Baitul-Hikmah Education Systems

Baitul-Hikmah Education Systems

Share

یہ بیت الحکمہ ایجوکیشن سسٹم سے منسلک مدارس ، اساتذہ اور اداروں کا گروپ ہے۔
+923215108382

28/03/2025

الحمد للہ

28/06/2024

الحمد للہ
بیت الحکمہ ایجوکیشن سسٹم کے تحت تجویز کردہ طریقہ تدریس میں عام رائج نظام کی طرح کا امتحانی نظام نہیں ہے ۔
اس کی جگہ ہمارے اسلاف کا وہ طریقہ کار جس کے ذریعے سے طلباء کو جانچا اور پرکھا جاتا تھا جو آج کے جدید ترین تعلیمی نظام کا بھی حصہ ہے اسے اختیار کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
اس طریقہ کار کو Performance based assessment یا کارکردگی کی بنیاد پر جانچنے کا طریقہ کار کہا جاتا ہے۔
ہمارے ہاں عمومی طور پر کیونکہ اس طریقہ کار کی آگاہی نہیں ہے اس لیے اس مختصر کتابچے میں اس کا تعارف اور طریقہ کار بیان کیا گیا ہے۔
فلحال اس کتابچے کو بیت الحکمہ سے منسلک مدارس اور گروپ ممبران کے ساتھ ہی شیئر کیا گیا ہے۔
اللہ تعالٰی سے دعا ہے کہ وہ ہماری اس کوشش کو قبول فرمائے اور ہمیں اخلاص کے ساتھ تعلیمی نظام کی اصلاح کے لیے کوشش کرتے رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
جزاک اللہ خیرا

16/05/2024

اُمت مسلمہ کی موجودہ پستی میں ڈیجیٹل مبلغین کا کردار

تحریر: جواد عبدالمتین
اسلامک اکیڈمی آف کمیونیکیشن آرٹس
بیت الحکمہ ایجوکیشن سسٹم

آج سرزمین اقصیٰ پر ہونے والے ظلم و ستم پر پوری اُمت مسلمہ کی قبرستان جیسی خاموشی اور دینی غیرت سے محرومی کے پیچھے پچھلے 60 سال کے دوران ٹی وی سکرینوں پر نظر آنے والے وہ مبلغین بھی ہیں جو اپنے نورانی چہرے سکرین پر لوگوں کو دکھا کر چند فضائل اور بہت سےاختلافی مسائل کی باتیں سنا کراس بات کا تاثر دیتے رہے کہ وہ پورے دین کو قائم کرنے کی محنت کر رہے ہیں.

جبکہ ایسا نہیں تھا ۔ ٹی وی سکرینوں پر نظر آنے والے یہ مذہبی سکالر جن ٹی وی چینلز کے ذریعے تبلیغ کا کام کرتے تھے وہ چینلز انہیں ہر بات کرنے کی اجازت نہیں دیتے تھے ۔ یہ صرف انہی موضوعات پر بات کر سکتے تھے جن کی انہیں اجازت ملتی۔

اور ٹی وی سکرینوں پر نظر آنے والے ان نام نہاد مبلغین کو عوام میں مقبولیت ملنے کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوا کہ لوگ اپنے مقامی علماء کرام سے دور ہو گئے اور روزمرہ کے مسائل سے لے کر معاشرتی زندگی کے اسلامی طرز فکروعمل کی اہمیت کو جاننے اور علمائے کرام کی صحبت میں بیٹھ کر مسائل سیکھنے کی برکات سے مکمل طور پر محروم ہو گئے۔

اور انتہائی قابل افسوس بات یہ ہے کہ ٹی وی سکرینوں پر اپنے نورانی چہرے دکھا کر تبلیغ کرنے کا یہ سلسلہ کیونکہ عرب ممالک سے شروع ہوا اس لیے دیگر مسلمان ممالک اسے نیک کام سمجھ کر اختیار کرتے چلے گئے۔ اور اس دوران کسی نے اس طرف توجہ نہیں کی کہ اس طرز عمل کے شدید نقصانات آنے والی نسل پر کیا پڑیں گے ۔

رفتہ رفتہ عوام الناس دین کے وہ مسائل سننے سے بالکل محروم ہو گئے جو اقوام عالم میں مسلمانوں کو عزت و وقار کے ساتھ کھڑے ہونے کا مستحق بناتے جو قرآن و حدیث کی تعلیمات پر عمل کرنے سے ممکن تھا۔
یعنی ایک خاص دائرے میں قید سکرین پر نظر آنے والے مبلغین نے گویا پوری اُمت مسلمہ کا بیڑا غرق کر دیا ۔
انہیں مقامی علماء کرام سے دور کر دیا جس سے نہ صرف کے علماء کرام کی حق تلفی اور بے اکرامی ہوئی بلکہ عوام ان کے فیوض و برکات سے بھی محروم ہو گئے اور عام لوگوں کا علماء کرام تک رسائی کا واحد موقع صرف جمعہ اور عید کے خطبے تک محدود ہو گیا۔
-
-
-
60 سال قبل اُس وقت کے مفتی اعظم حضرت شیخ بن باز رحمہ اللہ نے جس مجلس میں اس خیال کا اظہارِ فرمایا کہ جب ہم ڈرائیونگ لائسنس اور پاسپورٹ وغیرہ جیسی چیزوں کے لیے (کراہت کے ساتھ) تصویر کی اجازت دے رہے ہیں تو پھر مبلغ کو بھی اس چیز کی اجازت دی جا سکتی ہے کہ وہ تبلیغ کا کام سکرین پر آ کر کرسکے کیونکہ اُن کے خیال سے یہ اجتماعی فائدے کی بات تھی۔

لیکن یہ بات شاید بہت کم لوگوں کو معلوم ہے کہ حضرت شیخ بن باز بینائی سے محروم تھے یعنی وہ اس مجلس میں یہ نہیں دیکھ پائے کہ ان کے سامنے نصب کیا ہوا کیمرہ نہ صرف کہ ان کی بلکہ اس مجلس میں موجود دیگر لوگوں کی بھی ویڈیو گرافی کر رہا تھا۔

یعنی اس مجلس سے ہی ان کی بیان کردہ گنجائش سے بہت آگے بڑھ کے عام ویڈیو گرافی شروع کر دی گئی۔ شاید اگر وہ یہ منظر دیکھ پاتے تو اسی وقت اپنے اس قول سے رجوع فرما لیتے اور ایسے لوگوں کو جو اس گنجائش کو سنبھالنے کی اہلیت نہیں رکھتے یہ راستہ کبھی نہ دکھاتے ۔

(اس واقعے کی وہ وڈیو آج بھی موجود ہے۔ لیکن چند ماہ پہلے اس کی آڈیو ختم کر دی گئی ہے)

کسی کو اچھا لگے یا برا لیکن زمینی حقیقت یہی ظاہر کرتی ہے کہ ڈیجیٹل حالت میں جاندار کی تصویر پر اختلاف کا معاملہ ایک اجتہادی غلطی تھی اور وقت نے یہ ثابت کیا کہ یہ اسلامی تاریخ کی بدترین اجتہادی غلطیوں میں سے ایک ثابت ہوئی۔
اس اجتہادی غلطی نے نبی علیہ الصلوۃ والسلام کی مبارک احادیث میں انتہائی واضح انداز میں اور بار بار بیان کردہ ایک حرام اور ناجائز چیز یعنی جاندار کی تصویر کو ڈیجیٹل حالت میں اس طرح سے عوام الناس میں عام کر دیا کہ سرزمین حجاز جہاں سے کہ دین شروع ہوا تھا وہیں سے دین مٹنے لگا ۔

اور آج اس واقعے کے تقریبا 60 سال بعد پوری سرزمین عرب مادہ پرستی اور مغربی نظریات سے متاثر ہو کر ہر طرح کی منکرات کا مرکز بن چکی ہے۔ اور مجموعی طور پر اس اخلاقی اور فکری پستی کا شکار ہے جس پر کہ اب غیر مسلم بھی حیرت کا اظہار کر رہے ہیں۔

جس کی بدترین مثال آج ہم نے سرزمینِ اقصیٰ پر ہونے والے مظالم کے ان دنوں میں اپنی آنکھوں سے دیکھ لی ہے کہ جب جرمنی، فرانس، برطانیہ اور امریکہ جیسے ممالک میں بھی غیر مسلم یہاں تک کہ دہریے بھی احتجاج کے لیےسڑکوں پر نکل آئے کہ ان مظالم کو روکا جائے تو پوری اُمتِ مسلمہ میں ایسی خاموشی تھی جیسی کسی قبرستان میں ہوتی ہے ۔
-
-
-
خلاصہ کلام یہ ہے کہ نبی علیہ الصلوۃ والسلام نے نفسیاتی جنگی میدان کے اس مہلک اور خطرناک ترین ہتھیار کو اُمت پر حرام قرار دیا تھا اور اس پر سخت عذاب کی وعید بھی سنائی تھی لیکن تصویر کے ڈجیٹل حالت میں اختلاف کے پیدا ہونے سے اُمت کا جو نقصان ہو چکا اب اللہ تعالٰی ہی بہتر جانتا ہے کہ اس کی تلافی کیسے ہوگی؟۔ ۔ ۔
-
-
-
کاش اس معاملے میں بھی اُمت کے اکابر نے تقوی اختیار کیا ہوتا اور اس شک میں نہ پڑتے کہ جاندار کی ڈیجیٹل تصویر اُس تصویر کے حکم میں نہیں ہے جسے احادیث مبارکہ میں ناجائز قرار دیا گیا ہے۔
-
-
-
آج سرزمینِ عرب پر بسنے والے انبیاء علیہ الصلوۃ والسلام اور صحابہ کرام کی نسل کے نوجوان جاندار کی ڈیجیٹل تصویر کی نحوست کی وجہ سے جس دینی، فکری، نظریاتی اوراخلاقی پستی کا شکار ہیں اور اسلامی طرز فکر و عمل سے دور اور مغربیت کے رنگ میں رنگے ہوئے ہیں اس نقصان کو دیکھ کر بھی اگر ہمارے دل نہیں کانپ جاتے اور ہم اس معاملے میں اپنی رائے تبدیل کرنے کو تیار نہیں تو بس پھر روزِ محشر کا انتظار کریں جب نبی علیہ الصلوۃ والسلام کی پاک اور مبارک احادیث میں بیان کردہ احکامات کے مقابلے میں ڈیجیٹل حالت میں جاندار کی تصویر کو حلال قرار دینے والے دلائل ہلکے ثابت ہوں گے۔
-
-
-
اور اگر کوئی یہ گمان کرے کہ اس تحریرسے مراد مجتہدین رحم اللہ پر تنقید کرنا ہے تو وہ یہ سمجھ جائے کہ مجتہدین انسان ہوتے ہیں وہ غائب کا علم نہیں رکھتے وہ اسی بنیاد پر اجتہاد کرتے ہیں جو حقائق ان کے سامنے رکھے گئے ہوں اور اس معاملے میں مجتہدین کے سامنے جو حقائق رکھے گئے وہ دجل اور فریب پر مبنی تھے۔ کیونکہ جس تکنیکی تشریح کے تحت ڈیجیٹل تصویر کو تصویر کے حکم سے نکالا گیا تو اسی تکنیکی تشریح پر ڈیجیٹل موسیقی بھی موسیقی کے حکم سے گویا کہ نکل گئی۔ جبکہ حقیقت یہ تھی کہ جاندار کی تصویر ڈیجیٹل حالت میں بھی تصویر کے حکم میں ہی تھی جیسا کہ آج موسیقی ڈیجیٹل حالت میں بھی موسیقی ہی ہے سمجھی جاتی ہے۔
-
-
آج مجھ کم علم کو اُس وقت حیرت ہوتی ہے جب کچھ ماہرِ نفسیات اور مائنڈ سائنسز کے ایکسپرٹ جن کی شاید جاندار کی تصویر کے حوالے سے تحقیق بہت محدود ہے اس موضوع پر بحث کرتے نظر آتے ہیں اور ڈیجیٹل تصویر کو ناجائز سمجھنے والوں پر سخت تنقید کرتے ہیں۔
تو ایسے مفکرین اور ماہرین کی خدمت میں گزارش ہے کہ اب تو اُمت مسلمہ کے ہاتھ کچھ رہ ہی نہیں گیا تو اب آپ اس منکر (یعنی جاندار کی ڈیجیٹل تصویر جو آج بھی نفسیاتی جنگی میدان کا سب سے خطرناک ہتھیار ہے) کی حمایت کر کے مزید کون سی خیر حاصل کرنا چاہتے ہیں؟
-
-
-
اللہ تعالٰی سے دعا ہے کہ وہ کل روزِ قیامت ہمیں سرزمینِ عرب سے دین کے مٹنے کہ ان جدید اسباب کی ترویج کرنے والوں اور سرزمینِ اقصیٰ اور پوری اُمتِ مسلمہ کے مظلوموں پر ظلم کرنے والوں میں شامل نہ فرمائے۔

آمِین یا رَبَّ العالَمِین

===================
وَمَا عَلَیْنَآ اِلاَّ الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ
=================

02/05/2024

- - -اساتذہ کی نظریاتی و فکری نظر بندی- - -
تحریر: جواد عبدالمتین
اسلامک اکیڈمی آف کمیونیکیشن آرٹس
بیت الحکمہ ایجوکیشن سسٹم

یہ سب باتیں استاد ہونے کی حیثیت سے اور 16 سال سے زائد تعلیم اور ہنر کی ترویج کے شعبے کے تجربے اور کئی موضوعات پر تحقیق کی بنیاد پر کر رہا ہوں اس لیے کسی کو بے ادبی یا بےاکرامی کا گمان نہیں ہونا چاہیے.
-
-
-
کسی بھی معاشرے کی تعمیر میں اساتذہ کرام بنیادی کردار ادا کرتے ہیں، ان کا جو بھی طرزعمل وفکر ہوتا ہے 15 سے 20 سال بعد وہ طرزِعمل و فکر پوری قوم کے نوجوانوں کا ضابطہ حیات یعنی Code of Life بن جاتا ہے۔ اور پھر چند ہی سالوں میں ان نوجوانوں کے مختلف اداروں اور شعبوں کے با اختیار مناصب پر فائز ہونے کے بعد یہ پوری قوم میں رائج ہو جاتا ہے ۔

گویا کہ کسی بھی معاشرے کو بنانے بگاڑنے میں استاد کلیدی کردار ادا کرتے ہیں.
-
-
-
یعنی کسی قوم کو بنانے یا بگاڑنے کے لیے بڑے منصوبے بنانے کے بجائے صرف اگر اس قوم کے اساتذہ کی ذہن سازی پر کام کر لیا جائے تو باقی کام خود سے ہوتا چلا جائے گا.
-
-
-
اوپر ذکر کردہ اس سادی سی ترتیب سے آپ یہ بات سمجھ سکتے ہیں کہ اس وقت ہمارے مذہبی، معاشرتی اور اخلاقی تنزل کی بنیادیں دراصل اساتذہ کرام کی نظریاتی اور فکری نظر بندی سے جڑی ہوئی ہیں ۔
-
-
-
اور آج اس نظریاتی اور فکری نظر بندی کے اثرات عصری تعلیمی اداروں میں تو انگریز کے دور سے ہی موجود تھےلیکن اب ہمیں یہ دینی مدارس تک پہنچے ہوئے نظر آرہے ہیں۔
-
-
-
یہی وجہ ہے کہ آج دینی اور عصری تعلیمی اداروں میں بچوں کی کردار سازی، ان کے ایمان اور یقین کی ترقی، ان میں تقوی اور اخلاص پیدا کرنے کی فکر اور ان میں اعلٰی اخلاقی صفات پیدا کرنے کی کوشش کے بجائے پوری توجہ صرف سالانہ امتحان میں کامیابی کے تناسب کو بڑھانے اور زیادہ سے زیادہ نمبر حاصل کر کے اپنے ادارے کا نام روشن کرنے، اور اپنے ادارے میں پڑھنے والے طلباء کی کثیر تعداد کا فخر سے ذکر کرنے تک محدود ہو گئی ہے۔
-
-
-
دینی مدارس کی کارگزاری دیکھ کر بس اتنا ہی کہنا کافی ہے کہ اگر یہ اپنے اکابر کے کہنے پر چلتے تو شاید آج تعداد میں کم لیکن وزن میں بہت زیادہ ہوتے ۔
یعنی ان کے چند علماء جو تقویٰ اخلاص اور للٰہیت سے مزین ہوتے وہ پوری قوم کو سیدھے راستے پر لانے کے لیے کافی تھے۔
-
-
-
لیکن یہ کیا ہوا کہ تعداد بڑھتی گئی اور تقوی، للہیت، اخلاص اور قوتِ بیان وعمل کم ہوتا چلا گیا۔

اور اب یہاں تک نوبت آگئی کہ مسجد کے ممبر سے بھی حق گوئی تقریبا ناممکن ہو گئی ہے۔

اس تحریر میں دینی مدارس کو زیر بحث لانے کا ارادہ تو نہیں لیکن بس اتنا ذکر کر دینا شاید کافی ہو کہ حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ نے ایک موقع پر فرمایا جس کا مفہوم ہے کہ ہر کسی کو فاضل نہ بنایا جائے بلکہ صرف استعداد رکھنے والوں کو فاضل بنایا جائے اور جو غیر استعداد والوں کو فاضل بنائے گا وہ گویا خیانت کا مرتکب ہوگا۔
-
-
-
غیر استعداد والوں کا دینی مدارس سے فاضل بننے کا موضوع تو ایک طرف رہ گیا اب تو مسئلہ دنیا دار لوگوں کا مختصر کورسز کے ذریعے عالم بننے کا مسئلہ زیادہ بڑا ہو گیا ہے ۔

ہمارے ایک مفتی صاحب اکثر ایک صحابی رضی اللہ عنہ کا قول نقل کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ دنیا کی عظمت دل میں رکھنے والے دنیا دار کو دین کا علم سکھانا گویا ڈاکو کے ہاتھ تلوار فروخت کرنے کے مترادف ہے۔

کہ اول تو اس کا دل دنیا کی محبت اور عظمت سے بھرا ہوا ہے اور پھر دین کا علم سیکھ کر اور عالم فاضل ہونے کی سند حاصل کر کے اب یہ اپنے باطل نظریات کو قرآن اور حدیث کے حوالے دے کر صحیح ثابت کرنے کی کوشش کرے گا ۔ یعنی خود تو گمراہ تھا ہی اب دوسروں کو بھی دلائل دے کر گمراہ کرے گا۔ اور یہ کوئی فرضی بات نہیں اس کی کئی مثالیں ہم پہلے ہی دیکھ چکے ہیں۔
-
-
-
دینی مدارس کی طرف تو بات ویسے ہی چلی گئی اس تحریر کا اصل موضوع تو عصری تعلیمی اداروں کے وہ اساتذہ ہیں جو انگریز کے دور سے شروع ہونے والی نظریاتی اور فکری نظر بندی کو نسل در نسل آج تک اپنے سینے سے لگائے ہوئے ہیں۔ اور آج بھی اس بات کا یقین رکھتے ہیں اور اپنے طلباء کو بھی اس بات کا یقین دلاتے ہیں کہ غلامی کے دور میں مرتب کیے گئے اس تعلیمی نظام سے ہی تمہیں کامیابی اور عزت حاصل ہوگی۔
-
-
-
ان عصری تعلیمی اداروں سے پڑھے ہوئے سیاستدان، بیوروکریٹ اور دیگر اہم اداروں میں تعینات افراد جنہوں نے آج ہماری مذہبی، معاشرتی، اخلاقی اور قومی اقدار کو اتنا پست کر دیا ہے کہ کہیں سے بھی نہیں لگتا کہ یہ ملک اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا تھا۔
-
-
-
سوال تو بس یہ ہے کہ طاقت اور اختیار والے ان اعلٰی عہدوں پر بیٹھے افراد کے اساتذہ کون تھے ؟

کیا ان کے استاد واقعی استاد کے عظیم مقام کو جانتے تھے یا صرف اپنے روزگار کے لیے ان تعلیمی اداروں میں استاد کے منصب پر فائز تھے ؟

کیا ان کے اساتذہ نے تعلیمی نظام میں موجود انگریز کے دور کی غلامانہ صفات کو ختم کرنے کی کوشش کی تھی ؟

کیا ان کے اساتذہ ۔ ۔ ۔ "پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ" ۔ ۔ ۔ کے مفہوم کو واقعی جانتے تھے یا صرف ایک نعرے کے طور پر ہی سمجھ پائے تھے ؟

کیا ان کے اساتذہ دینی، اخلاقی اور معاشرتی اقدار کو مقدم رکھنے والے تھے یا مغرب کی نئی روشنیوں سے متاثر مادے کی ترقی کو انسان کی ترقی پر گمان کرنے والے ؟

کیا ان کے اساتذہ نے طلباء کے سالانہ نصاب مکمل کر کے رٹے کی بنیاد پر اعلٰی نمبروں سے امتحان پاس کروانے کے علاوہ بھی کسی چیز پر توجہ دی تھی ؟

کیا آج سے تیس سال پہلے جب یہ اعلٰی عہدوں پر بیٹھے افراد اپنے اسکول میں اپنے اساتذہ کی نظریاتی اور فکری اثاث اپنے ذہنوں میں منتقل کر رہے تھے، اُس وقت انہیں قرآن اور سنت کی بیان کردہ اعلٰی اخلاقی اقدار زیادہ مقدم معلوم ہو رہی تھیں، یا زیادہ نمبروں سے پاس ہو کر بڑے سرکاری عہدوں تک پہنچنا زیادہ اہم لگ رہا تھا؟

ان کے ہر تعلیمی سال میں ان کے استادوں نے ان کو توکل، تقوٰی اور للہیت سکھانے پر کتنا وقت صرف کیا تھا ؟

کیا ان کے اساتذہ نے ان کو یہ بات اچھی طرح سمجھائی تھی کہ کامیابی اللہ رب العزت کو راضی کرنے اور اُس کے احکامات پورے کرنے میں ہے نہ کہ فرعون کی طرح مال اور قوت حاصل کرنے میں؟

کیا ان کے استادوں نے انہیں یہ بات باور کرائی تھی کہ نبی علیہ الصلوۃ والسلام کی ہر سنت قارون کے خزانوں سے زیادہ قیمتی اور انسان کو فرشتوں سے افضل بنانے والی ہے ؟

کیا ان کے استادوں نے انہیں برکت اور کثرت میں فرق سمجھایا تھا، کہ اللہ کی رضا سے ملنے والی برکت کو مال کی کثرت پر فوقیت دینے میں ہی کامیابی ہے؟

کیا ان کے اساتذہ نے انہیں یہ بتایا تھا کہ حقوق العباد تو شہید کو بھی معاف نہیں ہوتے اور ہر ظالم کو اس کے ظلم کا حساب دینا ہوگا ؟

کیا ان کے اساتذہ نے انہیں راشی اور مرتشی کا حکم بتایا تھا کہ یہ دونوں جہنم کے باسی ہوں گے ؟

کیا ان کے اساتذہ نے اس بات کی یقین دہانی کی تھی کہ انہیں یہ بات سمجھ آ گئی ہے کہ یہ زندگی عارضی ہے اور ہمیشہ رہنے کی زندگی اس کے بعد آنے والی ہے جس میں کامیابی کا معیار اس زندگی میں کیے گئے نیک اعمال ہوں گے نہ کہ ٭ایم -اے٭، ٭ایم-فل٭ اور ٭پی-ایچ-ڈی٭ کی ڈگریاں؟

کیا ان کے اساتذہ نے انہیں ایمانداری، صداقت، دیانت اور امانت کا سبق اچھی طرح یاد کروایا تھا یا وہ ریاضی، فزکس، کیمسٹری، بائیولوجی اور معاشرتی علوم کے زیادہ نمبروں پر ہی توجہ دیتے رہ گئے ؟
-
-
-
انتہائی ندامت، شرمندگی اور دل شکستگی کے ساتھ یہ کہنا پڑ رہا ہے کہ نہیں ایسا کچھ بھی نہیں ہوا۔
-
-
-
اگر ان کے استادوں نے اس عظیم منصب کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنا کردار صحیح طرح ادا کیا ہوتا تو : -
آج یہ قطار میں سیدھے کھڑے ہوتے ۔
سڑک پر لال بتی کو توڑ کر اپنی اور دوسروں کی جان خطرے میں نہ ڈالتے۔
اگر یہ کسی دفتر میں کلرک لگتے تو رشوت نہ لیتے ۔
اگر یہ کسی ادارے میں افسر ہوتے تو لوگوں کے حق نہ کھاتے ۔
اگر یہ کورٹ کچہری میں جاتے تو ظالم اور مظلوم کو ایک ہی نظر میں پہچان لیتے۔
اگر یہ صاحب اختیار اور طاقت ہوتے تو پھلدار درختوں کی طرح مزید جھک جاتے اور عاجزی کرتے۔
اگر ان کے پاس کسی کا حق باقی رہ جاتا تو اسے ادا کرنے میں جلدی کرتے۔
اگر طاقت ہوتی تو ظالم کا ہاتھ روکتے اور مظلوم کی مدد کرتے ۔
اگر بڑے سرکاری عہدوں پر فائز ہوتے تو صرف تنخواہ میں گزارا کرتے اور مالدار بننے کی خواہش کو اپنے لیے حرام سمجھتے ۔
اگر قاضی یا جج بنتے تو انصاف سے فیصلہ کرتے ۔
-
-
-
اور اگر یہ سب کچھ ہوتا تو آج ہمیں فلاں فلاں اور فلاں کی مثال دے کر انہیں ایمانداری دیانت صداقت اور امانت کی مثالیں نہ دینی پڑتیں۔
-
-
-
بات بہت لمبی ہو گئی بس یہی کہہ کر بات ختم کرتا ہوں کہ میرے جو دوست اور بھائی استاد ہیں وہ اس عظیم منصب کی ذمہ داریوں کا احساس کریں ۔
اگر اس منصب کی ذمہ داریوں کا ادراک نہیں تو جنہیں علم ہے ان سے معلوم کریں۔
اور اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ آپ اس منصب کی ذمہ داریوں کو ادا نہیں کر سکتے تو برائے مہربانی صرف پیٹ پالنے کے لیے اس ذمہ داری کا بوجھ نہ اٹھائیں۔

یہ بات اچھی طرح سے سمجھ لیں کہ اگر آپ نظریاتی اور فکری نظربندی کا شکار ہیں تو پھر استاد کا منصب آپ کے لیے نہیں۔
-
-
-
برائے مہربانی اُمت مسلمہ کی حالت زار کو دیکھ کر ان پر رحم کھائیں اور ایسے استاد بننے کی کوشش کریں جو حکمت کی بلندی، بصیرت کی گہرائی، اور نظر کی وسعت رکھنے والے ہوں۔

===================
وَمَا عَلَیْنَآ اِلاَّ الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ
=================

19/04/2024
06/04/2024

الحمدللہ ثم الحمدللہ
بیت الحکمہ ایجوکیشن سسٹم کو شروع ہوئے آج تین سال مکمل ہو گئے۔
اس دوران اللہ رب العزت نے محض اپنے فضل و کرم سے بہت کچھ سکھایا اور بہت کچھ کرنے کا موقع دیا۔
اللہ تعالٰی سے دعا ہے کہ وہ مزید ہمت اور سمجھ عطا فرمائے۔ آمین

29/03/2024

محکوم قوموں کی تخلیق میں تعلیمی نظام کا کردار
Role of education system in creation of subjugated nations
تحریر: جواد عبدالمتین
اسلامک اکیڈمی آف کمیونیکیشن آرٹس
بیت الحکمہ ایجوکیشن سسٹم

پہلے تو یہ بات سمجھ لیں کہ کسی بھی قوم کو محکوم بنا کر لمبے عرصے تک غلام رکھنے کے لیے یہ انتہائی ضروری ہے کہ اس قوم کا اس کے ماضی اور اس کی بنیادوں سے تعلق ختم کر دیا جائے۔
کیونکہ جب کوئی قوم اپنے ماضی اپنی روشن تاریخ اور مذہبی، اخلاقی و معاشرتی اقدار کو بھول جاتی ہے تو پھر اس کو آسانی سے لمبے عرصے تک غلام بنا کر رکھا جا سکتا ہے.

لیکن اگر کوئی قوم اپنی تاریخ، اخلاقی و معاشرتی اقدار کو یاد رکھے اور اس کو اہمیت دے تو پھر اس قوم کو غلام بنانا بھی مشکل ہے اور اسے زیادہ عرصہ غلام بنا کر رکھنا بھی ممکن نہیں کیونکہ وہ ہر کچھ عرصے بعد شدید رد عمل کا اظہار کرتی رہے گی.
-
-
-
اس لیے جب کوئی قوم غلام بنا لی جائے تو اس کو غلام بنائے رکھنے اور اس کی تاریخ اور ماضی سے اس کو منقطع کرنے کے لیے ضروری ہے کہ اسے ایک ایسا تعلیمی نظام دے دیا جائے جو اس کو اس بات کا احساس دلائے کہ تمہاری تاریخ اور معاشرتی اقدار حقیر اور پسماندہ تھیں اور اب جس قوم نےتمہیں محکوم بنایا ہے ان کی اقدار بھی بلند ہیں اور ماضی اور مستقبل بھی روشن۔

اس لیے اب تمہیں پیچھے مڑ کر نہیں دیکھنا بلکہ ان ہی کی اندھی تقلید اور پیروی کرنی ہے اور ان کو اپنا پیشوا اور امام بنانا ہے اور اگر تم ایسا کرو گے تو پھر تم بھی انہی کی طرح کامیاب ہو جاؤ گے اور تمہیں دنیا میں وسعت اور عزت حاصل ہوگی۔
-
-
-
اب اس مقصد کی تکمیل کے لیے ایسے تعلیمی نظام کو مرتب اور رائج کرنا ضروری ہوتا ہے جو اس قوم کو ایک ایسے جال میں پھنسائے جس سے ان کی اگلی آنے والی کئی نسلیں بھی کوشش کے باوجود نکل نہ پائیں۔

وہ تعلیمی نظام ایسا ہو جو ان کی سوچ، فکراور عمل پر ایسے اثرات مرتب کرے کہ وہ اپنے ماضی اور اسلاف کی تعلیمات کو بھول کر حاکم قوم کے ہر حکم پر عمل کرنے والے بن جائیں۔

پھر انہیں اپنا لباس بھی حقیر لگے اور معاشرتی اقدار بھی پھر انہیں اپنے بڑوں کی کتابیں حکمت اور بصیرت سے خالی اور پسماندہ معلوم ہوں۔ پھر یہ دوسروں کی معاشرت اختیار کر کے فخر محسوس کریں، دوسروں کا لباس پہنے ہوئے لوگ انہیں زیادہ سمجھدار معلوم ہوں، پھر ہر منکر کو یہ جدت کے نام پر اختیار کرنے کو تیار ہوں گے۔
-
-
-
اور پھر جب ایسے افراد تیار ہو جائیں جو ایسے محکوم اور معذور ذہن پیدا کرنے والے تعلیمی نظام کو قبول کر لیں تو پھر بس اس قوم پر کئی صدیاں بغیر کسی جنگی حکمتِ عملی کے بھی حکومت کی جا سکتی ہے۔ چاہے انہیں جمہوریت اور آزادی کا فریب دے کر انہی میں سے کچھ لوگوں کو منتخب کر کے ان کے اوپر حکومت کرنے کے لیے بٹھا دیا جائے، یہ پھر بھی مطیع اور فرمانبردار غلاموں کی طرح حاکم قوم کا ہر حکم ماننے اور اندھی تقلید کرنے کو تیار رہیں گے ۔
-
-
-
پھر اس قوم کی مثال ایسے بے مہار جانور کی طرح ہو جاتی ہے کہ جسے جو جس طرف بھی چاہے ہانک کر لے جائے۔ پھر اس محکوم قوم کو غلام بنائے رکھنے کے لیے مرتب کیے گئے تعلیمی نظام میں استعمال ہونے والے اساتذہ بھی اسی غلامانہ ذہن یعنی Enslaved mind کے ساتھ مطیع اور فرمانبردار ہو کر انہیں وہ کتابیں اور مواد پڑھاتے رہیں گے جو انہیں غلامی سے آزاد کرنے کے بجائے غلامی کو ایک نعمت اور سعادت سمجھ کر اسی نظام کا حصہ بننے کے لیے تیار کرتے رہیں گے۔
-
-
-
پھر اس کے بعد وہ ہوتا ہے جو آج ہمارے ساتھ ہو رہا ہے کہ
دینی غیرت ختم،
اخلاص ختم،
توکل ختم،
تقویٰ ختم،
صداقت ختم،
دیانت ختم،
امانت ختم،
اخلاقی اقدار ختم،
قومی تشخص ختم،
لیکن پھر بھی غلامانہ ذہن رکھنے والا ہر شخص اس فکر میں نظر آئے گا کہ ہماری اگلی نسل بھی کس طرح اسی ناقص ناکارہ اور بے مقصد تعلیمی نظام کا حصہ بن کر غلامی کا طوق اپنے گلے میں ڈالے اور ایک کاغذ کا پرزہ حاصل کر کے پھر غلامی کے اسی چکر کو آگے چلانے کا ذریعہ بنے۔
-
-
-
اب شاید آپ کو سمجھ آ جائے کہ جو لوگ آپ کے ہر فائدے کونقصان میں بدل ڈالتے ہیں، آپ کو ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کے قرضوں کے ذریعےمعاشی بدحالی کا شکار کرتے ہیں، آپ کے ملک میں کرپشن اور لاقانونیت کی پشت پناہی کرتے ہیں، یعنی ہر طریقے سے آپ کو ایک ناکام قوم بنانے کی تدبیروں اور کوششوں میں لگے ہوئے ہیں وہ ہمیشہ اس بات کی فکر میں کیوں نظرآتے ہیں کہ آپ کے بچے سکول داخل ہو کر وہی تعلیم حاصل کریں جو ان سے پہلے والوں نے حاصل کی۔

یقیناََ اسی لیے کہ وہ انہی نتائج کو دہرانا چاہتے ہیں جو آپ نے اس تعلیمی نظام سے گزر کر حاصل کیے ہیں۔
-
-
-
اب اگر آپ پوچھیں کہ آپ کو کیا کرنا چاہیے تو پہلا کام یہ ہے کہ اللہ تعالٰی سے دعا کریں کہ وہ اس غلامانہ ذہنیت سے آپ کی اگلی نسل کو محفوظ رکھے اور پھر اس کے بعد متبادل تعلیمی طریقوں کے بارے میں پڑھنا شروع کریں۔
اللہ تعالی کی توفیق سے "ہوم سکولنگ" یعنی بچوں کو گھر پر تعلیم دینے کےحوالے سے کچھ تحریریں لکھنے کی توفیق ہوئی تھی جن کے لنک یہاں فراہم کیے جا رہے ہیں۔

(حصہ اول)
https://www.facebook.com/photo/?fbid=5505248719499380&set=a.526061324084836

(حصہ دوئم)
https://www.facebook.com/photo/?fbid=5505379769486275&set=a.526061324084836

(حصہ سوئم)
https://www.facebook.com/photo/?fbid=5515338248490427&set=a.526061324084836

===================
وَمَا عَلَیْنَآ اِلاَّ الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ
=================

15/03/2024

جمعہ 4 رمضان المبارک 1445 ہجری 15 مارچ4 202
بیت الحکمہ ایجوکیشن سسٹم کی طرف سے بہشتی زیور کو نصاب میں داخل کرنے کے بعد اس کتاب کی تدریس کے طریقہ کار اور ہدایات کے حوالے سے تفصیل جاری کی جا رہی ہے۔
طریقہ تدریس اور ہدایات کے حوالے سے پوری کوشش کی گئی ہے کہ یہ حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ کی تجویز کردہ ترتیب کے مطابق ہو۔ اس حوالے سے بہت سے علماء کرام کے ساتھ مشاورت بھی جاری رہی۔ اس کے باوجود اس ترتیب کو مزید سہل اور موثر بنانے کے لیے آپ حضرات کی تجاویز انتہائی فائدہ مند ہو سکتی ہیں۔
اس کتاب کے ایک سالہ کورس کو مرتب کرنے کا مقصد آج کے دور میں بالغ مسلمان مرد و خواتین کوضروری شرعی مسائل کا علم فراہم کرنا ہے تاکہ وہ اپنی روز مرہ کی زندگی شرعی تقاضوں کے مطابق گزار سکیں ۔

فائل کا ڈاؤن لوڈ لنک :-
https://www.mediafire.com/file/7h4juqwvb81r4wm/Behishti-Zewar-Course-Details.pdf/file

Want your school to be the top-listed School/college in Rawalpindi Cantonment?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Category

Telephone

Website

Address


Rawalpindi
Rawalpindi Cantonment