Al-bukhari Islamic Education

Al-bukhari Islamic Education Our aim is to spread Islamic education to the Muslim community where Islamic institutes are less or not at all available. We offer Quran Nazra, Tajveed etc

This page is establish to bring the Muslim community together to learn Islamic Educations suc h as Quran, Hadith, Tajweed-ul-Quran, Tafsir-ul-Quran, Quran Translation and History of Islam in languages such as Urdu, English, Panjabi, Pashto and Arabic.

05/09/2024

ولادت باسعادت اور حیاتِ طیبہ کے چالیس سال
ولادت باسعادت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں شعبِ بنی ہاشم کے اندر ۹/ ربیع الاوّل ۱ عام الفیل یوم دوشنبہ کو صبح کے وقت پیدا ہوئے۔ اس وقت نوشیرواں کی تخت نشینی کا چالیسواں سال تھا اور ۲۰/ یا ۲۲ / اپریل ۵۷۱ ء کی تاریح تھی۔ علامہ محمد سلیمان صاحب سلمان منصور پوری رحمہ اللہ کی تحقیق یہی ہے۔ [1]
ابن سعد کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی والدہ نے فرمایا: جب آپ کی ولادت ہوئی تو میرے جسم سے ایک نور نکلا جس سے ملک شام کے محل روشن ہوگئے۔ امام احمد اور دارمی وغیرہ نے بھی تقریباً اسی مضمون کی روایت نقل فرمائی ہے۔ [2]
بعض روایتوں میں بتا یا گیا ہے کہ ولادت کے وقت بعض واقعات نبوت کے پیش خیمے کے طور پر ظہور پذیر ہوئے، یعنی ایوانِ کسریٰ کے چودہ کنگورے گر گئے، مجوس کا آتش کدہ ٹھنڈا ہو گیا، بحیرہ ساوہ خشک ہوگیا اور اس کے گرجے منہدم ہوگئے۔ یہ طبری اور بیہقی وغیرہ کی روایت ہے۔ [3]مگر اس کی سند پایۂ ثبوت کو نہیں پہنچتی ہے اور ان قوموں کی تاریخ سے بھی اس کی کوئی شہادت نہیں ملتی ، حالانکہ ان واقعات کو قلمبند کیے جانے کا قوی داعیہ موجود تھا۔
ولادت کے بعد آپ کی والدہ نے عبد المطلب کے پاس پوتے کی خوشخبری بھجوائی۔ وہ شاداں وفرحاں تشریف لائے اور آپ کو خانہ کعبہ میں لے جاکر اللہ تعالیٰ سے دعا کی اور اس کا شکر ادا کیا۔ [4] اور آپ کا نام محمدتجویز کیا۔ یہ نام عرب میں معروف نہ تھا ، پھر عرب دستور کے مطابق ساتویں دن ختنہ کیا۔ [5]
آپ کو آپ کی والدہ کے ایک ہفتہ بعد سب سے پہلے ابولہب کی لونڈی ثُویبَہ نے دودھ پلایا۔ اس وقت اس کی گود میں جو بچہ تھا اس کا نام مسروح تھا۔ ثُویبَہ نے آپ سے پہلے حضرت حمزہ بن عبد المطلب کو اور آپ کے ابوسلمہ بن عبد الاسد مخزومی کو بھی دودھ پلایا تھا۔ [1]
#صلی‌الله‌علیه‌وسلم

31/08/2024

عبدالمطلب نے اپنے صاحبزادے عبداللہ کی شادی کے لئے حضرت آمنہ کا انتخاب کیا جو وہب بن عبد مناف بن زہرہ بن کلاب کی صاحبزادی تھیں اور نسب اور رتبے کے لحاظ سے قریش کی افضل ترین خاتون شمار ہوتی تھیں۔انکے والد نسب اور شرف دونوں حیثیت سے بنو زہرہ کے سردار تھے۔وہ مکہ ہی میں رخصت ہو کر حضرت عبداللہ کے پاس آئیں مگر تھوڑے عرصے بعد عبداللہ کو عبدالمطلب نے کھجور لانے کے لیے مدینہ بھیجا اور وہ وہیں انتقال کر گئے۔
بعض اہل سیرۃ کہتے ہیں کہ وہ تجارت کے لئے ملک شام تشریف لے گئے تھے۔ قریش کے ایک قافلے کے ہمراہ واپس آتے ہوئے بیمار ہو کر مدینہ اترے اور وہیں انتقال کر گئے۔ تدفین نابغہ جعدی کے مکان میں ہوئی۔اس وقت ان کی عمر 25 برس تھی۔اکثر مؤرخین کے بقول ابھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پیدا نہیں ہوئے تھے۔البتہ بعض اہل سیرۃ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش ان کی وفات سے دو ماہ قبل ہو چکی تھی۔[1]جب ان کی وفات کی خبر مکہ پہنچی تو حضرت آمنہ نے نہایت درد انگیز مرثیہ کہا جو درج ذیل ہے۔
عفا جانب البطحاٴ من ابن ھاشم وجاوربحداخارجافی الغماغم
دعتہ المنایا دعوۃ فاجا بہا وما ترکت فی الناس مثل ابن ھاشم
عشیہ راحوایحملون سریرہ تعاورہ اصحابہ فی التزاحم
فان تک غالتہ المنایاورہبھا فقد کان معطاٴ کثیر التراحم [2]
بطحا کی آغوش ہاشم کے صاحبزادے سے خالی ہو گئی،وہ بانگ و خروش کے درمیان ایک لحد میں آسودہ خاک ہو گیا۔اسے موت نے ایک پکار لگائی اور اسنے لبیک کہہ دیا۔اب موت نے لوگوں میں ابن ہاشم جیسا کوئی انسان نہیں چھوڑا۔(کتنی حسرت ناک تھی) وہ شام جب لوگ انہیں تخت پر اٹھائے لے جا رہے تھے۔اگر موت اور موت کے حوادث نے انکا وجود ختم کر دیا ہے(تو انکے کردار کے نقوش نہیں مٹائے جا سکتے)۔ وہ بڑے دانا اور رحم دل تھے۔
عبداللہ کا کل ترکہ یہ تھا: پانچ اونٹ،بکریون کا ایک ریوڑ،ایک حبشی لونڈی جنکا نام برکت تھا اور کنیت ام یمن،یہی یم یمن ہیں جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گود کھلایا تھا۔
#صلی‌الله‌علیه‌وسلم


30/08/2024

عبد الله __________رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے والد محترم_______
ان کی والدہ کا نام فاطمہ تھا اور وہ عمرو بن عائد بن عمران بن مخزوم بن تقیظہ بن مرہ کی صاحبزادی تھیں۔ عبد المطلب کی اولاد میں عبداللہ سب سے زیادہ خوبصورت ،پاک دامن اور چہیتے تھے اور ذبیح کہلاتے تھے اور ذبیح کہلانے کی وجہ یہ تھی کہ جب عبدالمطلب کے لڑکوں کی تعداد پوری دس ہو گئی اور
وہ بچاؤ کرنے کے قابل ہو گئے، تو عبدالمطلب نے انہیں اپنی نذر سے آگاہ کیا۔سب نے بات مان لی۔اس کے بعد عبدالمطلب نے قسمت کے تیروں پر ان سب کے نام لکھے۔اور ہُُبَل کے قیم کے حوالے کیا۔قیم نے تیروں کو گردش دے کر قرعہ نکالا تو عبداللہ کا نام نکلا۔عبدالمطلب نے عبداللہ کا ہاتھ پکڑا چھری لی اور ذبح کرنے کے لئے خانہ کعبہ کے پاس لے گئے، لیکن قریش اور خصوصاً عبداللہ کے ننہیال والے یعنی بنو مخزوم اور عبد اللہ کے بھائی ابو طالب آڑے آئے۔ عبدالمطلب نے کہا تب مین اپنی نذر کا کیا کروں؟انہوں نے مشورہ دیا کے وہ کسی خاتون عٌرافہ کے پاس جا کر حل دریافت کریں۔ عبدالمطلب ایک عرٌافہ کے پاس گئے۔اس نے کہا کہ عبداللہ اور دس اونٹوں کے درمیان قرعہ اندازی کریں اگر عبداللہ کے نام قرعہ نکلے تو مزید دس اونٹ بڑھا دیں۔اس طرح اونٹ بڑھاتے جائیں اور قرعہ اندازی کرتے جائیں، یہاں تک کہ اللہ راضی ہو جائے۔پھر اونٹوں کے نام قرعہ نکل آئے تو انہیں ذبح کر دیں۔عبد المطلب نے واپس آکر عبداللہ اور دس اونٹوں کے درمیان قرعہ اندازی کی مگر قرعہ عبداللہ کے نام نکلا۔ اس کے بعد دس دس اونٹ بڑھاتے گئے اور قرعہ اندازی کرتے گئے مگر قرعہ عبداللہ کے نام ہی نکلتا رہا۔جب سو اونٹ پورے ہو گئے تو قرعہ اونٹوں کے نام نکلا۔اب عبدالمطلب نے انہیں عبداللہ کے بدلے ذبح کیا اور وہیں چھوڑ دیا۔کسی انسان یا درندے کے لئے کوئی رکاوٹ نہیں تھی۔اس واقعے سے پہلے قریش اور عرب میں خون بہا(دیت) کی مقدار دس اونٹ تھی مگر اس واقعے کے بعد 100 سو اونٹ کر دی گئی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ارشاد مروی ہے کہ میں دو ذبیح کی اولاد ہوں، ایک حضرت اسماعیل علیہ السلام اور دوسرے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے والدعبد الله ۔
#صلی‌الله‌علیه‌وسلم

30/08/2024

ابن عباس رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :’’اللہ تعالیٰ نے خلق کی تخلیق فرمائی تو مجھے سب سے اچھے گروہ میں بنایا ، پھر ان کے بھی دوگروہوں میں سے زیادہ اچھے گروہ کے اندر رکھا ، پھر قبائل کو چنا تو مجھے سب سے اچھے قبیلے کے اندر بنایا ، پھر گھرانوں کو چنا مجھے سب سے اچھے گھرانے میں بنا یا، لہٰذا میں اپنی ذات کے اعتبار سے بھی سب سے اچھا ہوں ، اور اپنے گھرانے کے اعتبار سے بھی سب سے بہتر ہوں۔

29/08/2024

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ابراہیم علیہ السلام کی اوّلاد میں سے اسماعیل علیہ السلام کا انتخاب فرمایا، پھر اسماعیل علیہ السلام کی اوّلاد میں سے کنانہ کو منتخب کیا اور کنانہ کی نسل سے قریش کو چنا، پھر قریش میں سے بنو ہاشم کاانتخاب کیا اور بنوہاشم میں سے میرا انتخاب کیا۔ #صلی‌الله‌علیه‌وسلم ̇slam

اپنی بیٹیوں سے پیار کرنا میرے آقا حضرت محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی سنت ہے  حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا  سے  مروی...
26/07/2024

اپنی بیٹیوں سے پیار کرنا میرے آقا حضرت محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی سنت ہے
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی هے ،وہ فرماتی ہیں کہ :

”میں نے طور طریقہ، عادات و روش اور نیک خصلتی ، اور ایک روایت میں ہے کہ بات چیت اور کلام میں رسول کریم ﷺ کی مشابہت حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے زیادہ کسی شخص میں نہیں دیکھی،حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا جب آ پ صلی اللہ علیہ وسلم خدمت میں حاضر ہوتیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی طرف (متوجہ ہوکر ) کھڑے ہو جاتے، پھر ان کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے لیتے ، ان کو بوسہ دیتے (یعنی ان کی دونوں آنکھوں کے درمیان پیشانی کو چومتے) اور پھر ان کو اپنے بیٹھنے کی جگہ پر بٹھاتے، اسی طرح حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم جب فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے ہاں تشریف لے جاتے تو وہ آپ کو دیکھ کر کھڑی ہو جاتیں، آپ کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے لیتیں، پھر آپ کو بوسہ دیتیں (یعنی آپ کے دست مبارک کو چومتیں)، اور اپنی جگہ پر بٹھاتیں۔“

16/07/2024

اللهم صل وسلم وبارك على سيدنا ومولانا محمد عبدك ورسولك وعلى اله عدد ما تحب وترضى له.

14/07/2024

فضائل و احوال


نواسۂ رسول، شہیدِکربلا حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی شخصیت محتاجِ تعارف نہیں ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ خاتونِ جنت حضرت فاطمۃ الزہراء رضى الله عنها اور شیرِ خدا خلیفہ ٔ چہارم سیدنا حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہٗ کے لختِ جگر اور نواسۂ پیغمبر علیہ السلام ہیں۔
مؤرخِ اسلام مولانا شاہ معین الدین ندوی رحمہ اللہ تحریر فرماتے ہیں:
’’اس لحاظ سے آپ کی ذاتِ گرامی قریش کا خلاصہ اور بنی ہاشم کا عطر تھی۔‘‘ (سیرالصحابہؓ: ۱/۱۳۱)
سیدنا حضرت فاطمہ رضى الله عنها کو حق تعالیٰ نے تین بیٹوں: حضرت حسن، حضرت حسین اور حضرت محسن رضی اللہ عنہم ، اور دو بیٹیوں سیدہ زینب اور سیدہ ام کلثوم سے نوازا۔ حضرت حسین رضی اللہ عنہ آپ کی اولاد ِ امجاد میں دوسر ے نمبر پر ہیں۔

Address

Al-Bukhari Islamic Education
Rawalpindi West Ridge
46000

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Al-bukhari Islamic Education posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The School

Send a message to Al-bukhari Islamic Education:

Shortcuts

Share