29/10/2025
(کمپیوٹرائزیشن میں سب سے بڑی رکاوٹ پلرا کی اجارہ داری ہے)............ ۔
جب پلرا نے تمام تر سروسز پٹواری کی رپورٹ اور تحصیلدار کی تصدیق کے بعد ہی دینی ہیں تو پھر دیہی مرکز مال پر اختیارات محدود کیوں ہیں ۔
پلرا ریونیو ریکارڈ کو کمپیوٹرائزڈ نظام میں منتقل کرنے کے لیے ایک عارضی اتھارٹی بنائی گئی لیکن 21 سال گزرنے کے باوجود نہ تو پنجاب کا ریونیو ریکارڈ ہی مکمل طور پر کمپیوٹرائزڈ ہو سکا اور نہ ہی سائلین کو خاطر خواہ سہولیات فراہم کی جا سکیں۔
جس کی وجہ سراسر پلرا کی کمپیوٹرائزڈ نظام پر اجارہ داری اور ریونیو معاملات میں مداخلت اور ریونیو فیلڈ اسٹاف پر عدم اعتماد ہے۔
ٹھیک ہے اگر کوئی کھاتہ 1/1 ہے تو کمپیوٹرائزڈ نظام سے اس کھاتے کی فردات کا اجراء اور انتقالات کا اندراج باآسانی کیا جا سکتا ہے لیکن کھاتہ برابر نہ ہونے کی صورت میں سوائے کھاتہ بلاک کرنے کے اراضی ریکارڈ سنٹر پر کوئی اختیار موجود نہیں ہے ۔
آپ سوچتے ہونگے اراضی ریکارڈ سنٹر پر ریکارڈ درستگی کر کے فرد بدر پاس کرنے کا اختیار تو موجود ہے تو آپ ہی مجھے بتائیں کیا پٹواری کی رپورٹ کے بغیر یہ ممکن ہے ؟
نہیں نا!
تو جب پٹواری کی رپورٹ اور تحصیلدار کی تصدیق کے بغیر یہ ممکن نہیں تو پھر انھیں فرد بدر بنا کر ریکارڈ درستگی کرنے اور عملدرآمد کر کے سائلین کو سہولت فراہم کرنے کے اختیار سے کیوں محروم رکھا گیا ہے ؟
سوچیں اگر پٹواری کہ جس کے پاس مینول ریکارڈ موجود ہے ۔ شجرہ کے مطابق موقع پر قبضہ کی رپورٹ بھی ہے اور پٹواری حقداران اور پتی داران سے بھی بخوبی واقف ہے اسی طرح کس کھاتے دار کا کتنا ابیانہ زیر طلب ہے تو جب پٹواری نمبردار اس کی رپورٹ تیار کریں گے اور تحصیلدار موقع اور ریکارڈ کی تصدیق کرے گا اور ساتھ ہی عملدرآمد کر کے ایک ہی جگہ پر بیٹھے بیٹھے سائلین کو سہولیات فراہم کرے گا تو کمپیوٹرائزڈ نظام کتنی تیزی سے کارگر ثابت ہو گا ۔
ریکارڈ تو وہی ہو گا جو دیہی مرکز مال پر اپڈیٹ کر دیا جائے گا ۔
پھر 1/1 ریکارڈ کو یونیورسل ایکسیس کے ذریعے جہاں سے مرضی سہولیات فراہم کی جا سکیں گی ۔
لیکن اس کے لیے پلرا کے مطابق پلرا کی اجارہ داری اجارہ داری کو شدید خطرہ لاحق ہو سکتا ہے جو کہ سراسر غلط فہمی ہے ۔
ہاں البتہ پلرا کے سروس چارجز میں کمی ضرور آ سکتی ہے ۔ کیونکہ جب ریکارڈ درستگی مینول اسٹاف کریں گے پہلی مرتبہ وراثتی انتقالات مینول اسٹاف درج و تصدیق کریں اور ریکارڈ اپڈیٹ بھی مینول ریونیو اسٹاف ہی کریں گے تو پھر پلرا کے دفاتر کے 9 سے 4 محدود اوقات میں کون ٹوکن لے کر صرف رپورٹ پرفارما لینے جائے گا ۔
ریونیو عملہ جو کہ پہلے ہی 24/7/365 کام کرنے کا عادی ہے سائلین کو کیوں نہ دن رات سروسز مہیاء کرے گا
اسی طرح سب رجسٹرار کے اختیارات کو بھی محدود رکھا گیا ہے اگر سب رجسٹرار کے لاگن میں کوئی رجسٹری سینڈ کی جاتی ہے اور اس میں کسی بھی قسم کی ٹائپنگ کی غلطی ہو جائے تو اس کی درستگی کرنے یا اجازت دینے کا اختیار بھی سب رجسٹرار کے پاس نہیں ہے جبکہ اراضی ریکارڈ پر موجود سروس سنٹر انچارج کے پاس سپر لاگ ان کا اختیار ہوتا ہے اور جب چاہے تحصیلدار کے اختیارات بھی استعمال کر سکتا ہے اور سب رجسٹرار کے بھی ۔
اور سپر لاگ ان کے ملٹی ٹاسک کی آپشن کی وجہ سے بیک وقت کئی سروس سنٹر آفیشلز کے کھولے گئے ٹاسک کو مکمل بھی کر سکتا ہے ۔
تو پھر یہ اجارہ داری نہیں تو اور کیا ہے ؟