17/06/2026
خود کفیل زندگی
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : گناہوں میں کچهہ گناه ایسے ہیں جن کو نماز اور روزه اور حج اور عمره دور نہیں کرتے ان کو دور کرنے والی چیز معاش کے حصول کی فکر کرنا ہے- (رواه ابن عساکر و ابو نعیم فی الحلیتہ)
اس حدیث میں گناه سے مراد وه نفسیاتی کمزوریاں ہیں جو اکثر معاشی ذرائع کی کمی کی وجہ سے پیدا هوتی ہیں- مثلا بخل، حسد، تنگ ظرفی، وعده خلافی وغیره- انسانوں میں بعض ایسے بهی هوتے ہیں جو حالات سے بے نیاز هو کر اعلی اخلاق کا ثبوت دے سکیں- مگر ایسے لوگ ہمیشہ بہت کم پائے گئے ہیں- بیشتر لوگوں کا حال یہ ہے کہ مال ان کے لئے اخلاقی مدد گار کی حیثیت رکهتا ہے- اگر ان کے پاس مال هو تو وه فیاضی کا ثبوت دیں گے اور اپنی مالی ذمہ داریوں کو بخوبی طور پر ادا کریں گے- لیکن اگر وه مال سے خالی هو جائیں تو ان کا دل چهوٹا هو جاتا ہے- وه تعلقات میں اعلی ظرفی کا ثبوت نہیں دے پاتے- ان کے ذمہ لوگوں کے جو مالی حقوق هوں ان کی ادائگی میں ان سے کوتاہیاں سرزد هوتی ہیں-
کوئی شخص اپنے اندر اس قسم کی کمی پائے تو وه روزه اور نماز کی زیادتی سے اس کو ختم نہیں کر سکتا- ایک شخص جو مالی مشکلات سے دوچار هو اس کے اندر چڑچڑا پن پیدا هو جاتا ہے- چڑچڑا پن ایک ایسی اخلاقی کمزوری ہے جو بہت سی دوسری اخلاقی کمزوریوں کو جنم دیتی ہے- اس لئے جب آدمی اپنے اندر اس قسم کی کیفیت محسوس کرے تو اس کو چاہئے کہ اللہ کے بهروسہ پر معاش کے حصول کی جدوجہد میں لگ جائے-
معاشی فراغت حاصل هوتے ہی اس کا چڑچڑا پن خود بخود ختم هو جائے گا- اسی طرح جو شخص مالی مشکلات میں مبتلا هو اس کے اندر پست ہمتی آ جاتی ہے اور پست ہمتی بہت سی دوسری خرابیاں پیدا کرتی ہے- اس لئے جب آدمی اپنے اندر اس قسم کی علامت دیکهے تو اس کو چاہئے کہ معاش کی جدوجہد میں اپنی سرگرمیوں کو تیز کر دے- معاش کے حصول کے بعد خود بخود ایسا هو گا کہ اس کا پستی کا مزاج جاتا رہے گا- اسی طرح جو شخص مال کی کمی کے مسئلہ سے دوچار هو اس کے اندر " دینے " سے زیاده "لینے" کا مزاج پیدا هو جاتا ہے جو بہت سی دوسری خرابیوں کو اپنے ساتھ لاتا ہے- اس لئے جو شخص اپنے اندر اس قسم کی کمزوری دیکهے وه اپنے کو اس قابل بنانے کی کوشش شروع کر دے کہ وه لوگوں سے لئے بغیر اپنی ضرورت پوری کر سکے- جب ایسا هو گا تو خود بخود اس کی اصلاح هو جائے گی-
مطالعہ حدیث
مولانا وحیدالدین خان