should not serve me drink in it (silver vessel) for Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) had said: Do not drink in gold and silver vessels, and do not wear brocade or silk, for these are meant for them (the non-believers) in this world, but they are meant for you in the Hereafter on the Day, of Resurrection.
*صحیح مسلم حدیث نمبر 5394 کتاب اللباس والزینة*
*منگل 21 اپریل 2026ء*
*3 ذی القعدہ 1447 ہجری*
Dhoke Chaudhrian Official
Delivering good messages to people
*سات چیزوں کے حکم کا اور سات چیزوں کی ممانعت کا بیان۔*
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ أَخْبَرَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ عَنْ أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ ح و حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا أَشْعَثُ حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ سُوَيْدِ بْنِ مُقَرِّنٍ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَبْعٍ وَنَهَانَا عَنْ سَبْعٍ أَمَرَنَا بِعِيَادَةِ الْمَرِيضِ وَاتِّبَاعِ الْجَنَازَةِ وَتَشْمِيتِ الْعَاطِسِ وَإِبْرَارِ الْقَسَمِ أَوْ الْمُقْسِمِ وَنَصْرِ الْمَظْلُومِ وَإِجَابَةِ الدَّاعِي وَإِفْشَاءِ السَّلَامِ وَنَهَانَا عَنْ خَوَاتِيمَ أَوْ عَنْ تَخَتُّمٍ بِالذَّهَبِ وَعَنْ شُرْبٍ بِالْفِضَّةِ وَعَنْ الْمَيَاثِرِ وَعَنْ الْقَسِّيِّ وَعَنْ لُبْسِ الْحَرِيرِ وَالْإِسْتَبْرَقِ وَالدِّيبَاجِ۔
*اردو ترجمہ*
ابوخیثمہ ) زہیر نے کہا : ہمیں اشعث نے حدیث بیان کی ، کہا : مجھے معاویہ بن سوید بن مقرن نے حدیث بیان کی ، کہا : میں حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ کے پاس گیا تو ان کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں سات چیزوں کا حکم دیا ہے اور سات چیزوں سے روکا ہے : مریض کی عیادت کرنے ، جنازے کے ساتھ شریک ہونے ، چھینک کا جواب دینے ، ( اپنی ) قسم یا قسم دینے والے ( کی قسم ) پوری کرنے ، مظلوم کی مدد کرنے ، دعوت قبول کرنے اور سلام کو عام کرنے کا حکم دیا اور انگوٹھیوں سے ، یا سونے کی انگوٹھی پہننے سے ، چاندی کے برتن میں ( کھانے ) پینے ، ارغوانی ( سرخ ) گدوں سے ( اگر وہ ریشم کے ہوں ) مصر کے علاقے قس کے بنے ہوئے کپڑوں ( جو ریشم کے ہوتے تھے ) اور ( کسی بھی قسم کے ) ریشم ، استبرق اور دیباج کو پہننے سے روکا ( استبرق ریشم کا موٹا کپڑا تھا اور دیباج باریک ۔ )
*English translation*
Mu'awiya b. Suwaid b. Muqarrin reporxed:
I visited al-Bara' b. 'Azib and heard him say: Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) commanded us to do seven things and forbade us to do seven (things). He commanded us to visit the sick, to follow the funeral procession, to answer the sneezer, to fulfil the vow, to help the poor, to accept the invitation and to greet everybody, and he forbade us to wear rings or gold rings, to drink in silver (vessels), and to use the saddle cloth made of red silk, and to wear garments made of Qassi material, or garments made of silk or brocade and velvet.
*صحیح مسلم حدیث نمبر 5388 کتاب اللباس والزینة*
*سوموار 20 اپریل 2026ء*
*2 ذی القعدہ 1447 ہجری*
*چاندی کے برتنوں میں کھانے پینے کی ممانعت کا بیان۔*
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ نَافِعٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الَّذِي يَشْرَبُ فِي آنِيَةِ الْفِضَّةِ إِنَّمَا يُجَرْجِرُ فِي بَطْنِهِ نَارَ جَهَنَّمَ۔
*اردو ترجمہ*
امام مالک نے نافع سے ، انھوں نے زید بن عبداللہ سے ، انھوں نے عبداللہ بن عبدالرحمن بن ابوبکر صدیق سے ، انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اہلیہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص چاندی کے برتن میں پیتا ہے وہ اپنے پیٹ میں غٹاغٹ جہنم کی آگ بھر رہا ہے ۔‘‘
*English translation*
Umm Salama, the wife of Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ), said:
He who drinks in the vessel of silver in fact drinks down in his belly the fire of Hell.
*صحیح مسلم حدیث نمبر 5385 کتاب اللباس والزینة*
*اتوار 19 اپریل 2026ء*
*یکم ذی القعدہ 1447 ہجری*
*خوشبو (عود) وغیرہ کا دھواں لینے کا بیان۔*
حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ، وَأَبُو طَاهِرٍ، وَأَحْمَدُ بْنُ عِيسَى، - قَالَ أَحْمَدُ: حَدَّثَنَا، وقَالَ الْآخَرَانِ - أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مَخْرَمَةُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ نَافِعٍ، قَالَ: كَانَ ابْنُ عُمَرَ «إِذَا اسْتَجْمَرَ اسْتَجْمَرَ بِالْأَلُوَّةِ، غَيْرَ مُطَرَّاةٍ وَبِكَافُورٍ، يَطْرَحُهُ مَعَ الْأَلُوَّةِ» ثُمَّ قَالَ: «هَكَذَا كَانَ يَسْتَجْمِرُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»
*اردو ترجمہ*
نافع نے کہا : حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما جب خوشبو کا دھواں لیتے تو عود کا دھواں لیتے ، اس میں کسی اور چیز کی آمیزش نہ ہوتی اور کافور کا دھواں لیتے ، اس میں کچھ عود ملا لیتے ، پھر بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسی طرح خوشبو کا دھواں لیتے ( اور کپڑوں میں بساتے ) تھے۔
*English translation*
Nafi' reported that when Ibn Umar wanted fumigation he got it from aloeswood without mixing anything with it, or he put camphor along with aloeswood and then said:
This is how Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) fumigated.
*صحیح مسلم حدیث نمبر 5884 کتاب الآداب*
*ہفتہ 18 اپریل 2026ء*
*29 شوال المکرم 1447 ہجری*
*جب کسی کو خوشبو کا تحفہ دیا جائے تو اس سے انکار کی ممانعت کا بیان۔*
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، كِلَاهُمَا عَنِ الْمُقْرِئِ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي أَيُّوبَ، حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللهِ بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ عُرِضَ عَلَيْهِ رَيْحَانٌ فَلَا يَرُدُّهُ، فَإِنَّهُ خَفِيفُ الْمَحْمِلِ طَيِّبُ الرِّيحِ»۔
*اردو ترجمہ*
عبدالرحمن اعرج نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جس شخص کو ریحان ( خوشبودار پھول یا ٹہنی ) دی جائے تو وہ اسے مسترد نہ کرے کیونکہ وہ اٹھانے میں ہلکی اور خوشبو میں عمدہ ہے ۔‘‘
*English translation*
Abu Huraira reported Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) as saying:
He who is presented with a flower should not reject it, for it is light to carry and pleasant in odour.
*صحیح مسلم حدیث نمبر 5883 کتاب الآداب*
*جمعہ 17 اپریل 2026ء*
*28 شوال المکرم 1447 ہجری*
*کستوری کا استعمال، اور اس کے سب سے بہترین خوشبو ہونے کا بیان۔*
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ شُعْبَةَ، حَدَّثَنِي خُلَيْدُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «كَانَتِ امْرَأَةٌ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ، قَصِيرَةٌ تَمْشِي مَعَ امْرَأَتَيْنِ طَوِيلَتَيْنِ، فَاتَّخَذَتْ رِجْلَيْنِ مِنْ خَشَبٍ، وَخَاتَمًا مِنْ ذَهَبٍ مُغْلَقٌ مُطْبَقٌ، ثُمَّ حَشَتْهُ مِسْكًا، وَهُوَ أَطْيَبُ الطِّيبِ، فَمَرَّتْ بَيْنَ الْمَرْأَتَيْنِ، فَلَمْ يَعْرِفُوهَا، فَقَالَتْ بِيَدِهَا هَكَذَا» وَنَفَضَ شُعْبَةُ يَدَهُ۔
*اردو ترجمہ*
ابواسامہ نے شعبہ سے روایت کی ، کہا : مجھے خلید بن جعفر نے ابونضرہ سے ، انھوں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے ، انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا :’’ بنی اسرائیل میں ایک پستہ قامت عورت دو لمبے قد کی عورتوں کے ساتھ چلا کرتی تھی ۔ اس نے لکڑی کی دو ٹانگیں ( ایسے جوتے یا موزے جن کے تلووں والا حصہ بہت اونچا تھا ) بنوائیں اور سونے کی ایک بند ، ڈھکنے والی انگوٹھی بنوائی ، پھر اسے کستوری سے بھر دیا اور وہ خوشبوؤں میں سب سے اچھی خوشبو ہے ، پھر وہ ان دونوں ( لمبی عورتوں ) کے درمیان میں ہو کر چلی تو لوگ اسے نہ پہچان سکے ، اس پر اس نے اپنے ہاتھ سے اس طرح اشارہ کیا ۔‘‘ اور شعبہ نے ( شاگردوں کو دکھانے کے لیے ) اپنا ہاتھ جھٹکا۔
*English translation*
Abu Sa'id Khudri reported Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) as saying:
There was a woman from Bani Isra'il who was short-statured and she walked in the company of two tall women with wooden sandals in her feet and a ring of gold made of plates with musk filled in them and then looked up, and musk is the best of scents; then she walked between two women and they (the people) did not recognise her, and she made a gesture with her hand like this, and Shu'ba shook his hand in order to give an indication how she shook her hand.
*صحیح مسلم حدیث نمبر 5881 کتاب الآداب*
*جمعرات 16 اپریل 2026ء*
*27 شوال المکرم 1447 ہجری*
*اپنے نفس کو گندا کہنے کی ممانعت کا بیان۔*
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، كِلَاهُمَا عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ خَبُثَتْ نَفْسِي، وَلَكِنْ لِيَقُلْ لَقِسَتْ نَفْسِي» هَذَا حَدِيثُ أَبِي كُرَيْبٍ وقَالَ: أَبُو بَكْرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَمْ يَذْكُرْ «لَكِنْ»۔
*اردو ترجمہ*
ابوبکر بن ابی شیبہ نے کہا : ہمیں سفیان بن عیینہ نے حدیث بیان کی ۔ ابوکریب محمد بن علاء نے کہا : ہمیں ابواسامہ نے حدیث بیان کی ۔ ان دونوں ( سفیان اور ابواسامہ ) نے ہشام سے ، انھوں نے اپنے والد سے ، انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ تم میں سے کوئی شخص یہ نہ کہے :’’ میرا جی ( نفس ، اپنا آپ ) گندا ہو گیا ہے ، بلکہ یہ کہے : میری طبیعت بوجھل ہو گئی ہے ۔‘‘ یہ ابوکریب کی حدیث کے الفاظ ہیں ۔ ابوبکر ( ابن ابی شیبہ ) نے کہا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت ہے ، اور ’’ لیکن ‘‘ کا لفظ نہیں کہا۔
*English translation*
A'isha reported Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) having said:
None of you should say: My soul has become evil, but he should say: My soul has become remorseless. This hadith has been transmitted on the authority of Abu Bakr with a slight variation of wording.
*صحیح مسلم حدیث نمبر 5878 کتاب الآداب*
*بدھ 15 اپریل 2026ء*
*26 شوال المکرم 1447 ہجری*
*کسی شخص کی کسی دوسرے کےلیے میرا بندہ یا میری بندی کہنے کی ممانعت کا بیان۔*
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَقُتَيْبَةُ، وَابْنُ حُجْرٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ، عَنِ الْعَلَاءِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ عَبْدِي وَأَمَتِي كُلُّكُمْ عَبِيدُ اللهِ، وَكُلُّ نِسَائِكُمْ إِمَاءُ اللهِ، وَلَكِنْ لِيَقُلْ غُلَامِي وَجَارِيَتِي وَفَتَايَ وَفَتَاتِي»
*اردو ترجمہ*
علاء کے والد نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ تم میں سے کوئی شخص ( کسی کو ) میرا بندہ اور میری بندی نہ کہے ، تم سب اللہ کے بندے ہو اور تمھاری تمام عورتیں اللہ کی بندیاں ہیں ، البتہ یوں کہہ سکتا ہے : میرا لڑکا ، میری لڑکی ، میرا جوان / خادم ، میری خادمہ ۔‘‘
*English translation*
Abu Huraira reported Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) as saying:
None of you should say: My bondman and my slave-girl, for all of you are the bondmen of Allah, and all your women are the slave-girls of Allah; but say: My servant, my girl, and my young man and my young girl.
*صحیح مسلم حدیث نمبر 5874 کتاب الأدب*
*منگل 14 اپریل 2026ء*
*25 شوال المکرم 1447 ہجری*
*زمانے کو برا بھلا کہنے کی ممانعت کا بیان۔*
وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَرْحٍ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، قَالَا: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: «يَسُبُّ ابْنُ آدَمَ الدَّهْرَ، وَأَنَا الدَّهْرُ بِيَدِيَ اللَّيْلُ وَالنَّهَارُ»۔
*اردو ترجمہ*
ابوسلمہ بن عبدالرحمن نے بتایا کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کہتے ہوئے سنا :’’ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ابن آدم دہر ( وقت ، زمانے ) کو برا کہتا ہے ، جبکہ ( رب ) دہر میں ہی ہوں ۔ رات اور دن ( جنھیں انسان وقت کہتا ہے ) میرے ہاتھ میں ہیں ۔‘‘
*English translation*
Abu Huraira reported:
I heard Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) as saying: Allah, the Exalted and Glorious, said: The son of Adam abuses Dahr (the time), whereas I am Dahr since in My hand are the day and the night.
*صحیح مسلم حدیث نمبر 5862 کتاب الأدب*
*سوموار 13 اپریل 2026ء*
*24 شوال المکرم 1447 ہجری*
*اللہ پاک کی رحمتِ واسعہ کا بیان کہ انسان کس قدر گناہگار کی کیوں نہ ہو کبھی کبھار ایک چھوٹی سی نیکی پر بھی بخش دیا جاتا ہے۔*
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَنَّ امْرَأَةً بَغِيًّا رَأَتْ كَلْبًا فِي يَوْمٍ حَارٍّ يُطِيفُ بِبِئْرٍ، قَدْ أَدْلَعَ لِسَانَهُ مِنَ الْعَطَشِ، فَنَزَعَتْ لَهُ بِمُوقِهَا فَغُفِرَ لَهَا»۔
*اردو ترجمہ*
ہشام نے محمد ( بن سیرین ) سے ، انھوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ، انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ ایک فاحشہ عورت نے ایک سخت گرم دن میں ایک کتا دیکھا جو ایک کنویں کے گرد چکر لگا رہا تھا ۔ پیاس کی وجہ سے اس نے زبان باہر نکالی ہوئی تھی ، اس عورت نے اس کی خاطر اپنا موزہ اتارا ( اور اس کے ذریعے پانی نکال کر اس کتے کو پلایا ) تو اس کو بخش دیا گیا ۔‘‘
*English translation*
Abu Huraira reported Allah's Messenger (may pace be upon him) as saying:
A pr******te saw a dog moving around a well on a hot day and hanging out its tongue because of thirst. She drew water for it in her shoe and she was pardoned (for this act of hers).
*صحیح مسلم حدیث نمبر 5860 کتاب الصحة والسلامة*
*اتوار 12 اپریل 2026ء*
*23 شوال المکرم 1447 ہجری*
*جن جانوروں کو مارا نہیں جاتا ان کو کھلانے پلانے کی فضیلت کا بیان۔*
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، فِيمَا قُرِئَ عَلَيْهِ عَنْ سُمَيٍّ، مَوْلَى أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «بَيْنَمَا رَجُلٌ يَمْشِي بِطَرِيقٍ اشْتَدَّ عَلَيْهِ الْعَطَشُ، فَوَجَدَ بِئْرًا، فَنَزَلَ فِيهَا فَشَرِبَ، ثُمَّ خَرَجَ فَإِذَا كَلْبٌ يَلْهَثُ يَأْكُلُ الثَّرَى مِنَ الْعَطَشِ، فَقَالَ الرَّجُلُ لَقَدْ بَلَغَ هَذَا الْكَلْبَ مِنَ الْعَطَشِ مِثْلُ الَّذِي كَانَ بَلَغَ مِنِّي، فَنَزَلَ الْبِئْرَ فَمَلَأَ خُفَّهُ مَاءً، ثُمَّ أَمْسَكَهُ بِفِيهِ حَتَّى رَقِيَ فَسَقَى الْكَلْبَ فَشَكَرَ اللهُ لَهُ فَغَفَرَ لَهُ» قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ وَإِنَّ لَنَا فِي هَذِهِ الْبَهَائِمِ لَأَجْرًا؟ فَقَالَ: «فِي كُلِّ كَبِدٍ رَطْبَةٍ أَجْرٌ»۔
*اردو ترجمہ*
ابوصالح سمان نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ ایک بار ایک شخص راستے میں چلا جا رہا تھا ، اس کو شدید پیاس لگی ، اسے ایک کنواں ملا ، وہ اس کنویں میں اترا اور پانی پیا ، پھر وہ کنویں سے نکلا تو اس کے سامنے ایک کتا زور زور سے ہانپ رہا تھا ، پیاس کی وجہ سے کیچڑ چاٹ رہا تھا ۔ اس شخص نے ( دل میں ) کہا : یہ کتا بھی پیاس سے اسی حالت کو پہنچا ہے جو میری ہوئی تھی ۔ وہ کنویں میں اترا اور اپنے موزے کو پانی سے بھرا ، پھر اس کو منہ سے پکڑا یہاں تک کہ اوپر چڑھ آیا ، پھر اس نے کتے کو پانی پلایا ، اللہ تعالیٰ نے اسے اس نیکی کا بدلہ دیا اس کو بخش دیا ۔‘‘ لوگوں نے کہا : اللہ کے رسول ! ہمارے لیے ان جانوروں میں اجر ہے ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ نمی رکھنے والے ہر جگر میں ( کسی بھی جاندار کا ہو ۔ ) اجر ہے ۔‘‘
*English translation*
Abu Huraira reported Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) as sayings:
A person suffered from intense thirst while on a journey, when he found a well. He climbed down into it and drank (water) and then came out and saw a dog lolling its tongue on account of thirst and eating the moistened earth. The person said: This dog has suffered from thirst as I had suffered from it. He climbed down into the well, filled his shoe with water, then caught it in his mouth until he climbed up and made the dog drink it. So Allah appreciated this act of his and pardoned him. Then (the Companions around him) said: Allah's Messenger, is there for us a reward even for (serving) such animals? He said: Yes, there is a reward for service to every living animal.
*صحیح مسلم حدیث نمبر 5859 کتاب الصحة والسلامة*
*ہفتہ 11 اپریل 2026ء*
*22 شوال المکرم 1447 ہجری*
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Contact the school
Telephone
Address
Rawalpindi
4600