29/12/2019
ایک حدیث قدسی میں اللہ پاک ارشاد فرماتے ہیں کہ "تم مجھے جیسا گمان کرو گے ویسا ہی پاؤ گے".
ہالی وڈ نے ایک ڈاکومنٹری فلم بنائ " The Secret" کے نام سے جو کہ Law of Attraction پر مبنی ہے اور اس کی بہت خوب صورت تشریح ہے. انٹرویوز, ویڈیوز, واقعات, تھیوری, حالات اور تدبیر پر مبنی یہ فلم دیکھنے لائق ہے. اس فلم کو دیکھ کر آپ با آسانی اپنی زندگی بدلنے کا فن جان سکتے ہیں.
لاء آف اٹریکشن کیا ہے؟
ہم اسکی مدد سے اپنے خوابوں کو حقیقت کا روپ کیسے دے سکتے؟
لاء آف اٹریکشن یہ ہے کہ ایک جیسی چیزیں ایک دوسرے کو اٹریکٹ کرتی ہیں۔ جیسے مقناطیس صرف اپنی ہی ساخت کی دھات کو اٹریکٹ کرتا ہے اسی طرح قائنات کی ہر مادی اور غیر مادی چیز اپنی ہی جیسی چیزوں کو اٹریکٹ کرتی ہے. اس نظریے کے تحت ہم اپنی سوچ کے صحیح استعمال سے اپنی من پسند چیزیں اٹریکٹ کر سکتے ہیں جیسے خوشی, سکون, کامیابی اور خوشحالی وغیرہ.
جب ہم کچھ سوچتے ہیں تو ہماری سوچ احساسات کی شعائیں پیدا کرتی ہے جو لہروں کی صورت میں فضاء میں تحلیل ہوتے ہیں اور قائنات کے اطراف سے ٹکرا کر اس جیسے واقعات،حالات،اور مواقع اٹریکٹ اور پیدا کرتے ہیں.
احساسات یا سوچ دو طرح کے ہوتے ہیں۔ مثبت اورمنفی
اگر آپ کچھ بھی سوچ رہے ہیں اور اس سوچنے کی وجہ سے آپ کے احساسات منفی ہورہے ہیں تو وہ دوسروں تک پہنچ رہے, قائنات کے کونے کونے میں پہنچ رہے ہیں, یہ سوچ کی لہریں قائنات میں گردش کر رہی ہیں اور اسی طرح کے حالات اور واقعات پیدا کر رہی ہیں۔ ہم یہ کام لاشعوری طور پر کر رہے ہوتے ہیں۔ جب ہم یہ سمجھ جاتے ہیں کہ ہم نے اپنے احساسات یا سوچ کو کیسے کنٹرول میں رکھنا ہے تو پھر لاء آف اٹریکشن کو مینج کرنا آسان ہو جاتا ہے۔
اگر ایک دن میں ہمارے زہن میں ساٹھ ہزار خیال آتے ہوں۔اتنے زیادہ خیالات کو مینج نہیں کیا جا سکتا یہ بات سچ ہے۔دنیا کا کوئی بندہ دعویٰ نہیں کر سکتا کہ اتنے زیادہ خیالات کو کنٹرول کیا جاسکتا ہے۔ لیکن یہ ممکن ہے کہ ہم اپنے احساسات کو مینج کر لیں۔اب ہوتا کیا ہے اگر آپ اچھا محسوس کر رہے ہیں تو خیالات بھی اچھے ہی آنا شروع ہو جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر اگر آپ کی صبح کا اغاز اچھا نہیں ہوتاتو سارا دن بھی خراب گزرتا ہے۔
آسان الفاظ میں لاء آف اٹریکشن یہ کہتا ہے کہ اگر آپ زندگی میں خوشی چاہتے ہیں تو خوشی کے بارے میں زیادہ سے زیادہ سوچیں, ان شاء اللہ خوشی اٹریکٹ ہو گی اور خوشی مل کر رہے گی, اور اگر کامیابی چاہتے ہیں تو اس کے بارے میں سوچیں تو کامیابی اٹریکٹ ہو گی. دولت چاہتے ہیں تو اس کو ہی سوچیں تو دولت آپ کے مقدر میں ہو گی.
بس اتنا سا فلسفہ ہے لاء آف اٹریکشن کا.
لیکن ہم غلطی یہاں کرتے ہیں کہ چاہتے تو ہم خوشی ہیں لیکن سوچتے ہر وقت اپنی مشکلات کو ہیں کہ کبھی خوشی نہیں ملی, ہمیشہ غم ہی ملا وغیرہ وغیرہ. اس کی جگہ یہ سوچیں کہ ان شاء اللہ جلد ہی بہت خوشی ملے گی, اور جب خوشی نصیب ہو گی تو ایسا ماحول ہو گا, ہم ایسے ایسے اعمال کریں گے وغیرہ وغیرہ.
اسی طرح چاہتے تو ہم صحت ہیں لیکن سوچتے سارا دن بیماری کو ہیں تو صحت کیسے اٹریکٹ ہو گی.
ہماری چاہت اور سوچ متضاد ہیں. اگر ہم اپنی سوچ کو چاہت کے مطابق کر لیں تو ہم لاء آف اٹریکشن کے تحت اپنی چاہت کے نتائج حاصل کر سکتے ہیں.
اور سب سے اہم بات کہ یہ یقین پیدا کریں کہ ایسا ممکن ہے,
لاء آف اٹریکشن سے میرے خیالات اور حالات بدل سکتے ہیں. یقین پیدا کرنے کے لئے ضروری ہے کہ اس تھیوری کو سجھ جائے ،جانا جائے۔
د ی سیکریٹ اس موضوع پر بنائ گئی ایک شاندار فلم ہے جو اس موضوع پر بننے والی پہلی فلم ہے. کوشش کریں اس فلم کو زندگی میں کم از کم ایک بار ضرور دیکھیں بلکہ اپنے چاہنے والوں کو بھی دکھائیں. انٹرنیٹ سے ڈاؤنلوڈ کی جا سکتی ہے. اس فلم میں بتایا گیا ہے کہ لاء اف اٹریکشن دور حاضر کا وہ علم اور اصول ہے جس سے آپ کوئی بھی کام لے سکتے ہیں.
اس فلم میں یہ نظریہ بھی دیا گیا ہے کہ ہماری زندگی میں جو بھی opportunities آتی رہتی ہیں اگر ہم ان opportunities کو avail کرتے رہیں تو یہ ساری زندگی آتی ہی رہتی ہیں اور اگر ہم ان کو reject کرنا شروع کر دیں تو ایک خاص حد کے بعد ہماری زندگی میں opportunities آنا ہی بند ہو جاتی ہیں. جیسا کہ بعض والدین بہترین سے بہترین رشتے کی تلاش میں جب آنے والے متعدد رشتوں کو انکار کرتے رہتے ہیں تو ایک وقت کے بعد رشتے آنے ہی بند ہو جاتے ہیں. اسی طرح بہترہن سے بہترین نوکری کی تلاش میں اپنی چاہت سے کم والی نوکریوں کو چھوڑتے رہتے ہیں تو ایک وقت ایسے آتا ہے کہ نوکریاں ملنا ہی بند ہو جاتی ہیں اور پھر وہ لوگ سوچتے ہیں کہ کاش وہ والی نوکری کر لی ہوتی یا فلاں رشتہ کر لیا ہوتا.
فلم کے بنیادی نظریے "جیسا سوچو گے ویسا پاؤ گے" کے تحت جب میں نے غور کیا تو مجھے یہ انکشاف ہوا کہ انگریزوں کی بنائ ہوی یہ فلم تو بلکل حدیث قدسی کی تشریح ہے.
حدیث قُدسی: ابو ذرغفاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا ہے کہ اللہ تعالی فرماتے ہیں : "میرا بندہ مجھ سے جو توقع رکھتا ہے اور جیسا گمان اس نے میرے متعلق قائم کر رکھا ہے ویسا ہی مجھے پائے گا۔ جب وہ مجھے یاد کرتا ہے تو میں اس کے ساتھ ہوتا ہوں۔ اگر وہ مجھے تنہائی میں یاد کرتا ہے تو میں بھی اسے تنہائی میں یاد کرتا ہوں ۔ اگر وہ کسی جماعت کے ساتھ بیٹھ کر مجھے یاد کرتاہے تو میں اس سے بہتر جماعت میں اس کو یاد کرتاہوں۔ اگر وہ میری طرف بالشت بھر بڑھتا ہے تو میں اس کی طرف ایک ہاتھ بڑھتا ہوں اور اگر وہ میری طرف ایک ہاتھ بڑھتا ہے تو میں اس کی طرف چار بڑھتا ہوں اور اگر وہ میری طرف آہستہ آہستہ آتا ہے تو میں اُس کی طرف دوڑ کر جاتا ہوں۔" (بخاری ومسلم ).
اس نظریے کو اپنائیں, ہمیشگی اختیار کریں اور نتائج خود دیکھیں. یہی اللہ نے ہمیں کرنے کو کہا ہے بیان کردہ حدیث پاک میں.
اللہ پاک ہم سب کو کامیاب, خوشحال اور صحت و ایمان والی زندگی عطا فرماۓ. آمین.
طالب دعا: محمد علی ملک