07/04/2024
اندلس کا آخری مسلم حکمران 2 جنوری 1492 کو جب غرناطہ عیسائیوں کے حوالے کر کے شہر سے روانہ ہوا تو اس نے آخری بار مڑ کر شہر کی طرف دیکھا اور رونے لگا. یہ ایک غمگین حکمران کے آنسو تھے جو اپنے تخت، اپنی حکومت، اپنی رعایا اور اپنا سب کچھ کھو جانے کے سبب بہہ نکلے تھے. مگر کہا جاتا ہے کہ بجائے اس کو تسلی دینے کے اس کی والدہ نے یہ تاریخی الفاظ کہے کہ *عورتوں کی طرح اس پر مت رو جس کا تم مردوں کی طرح دفاع نہ کرسکے*
حکمران تو کچھ دولت لے کر مسلم دنیا کے طرف کوچ کر گیا مگر غرناطہ اور اس کے گرد و نواح میں اب بھی کم و بیش پانچ لاکھ مسلمان موجود تھے. ان کو عیسائیت کی طرف راغب کرنے کے لیے حکمرانوں نے انعام کی لالچ دینا شروع کی جس کے بعد ایک قلیل تعداد نے اسلام چھوڑ کر عیسائیت قبول کی. مگر پادریوں اور حکومتی اہلکاروں کی پریشانی اس وقت بڑھ گئی جب چند دنوں بعد ان کو پھر مسجدوں سے نکلتا دیکھا. کہا جاتا ہے وہ عیسائیت قبول کرتے، مال و دولت لیتے اور پھر اسلام پر ہی عمل پیرا رہتے.
1499 میں حکومت نے لوگوں کو زبردستی عیسائی کرنے کا عمل شروع کیا، بقول بیشپ فران سسکو کے *اگر یہ کافر ہدایت کی راہ کی طرف نہیں آتے تو ان کو گھسیٹ کر ہدایت کی طرف لانا پڑے گا*. اس کا فطری نتیجہ شہری بغاوت تھی مگر جلد ہی انہیں حکومتی مشینری اور افواج نے گھیرے میں لے لیا اور دو حل دیے، یا تو موت قبول کرو یا عیسائیت کی پناہ میں اکر معافی حاصل کرو. دیہاتوں میں بغاوت جاری رہی جس کو کچھ سالوں میں کچل دیا گیا جبکہ شہریوں کی اکثریت نے قانونی طور پر عیسائیت قبول کرلی.
مگر کیونکہ لوگ عقلی اور دلی طور پر اسلام کو ہی راہ نجات سمجھتے تھے اس لیے گھروں میں اسلام پر ہی عمل پیرا رہے. 1502 میں اسلام پر پابندی لگا دی گئی، 1511 میں اسلامی ذبیحہ جرم بن گیا، 1513 میں نقاب خلاف قانون قرار پایا جبکہ 1523 میں اسلامی لباس ہی غیر قانونی قرار دے دیا گیا.
خبر ملی کہ جمعہ کو یہ لوگ لازمی نماز کی ادائیگی کرتے ہیں تو پھر حکومت نے جمعہ کے دن ان نئے عیسائیوں کو نہ غسل خانے استعمال کرنے کی اجازت دی اور نہ ہی دروازے بند کرنے کی.پھر 1526 میں عربی زبان بھی کلعدم قرار دے دی گئی.
شادیوں میں *پرانے عیسائیوں* کی شرکت لازمی تھی تاکہ عیسائی رسومات پر عمل یقینی بنایا جاسکے، جس پر زیادہ شک ہوتا اس کو خنزیر کا گوشت کھا کر اپنی عیسائیت ثابت کرنی پڑتی.
اس دوران بےشمار لوگ اسلام پر عمل کرتے پائے گئے، ان کو گرفتار کر کے ازیت اور ٹارچر سے گزارا جاتا مگر اس کے باوجود لوگ چھپ چھپ کر اسلام پر ہی عمل پیرا رہے.
ان تمام اعمال کے بعد بھی جب اسپین کی حکومت کو ان کے عیسائی ہونے پر یقین نہ ہوسکا تو بیورکریسی کی مخالفت کے باوجود 1609 میں بادشاہ فلپ ان تمام لوگوں کو ملک بدر کرنے کا فیصلہ کرلیا.
یہ 100 سال بعد جو لوگ ملک بدر کیے جارہے تھے ان کی اکثریت نے آنکھ کھلتے ہی عیسائی نام پایا تھا، یہ باقاعدگی سے اتوار کو چرچ بھی جاتے تھے. ان کو جتنا اسلام ملا وہ رات کی تاریکی میں، چار دیواری میں سرگوشیوں کی صورت میں ملا تھا. مگر اس اسلام کی طاقت تو دیکھیں کہ غرناطہ کے حکمرن کے برخلاف انہوں نے بنا کسی معرکے کے ہار نہیں مانی.
ساوتھ اسپین کے مختلف علاقوں میں بغاوت شروع ہوئی اور 100 سالوں بعد پہلی بار اسپین کی وادیوں میں اذانیں گونجنے لگی. مگر نہتے شہری آخر کب تک منظم اور مسلح افواج کا مقابلہ کرپاتی؟ 1614 تک تمام باغیوں کا صفایا ہوچکا تھا اور تمام مسلمان ہجرت کر کے مسلم علاقوں کی طرف جاچکے تھے. وہ دن اور آج کا دن ہے کہ اسپین کی وادیاں اذانوں سے اور اسلام کے عادلانہ نطام سے محروم ہے. اللہ سے دعا ہے کہ ہمیں یہ سعادت دے کہ پھر سے مسلم سرزمین میں خلافت قائم کر کے اسپین کی طرف پیش قدمی کرسکے، کیونکہ اندلس کی وادیاں اب بھی ہمیں یاد کرتی ہیں.