International School of English

International School of English Committed to provide an ideal learning environment for your child and ensure they are not left behind in this rapidly-evolving world.

04/04/2026
28/02/2026

جمعہ المبارک کی مناسبت سے طلباء میں جمعے کی سنتوں کے حوالے سے ایکٹیویٹی

15/02/2026

Let's join us to explore new horizons.

25/12/2025

*اولاد اور شاگردوں کو ادب سکھائیں*
حضرت امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نہر پر وضو فرما رھے تھے
کہ ان کا شاگرد بھی وضوکرنے آن پہنچا،
لیکن فوراً ہی اٹھ کھڑا ھوا اور امام صاحب سے آگے جا کر بیٹھ گیا۔
پوچھنے پر کہا
کہ دل میں خیال آیا کہ میری طرف سے پانی بہہ کر آپ کی طرف آ رہا ھے۔
مجھے شرم آئی کہ استاد میرے مستعمل پانی سے وضو کرے۔

اپنے سگے چچا حضرت عباس رضی اللہ عنہ سے رسول اللہﷺ نے پوچھا
کہ آپ بڑے ہیں یا میں؟
(عمر پوچھنا مقصود تھا)
کہا یارسول اللہﷺ بڑے تو آپ ھی ہیں البتہ عمر میری زیادہ ھے۔

مجدد الف ثانی رات کو سوتے ھوئے یہ احتیاط بھی کرتے
کہ پاؤں استاد کے گھر کی طرف نہ ھوں
اور بیت الخلا جاتے ھوئے یہ احتیاط کرتے
کہ جس قلم سے لکھ رہا ھوں اس کی کوئی سیاھی ہاتھ پر لگی نہ رہ جائے۔

ادب کا یہ انداز اسلامی تہذیب کا طرہ امتیاز رہا ھے
اور یہ کوئی برصغیر کے ساتھ ھی خاص نہ تھا
بلکہ جہاں جہاں بھی اسلام گیا اس کی تعلیمات کے زیر اثر ایسی ہی تہذیب پیدا ھوئی
جس میں بڑوں کے ادب کو خاص اھمیت حاصل تھی
کیوں کہ رسول اللہﷺ کا یہ ارشاد سب کو یاد تھا
*کہ جو بڑوں کا ادب نہیں کرتا اور چھوٹوں سے پیار نہیں کرتا وہ ھم میں سے نہیں۔*

ابھی زیادہ زمانہ نہیں گزرا
کہ لوگ ماں باپ کے برابر بیٹھنا،
ان کے آگے چلنا اور ان سے اونچا بولنا برا سمجھتے تھے
اور اُن کے حکم پر عمل کرنا اپنے لیے فخر جانتے تھے۔
اس کے صدقے اللہﷻ انہیں نوازتا بھی تھا۔
اسلامی معاشروں میں یہ بات مشہور تھی
کہ جو یہ چاہتا ھے کہ اللہﷻ اس کے رزق میں اضافہ کرے
وہ والدین کے ادب کا حق ادا کرے۔
اور جو یہ چاہتا ھے کہ اللہﷻ اس کے علم میں اضافہ کرے وہ استاد کا ادب کرے۔

ایک دوست کہتے ہیں کہ
میں نے بڑی مشقت سے پیسہ اکٹھا کر کے پلاٹ لیا تو والد صاحب نے کہا
کہ بیٹا تمہارا فلاں بھائی کمزور ھے
یہ پلاٹ اگر تم اسے دے دو تو میں تمہیں دعائیں دوں گا۔
حالانکہ وہ بھائی والدین کا نافرمان تھا۔
اس (دوست) کا کہنا ھے کہ
عقل نے تو بڑا سمجھایا کہ یہ کام کرنا حماقت ھے
مگر میں نے عقل سے کہا کہ اقبال نے کہا ھے،
*اچھا ھے دل کے ساتھ رھے پاسبان عقل*
*لیکن کبھی کبھی اسے تنہا بھی چھوڑ دے،*
چنانچہ عقل کو تنہا چھوڑا اور وہ پلاٹ بھائی کو دے دیا۔
کہتے ہیں کہ والد صاحب بہت خوش ھوئے
اور انہی کی دعا کا صدقہ ھے کہ آج میرے کئی مکانات اور پلازے ہیں
جب کہ بھائی کا بس اسی پلاٹ پر ایک مکان ھے۔

والدین کی طرح
استاد کا ادب بھی اسلامی معاشروں کی ایک امتیازی خصوصیت تھی
اور اس کا تسلسل بھی صحابہؓ کے زمانے سے چلا آرہا تھا۔

حضور ﷺ کے چچا کے بیٹے ابن عباسؓ
کسی صحابی سے کوئی حدیث حاصل کر نے جاتے تو جا کر اس کے دروازے پر بیٹھ رہتے۔
اس کا دروازہ کھٹکھٹانا بھی ادب کے خلاف سمجھتے
اور جب وہ صحابیؓ خود ھی کسی کام سے باہر نکلتے
تو ان سے حدیث پوچھتے
اور اس دوران سخت گرمی میں پسینہ بہتا رہتا، لو چلتی رہتی
اور یہ برداشت کرتے رہتے۔
وہ صحابی شرمندہ ھوتے اور کہتے
کہ آپؓ تو رسول اللہﷺ کے چچا کے بیٹے ہیں آپ نے مجھے بلا لیا ھوتا
تو یہ کہتے کہ میں شاگرد بن کے آیا ھوں، آپ کا یہ حق تھا کہ میں آپ کا ادب کروں
اور اپنے کا م کے لیے آپ کو تنگ نہ کروں۔

کتنی ھی مدت ھمارے نظام تعلیم میں یہ رواج رہا
(بلکہ اسلامی مدارس میں آج بھی ھے)
کہ ہر مضمون کے استاد کا ایک کمرہ ھوتا، وہ وہیں بیٹھتا اور شاگرد خود چل کر وہاں پڑھنے آتے جب کہ اب شاگرد کلاسوں میں بیٹھے رہتے ہیں
اور استاد سارا دن چل چل کر ان کے پاس جاتا ھے۔

مسلمان تہذیبوں میں یہ معاملہ صرف والدین اور استاد تک ھی محدود نہ تھا
بلکہ باقی رشتوں کے معاملے میں بھی ایسی ھی احتیاط کی جاتی تھی۔
وہاں چھوٹا، چھوٹا تھا اور بڑا، بڑا۔
چھوٹا عمر بڑھنے کے ساتھ بڑا نہیں بن جاتا تھا بلکہ چھوٹا ھی رہتا تھا۔

حضرت ابن عمرؓ جا رہے تھے کہ ایک بدو کو دیکھا۔
سواری سے اترے، بڑے ادب سے پیش آئے اور اس کو بہت سا ہدیہ دیا۔
کسی نے کہا کہ
یہ بدو ہے تھوڑے پہ بھی راضی ھو جاتا آپ نے اسے اتنا عطا کر دیا۔
فرمایا کہ یہ میرے والد صاحب کے پاس آیا کرتا تھا
تو مجھے شرم آئی کہ میں اس کا احترام نہ کروں۔

اسلامی تہذیب کمزور ھوئی تو بہت سی باتوں کی طرح حفظ مراتب کی یہ قدر بھی اپنی اھمیت کھو بیٹھی۔
اب برابری کا ڈھنڈورا پیٹا گیا اور بچے ماں باپ کے برابر کھڑے ھوگئے اور شاگرد استاد کے برابر۔

31/10/2025

Our young learners are not only shining in academics but also actively participating in co-curricular activities and games that help them grow in every way. 🌟

🏃‍♂️ Benefits of Co-Curricular Activities:
✅ Develop teamwork and leadership skills
✅ Boost confidence and creativity
✅ Improve physical fitness and mental health
✅ Build discipline and time management habits
✅ Encourage social interaction and communication

At our school, we believe education goes beyond textbooks — it’s about nurturing confident, active, and well-rounded individuals ready to take on the world! 💪✨


Heartfelt congratulations to our outstanding student for achieving A+ marks in Matric! This remarkable accomplishment is...
24/07/2025

Heartfelt congratulations to our outstanding student for achieving A+ marks in Matric! This remarkable accomplishment is a testament to your hard work, dedication, and perseverance.This achievement reflects the student's commitment to academic excellence and the school's efforts to foster a supportive learning environment.We are incredibly proud of you and wish you continued success in your future endeavors.

Address

International School Of English Raiwind
Raiwind
55150

Opening Hours

Monday 08:15 - 13:45
Tuesday 08:15 - 13:45
Wednesday 08:15 - 13:45
Thursday 08:15 - 13:45
Friday 08:15 - 12:00
Saturday 08:15 - 13:45

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when International School of English posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category