25/04/2026
Earth 🌎 day activities at different campus. Earth Day is celebrated in April to acknowledge the consequences of global warming throughout the world.
The purpose of celebrating Earth Day is to get the knowledge about doing some work to make the Earth a better place to live.
In this regard, our students made different projects. Their teachers have explained that Reuse, Reduce, Recycle , Save the water, save the trees and growing plants are the essential acts for maintaining a healthy ecosystem. 🌟💚🌱🌿💚
24/04/2026
We had a meaningful and joyful Earth Day celebration in our Pre-Primary Section.
Our young learners participated with remarkable energy and enthusiasm. ✨✨
Through activities, songs, and crafts, they expressed thoughtful ways to protect our Earth. 🌎
Their tiny hands and big ideas reminded us that every small action counts.
We are proud of our students’ commitment to building a cleaner, greener future.
Together, we nurture responsible citizens of tomorrow. 🌎💚🌟🌱🎉
30/03/2026
Best of luck class 9th & 10th..
29/03/2026
Best of luck Grade 9th and 10th...
27/03/2026
World Water Day was celebrated at our school with great enthusiasm! 🌟
Students participated in various activities like poster making, debates, highlighting the importance of water conservation. 💧
The activity aimed to raise awareness about the global water crisis and promote responsible water usage. 👏 It was a fun and educational experience for all!
25/03/2026
ایک بار پھر یہ تجویز زیرِ غور ہے کہ تعلیمی اداروں کی چھٹیوں میں 12 اپریل تک اضافہ کر کے آن لائن پڑھائی کا حکم دیا جائے۔ ایک عام شہری کے لیے شاید یہ پٹرول بچانے کا ایک اچھا اقدام لگے، لیکن تعلیمی نظام سے وابستہ ہونے کے ناطے میرا تجزیہ یہ ہے کہ یہ فیصلہ کسی صورت دانشمندانہ نہیں ہوگا۔ اس کی چند اہم وجوہات ہیں
بچوں کا نیا تعلیمی سال شروع ہونے والا ہے۔ اگر یہ تعلیمی سال کا درمیانی حصہ ہوتا تو شاید معاملات کو سنبھالا جا سکتا تھا، لیکن شروعات ہی میں بچوں کو آن لائن تعلیم پر لگانا انتہائی مشکل ہے۔
ہماری آدھی سے زیادہ آبادی سستے انٹرنیٹ پیکجز استعمال کرتی ہے۔
غریب اور متوسط طبقے کے بچے سارا دن موبائل پر زوم میٹنگز (Zoom Meetings) اٹینڈ کرنے کی سکت نہیں رکھتے۔
اساتذہ صرف لکھنے کا کام دے سکیں گے، جو چھوٹے بچوں کے لیے سیکھنے کے عمل کو مزید مشکل بنا دے گا۔
70 سے 80 فیصد طلبہ اور اساتذہ گاڑیوں کے بجائے پیدل یا قریبی فاصلوں سے اسکول آتے ہیں۔ ایسے میں اسکول بند کر کے پٹرول بچانے کا جواز سمجھ سے بالاتر ہے۔
تعلیمی اداروں نے اساتذہ کو تنخواہیں دینی ہیں اور والدین نے بھاری فیسیں ادا کرنی ہیں۔ جب بچے ڈھنگ سے پڑھ ہی نہیں پائیں گے، تو یہ بوجھ والدین کیوں اٹھائیں؟ یہ براہِ راست نظامِ تعلیم کو مفلوج کرنے کے مترادف ہے۔
اگر پٹرول بچانا ہی اصل مقصد ہے تو صرف تعلیمی اداروں کو ہی کیوں نشانہ بنایا جاتا ہے؟
تمام تفریح گاہیں اور کاروباری مراکز کھلے ہیں۔
سرکاری افسران کے پروٹوکول میں 6، 6 گاڑیاں ایک ایک فرد کے لیے چل رہی ہیں۔
اگر صرف یہ غیر ضروری پروٹوکول ختم کر دیا جائے تو کئی اسکولوں کے حصے کا پٹرول بچایا جا سکتا ہے۔
خدارا! بچوں کا مستقبل داؤ پر مت لگائیں۔ آدھا سال گزر چکا ہے اور ابھی تک تعلیمی سیشن صحیح معنوں میں شروع نہیں ہو سکا۔ آگے شدید گرمی میں دوبارہ اسکول بند ہوں گے، یوں بچوں کی تعلیم مکمل طور پر برباد ہو جائے گی۔ تعلیم کو بچائیے، اسے ختم مت کیجیے۔
Rana Sikandar Hayat