13/03/2026
کیاہر مسئلےکاحل سکول بند کرناہے؟
ہمارے ہاں جب بھی کوئی غیر معمولی صورتحال پیدا ہوتی ہے تو سب سے پہلا قدم اکثر یہی اٹھایا جاتا ہے کہ تعلیمی ادارے بند کر دیے جائیں۔
سردی زیادہ ہو جائے تو سکول بند۔
گرمی بڑھ جائے تو سکول بند۔
بارش یا سیلاب آ جائے تو سکول بند۔
کبھی احتجاج ہو تو سکول بند۔
اور کبھی سیکیورٹی خدشات ہوں تو بھی سکول بند۔
یوں لگتا ہے جیسے ہر مشکل وقت میں سب سے آسان فیصلہ یہی سمجھا جاتا ہے کہ بچوں کی تعلیم کا سلسلہ روک دیا جائے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ایسے مواقع پر معاشرے کی بہت سی سرگرمیاں جاری رہتی ہیں۔
بازار کھلے ہوتے ہیں، دفاتر کام کر رہے ہوتے ہیں، تقریبات بھی ہو رہی ہوتی ہیں، مگر سکولوں کے دروازے فوراً بند کر دیے جاتے ہیں۔
سوچنے کی بات یہ ہے کہ کیا اس سے واقعی مسائل حل ہو جاتے ہیں؟
یا پھر اس کا اصل نقصان ان بچوں کو ہوتا ہے جن کی تعلیم کا تسلسل ٹوٹ جاتا ہے۔
دنیا کے کئی ممالک میں مشکلات کے باوجود کوشش کی جاتی ہے کہ تعلیم کسی نہ کسی شکل میں جاری رہے، چاہے آن لائن کلاسز ہوں، متبادل شیڈول ہو یا عارضی انتظامات۔
کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ
چند دنوں کی تعلیمی رکاوٹ وقتی لگتی ہے، مگر اس کے اثرات طویل مدت تک رہ سکتے ہیں۔
اسی لیے ضروری ہے کہ تعلیم کو ہمیشہ ترجیح دی جائے اور ایسا نظام بنایا جائے جس میں مشکل حالات کے باوجود بھی بچوں کا تعلیمی سفر جاری رہ سکے۔
کیونکہ
مسائل عارضی ہوتے ہیں، مگر تعلیم کا نقصان نسلوں تک محسوس کیا جاتا ہے۔تعلیم کسی قوم کا سب سے قیمتی سرمایہ ہوتی ہے۔
اس کا تسلسل جتنا مضبوط ہوگا، مستقبل اتنا ہی روشن ہوگا۔"