مجلس البحوث الإسلامية راولبندي

مجلس البحوث الإسلامية راولبندي صفحة فيس بوك للمجلس البحوث الإسلاميةللاختصاص في علوم ا

05/05/2026

توفي صباح اليوم شهيدا
أحد محدثي باكستان ومفخرة آسيا
زينة المحدثين، وشيخ العلماء، المحدث الكبير، فصيح اللسان وعذب البيان العلامة المحقق المحدث الشيخ محمد إدريس ترنكزئي - رحمه الله تعالى -،
كان ممن تشد إليه الرحال، ومرجع الطلاب والأعلام،
كان يلقي دروس الصحاح الستة منذ عشرات السنين، ويحضر دروسه زهاء ثلاثة آلاف طالب، ما بين صغير وكبير، وفقير وأمير وغير ذلك من أصناف الناس.
نفع الله بعلمه وورعه حتى استفاد منه آلاف الطلبة وعامة الناس، ورزقه القبول التام والعام منذ شبابه، وشاع صيته بين العباد والبلاد، حتى صار معروفا في مجالس الشبان ومحافل الشيوخ، وحجرات النساء والعجائز، وكل هؤلاء يستمعون لمواعظه وخطباته، ويستفيدون بها في مجال حياتهم.
كان رمز الحق وعلَم الحقانية، وصوت الإسلام والمسلمين.
بكى لموته عامة الناس، رجالهم ونسائهم، صغارهم وكبارهم.
خلف الشيخُ إدريس آلاف طالب أيتاما، وبقيت دراستهم الحديثية ناقصة برحيل شيخهم ومحدثهم!!! 😭🥹
رضي الله عن المحدث الرحيل، وأدخله فسيح جناته، ونفعَنا بعلومه ومآثره.

✍🏼 ابن البشر الأفريدي.
٥/٥/٢٠٢٦ الثلاثاء
الموافق لـ ١٨ ذي القعدة ١٤٤٧ ه

خود نمائی کی دنیا میں ایک خاموش محنت!!عنوان سے محسوس ہو رہا ہوگا کہ آخر ایسی کیا چیز ہے جو اس شور کی دنیا میں خاموش ہے، ...
18/04/2026

خود نمائی کی دنیا میں ایک خاموش محنت!!

عنوان سے محسوس ہو رہا ہوگا کہ آخر ایسی کیا چیز ہے جو اس شور کی دنیا میں خاموش ہے، جس کا چرچا نہیں کیا جا رہا ہے؟؟!!

تو چلئے میں بتاتا ہوں:

سرکار دو عالم کے وجود باسعادت کے ساتھ ایک سلسلہ شروع ہوا کہ نبی کلام فرماتے تو وہ کلام حدیث کی شکل اختیار کر لیتا، صحابہ اس کا اتنا اہتمام فرماتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہنا پڑا کہ قرآن کریم کے علاؤہ کچھ نہ لکھو۔
اس فرمان کو میں صحابہ کرام کے حدیث سے اہتمام پر استدلال پکڑتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہنے کی ضرورت ہی اس وجہ سے پڑی کہ صحابہ کرام حدیث کا بھی حد درجہ اہتمام فرمایا کرتے تھے۔

اور یہی اہتمام صحابہ کے تلامذہ میں منتقل ہوا اور پھریہ اہتمام سینہ بہ سینہ اور کتب بہ کتب منتقل ہوتے ہوئے ہم تک آپہنچا۔

ضبط صدر اور ضبط کتاب کی تقسیم اسی پر دال ہے، یہاں تک محدثین نے اصول وضع کئے کہ اگر کسی کے حافظے میں کمزوری ہو (اختلاط ہو گیا ہو) تو اس کو دیکھا جائے کہ آیا وہ کتاب سے نقل کر رہا ہے یا زبانی اگر کتاب سے نقل کر رہا تو تب اس کی روایت کو قبول کی جائیگی۔

یہ سلسلہ جمع احادیث سے ہوتے ہوئے اصول حدیث تک اور پھر استنباط سے ہوتا ہوا تنقیح تک جا پہنچا، ہر دور میں سلسلہ وار ڈھیروں کتابیں لکھیں گئیں، کسی نے جمع احادیث کا کام کیا تو کسی نے اصول حدیث پر توجہ دی، کسی نے حدیث سے طرق استنباط پر کلام کیا تو کسی نے کھرے کو کھوٹے سے الگ کرکے تنقیح کا کام کیا اور ہزارہا کتابیں لکھی گئیں کچھ ہم تک پہنچی کچھ مفقود ہوگئی اور کچھ اب تک منصہ شہود پر نہ آسکیں!!

احادیث جمع بھی ہوچکیں، اصول حدیث بھی مرتب ہوچکیں، طرقِ استنباطِ حدیث پر بھی کلام ہوچکا اور کھرے کو کھوٹے سے بھی الگ کر دیا گیا۔

اوراب دور حفاظت کا ہے ،اور اس کے دو طریقے رائج ہیں:

ایک ابلاغ کا کہ اساتذہ سے جو پڑھا آگے وہی پڑھا دیا۔
دوسرا حدیث کی ہر ہر جہت کو گہرائی سے مطالعہ کرنا کہ ہر جہت پھلنے پھولنے لگے۔
اور پاکستان میں اس حفاظت کا بھیڑا محدث العصر حضرت مولانا یوسف بنوری رحمہ اللہ نے اٹھایا اور بنوری ٹاؤن میں تخصص فی الحدیث کی بنیاد رکھی، اور اس دوسرے طریقے کو خوبی سے اپنائے رکھا۔
اور پھر اس چمن میں بہت سے پھول کھلے اور ان پھولوں میں سے ایک پھول ڈاکٹر عبد الحلیم چشتی صاحب نور اللہ مرقدہ کی صورت میں کِھلا۔
اور یہ ایسا خوشبودار پھول تھا کہ ہر ہر پتہ فضا کو معطر کر رہا تھا، اور اس کے اثرات آخر کار راوالپنڈی کے علاقے اصغر مال سکیم تک آپہنچے۔
حضرت رحمہ اللہ نے اپنے ہاتھ سے 2010ء میں یہاں مجلس البحوث الاسلامیہ کے نام سے تخصص فی الحدیث کی بنیاد رکھی اور اپنے معتمد تلامذہ کے سپرد کیا۔
ایک ایسا ادارہ جس کا کام انتہائی مضبوطی مگر خاموشی سے جاری ہے۔

اس خاموشی کی وجہ سے یہاں آنے والا سمجھتا ہیکہ دیگر مدارس کی طرح یہاں چہل پہل نہیں لہذا کوئی خاطر خواہ کام بھی نہیں ہوگا لیکن جوں ہی پڑھائی شروع ہوتی ہے تو احساس ہوتا ہے کہ یہاں ہے تو خاموشی مگر کام ہوتا انتہائی محنت سے ہے۔
اور یہ میرا ذاتی تجربہ ہے، میں جب یہاں داخلے کے لئے آیاتو ایسا ہی محسوس ہوا تھا لیکن جب پڑھائی شروع ہوئی اور اس خاموشی میں چپے محنت کو دیکھا تو دھنگ رہ گیا اور آخر کار اپنا چلتا کاروبار چھوڑ کر کاروبار کی رقم جو کہ دو لاکھ کے قریب تھی کتابیں خریدیں اور آج میرا دوسرا سال ہے اور اپنے اس فیصلے پر مطمئن ہوں۔
یہاں پر انتہائی قابل اساتذہ جو نہ صرف قابل بلکہ طالب علم کو مکمل بولنے ، تنقید کرنے ، اور دلائل کی روشنی میں اپنی رائے پیش کرنے کا موقع دیتے ہیں۔
بندے کا بار ہا اور اسی طرح میرے ہم مکتب ساتھیوں کا اساتذہ کے ساتھ مناقاشات ہوئے بلکہ مین تق یہ کہوں گا یہاں پورا طریقہ تدریس ہی مناقشاتی ہے۔
استاد ایک دائرہ متعین کرتا ہے اور طلباء اس پر مختلف کتابوں کے حوالے جمع کرکے پیش کرتے ہیں۔

صرف مثال کے لئے عرض کرتا ہوں کہ میرا استاد محترم ڈاکٹر وسیع اللہ خان صاحب کے ساتھ "لم اجدہ" پر آدھا گھنٹہ مناقشہ ہوا۔

اگر کوئی حافظ، ناقد کسی حدیث کے متعلق" لم اجدہ" کہہ دے تو اس کا کیا مطلب ہے آیا یہ اس حدیث کی وضع پر دال ہے یا نہیں؟؟
ابو غدہ رحمہ اللہ کی رائے میں یہ اس کی وضع پر دال ہے جیسا کہ انہوں نے المصنوع في معرفة الحديث الموضوع کے مقدمہ میں لکھا جبکہ علامہ البانی رحمہ اللہ کی رائے یہ ہیکہ یہ اس کی وضع پر دال نہیں ہے۔
استاد محترم کی رائے بھی ابو غدہ رحمہ اللہ کے رائے کے موافق تھی البتہ وہ کتب الأحکام اور کتب الموضوعات میں فرق کے قائل تھے۔
جبکہ بندے نے یہ عرض کیا تھا کہ یہ فرق فقط "لا یصح" اور" لم یصح" کے متعلق ہے نہ کہ "لم اجدہ" کے متعلق!!

یہ صرف مثال کے طور پر عرض کیا کہ یہاں کہ اساتذہ کس قدر شفقت اور تحقیقی سوچ کے حامل اور دوسروں کو اس سوچ کے حامل بنانے کی تگ و دو کرتے ہیں۔

اس ادارے نے تحقیقی دنیا میں بہت سے کام سر انجام دئیے ہیں جو کام یونیورسٹیاں حکومت سےبڑے بڑے گرانٹ وصول کرکے کرتی ہیں یہاں طلباء نے اساتذہ کی نگرانی میں فقط اس حدیثی ورثے کی حفاظت کے لیے سر انجام دی ہیں ،جن میں سر فہرست درج ذیل ہیں:

1: وضاعین اور ان کی موضوع احادیث کا انسائیکلوپیڈیا
2: مذہبِ حنفی صحابہ اور تابعین کے تعامل کی روشنی میں
3: تدرج
ان کے علاؤہ بھی بہت سے کام ہیں جو اب تک طبع سے آراستہ نہیں ہوئے دعا ہیکہ اللہ تعالیٰ طبع سے آراستہ فرمائے۔ آمین ثم آمین

مذکورہ کاموں میں سے پہلا کام مکمل ہو چکا ہے جس پر بہت سے متخصصین نے کام کیا ہے، اور دوسرا کام کتاب البیوع تک پہنچ چکا ہے۔
اور تیسرا کام بھی جاری ہے جس پر اس سال بندہ بھی کام کر رہا ہے اللہ تعالیٰ مجھے تکمیل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین
یاد رہے یہ سارے سلسلے خالص عربی میں ہے اردو میں مقالہ لکھنے کی اجازت نہیں ہے، مذکورہ نام اردو میں لکھنے کی وجہ مجلس کی انتطامیہ کی پالیسی ہے۔

اس ادارے کا مقصد صرف اور صرف طالب علم کو تحقیق کی تڑپ میں لگانا ہے، نہ کہ ہر کتاب میں اعلیٰ نمبر دلانا اگر کوئی طالب علم اعلی نمبر حاصل تو کر لے لیکن اس کے بعد وہ کتاب کو ہاتھ بھی نہ لگائے، تو ادارہ اس کو اپنی کامیابی نہیں سمجھتا بلکہ ادارہ اپنی کامیابی اس کو سمجھتا ہے کہ طالب علم کی کتاب سے دوستی ہو جائے۔

اور میں یہ گارنٹی دیتا ہوں کہ یہاں سے محنت اور اساتذہ کی رہنمائی میں پڑھنے والا نہ صرف احادیث بلکہ فقہی مسائل کی استخراج پر بھی قادر ہوگا۔
بندے کو پچھلے دنوں ایک طلاق کا مسئلہ موصول ہوا، بندے نے اس کو حل کیا اور مفتی صاحب کے سامنے پیش کیا تو انہوں نے نہ صرف پاس کیا بلکہ کہا کہ آپ نے تو بہت تحقیقی لکھا ہے اس کو مختصر کرو۔
یہ میں فقط اس ادارے کی محنت کے طور پر پیش کر رہا ہوں کہ اس ادارے نے مجھے کتنا کچھ دیا ہے۔

لہذا اگر کوئی طالب علم تحقیق کی دنیا میں قدم رکھنا چاہتا ہے اور خاموشی اور یکسوئی کے ساتھ کتاب سے دوستی کرنا چاہتا ہے تو "مجلس البحوث الاسلامیہ" اس کے لئے بہترین جگہ ہے۔
یہاں دو سالہ تخصص فی الحدیث بلکہ میں تو کہوں گا "تخصص في فھم طرق التحقیق في علوم الاسلامیة" ماہرین اساتذہ کی نگرانی میں کرایا جاتا ہے، لہذا اگر کوئی خواہش مند ہے تو اب بھی شرائط کے مطابق داخلہ ممکن ہے۔

حافظ ابن فقیر ٠١ ذو القعدة ١٤٤٧ھ یوم السبت

31/03/2026
معذرت کے ساتھ، ہمارے سابقہ آن لائن تجربات خوشگوار نہیں رہے، لہٰذا یہ سہولت فی الوقت میسر نہیں ہے۔ شکریہ!
02/04/2025

معذرت کے ساتھ، ہمارے سابقہ آن لائن تجربات خوشگوار نہیں رہے، لہٰذا یہ سہولت فی الوقت میسر نہیں ہے۔ شکریہ!

🌿 **مفت تعارفی کورس: "طبِ نبویﷺ اور حکمت"** 🌿  📢 "مجلس البحوث الاسلامیہ، راولپنڈی" کے زیر اہتمام ایک نادر موقع!  🔸 کیا آ...
13/02/2025

🌿 **مفت تعارفی کورس: "طبِ نبویﷺ اور حکمت"** 🌿

📢 "مجلس البحوث الاسلامیہ، راولپنڈی" کے زیر اہتمام ایک نادر موقع!

🔸 کیا آپ طبِ نبویﷺ کے اسرار و رموز جاننا چاہتے ہیں؟
🔸 کیا آپ چاہتے ہیں کہ حکمت و علاج کو سیرت کی روشنی میں سمجھیں؟
تو آیئے! ایک ایسے کورس کا حصہ بنیے جہاں ماہر اساتذہ آپ کو طبِ نبویﷺ اور حکمت کے حیرت انگیز پہلوؤں سے روشناس کرائیں گے!

📅 تاریخ: 15 تا 17 فروری 2025
📍 مقام: راولپنڈی
🎓خصوصی شرکت: علماء، مدارس، کالج و یونیورسٹی کے طلبہ

✨ کورس کی نمایاں خصوصیات:
✅ طبِ نبویﷺ کے اصولوں پر سیر حاصل گفتگو
✅ یومیہ فری طبی کیمپ
✅ کورس کے اختتام پر سرٹیفکیٹ دیا جائے گا

⚠ اہم ہدایات:
❌ آن لائن شرکت کی سہولت نہیں
❌ رہائش کا انتظام نہیں ہوگا
📌 حاضری لازمی ہے

📢 رجسٹریشن کے لیےگوگل فارم بھریں:
🔗 [رجسٹریشن فارم]
https://forms.gle/SHyhSUkRt3gWtTVy5

📲 فارم جمع کرنے کے بعد واٹس ایپ گروپ لنک حاصل کریں اور مزید تفصیلات جانیں!

🔁 اس اہم پیغام کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں تاکہ سب مستفید ہو سکیں!۔

✨ *سالانہ عظیم الشان تقریبِ دستار بندی و تقسیمِ اسناد* ✨الحمدللہ! مجلس البحوث الاسلامیہ، راولپنڈی کے زیر اہتمام متخصصینِ...
12/02/2025

✨ *سالانہ عظیم الشان تقریبِ دستار بندی و تقسیمِ اسناد* ✨

الحمدللہ! مجلس البحوث الاسلامیہ، راولپنڈی کے زیر اہتمام متخصصینِ علومِ حدیث اور حفاظِ کرام کی پُروقار دستار بندی کی روح پرور محفل سجنے جا رہی ہے۔

📅 تاریخ: 14 فروری 2025 (بروز جمعہ)
📍 مقام: مسجد ہلال، اصغر مال سکیم، چاندنی چوک، راولپنڈی
⏰ جمعہ بیان: 12:30
🎙 بیانِ جمعہ: پیرِطریقت، رہبرشریعت حضرت مولانا مفتی *محمود الحسن شاہ مسعودی* دامت برکاتھم
زیر سرپرستی: شیخ الحدیث حضرت مولانا قاضی مشتاق احمد دامت برکاتھم
🌿 آئیے! اس مبارک اجتماع میں شامل ہو کر اہلِ علم کی تکریم اور علومِ نبوت سے وابستگی کا ثبوت دیں۔ 🌿

📢 تمام اہلِ ذوق و شوق کو پُرتپاک دعوت دی جاتی ہے! ✨

Address

مجلس البحوث الاسلامیہ
Rawalpindi
46000

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when مجلس البحوث الإسلامية راولبندي posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share