11/09/2021
Adorable view of Main Campus
Give us your most heart felt, disgusting, hilarious, filthy, and embarrassing confessions from UPR! Inbox us ur confessions n it will be posted ANONYMOUSLY
11/09/2021
Adorable view of Main Campus
Just for entertainment purpose
Enjoy your night with amazing lyrics of NFAK
ہنگامہ ہے کیوں برپا تھوڑی سی تو پی لی ہے
Hello people's
We are Back
21/04/2020
Quarantine Days
Please be aware of needy ones from your Surrounding
Dedicated to Someone
Class of 2017 Pharmacy
21/04/2020
10/03/2020
یونیورسٹی آف دی پونچھ راولاکوٹ ڈائریکٹر سٹوڈنٹس افئیرز آفس سے ضلعی انتظامیہ کو جاری مکتوب۔جس میں 13 گرلز ہاسٹلوں میں داخل طالبات کی تعداد کو ظاہر کیا گیا ہے۔۔۔مکتوب میں پہلے دو ہاسٹلوں کو یونیورسٹی کے زیر انتظام چلایا جانا ظاہر کیا گیا ہے جن میں 165 طالبات رہائش پذیر ہیں۔۔جبکہ بقیہ 11 گرلز ہاسٹلوں کو پرائیویٹ ظاہر کرتے ہوئے طالبات کی تعداد انتظامیہ کو بتائی گئی ہے۔۔جو کہ کل 579 بنتی ہے۔۔مکتوب کے مطابق عیشہ گرلز ہاسٹل جس میں 30 طالبات رہائش پذیر ہیں کے سوا 10 ہاسٹل یونیورسٹی آف پونچھ کے ملازمین چلا رہے ہیں۔جنہوں نے انتظامیہ سے کوئی اجازت نامہ نہیں لے رکھا۔۔۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر پہلے دو ہاسٹلوں کو یونیورسٹی کے زیر انثظام تسلیم لیا جائے تو ڈی ایس آے موصوف یا نام نہاد نگران کمیٹی یہ بتانا پسند کریں گے کہ صرف کزشتہ ایک سال کا نفع جو لگھ بھگ 60 لاکھ روپے بنتا ہے ادارے کے اکاونٹ میں جمع ہوا یا نہیں؟؟؟؟اگر نہیں تو کس کے اکاونٹ میں گیا؟؟؟؟؟ ان دو ہاسٹلوں میں جو ایشوز منظر عام پر آئے ان کا زمہ دار کون؟؟؟؟؟ یہاں سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ بقیہ 10 ہاسٹل جو یونیورسٹی کے ملازمین چلا رہے ہیں کس معائدے کے تحت طالبات کو یہاں داخل کیا جاتا ہے یا یہ ملازمین و پروفیسر صاحبان بلیک میلنگ پر داخلے حاصل کرتے ہیں؟؟؟ ایک سوال یہ بھی ہے کہ یونیورسٹی انتظامیہ کا سارا زور طالبات ہاسٹلوں پر کیوں ہے؟؟؟یونیورسٹی میں زیر تعلیم طلبہ ادارے کی زمہ داری میں نہیں آتے؟؟؟
سلام و علیکم
آج ایک بہت اہم موضو زیرِ بہث ہے جس میں میں آپ کو جامعات کی فیس کے حوالے سے بتاتا چلوں۔
اگر ہم آزاد کشمیر کی جامعات کی بات کریں تو مظفرآباد جامعہ کی سمر سمسٹر کی فیس 4000 روپے فی بندہ جو کہ سمر لگا رہا ہے ادا کرتا ہے چاہے 10 طلبہ ہوں یا 20۔
جامعہ میرپور میں 4500 فی سٹوڈنٹ ہے اور جامعہ راوالاکوٹ 4000 ہے جبکہ جامعہ کوٹلی میں 5000 فی طالب علم ہے۔
اگر ری انرولمنٹ کی بات کریں تو باقی جامعات میں 2000 یا زیادہ سے زیادہ 3000 ہے جبکہ جامعہ کوٹلی 5000 ہے۔
باقی فیسیں بھی دیگر جامعات سے کوٹلی میں زیادہ لی جاتی ہیں۔
سرکاری جامعات ہونے کے باوجود بھی طلبہ اتنی زیادہ فیس دے رہے ہیں جو کہ بہت بڑا ظلم ہے۔ کیا کوئ بھی اِن لٹیروں کو پوچھنے والا نہی ہر جامعہ میں الگ الگ مافیا بیٹھا ہے جو اپنی مرضی سے فیسوں پر پالیسیاں بنا رہا ہے۔ کیا یہ جو پالیسیاں بن رہی ہیں ایچ ای سی کی پالیسیوں کے خلاف نہی؟
آج ایک غریب کا بچہ اعلٰی تعلیم سے محروم نہی ہو رہا یہ مافیا کب تک اس سسٹم کو کھوکھلا کرتا رہے گا
زرا سوچیۓ اور اس تحریر کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں تا کہ حکام بالا تک طلبہ کے ساتھ ظلم کرنے والے مافیا بے نقاب ہو سکیں
شکریہ