Dhoke Chaudhrian Official

Dhoke Chaudhrian Official Delivering good messages to people

18/08/2026

*حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان۔*

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ جُدْعَانَ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ أَنَا سَيِّدُ وَلَدِ آدَمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا فَخْرَ، ‏‏‏‏‏‏وَبِيَدِي لِوَاءُ الْحَمْدِ وَلَا فَخْرَ، ‏‏‏‏‏‏وَمَا مِنْ نَبِيٍّ يَوْمَئِذٍ آدَمُ فَمَنْ سِوَاهُ إِلَّا تَحْتَ لِوَائِي، ‏‏‏‏‏‏وَأَنَا أَوَّلُ مَنْ تَنْشَقُّ عَنْهُ الْأَرْضُ وَلَا فَخْرَ۔

*اردو ترجمہ*
حضرت ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”میں قیامت کے دن اولاد آدم کا سردار ہوں گا اور مجھے اس پر کوئی فخر نہیں اور میرے ہاتھ میں حمد کا پرچم ہو گا اور اس پر مجھے فخر نہیں، اور آدم اور آدم کے علاوہ جتنے بھی نبی ہوں گے سب میرے پرچم کے نیچے ہوں گے، اور میں پہلا وہ شخص ہوں گا جس کے لیے زمین شق ہو گی، اور سب سے پہلے قبر سے میں اٹھوں گا اور اس پر مجھے فخر نہیں“۔

*English Translation*
Narrated Abu Sa'eed:
that the Messenger of Allah (ﷺ) said: I am the master of the children of Adam on the Day of Judgement, and I am not boasting. The Banner of Praise will be in my hand, and I am not boasting. There will not be a Prophet on that day, not Adam nor anyone other than him, except that he will be under my banner. And I am the first one for whom the earth will be opened for, and I am not bragging.
*جامع الترمذی حدیث نمبر 3615 کتاب الفضائل و المناقب*

*منگل 18 اگست 2026ء*
*4 ربیع الاوّل 1448 ہجری*

16/08/2026

*حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلَّم کی فضیلت کا بیان*

حَدَّثَنَا خَلَّادُ بْنُ أَسْلَمَ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ أَبِي عَمَّارٍ، عَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏إِنَّ اللَّهَ اصْطَفَى مِنْ وَلَدِ إِبْرَاهِيمَ إِسْمَاعِيل، ‏‏‏‏‏‏وَاصْطَفَى مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيل بَنِي كِنَانَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَاصْطَفَى مِنْ بَنِي كِنَانَةَ قُرَيْشًا، ‏‏‏‏‏‏وَاصْطَفَى مِنْ قُرَيْشٍ بَنِي هَاشِمٍ، ‏‏‏‏‏‏وَاصْطَفَانِي مِنْ بَنِي هَاشِمٍ۔

*اردو ترجمہ*
حضرت واثلہ بن اسقع رضی الله عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ نے ابراہیم علیہ السلام کی اولاد میں سے اسماعیل علیہ السلام کا انتخاب فرمایا اور اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے بنی کنانہ کا، اور بنی کنانہ میں سے قریش کا، اور قریش میں سے بنی ہاشم کا، اور بنی ہاشم میں سے میرا انتخاب فرمایا ”۔

*English Translation*
Narrated Wathilah bin Al-Asqa': that the Messenger of Allah (ﷺ) said: Indeed Allah has chosen Isma'il from the children of Ibrahim, and He chose Banu Kinanah from the children of Isma'il, and He chose the Quraish from Banu Kinanah, and He chose Banu Hashim from Quraish, and He chose me from Banu Hashim.
*جامع الترمذی حدیث نمبر 3605 کتاب الفضائل و المناقب*

*اتوار 16 اگست 2026ء*
*2 ربیع الاوّل 1448 ہجری*

15/08/2026

*حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دیگر انبیاء سے جدا شان ۔*

حَدَّثَنَا أَبُو هَمَّامٍ الْوَلِيدُ بْنُ شُجَاعِ بْنِ الْوَلِيدِ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالُوا:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَتَى وَجَبَتْ لَكَ النُّبُوَّةُ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ وَآدَمُ بَيْنَ الرُّوحِ وَالْجَسَدِ۔

*اردو ترجمہ*
حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ لوگوں نے پوچھا: اللہ کے رسول! نبوت آپ کے لیے کب واجب ہوئی؟ تو آپ نے فرمایا: "جب آدم روح اور جسم کے درمیان تھے"۔ ( یعنی ان کی پیدائش کی تیاری ہو رہی تھی ) ۔

*English Translation*
Narrated Abu Hurairah: They said: 'O Messenger of Allah (ﷺ)! When was the Prophethood established for you?' He said: 'While Adam was between (being) soul and body.'
*جامع الترمذی حدیث نمبر 3609 کتاب الفضائل و المناقب*

*ہفتہ 15 اگست 2026ء*
*یکم ربیع الاوّل 1448 ہجری*

14/08/2026

*حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مدینہ منورہ سے محبت کا بیان۔*

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي حُمَيْدٌ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، يَقُولُ :كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ فَأَبْصَرَ دَرَجَاتِ الْمَدِينَةِ أَوْضَعَ نَاقَتَهُ ، وَإِنْ كَانَتْ دَابَّةً حَرَّكَهَا, قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ : زَادَ الْحَارِثُ بْنُ عُمَيْرٍ ، عَنْ حُمَيْدٍ حَرَّكَهَا مِنْ حُبِّهَا ، حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ جُدُرَاتِ : تَابَعَهُ الْحَارِثُ بْنُ عُمَيْرٍ۔

*اردو ترجمہ*
حمید طویل نے خبر دی انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا کہ آپ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سفر سے مدینہ واپس ہوتے اور مدینہ کے بالائی علاقوں پر نظر پڑتی تو اپنی اونٹنی کو تیز کر دیتے، کوئی دوسرا جانور ہوتا تو اسے بھی ایڑ لگاتے۔ ابوعبداللہ (امام بخاری رحمہ اللہ) نے کہا کہ حارث بن عمیر نے حمید سے یہ لفظ زیادہ کئے ہیں کہ ”مدینہ سے محبت کی وجہ سے سواری تیز کر دیتے تھے۔“ ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل بن جعفر نے بیان کیا، ان سے حمید طویل نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے، انہوں نے (درجات کے بجائے) «جدرات» کہا، اس کی متابعت حارث بن عمیر نے کی۔

*English Translation*
Narrated Humaid: Anas said, Whenever Allah's Apostle returned from a journey, he, on seeing the high places of Medina, would make his she-camel proceed faster; and if it were another animal, even then he used to make it proceed faster. Narrated Humaid that the Prophet used to make it proceed faster out of his love for Medina. Narrated Anas: As above, but mentioned the walls of Medina instead of the high places of Medina. Al-Harith bin `Umar agrees with Anas.
*صحیح البخاری حدیث نمبر 1802 کتاب العمرۃ*

*نوٹ*
اس حدیث شریف میں اپنے وطن کے ساتھ محبت کرنے کا درس ملتا ہے، اللہ پاک ہمارے پیارے وطن کو بھی سلامتی و استحکام عطاء فرمائے۔

*جمعہ 14 اگست 2026ء*
*30 صفر المظفر 1448 ہجری*

13/08/2026

*28 صفر المظفر یومِ شہادت حضرت امام حسن علیہ السّلام کی نسبت سے آپ کی شان۔*

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ الدَّوْسِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ ""خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وآلہ وَسَلَّمَ فِي طَائِفَةِ النَّهَارِ، ‏‏‏‏‏‏لَا يُكَلِّمُنِي وَلَا أُكَلِّمُهُ حَتَّى أَتَى سُوقَ بَنِي قَيْنُقَاعَ، ‏‏‏‏‏‏فَجَلَسَ بِفِنَاءِ بَيْتِ فَاطِمَةَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ أَثَمَّ لُكَعُ، ‏‏‏‏‏‏أَثَمَّ لُكَعُ، ‏‏‏‏‏‏فَحَبَسَتْهُ شَيْئًا، ‏‏‏‏‏‏فَظَنَنْتُ أَنَّهَا تُلْبِسُهُ سِخَابًا أَوْ تُغَسِّلُهُ، ‏‏‏‏‏‏فَجَاءَ يَشْتَدُّ حَتَّى عَانَقَهُ وَقَبَّلَهُ، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ:‏‏‏‏ اللَّهُمَّ أَحْبِبْهُ وَأَحِبَّ مَنْ يُحِبُّهُ""،۔

*اردو ترجمہ*
حضرت ابوہریرہ دوسی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دن کے ایک حصہ میں تشریف لے چلے۔ نہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے کوئی بات کی اور نہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے۔ اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بنی قینقاع کے بازار میں آئے پھر ( واپس ہوئے اور ) فاطمہ رضی اللہ عنہا کے گھر کے آنگن میں بیٹھ گئے اور فرمایا، وہ بچہ کہاں ہے، وہ بچہ کہاں ہے؟ فاطمہ رضی اللہ عنہا ( کسی مشغولیت کی وجہ سے فوراً ) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر نہ ہو سکیں۔ میں نے خیال کیا، ممکن ہے حسن رضی اللہ عنہ کو کرتا وغیرہ پہنا رہی ہوں یا نہلا رہی ہوں۔ تھوڑی ہی دیر بعد حسن رضی اللہ عنہ دوڑتے ہوئے آئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو سینے سے لگا لیا اور بوسہ لیا، پھر فرمایا اے اللہ! اسے محبوب رکھ اور اس شخص کو بھی محبوب رکھ جو اس سے محبت رکھے۔

*English Translation*
Narrated Abu Huraira Ad-Dausi: Once the Prophet went out during the day. Neither did he talk to me nor I to him till he reached the market of Bani Qainuqa and then he sat in the compound of Fatima's house and asked about the small boy (his grandson Al-Hasan) but Fatima kept the boy in for a while. I thought she was either changing his clothes or giving the boy a bath. After a while the boy came out running and the Prophet embraced and kissed him and then said, 'O Allah! Love him, and love whoever loves him.'
*صحیح البخاری حدیث نمبر 2122 کتاب البیوع*

*جمعرات 13 اگست 2026ء*
*29 صفر المظفر 1448 ہجری*

12/08/2026

*جس کسی کے پاس آرام کےلیے بیوی اور رہنے کےلیے چھت میسر ہے تو وہ اغنیاء میں سے ہے۔*

حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَرْحٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي أَبُو هَانِئٍ سَمِعَ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيَّ يَقُولُ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ وَسَأَلَهُ رَجُلٌ فَقَالَ أَلَسْنَا مِنْ فُقَرَاءِ الْمُهَاجِرِينَ فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ أَلَكَ امْرَأَةٌ تَأْوِي إِلَيْهَا قَالَ نَعَمْ قَالَ أَلَكَ مَسْكَنٌ تَسْكُنُهُ قَالَ نَعَمْ قَالَ فَأَنْتَ مِنْ الْأَغْنِيَاءِ قَالَ فَإِنَّ لِي خَادِمًا قَالَ فَأَنْتَ مِنْ الْمُلُوكِ۔

*اردو ترجمہ*
ابوہانی نے ابوعبدالرحمن حبلی کو کہتے ہوئے سنا : میں نے حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے سنا ، ان سے کسی آدمی نے پوچھا تھا : کیا ہم فقراء مہاجرین میں سے نہیں ہیں ؟ تو حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا : کیا تمھاری بیوی ہے جس کے پاس تم آرام کرنے کے لیے جاتے ہو ؟ اس نے کہا : ہاں ، پوچھا : کیا تمھارے پاس رہائش گاہ ہے جہاں تم رہتے ہو ؟ اس نے کہا : ہاں ۔ کہا : پھر تم اغنیاء میں سے ہو ، اس نے کہا : میرے پاس تو خادم ( بھی ) ہے ۔ کہا : پھر تو تم بادشاہوں میں سے ہو۔

*English translation*
Abd al-Rahman al-Hubuli reported:
I heard that a person asked 'Abdullah b. 'Amr b. 'As and heard him saying: Are we not amongst the destitute of the emigrants? Abdullah said to him: Have you a spouse with whom you live? He said: Yes. Abdullah asked: Do you not have a home in which you reside? The man replied Yes. Abdullah said: Then you are amongst the rich. He said: I have a servant also. Thereupon he (Abdullah b. 'Amr b. 'As) said: Then you are amongst the kings.
*صحیح مسلم حدیث نمبر 7462 کتاب الزہد والرقاق*

*بدھ 12 اگست 2026ء*
*28 صفر المظفر 1448 ہجری*

10/08/2026

*اللہ پاک کے نزدیک دنیا کی حقارت کا بیان۔*

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ بِلَالٍ عَنْ جَعْفَرٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِالسُّوقِ دَاخِلًا مِنْ بَعْضِ الْعَالِيَةِ وَالنَّاسُ كَنَفَتَهُ فَمَرَّ بِجَدْيٍ أَسَكَّ مَيِّتٍ فَتَنَاوَلَهُ فَأَخَذَ بِأُذُنِهِ ثُمَّ قَالَ أَيُّكُمْ يُحِبُّ أَنَّ هَذَا لَهُ بِدِرْهَمٍ فَقَالُوا مَا نُحِبُّ أَنَّهُ لَنَا بِشَيْءٍ وَمَا نَصْنَعُ بِهِ قَالَ أَتُحِبُّونَ أَنَّهُ لَكُمْ قَالُوا وَاللَّهِ لَوْ كَانَ حَيًّا كَانَ عَيْبًا فِيهِ لِأَنَّهُ أَسَكُّ فَكَيْفَ وَهُوَ مَيِّتٌ فَقَالَ فَوَاللَّهِ لَلدُّنْيَا أَهْوَنُ عَلَى اللَّهِ مِنْ هَذَا عَلَيْكُمْ۔

*اردو ترجمہ*
سلیمان بن بلال نے جعفر سے ، انھوں نے اپنے والد سے اور انھوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ( مدینہ کی ) کسی بالائی جانب سے داخل ہوتے ہوئے بازار سے گزرے ، لوگ آپ کے پہلو میں ( آپ کے ساتھ چل رہے ) تھے ۔ آپ حقیر سے کانوں والے مرے ہوئے میمنے کے پاس سے گزرے ، آپ نے اسے کان سے پکڑ کر اٹھایا ، پھر فرمایا :’’ تم میں سے کون اسے ایک درہم کے عوض لینا پسند کرے گا ؟‘‘ تو انھوں ( صحابہ ) نے کہا : ہمیں یہ کسی بھی چیز کے عوض لینا پسند نہیں ، ہم اسے لے کر کیا کریں گے ؟ آپ نے فرمایا :’’ ( پھر ) کیا تم پسند کرتے ہو کہ یہ تمھیں مل جائے ؟‘‘ انھوں ( صحابہ ) نے عرض کی : اللہ کی قسم ! اگر یہ زندہ ہوتا تب بھی اس میں عیب تھا ، کیونکہ ( ایک تو ) یہ حقیر سے کانوں والا ہے ( بھلا نہیں لگتا ) ، پھر جب وہ مرا ہوا ہے تو کس کام کا ؟ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اللہ کی قسم ! جتنا تمہارے نزدیک یہ حقیر ہے اللہ کے نزدیک دنیا اس سے بھی زیادہ حقیر ہے ۔‘‘۔

*English translation*
Jabir b. Abdullah reported that Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ وآلہ ‌وسلم ‌ ) happened to walk through the bazar coming from the side of 'Aliya and the people were on both his sides. There he found a dead lamb with very short ears. He took hold of his ear and said:
Who amongst you would like to have this for a dirham? They said: We do not like to have it even for less than that as it is of no use to us. He said: Do you wish to have it (free of any cost)? They said: By Allah, even if it were alive (we would not have liked to possess that), for there is defect in it as its ear is very short; now it is dead also. Thereupon Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ وآلہ ‌وسلم ‌ ) said: By Allah, this world is more insignificant in the eye of Allah than it (this dead lamb) is in your eye.
*صحیح مسلم حدیث نمبر 7418 کتاب الزہد والرقاق*

*منگل 11 اگست 2026ء*
*27 صفر المظفر 1448 ہجری*

10/08/2026

*فرشتے ہر روز صبح مال خرچ کرنے والے یعنی صدقہ خیرات کرنے والے کے حق میں دعا اور مال نہ خرچ کرنے والے بخیل کے خلاف دعا کرتے ہیں۔*

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ , قَالَ : حَدَّثَنِي أَخِي ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي مُزَرِّدٍ ، عَنْ أَبِي الْحُبَابِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : مَا مِنْ يَوْمٍ يُصْبِحُ الْعِبَادُ فِيهِ إِلَّا مَلَكَانِ يَنْزِلَانِ فَيَقُولُ أَحَدُهُمَا : اللَّهُمَّ أَعْطِ مُنْفِقًا خَلَفًا ، وَيَقُولُ الْآخَرُ : اللَّهُمَّ أَعْطِ مُمْسِكًا تَلَفًا۔

*اردو ترجمہ*
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا، کوئی دن ایسا نہیں جاتا کہ جب بندے صبح کو اٹھتے ہیں تو دو فرشتے آسمان سے نہ اترتے ہوں۔ ایک فرشتہ تو یہ کہتا ہے کہ اے اللہ! خرچ کرنے والے کو اس کا بدلہ دے۔ اور دوسرا کہتا ہے کہ اے اللہ! «ممسك» اور بخیل کے مال کو تلف کر دے۔

*English translation*
Narrated Abu Huraira: The Prophet said, Every day two angels come down from Heaven and one of them says, 'O Allah! Compensate every person who spends in Your Cause,' and the other (angel) says, 'O Allah! Destroy every miser.'
*صحیح البخاری حدیث نمبر 1442 کتاب الزکٰوۃ*

*سوموار 10 اگست 2026ء*
*26 صفر المظفر 1448 ہجری*

09/08/2026

*عصر کی نماز کی خاص فضیلت کا بیان، نیز عصر کے بعد غروبِ آفتاب تک اور کوئی نماز نہیں ہے۔*

و حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ خَيْرِ بْنِ نُعَيْمٍ الْحَضْرَمِيِّ عَنْ ابْنِ هُبَيْرَةَ عَنْ أَبِي تَمِيمٍ الْجَيْشَانِيِّ عَنْ أَبِي بَصْرَةَ الْغِفَارِيِّ قَالَ صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَصْرَ بِالْمُخَمَّصِ فَقَالَ إِنَّ هَذِهِ الصَّلَاةَ عُرِضَتْ عَلَى مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ فَضَيَّعُوهَا فَمَنْ حَافَظَ عَلَيْهَا كَانَ لَهُ أَجْرُهُ مَرَّتَيْنِ وَلَا صَلَاةَ بَعْدَهَا حَتَّى يَطْلُعَ الشَّاهِدُ وَالشَّاهِدُ النَّجْمُ۔

*اردو ترجمہ*
لیث نے خیر بن نعیم حضرمی سے روایت کی ، انھوں نے عبداللہ بن ہبیرہ سے ، انھوں نے ابوتمیم جیشانی سے اور انھوں نے حضرت ابوبصرہ رضی اللہ عنہ غفاری سے روایت کی ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں مخمص نامی جگہ میں عصر کی نماز پڑھائی اور فرمایا ’’ یہ نماز تم سے پہلے لوگوں کو دی گئی ( ان پر فرض کی گئی ) تو انھوں نے اسے ضائع کر دیا ، اس لیے جو بھی اس کی حفاظت کرے گا اسے اس کا دوگنا اجر ملے گا اور اس کے بعد کوئی نماز نہیں یہاں تک کہ ( اس کا ) شاہد طلوع ہو جائے ۔‘‘ شاہد ( سے مراد ) ستارہ ہے۔

*English translation*
Abu Basra Ghifari reported:
The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ وآلہ ‌وسلم ‌ ) led us in the 'Asr prayer at (the place known as) Mukhammas, and then said: This prayer was presented to those gone before you, but they lost it, and he who guards it has two rewards in store for him. And no prayer is valid after till the onlooker appears (by onlooker is meant the evening star).
*صحیح مسلم حدیث نمبر 1927 کتاب فضائل القرآن*

*اتوار 9 اگست 2026ء*
*25 صفر المظفر 1448 ہجری*

07/08/2026

*وہ اوقات جن میں نماز پڑھنے سے روکا گیا ہے۔*

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ الصَّلَاةِ بَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ وَعَنْ الصَّلَاةِ بَعْدَ الصُّبْحِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ۔

*اردو ترجمہ*
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز عصر کے بعد سورج غروب ہونے تک نماز پڑھنے سے منع فرمایا اور صبح کے بعد سورج طلوع ہونے تک نماز سے منع فرمایا۔

*English translation*
Abu Huraira is reported to have said that the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ وآلہ ‌وسلم ‌ ) prohibited to observe prayer after the 'Asr prayer till the sun is set, and after the dawn till the sun rises.
*صحیح مسلم حدیث نمبر 1920 کتاب فضائل القرآن*

*جمعہ 7 اگست 2026ء*
*23 صفر المظفر 1448 ہجری*

Address

Rawalpindi
4600

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dhoke Chaudhrian Official posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The School

Send a message to Dhoke Chaudhrian Official:

Shortcuts

Share