06/01/2022
اسلام وعلیکم و رحمۃ اللّٰہ و برکاتہ
I'm Hafiz e Quran and Allam e deen I can teach quran with complete tafseer and tajweed
06/01/2022
اسلام وعلیکم و رحمۃ اللّٰہ و برکاتہ
05/01/2022
اسلام وعلیکم و رحمۃ اللہ
اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ اللہ ہمیں بھی نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے اسوہ حسنہ پر عمل کرنے کی توفیق عطاء فرمائے
آمین یا رب العالمین
*جمعہ کے دن سورة الکہف پڑهنے کی فضیلت*
حضرت ابوسعید خدری رضي اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ : جس نے جمعہ کی رات سورۃ الکہف پڑھی اس کے اور بیت اللہ کے درمیان نورکی روشنی ہو جاتی ہے. حضرت ابوسعید خدری رضي اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے فرمایا کہ : جس شخص نے جمعہ کے دن سورۃ الکہف پڑھی اس کے لیے دوجمعوں کے درمیان نور روشن ہوجاتا ہے
(رواه البيهقي في المسند الكبرى وشعب الايمان ، ورواه فی الترغيب ، ومشكاة المصابيح)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ : جس نے جمعہ کے دن سورۃ الکہف پڑھی تو اس کے قدموں کے نیچے سے لے کر آسمان تک نور پیدا ہوتا ہے جو قیامت کے دن اس کے لیے روشن ہوگا اور ان دونوں جمعوں کے درمیان والے گناہ معاف کردیے جاتے ہیں
(الترغيب والترهيب)
📓 *صرف ایک کلمہ ، اور جنت کا حصول۔۔!!!*
آج ایک ایسی دعا سیکھیں گے جس کو صرف ایک مرتبہ پڑھنے پر نبی الرحمتہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان اقدس سے جنت کا وعدہ کیا گیا ہے۔۔۔۔۔
معافی اور عاجزی اللہ ربّ العزت کو بہت محبوب ہے۔۔
رسول اللہ ﷺ استغفار کا خوب اہتمام کرتے تھے،ایک ایک دن میں سو سو بار استغفار کیا کرتے تھے،اور صحابہ کرام کو بھی کثرت استغفار کی تلقین فرماتے تھے،کیونکہ توبہ واستغفار کے فوائد بے شمار ہیں،دین ودنیا وآخرت کی سعادت کیلئے استغفار بیحد ضروری ہے،کیونکہ ساری خرابیاں ہمارے گناہوں کے سبب ہی نازل ہوتی ہیں،اور استغفار سے ساری بلائیں دور ہوجاتی ہیں،درجات بلند ہوجاتے ہیں،رحمتیں اور برکتیں نازل ہونے لگتی ہیں،بلکہ جنت کے حصول اور جہنم سے نجات کو قرآن ’’فلاح‘‘کا نام دیتا ہے،اللہ نے تمام اہل ایمان کو توبہ کرنے کا حکم دیا ہے اور پھرکامیابی کا وعدہ فرمایا ہے،
اسی لئے طاق رات کی نسبت سے کچھ کلمات پیش کئے جارہے ہیں جو مسنون ہیں،جامع ہیں اور بہت ہی زیادہ اجر و ثواب اور فوائد کے حصول کے لیے معاون ہیں۔۔
1️⃣ اللھم انک عفو کریم تحب العفو فاعف عنی
یہ دعا ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے استفسار پر رسولِ کریم صلی اللہ علیہ نے بطور خاص لیلتہ القدر میں پڑھنے کے لئے بتایا۔۔
2️⃣ پیارے رسول ﷺ نے استغفار کی ایک بڑی ہی اعلیٰ دعا سکھائی ہے،جسے *سیدالاستغفار* کا مبارک اور عظیم نام عطا فرمایا ہے،یہ دعا استغفار کے تمام دعاؤں سے افضل ومقبول ہے اور انتہائی جامع ودلنشین اسلوب میں وارد ہوئی ہے،اس دعاء کو *یقین کے ساتھ جوصبح پڑھے اورشام سے پہلے مرجائے اسے دخول جنت کی بشارت سنائی ہے اور جو شام کو پڑھے اور صبح سے پہلے مرجائے وہ جنت میں داخل ہوگا*۔
کیاآپ نے غور کیا؟آپ ﷺ نے دخول جنت کی بشارت کو دو باتوں کے ساتھ معلق فرمایا ہے،ایک تو یہ کہ آپ کو صبح وشام اس کا اہتمام کرنا ہوگا،دوسری بات آپ کو *یقین کے ساتھ پڑھنا ہے،*
یقین کیلئے آپ کو اس دعا کا معنی اور مفہوم سمجھنا ہوگا،دعا کے مشمولات کی روح کو سمجھنا ہوگا،دعا میں موجود تعلیمات میں شک کا شائبہ بھی نہیں ہونا چاہیے۔
آئیے ذرا تفصیل سے اس دعا کو سمجھتے ہیں۔ایک بات ذہن نشین کرلیں وہ دعا سب سے اچھی ہے جس میں اللہ کی توحید،عظمت،کبریائی،پاکیزگی،تسبیح،تحمید بیان ہو،اور اپنی عاجزی،بے بسی،لاچاری،گناہگاری،عبودیت کا اقرار ہو۔
’’سیدالاستغفار‘‘ یہ ہے:
’’ *اَللّٰهُمَّ أَنْتَ رَبِّي لَا إِلٰهَ إِلَّا أَنْتَ، خَلَقْتَنِي وَأَنَا عَبْدُكَ، وَأَنَا عَلٰي عَهْدِكَ وَوَعْدِكَ مَا اسْتَطَعْتُ، أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا صَنَعْتُ، أَبُوءُ لَكَ بِنِعْمَتِكَ عَلَيَّ، وَأَبُوءُ لَكَ بِذَنْبِي؛ فَاغْفِرْ لِي؛ فَإِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ* ‘‘
[صحیح البخاری،کتاب الدعوات :۶۳۰۶،۶۳۲۳]
*فہم دعا*
اے اللہ تو ہی میرا رب ہے ،تیرے علاؤہ کوئی عبادت کے لائق نہیں ،تو نے مجھے پیدا کیا،میں تیرا بندہ ہوں اور تیرے اپنی استطاعت کے مطابق وعدے پر قائم ہوں،میں نے جو کچھ کیا سکے شر سے تیری پناہ چاہتا ہوں ،اپنے آپ پر تیری نعمت کا اظہار کرتا ہوں اور اپنے گناہ کا اعتراف کرتا ہوں،
پس مجھے بخش دے کیونکہ تیرے سوا کوئی گناہوں کو بخش نہیں سکتا۔۔۔
کیا قیمتی کلمات ہیں ،جامع الفاط،عمدہ دعائیں ہیں۔۔
اللہ کی عظمت کا اقرار ہے۔۔
اس کی بے بہا ،لاتعداد ،بیش قیمتی نعمتوں کا اعتراف ہے۔۔
اللہ ربّ العالمین کی ذات و صفات عالیہ پر کامل ایمان اور اعتماد کا اظہار ہے۔۔
اپنی کم مائیگی اور بے بسی کا کھلے الفاظ میں اقرار ہے۔۔
اسی خالق حقیقی اور مالک ارض و سماء سے سوال اور استغفار ہے۔۔۔
اسی لئے یہ دعا سید الاستغفار ہے۔۔🌹
اللہ غفور الرحیم کے سامنے جھک جائیے،اپنے لئے گناہوں کی معافی کا پروانہ حاصل کئیجیے۔۔!
#
24/04/2021
سوچتا ہوں وہ کیسا لمحہ ہو گا ؟؟؟؟؟
جب میرا رب اہلِ جنت کو اپنے دیدار کا شرف بخشے گا، جب میرا رب اہلِ جنت کو کہے گا کہ میرے بندوں میں تم سے سے راضی ہوں..
جب میرا رب جنت کی لا محدود نعمتوں کے دروازے اہل جنت پر کھول دے گا وہ خراماں خراماں سورج سے زیادہ چمکتے چہرے لئیے جو جنت میں داخل ہو گے تو ان کی آنکھیں اُس حسین دنیا کی خوبصورتی دیکھ کر ابلنے کو ہوں گی کیونکہ جنت کا اور اسکے خالق کا دیدار نا کسی آنکھ میں سما سکا اور نا کسی آنکھ نے اس سے پہلے ایسا نظارہ دیکھا ہو گا..
جو آنکھیں منتظر ہوں اپنے رب کے دیدار کی وہی آنکھیں اس دنیا کی سب سے حسین آنکھیں ہیں اور ایسی ہی آنکھوں کے حُسن کے شایانِ شان میرا رب انکو جنت کے نظارے عطا کرے گا ?
*🌹
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
*((ان في الجنة بابا يقال له الريان، يدخل منه الصائمون يوم القيامة، لا یدخل احد منہ غیرھم))*
" بے شک جنت میں ایک دروازہ ہے جسے ریان کیا جاتا ہے۔روز قیامت اس میں سے روزے دار داخل ہوں گے، ان کے علاوہ کوئی بھی اس دروازے سے داخل نہیں ہو گا"
*🎤۔۔۔۔۔۔۔ترغیب*
روزے رکھنے کہ جس طرح بے شمار دنیاوی فوائد ہیں اسی بت شمار اخروی فوائد بھی ہیں ان فوائد میں شے ایک فائدہ یہ ہے کہ روزے دار جنت میں پروٹوکول کے ساتھ داخل ہوں گے۔ لہذا ہمیں چاہیے کہ تمام حدود قیود کی پابندی کرتے ہوئے رمضان اور دیگر نفلی روزوں کا اہتمام کریں۔
*كتاب الصیام*
🌹روزے کے فضائل
(حصہ دوم)
*4:جنت کا ایک دروازہ روزے دار کے لیے ہے*
جنت کے آٹھ دروازیں ہیں جن میں سے ایک روزہ داروں کے لیے ہے،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
*إِنَّ فِي الْجَنَّةِ بَابًا ، يُقَالُ لَهُ : الرَّيَّانُ ، يَدْخُلُ مِنْهُ الصَّائِمُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، لَا يَدْخُلُ مِنْهُ أَحَدٌ غَيْرُهُمْ ، يُقَالُ : أَيْنَ الصَّائِمُونَ ؟ فَيَقُومُونَ ، لَا يَدْخُلُ مِنْهُ أَحَدٌ غَيْرُهُمْ ، فَإِذَا دَخَلُوا أُغْلِقَ ، فَلَمْ يَدْخُلْ مِنْهُ أَحَدٌ.*
"جنت کا ایک دروازہ ہے جسے ریان کہتے ہیں قیامت کے دن اس دروازہ سے صرف روزہ دار ہی جنت میں داخل ہوں گے، ان کے سوا اور کوئی اس میں سے نہیں داخل ہو گا، پکارا جائے گا کہ روزہ دار کہاں ہے؟ وہ کھڑے ہو جائیں گے ان کے سوا اس سے اور کوئی نہیں اندر جانے پائے گا اور جب یہ لوگ اندر چلے جائیں گے تو یہ دروازہ بند کر دیا جائے گا پھر اس سے کوئی اندر نہ جا سکے گا۔"
📚(صحیح البخاری:1896،صحیح مسلم:1152)
*فائدہ:*
سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ امت کے ان خوش قسمت افراد میں سے ہیں جنہیں جنت کے آٹھوں دروازوں سے بلایا جائے گا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
*مَنْ أَنْفَقَ زَوْجَيْنِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ نُودِيَ مِنْ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ : يَا عَبْدَ اللَّهِ ، هَذَا خَيْرٌ ، فَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الصَّلَاةِ دُعِيَ مِنْ بَابِ الصَّلَاةِ ، وَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الْجِهَادِ دُعِيَ مِنْ بَابِ الْجِهَادِ ، وَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الصِّيَامِ دُعِيَ مِنْ بَابِ الرَّيَّانِ ، وَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الصَّدَقَةِ دُعِيَ مِنْ بَابِ الصَّدَقَةِ ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا عَلَى مَنْ دُعِيَ مِنْ تِلْكَ الْأَبْوَابِ مِنْ ضَرُورَةٍ ، فَهَلْ يُدْعَى أَحَدٌ مِنْ تِلْكَ الْأَبْوَابِ كُلِّهَا ، قَالَ : نَعَمْ ، وَأَرْجُو أَنْ تَكُونَ مِنْهُمْ.*
"جو اللہ کے راستے میں دو چیزیں خرچ کرے گا اسے فرشتے جنت کے دروازوں سے بلائیں گے کہ اے اللہ کے بندے! یہ دروازہ اچھا ہے پھر جو شخص نمازی ہو گا اسے نماز کے دروازہ سے بلایا جائے گا جو مجاہد ہو گا اسے جہاد کے دروازے سے بلایا جائے جو روزہ دار ہو گا اسے «باب الريان» سے بلایا جائے گا اور جو زکوٰۃ ادا کرنے والا ہو گا اسے زکوٰۃ کے دروازہ سے بلایا جائے گا۔ اس پر ابوبکر رضی اللہ عنہ نے پوچھا میرے ماں باپ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر فدا ہوں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! جو لوگ ان دروازوں ( میں سے کسی ایک دروازہ ) سے بلائے جائیں گے مجھے ان سے بحث نہیں، آپ یہ فرمائیں کہ کیا کوئی ایسا بھی ہو گا جسے ان سب دروازوں سے بلایا جائے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں اور مجھے امید ہے کہ آپ بھی انہیں میں سے ہوں گے۔"
📚(صحيح البخاری:1897،صحيح مسلم:1027)
*5:روزہ ڈھال ہے*
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
*وَالصِّيَامُ جُنَّةٌ، فَإِذَا كَانَ يَوْمُ صَوْمِ أَحَدِكُمْ، فَلَا يَرْفُثْ يَوْمَئِذٍ وَلَا يَسْخَبْ، فَإِنْ سَابَّهُ أَحَدٌ أَوْ قَاتَلَهُ، فَلْيَقُلْ: إِنِّي امْرُؤٌ صَائِمٌ*
"اور روزہ ڈھال ہے لہٰذا جب تم میں سے کسی کے روزے کا دن ہو تو وہ اس دن فحش گفتگو نہ کرے اور نہ شور وغل کرے ۔ اگر کو ئی اسے برا بھلا کہے یا اس سے جھگڑا کرے تو وہ کہہ دے : میں روزہ دار ہوں۔"
📚(صحیح البخاری:1894،صحیح مسلم:1151)
فتح الباری میں ہے:
*وقال ابن العربي: إنما كان الصوم جنة من النار؛ لأنه إمساك عن الشهوات، والنار محفوفة بالشهوات. فالحاصل أنه إذا كف نفسه عن الشهوات في الدنيا كان ذلك ساترا له من النار في الآخرة.*
"ابن العربی رحمہ اللہ(اس سے مراد قاضی محمد بن عبد اللہ ابوبکر بن العربی صاحب عارضة الأحوذي ہیں نہ کہ صوفی ابن العربی) کہتے ہیں روزہ جہنم سے ڈھال ہے کیونکہ یہ شہوات سے روک دیتا ہے اور جہنم شہوات سے گھری ہوئی ہے۔ حاصل کلام یہ ہے کہ: جب یہ انسان کے نفس کو دنیا میں شہوات سے روک دے گا تو قیامت والے دن اس کے لیے جہنم سے بھی رکاوٹ ثابت ہو گا۔"
📚(فتح الباری:4/104)
*6:روزہ دار کے لیے دو خوشیاں ہیں*
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
*لِلصَّائِمِ فَرْحَتَانِ يَفْرَحُهُمَا ؛ إِذَا أَفْطَرَ فَرِحَ، وَإِذَا لَقِيَ رَبَّهُ فَرِحَ بِصَوْمِهِ.*
"روزہ دار کو دو خوشیاں حاصل ہوں گی ( ایک تو جب ) وہ افطار کرتا ہے تو خوش ہوتا ہے اور ( دوسرے ) جب وہ اپنے رب سے ملاقات کرے گا تو اپنے روزے کا ثواب پا کر خوش ہو گا۔"
📚(صحیح البخاری:1904، صحیح مسلم:1151)
*فائدہ:*
اللہ رب العزت کا دیدار جنت کی تمام نعمتوں میں سے بڑی نعمت ہے،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
*إِذَا دَخَلَ أَهْلُ الْجَنَّةِ الْجَنَّةَ - قَالَ - يَقُولُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى : تُرِيدُونَ شَيْئًا أَزِيدُكُمْ ؟ فَيَقُولُونَ : أَلَمْ تُبَيِّضْ وُجُوهَنَا ؟ أَلَمْ تُدْخِلْنَا الْجَنَّةَ، وَتُنَجِّنَا مِنَ النَّارِ ؟ ". قَالَ : " فَيَكْشِفُ الْحِجَابَ، فَمَا أُعْطُوا شَيْئًا أَحَبَّ إِلَيْهِمْ مِنَ النَّظَرِ إِلَى رَبِّهِمْ عَزَّ وَجَلَّ.*
"جب جنت والے جنت میں داخل ہو جائیں گے ، ( اس وقت ) اللہ تبارک وتعالیٰ فرمائے گا تمہیں کوئی چیز چاہیے جو تمہیں مزید عطا کروں ؟ وہ جواب دیں گے : کیا تو نے ہمارے چہرے روشن نہیں کیے ! کیا تو نے ہمیں جنت میں داخل نہیں کیا اور دوزخ سے نجات نہیں دی؟ ‘ ‘ آپ ﷺ
نے فرمایا : ’’ چنانچہ اس پر اللہ تعالیٰ پردہ اٹھا دے گا تو انہیں کوئی چیز ایسی عطا نہیں ہو گی جو انہیں اپنے رب عز وجل کے دیدار سے زیادہ محبوب ہو۔"
📚(صحیح مسلم :181)
قیامت والے دن لوگ اپنے رب کو ایسے دیکھیں گے جیسے چودھویں کے چاند کو دیکھتے ہیں،سیدنا جریر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
*كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَظَرَ إِلَى الْقَمَرِ لَيْلَةً - يَعْنِي الْبَدْرَ- فَقَالَ : " إِنَّكُمْ سَتَرَوْنَ رَبَّكُمْ كَمَا تَرَوْنَ هَذَا الْقَمَرَ، لَا تُضَامُّونَ فِي رُؤْيَتِهِ.*
"ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں موجود تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاند پر ایک نظر ڈالی پھر فرمایا کہ تم اپنے رب کو ( آخرت میں ) اسی طرح دیکھو گے جیسے اس چاند کو اب دیکھ رہے ہو۔ اس کے دیکھنے میں تم کو کوئی زحمت بھی نہیں ہو گی۔"
سنن ابی داود کی شرح میں عمر فاروق سعیدی حفطہ اللہ بیان کرتے ہیں:
"رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا چاند کی طرف دیکھ کر یہ مسئلہ بیان کرنا نظر کی نظر سے تشبیہ دینے کے لیے تھا ورنہ اللہ عزوجل کے مثل کوئی شے نہیں۔"
📚(ج:4ص:590)
جاری ہے....
*كتاب الصيام*
🌹روزے کا مقصد
اللہ تعالی کا ارشاد ہے:
*یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا کُتِبَ عَلَیۡکُمُ الصِّیَامُ کَمَا کُتِبَ عَلَی الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِکُمۡ لَعَلَّکُمۡ تَتَّقُوۡنَ.*
"اے ایمان والو ! تم پر روزہ رکھنا فرض کر دیا گیا ہے، جیسے ان لوگوں پر فرض کیا گیا جو تم سے پہلے تھے تاکہ تم پرہیز گار بن جاو۔"
📚(البقرة:183)
دو چیزیں مشکل سے مشکل کام کو بھی آسان بنا دیتی ہیں
1:انسان کو یہ معلوم ہو کہ اس سے پہلے بھی کئی لوگ یہ کام کر چکے ہیں ۔
2:اس اپنے کام کے با مقصد ہونے کا علم ہو ۔
اللہ تعالی نے روزے کی فرضیت بیان کرتے ہوئے ان دونوں چیزوں کا ذکر کر دیا؛ کہ روزہ صرف تم پر ہی فرض نہیں کیا گیا بلکہ تم سے پہلی امتوں پر بھی یہ فرض تھا اور یہ عبث کام نہیں بلکہ اس کا ایک عظیم الشان مقصد ہے اور وہ یہ ہے کہ تم تقوی اختیار کرو۔
قربانی کا مقصود بھی اللہ تعالی نے تقوی کو قرار دیا ہے،ارشاد باری تعالی ہے:
*لَنۡ یَّنَالَ اللّٰہَ لُحُوۡمُہَا وَ لَا دِمَآؤُہَا وَ لٰکِنۡ یَّنَالُہُ التَّقۡوٰی مِنۡکُمۡ.*
"اللہ کو ہرگز نہ ان کے گوشت پہنچے گے اور نہ ان کے خون اور لیکن اسے تمہاری طرف سے تقوی پہنچے گا۔"
📚(الحج:37)
حتی کہ اللہ تعالی نے ہر قسم کی عبادت کی منشا و مراد تقوی کو قرار دیا ہے،ارشاد باری تعالی ہے:
*یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ اعۡبُدُوۡا رَبَّکُمُ الَّذِیۡ خَلَقَکُمۡ وَ الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِکُمۡ لَعَلَّکُمۡ تَتَّقُوۡنَ.*
ا"ے لوگو! اپنے رب کی عبادت کرو جس نے تمہیں پیدا کیا اور ان لوگوں کو بھی جو تم سے پہلے تھے تاکہ تم پرہیز گار بن جاو۔"
اور دل تقوی و خلوص کا مرکز ہے اسی لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے بھی فرمایا:
*اِنَّ اللّٰہَ لَا یَنْظُرُالِٰی صُوَرِکُمْ وَاَمْوَالِکُمْ، وَلٰکِنْ یَّنْظُرُ اِلٰی قُلُوْبِکُمْ وَاَعْمَالِکُمْ*
"بیشک اللہ تمہاری شکلوں اور تمہارے مالوں کو نہیں دیکھتا بلکہ وہ تمہارے دلوں اور تمہارے عملوں کو دیکھتا ہے۔"
📚(مسلم:2564)
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ تقوی کیا ہے ؟
تقوی کا لفظ لغت میں بچنے اور ڈرنے کے معنی میں استعمال ہوتا ہے، امام راغب اس کی شرعی تعریف یوں بیان کرتے ہیں
*التقوی فی تعارف الشرعی حفظ النفس عما یؤثم*
"عرف شرعی میں اپنے نفس کو گناہ میں واقع کرنے والے امور سے بچانے کا نام تقوی ہے۔"
📚(المفردات في غريب القران:552)
اس حوالے سے امام قرطبی رحمہ اللہ نے ابن المعتز کے کچھ اشعار ذکر کیے ہیں کہ:
*خَلِّ الذُّنُوبَ صَغِيرَهَا ... وَكَبِيرَهَا ذَاكَ التُّقَى*
*وَاصْنَعْ كَمَاشٍ فَوْقَ أَرْ ... ضِ الشَّوْكِ يَحْذَرُ مَا يَرَى*
*لَا تُحَقِرَنَّ صَغِيرَةً ... إِنَّ الجبال من الحصى*
"چھوٹے بڑے گناہوں کو چھوڑ دو، یہ تقوی ہے.....کانٹوں بھری زمین پر چلنے والے کی طرح کرو، وہ جو دیکھتا ہے اس سے بچتا ہے....چھوٹے گناہوں کو معمولی مت سمجھو، یقینا پہاڑ کنکریوں سے بنتے ہیں۔"
📚(تفسیر القرطبی:162)
اور تقوی کا آخری مرحلہ یہ ہے کہ بندہ مشتبہ چیزوں سے بھی اپنا دامن محفوظ رکھیں،جیسا کہ نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
*الْحَلَالُ بَيِّنٌ وَالْحَرَامُ بَيِّنٌ ، وَبَيْنَهُمَا مُشَبَّهَاتٌ لَا يَعْلَمُهَا كَثِيرٌ مِنَ النَّاسِ ، فَمَنِ اتَّقَى الْمُشَبَّهَاتِ اسْتَبْرَأَ لِدِينِهِ وَعِرْضِهِ ، وَمَنْ وَقَعَ فِي الشُّبُهَاتِ كَرَاعٍ يَرْعَى حَوْلَ الْحِمَى يُوشِكُ أَنْ يُوَاقِعَهُ ، أَلَا وَإِنَّ لِكُلِّ مَلِكٍ حِمًى ، أَلَا إِنَّ حِمَى اللَّهِ فِي أَرْضِهِ مَحَارِمُهُ ، أَلَا وَإِنَّ فِي الْجَسَدِ مُضْغَةً إِذَا صَلَحَتْ صَلَحَ الْجَسَدُ كُلُّهُ وَإِذَا فَسَدَتْ فَسَدَ الْجَسَدُ كُلُّهُ ، أَلَا وَهِيَ الْقَلْبُ.*
"حلال بھی واضح ہے اور حرام بھیاور ان دونوں کے درمیان بعض چیزیں شبہ کی ہیں جن کو بہت لوگ نہیں جانتے ( کہ حلال ہیں یا حرام ) پھر جو کوئی شبہ کی چیزوں سے بھی بچ گیا اس نے اپنے دین اور عزت کو بچا لیا اور جو کوئی ان شبہ کی چیزوں میں پڑ گیا اس کی مثال اس چرواہے کی ہے جو ( شاہی محفوظ ) چراگاہ کے آس پاس اپنے جانوروں کو چرائے۔ وہ قریب ہے کہ کبھی اس چراگاہ کے اندر گھس جائے ( اور شاہی مجرم قرار پائے ) ۔ سن لو ہر بادشاہ کی ایک چراگاہ ہوتی ہے۔ اللہ کی چراگاہ اس کی زمین پر حرام چیزیں ہیں۔ ( پس ان سے بچو اور ) سن لو بدن میں ایک گوشت کا ٹکڑا ہے جب وہ درست ہو گا سارا بدن درست ہو گا اور جہاں بگڑا سارا بدن بگڑ گیا۔ سن لو وہ ٹکڑا آدمی کا دل ہے۔"
📚(صحیح البخاری:52)
12/04/2021
اسلام کی عظمت کے مینارے ہیں صحابہ
اسلام ہے دریا،____ تو کنارے ہیں صحابہ
آقا ہیں قمر،_____ تو ستارے ہیں صحابہ
واللہ__ ہمیں جان سے پیارے ہیں صحابہ
❣️رضی اللہ عنھم ورضو عنہ❣️
شيخ الإسلام ابن تيمية رحمه الله (المتوفی : ٧٢٨ھ) فرماتے ہیں :
قبر رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم أفضل قبر على وجه الأرض وقد نهى عن اتخاذه عيداً فقبر غيره أولى بالنهي كائناً من كان .
"رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبرِ مبارک زمین پر افضل ترین قبر ہے، اور اسے میلہ گاہ بنانے سے منع کر دیا گیا ہے تو آپ کے علاوہ کسی دوسرے کی قبر سے ممانعت تو بالأولی ہے چاہے وہ کسی کی بھی ہو."
📚 (اقتضاء الصراط المستقيم : ١٧٢/٢ طبع دار عالم الكتب، بيروت)
07/01/2021
اللھم اجعل القرآن الكريم ربيع قلوبنا ونور صدورنا
04/01/2021
| Monday | 09:00 - 17:00 |
| Tuesday | 09:00 - 17:00 |
| Wednesday | 09:00 - 17:00 |
| Thursday | 09:00 - 17:00 |
| Friday | 09:00 - 17:00 |