21/05/2026
جس اندھے اعتماد سے ہمارے نام نہاد لکھاری اور انٹیلچول انڈین میڈیا کی خبر پر تبصرے اور فیصلے سنا رہے ہیں ، مجھے شک ہو رہا ہے کہ
کیا انڈین میڈیا نے واقعی سچی خبریں نشر کرنا شروع کر دیا ہے ؟
کچھ لوگ حالیہ واقعے کو ذاتی دشمنی بھی لکھ رہے ہیں لہذا اصل واقعہ کیا ہے یہ تو وقت ہی بتائے گا۔
انڈین میڈیا کی خبر کو اتنا سیریس لینے والے بڑے بڑے تجزیہ کار جو را ایجنٹوں کے مظفرآباد ہونے پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں ان سے سوال ہے کہ
کیا حمزه پلوامہ حملے کا ماسٹر مائنڈ تھا یا صرف کالج کا پرنسپل ؟ اگر دونوں باتیں سچ ہیں تو قتل ہونا زیادہ تشویش کی بات ہے یا کچھ اور ۔۔۔۔۔۔۔؟؟
12/05/2026
کوٹلی ایکشن کمیٹی کے ممبر یاسر ملک کو تھپڑ مارنے والے پولیس اہلکار کو معطل کرکے لائن حاضر کر دیا گیا۔عوامی ردِعمل اور شدید احتجاج کے بعد انتظامیہ نے کارروائی کرتے ہوئے اہلکار کے خلاف ابتدائی ایکشن لیا۔
ایکشن کمیٹی نام ہے اعتماد کا✊🚩
11/05/2026
کیا یہ پہلی ویمن یونیورسٹی ہے جہاں بچیوں نے بھی مین گیٹ بند کر دیا ؟؟ اُمید ہے اِنکے مسائل جلد حل کیے جائیں گے ورنہ راولاکوٹ میں ایک بندہ ہے جو جی تھری اور تمبر کا ڈنڈا دونوں لے کر بیٹھا ہے
10/05/2026
ایکشن کمیٹی کے کور ممبران بارہا یہ بات دہرا چکے ہیں کہ آزاد کشمیر کی تاریخ میں شاید پہلی بار عوام اس حد تک متحد ہوئے ہیں۔ یہ بات خود اس امر کی عکاس ہے کہ لوگوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرنا کتنا مشکل مرحلہ ہوتا ہے۔ اگر خدانخواستہ یہ اتحاد ٹوٹ گیا تو دوبارہ ایسا ماحول بننے میں شاید برسوں لگ جائیں۔ یقیناً کور ممبران اس ذمہ داری کی حساسیت کو ہم سب سے زیادہ سمجھتے ہوں گے، کیونکہ اب غلطیوں کی گنجائش پہلے جیسی نہیں رہی۔
تین سال پہلے کی ایکشن کمیٹی اور آج کی ایکشن کمیٹی میں واضح فرق ہے۔ اگر یہ اتحاد کمزور پڑتا ہے تو اس کے اثرات صرف آج تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ آنے والی نسلیں بھی اس نقصان کو محسوس کریں گی۔ ہم نے ہمیشہ ایکشن کمیٹی کی حمایت کی، بغیر اس بحث میں پڑے کہ کہاں کمپرومائز ہوا، کہاں مس مینجمنٹ ہوئی، خاص طور پر لانگ مارچ کے دوران۔ وجہ صرف یہ تھی کہ ایک تجربہ کار اور منجھے ہوئے نظام کے مقابلے میں ایک نئی تحریک سے ہر وقت مکمل کارکردگی کی توقع رکھنا حقیقت پسندانہ بات نہیں۔ مگر اس کا یہ مطلب بھی ہرگز نہیں کہ کسی غلطی یا نامناسب عمل پر آنکھیں بند کر لی جائیں۔
ایکشن کمیٹی کسی ایک شخصیت کا نام نہیں بلکہ عوامی پلیٹ فارم ہے۔ عمر نزیر صاحب خود بھی اکثر شخصی نعرے لگانے سے روکتے رہے ہیں، اسی لیے امید یہی ہے کہ وہ وسیع ظرفی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس اتحاد کو ٹوٹنے سے بچانے میں اپنا کردار ادا کریں گے۔
یہ بحث کہ آڈیو لیک کس نے کی، کیوں کی اور کس مقصد کے لیے کی، اب شاید زیادہ فائدہ مند نہیں رہی۔ اصل ضرورت ان مسائل کو حل کرنے کی ہے جو امان سے متعلق کافی عرصے سے موجود ہیں مگر ہمیشہ دبا دیے گئے۔ اگر کوئی شکایات یا تحفظات ہیں تو وہ عوام کے سامنے واضح کیے جائیں تاکہ کنفیوژن ختم ہو۔ حقیقت یہ بھی ہے کہ خاص طور پر سدھنوتی کے لوگ امان کو پسند کرتے ہیں اور اگر وہ چاہتے ہیں کہ ان کی آواز امان کے ذریعے سنی جائے تو اس میں اعتراض کی کیا بات ہے؟ اگر کوئی شخص ایکشن کمیٹی کے ایس او پیز کے اندر رہتے ہوئے عوام کی نمائندگی کرنا چاہتا ہے تو اس پر اختلاف کی وجہ سمجھ سے بالاتر ہے۔ جب وزیر اعظم کے استقبال میں ہار لے کر کھڑے ہونے والے افراد بھی ایکشن کمیٹی کے اسٹیج سے بات کر سکتے ہیں تو پھر دوسروں کے لیے الگ معیار کیوں؟
Sardar Umar Nazir Official
09/05/2026
سہولت کار اِس بات پر خوش ہو رہے ہیں کہ ایکشن کمیٹی اور امان الگ الگ پروگرام کر رہے ہیں ، سمجھنے والی بات یہ ہے کہ دونوں طرف لوگ سہولت کاروں کے خلاف جمع ہیں ۔۔
09/05/2026
آپکو اچھا لگے یا برا ، لاکھ اختلاف کی باتیں سامنے آئیں ، چاہے حقیقت یا پروپیگنڈا ۔۔ایکشن کمیٹی کو تاجر کمیٹی اور کور ممبران کو دکاندار کہہ لیں آپ ۔۔مگر ایک بات واضح نظر آرہی ہے کہ عوام کا رجحان نسبتاً ایکشن کمیٹی کی زیادہ ہے اور اسکا تناسب بھی سیاسی جماعتوں کے موازنے میں ٹھیک ٹھاک زیادہ ہے ۔ ایسا کیوں ہے ؟ سوچئے