Kids Playgroup & Montessori House Raiwind

Kids Playgroup & Montessori House Raiwind Welcome to Kids Playgroup and Montessori House

Free Admissions in Ramzan
04/03/2026

Free Admissions in Ramzan

04/03/2026

Free Admissions in our Montessori
Only
in
Ramzan ul Mubarak

23/01/2026
03/01/2026

یہ بات سمجھ لینا بہت ضروری ہے کہ بچوں کے جوتے خود پالش کرنا، انہیں خود جرابیں پہنانا، کھانا لا کر پیش کرنا، اور ان کے گندے برتن خود اٹھانا—اور پھر یہ توقع رکھنا کہ وہ عملی زندگی میں ذمہ دار انسان بنیں گے—محض ایک خوش فہمی ہے۔
ماں بنیں، ملازم نہیں۔
آپ کھانا ضرور پکائیں، مگر پلیٹ کچن سے اٹھا کر میز تک لانا بچوں کی ذمہ داری ہونی چاہیے۔ کھانے کے بعد گندے برتن واپس کچن میں رکھنا بھی وہی سیکھیں؛ آپ چاہیں تو انہیں دھو دیں، مگر ذمہ داری کا احساس انہی کے اندر پیدا ہو گا۔ دوسری جماعت کے بعد بچے اپنے جوتے خود پالش کریں، اپنی جرابیں خود پہنیں، اور اپنی چھوٹی چھوٹی ضرورتوں کے لیے دوسروں پر انحصار نہ کریں۔
یاد رکھیے، ذمہ داری سکھائی جائے تو ہی آتی ہے۔
بچوں کو ہر کام میں سہولت دے کر، ہر مشکل سے بچا کر، ہم دراصل ان کے لیے ایک کمزور اور خود غرض شخصیت تیار کر رہے ہوتے ہیں۔ پھر یہی لاڈ آگے چل کر بدتمیزی، ضد، نافرمانی اور بدزبانی کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔ ابتدا میں تھپڑ، اور بعد میں زبانیں کھلنے پر گالیاں—یہ سب اسی غلط پرورش کا تسلسل ہے۔
اولاد یقیناً اللہ کی عظیم نعمت ہے، مگر نعمت وہی ہے جو تابع دار اور بااخلاق ہو۔
نافرمان، خود سر اور بے لگام اولاد کو دنیا کے حوالے کر کے جانا کسی صورت دانش مندی نہیں۔ حتیٰ الامکان ان کی غلطیوں پر مزاحمت کریں، انہیں روکیں، سمجھائیں، اور اصول سکھائیں۔
جس طرح آپ محبت سے ان کی سالگرہوں، کامیابیوں اور خوبصورت لمحات کا ریکارڈ محفوظ رکھتی ہیں، اسی طرح ان کی نافرمانیوں، بدتمیزیوں اور غلط رویّوں کا بھی ایک ذہنی ریکارڈ رکھیں۔
کل جب یہی بچے اپنی بیوی، شوہر یا اولاد سے اطاعت اور فرمانبرداری کا مطالبہ کریں گے، تو یہ تربیت—یا اس کی کمی—ان کے سامنے آئینہ بن کر کھڑی ہو جائے گی۔

اچھی ماں وہ نہیں جو ہر کام خود کر دے،
بلکہ وہ ہے جو اپنے بچوں کو اچھا انسان بننے کا سلیقہ سکھا دے۔
( کاپی )

kon kon agree krta ha is post se ????

Mohid Azam Ali ......Welcome to our Montessori
04/09/2025

Mohid Azam Ali ......
Welcome to our Montessori

تحریر لمبی ہے۔پر  گزارش ہےایک بار ضرور پڑھیں اس صدی کی کمزور ترین نسلایک سخت مگر سچائی سے بھرپور آئینہ۔۔۔وہ نسل جو سن 20...
29/08/2025

تحریر لمبی ہے۔پر گزارش ہےایک بار ضرور پڑھیں
اس
صدی کی کمزور ترین نسل
ایک سخت مگر سچائی سے بھرپور آئینہ۔۔۔
وہ نسل جو سن 2000 کے بعد پیدا ہوئی۔۔۔
آج 23، 24 سال کی عمر میں ہے۔۔۔
مگر یہ انسانی تاریخ کی سب سے کمزور، ناتواں اور نفسیاتی دباؤ کا شکار نسل ہوچکی ہے۔
جسمانی طور پر لاغر۔۔۔
ذہنی طور پر منتشر۔۔۔
اور تربیت سوشل میڈیا سے حاصل کی گئی ہے، نہ کہ بزرگوں سے۔
📱 ہر وقت موبائل فون، اسکرین، ٹک ٹاک، انسٹاگرام۔۔۔
📉 نتیجہ؟
گردن میں خم
آنکھوں میں کمزوری
جسم میں طاقت کی کمی
رشتوں میں برداشت کی عدم موجودگی
اور صفر جذباتی ذہانت (EQ)
💥 یہ وہ نسل ہے جو پانچ کلومیٹر پیدل نہیں چل سکتی،
دھوپ میں آدھا گھنٹہ کھڑے ہو کر گزار نہیں سکتی،
چھوٹا سا اختلاف ہو تو بلاک، ان فالو، اور رشتہ ختم۔
🧠 سب کچھ فوری چاہئے ۔۔۔
صبر صفر، غصہ 100%
👈 مغرب میں انہیں Boomerang Generation کہا جا رہا ہے۔
کیونکہ یہ باہر رہ کر زندہ نہیں رہ سکتے، اور واپس ماں باپ کے گھروں میں آرہے ہیں۔
پاک و ہند میں یہ نسل TikTok Generation کہلاتی ہے۔۔۔
جنہیں نہ تہذیب، نہ زبان، نہ مقصد، نہ غیرت، نہ ایمان کی فکر ہے۔
اور ذرا سوچیں۔۔۔
اگر اللّٰہ نہ کرے، قوم پر کبھی غزہ، شام، عراق، یا یمن جیسی آزمائش آگئی۔۔۔
تو کیا یہ نسل زندہ رہ سکے گی؟
🔥 لکڑی سے آگ جلانا تو دور،
انہیں مشرق اور مغرب کا فرق بھی نہیں پتہ،
یہ سروائیول تو چھوڑیں، سوشل میڈیا ڈاؤن ہوجائے تو پاگل ہوجاتے ہیں!
ابھی وقت ہے بیداری کا،
💪 اپنی نسل کو بچائیں
📚 انہیں قرآن، سیرت، غیرت، حیا، قربانی اور جدوجہد سکھائیں. مقصد دیں، ورنہ یہ دنیا انہیں گمراہ کردے گی
یہ تحریر ایک *سخت تنقیدی مگر اصلاحی پیغام* ہے، جو سن 2000 کے بعد پیدا ہونے والی نوجوان نسل کے حالات پر روشنی ڈالتی ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ:

خلاصہ:
- *نوجوان نسل* جسمانی، ذہنی اور جذباتی طور پر کمزور ہو چکی ہے۔
- *سوشل میڈیا* نے ان کی تربیت اور طرزِ زندگی کو متاثر کیا ہے۔
- *صبر، برداشت، غیرت اور مقصد* کی کمی نمایاں ہے۔
- *مشکلات اور آزمائشوں* میں ان کی کمزوری اُجاگر کی گئی ہے۔
- *والدین، اساتذہ اور معاشرے* سے اپیل ہے کہ:
- قرآن، سیرت، اور روایتی اقدار کی تعلیم دوبارہ زندہ کی جائے۔
- نسل کو *دین، حیا، غیرت، قربانی، اور مقصد* سکھایا جائے۔

تبصرہ:
یہ پیغام صرف ملامت نہیں بلکہ *اصلاح اور ذمہ داری کی دعوت* بھی ہے۔ سوشل میڈیا، آسانی اور عیش پرستی نے جہاں نوجوانوں کی بہت سی صلاحیتوں کو دبایا ہے، وہیں یہ بھی حقیقت ہے کہ *درست رہنمائی اور عملی تربیت* سے یہ نسل دوبارہ اٹھ سکتی ہے — اگر مقصد دیا جائے۔

نتیجہ:
ملامت سے زیادہ ضرورت *رہنمائی، رول ماڈل، اور تعلق کی ہے*۔ اگر نوجوان نسل کمزور ہے، تو انہیں تنقید سے نہیں بلکہ *سمجھا کر، سکھا کر اور ساتھ لے کر* بہتر بنایا جا سکتا ہے۔
copied

Address

Raiwind

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Kids Playgroup & Montessori House Raiwind posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The School

Send a message to Kids Playgroup & Montessori House Raiwind:

Shortcuts

Share

Category