امریکی پروفیسر اور اسلامی شریعت :
ڈاکٹر نوح فلڈمین (Noah Feldman) امریکہ کی ہاورڈ یونیورسٹی میں شعبہ قانون کا استاد ہے اور نیویارک ٹائمز کے میگزین سے بھی تعلق رکھتا ہے۔ اسلام کا مطالعہ اس کا خصوصی موضوع ہے اور وہ اس کے بارے میں وقتاً فوقتاً لکھتا رہتا ہے۔ کافی سال پہلے نیویارک ٹائمز کے میگزین سیکشن میں اس نے ایک مضمون لکھا، جس کا عنوان تھا "Why Sharia" (شریعت کیوں؟) اس مضمون کے کچھ اقتباسات مندرجہ ذیل ہیں :
پروفیسر فلڈمین کہتا ہے کہ نبی اکرمؐ نے جس روز مدینہ ہجرت کی اس وقت سے ۱۹۲۴ء تک، جب ترکی کے سیکولر حکمران فوجی جنرل مصطفٰی کمال نے خلافت کے اسلامی نظام حکومت کو ختم کرکے شریعت کو معطل کیا، اس وقت تک یعنی ۱۳۰۰ سال کے عرصہ دراز تک دنیا پر مسلمانوں کی حکمرانی اس لیے قائم رہی کہ ہر مسلمان مملکت میں بالعموم شریعت نافذ رہی تھی۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ عدلیہ آزاد رہی تھی، جابر سے جابر مسلمان حکمران بھی شریعت کی بالادستی، یعنی قاضی کے فیصلوں اور مفتیوں کے فتوؤں کے آگے سر جھکا دیا کرتے تھے۔ بادشاہوں کی مجبوری یہ تھی کہ اگر وہ ایسا نہ کرتے تو ان کی فوج کسی بھی دشمن کے مقابلے میں جہاد سمجھ کر دل و جان سے نہ لڑتی کیونکہ کرائے کے سپاہیوں سے دشمن کے حملوں کے خلاف کوئی بھی بادشاہ اپنی حکومت کا زیادہ عرصے تک دفاع نہیں کر سکتا۔
موجودہ دور میں اسلامی سیاست میں جہاں کہیں نفاذ شریعت کی بات کی جاتی ہے اس کا مطلب صرف یہی نہیں ہوتا کہ عورتیں حجاب یا پردہ کریں، یا یہ کہ شرعی سزاؤں اور کوڑے مارنے کے عمل کو زندہ کیا جائے، بلکہ اس میں اسلامی ریاست کے بنیادی قانون اور دستوری نوعیت کا ایک انتہائی ضروری اور ناگزیر پہلو بھی شامل ہے۔ وہ یہ کہ عام قانون پر شریعت کو اسلامی ریاست کے ملکی دستور کے طور پر بالادست رکھا جاتا ہے۔ اس کا فائدہ کیا ہے؟ اس کا جواب روایتی اسلامی حکومت کے ایک ایسے پہلو میں مضمر ہے جس کی طرف بہت کم توجہ دی گئی ہے۔ ایک ہزار سال سے زائد عرصے تک نفاذ شریعت کے تحت چلنے والی ساری حکومتیں گویا قانون کی حکمرانی کے تحت چلنے والی ریاستیں ہوا کرتی تھیں
اسلامی قانون کے تحت چلنے والی روایتی اسلامی حکومتوں کو قانون کی عملداری سے بے نیاز گزشتہ ایک صدی سے وجود میں آنے والے مطلق العنان مسلمان حکمرانوں یا بادشاہوں یا ڈکٹیٹروں کی حکومت کے مقابلے میں یہ ایک بڑا فائدہ حاصل تھا۔ اس طرح کہ اسلامی حکومت دو اعتبار سے ایک برحق حکومت سمجھی جاتی تھی۔ ایک اعتبار سے حکومت خود اپنی یہ ذمہ داری سمجھتی تھی کہ وہ اپنی رعیت کے انفرادی حقوق کا پورا پورا احترام کرے۔ دوسرے اس اعتبار سے کہ رعایا کو بھی اس پر پورا اعتماد تھا کہ حکومت ضرور بالضرور ہمارے حقوق کا احترام کرے گی۔ اس طرح کے حقوق العباد کی نوعیت حقوق اللہ سے مختلف ہوا کرتی تھی۔ اس طرح کی اسلامی حکومت اپنی رعایا کی جان و مال کی محافظ ہوا کرتی تھی۔ ساری دنیا میں صدیوں سے ہر ملک کے لوگ حکومتوں کی بے جا دخل اندازی اور من مانی کاروائیوں سے بچنے اور اپنے جان و مال کی حفاظت کے خواہشمند ہوا کرتے تھے، لیکن انہیں اس حفاظت کی گارنٹی دنیا کی کسی بھی حکومت سے نہیں مل سکتی تھی، سوائے اس حکومت کے کہ جہاں شریعت نافذ ہو۔
اس پس منظر کے تفصیلی تذکرے کے ساتھ موجودہ عالمی صورتحال کا تجزیہ کرتے ہوئے پروفیسر نوح فلڈمین لکھتا ہے کہ درحقیقت عالمی تاریخ میں اسلامی قانون سے بہتر، اعتدال، کشادہ دلی اور انسان دوستی پر مبنی قانونی اصول کہیں نہیں پائے جاتے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مغربی دنیا کے لوگوں کو اپنے نظام کی محرومیوں کو چھپانے کے لیے اس سازش کی ضرورت تھی کہ وہ اسلام اور اسلامی شریعت کو ایک دہشت ناک چیز بنا کر دنیا کو دکھائیں تاکہ لوگ اسلام کو برا اور مغربی دنیا کو اچھا سمجھنے لگیں..
Copied!!
Knowledge World
Knowledge videos,audios and pages are share.
بشر بن حارث.......
بغداد کے مشہور شراب خانے کے دروازے پر دستک ہوئ, شراب خانے کے مالک نے نشے میں دُھت ننگے پاؤں لڑکھڑاتے ہوئے دروازہ کھولا تو اُس کے سامنے سادہ لباس میں ایک پر وقار شخص کھڑا تھا مالک نے اُکتائے لہجہ میں کہا
" معذرت چاہتا ہوں سب ملازم جا چکے ہیں یہ شراب خانہ بند کرنے کا وقت ہے آپ کل آئیے گا "
اس سے پہلے کہ مالک پلٹتا, اجنبی نے اُس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا
" مجھے بشر بن حارث سے ملنا ہے اُس کے نام بہت اہم پیغام ہے "
شراب خانے کے مالک نے چونک کر کہا
بولیے ! میرا نام ہی بشر بن حارث ہے
اجنبی نے بڑی حیرت سے سر سے لے کر پاؤں تک سامنے لڑکھڑاتے ہوئے شخص کو دیکھا اور بولا
کیا آپ ہی بشر بن حارث ہیں ؟؟
مالک نے اُکتائے ہوئے لہجے میں کہا
کیوں کوئ شک ؟؟
اجنبی نے آگے بڑھ کر اُس کے ہاتھوں کو بوسہ دیا اور بولا
سُنو بشر بن حارث !
خالقِ ارضِ وسما نے مجھے کہا ہے کہ
میرے دوست بشر بن حارث کو میرا سلام عرض کرنا اور کہنا جو عزت تم نے میرے نام کو دی تھی وہی عزت رہتی دنیا تک تمہارے نام کو ملے گی "
اتنا سُننا تھا کہ بشر بن حارث کی نگاہوں میں وہ منظر گھوم گیا جب اک دن حسبِ معمول وہ نشے میں دُھت چلا جا رہا تھا کہ اُس کی نظر گندگی کے ڈھیر پر پڑے اک کاغذ پر پڑی جس پر اسم " اللہ " لکھا تھا, بشر نے کاغذ کو بڑے احترام سے چوما صاف کر کے خوشبو لگائی اور پاک جگہ رکھ دیا اور کہا
" اے مالکِ عرش العظیم یہ جگہ تو بشر کا مقام ہے تمہارا نہیں "
بس یہی ادا بشر بن حارث کو " بشر حافی رحمت اللہ علیہ" بنا گئی۔ جس وقت آپ کو یہ پیغام ملا آپ اس وقت ننگے پاؤں تھے اور پھر آپ نے ساری زندگی ننگے پاؤں گزار دی آپ جن گلیوں سے گزرتےتھے ان گلیوں میں چوپائے بھی پیشاب نہیں کر تے تھے کہ آپ کے پاؤں گندے نہ ہو ں۔
وہی بشر حافی رحمت اللہ علیہ جس کے متعلق اپنے وقت کے امام احمد بن حنبل رحمت اللہ علیہ فرمایا کرتے تھے
" لوگوں
جس اللہ کو احمد بن حنبل رحمت اللہ علیہ مانتا ہے
بشر حافی رحمت اللہ علیہ اُسے پہچانتا ہے۔"
دوستوآپ بھی کوشش کریں کہ کہیں اخبار یا کاغذ کے کسی ٹکڑے پر اللہ پاک یا نبی پاک صلی اللہ علیہ و الہ و سلم یا مقدس ہستیوں کا نام نظر آئے تو اسے کسی پاک جگہ پر رکھ دیا کریں۔
السلام وعلیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ۔
*2پراٹھے*
ایک فکرانگیز اور متاثرکن واقعہ،
ابو نصر الصیاد نامی ایک شخص، اپنی بیوی اور ایک بچے کے ساتھ غربت و افلاس کی زندگی بسر کر رہا تھا۔ ایک دن وہ اپنی بیوی اور بچے کو بھوک سے نڈھال اور بلکتا روتا گھر میں چھوڑ کر خود غموں سے چور کہیں جا رہا تھا کہ راہ چلتے اس کا سامنا ایک عالم دین احمد بن مسکین سے ہوا، جسے دیکھتے ہی ابو نصر نے کہا؛ اے شیخ میں دکھوں کا مارا ہوں اور غموں سے تھک گیا ہوں۔
شیخ نے کہا میرے پیچھے چلے آؤ، ہم دونوں سمندر پر چلتے ہیں۔
سمندر پر پہنچ کر شیخ صاحب نے اُسے دو رکعت نفل نماز پڑھنے کو کہا، نماز پڑھ چکا تو اُسے ایک جال دیتے ہوئے کہا اسے بسم اللہ پڑھ کر سمندر میں پھینکو۔
جال میں پہلی بار ہی ایک بڑی ساری عظیم الشان مچھلی پھنس کر باہر آ گئی۔ شیخ صاحب نے ابو نصر سے کہا، اس مچھلی کو جا کر فروخت کرو اور حاصل ہونے والے پیسوں سے اپنے اہل خانہ کیلئے کچھ کھانے پینے کا سامان خرید لینا۔
ابو نصر نے شہر جا کر مچھلی فروخت کی، حاصل ہونے والے پیسوں سے ایک قیمے والا اور ایک میٹھا پراٹھا خریدا اور سیدھا شیخ احمد بن مسکین کے پاس گیا اور اسے کہا کہ حضرت ان پراٹھوں میں سے کچھ لینا قبول کیجئے۔ شیخ صاحب نے کہا اگر تم نے اپنے کھانے کیلئے جال پھینکا ہوتا تو کسی مچھلی نے نہیں پھنسنا تھا، میں نے تمہارے ساتھ نیکی گویا اپنی بھلائی کیلئے کی تھی نا کہ کسی اجرت کیلئے۔ تم یہ پراٹھے لے کر جاؤ اور اپنے اہل خانہ کو کھلاؤ۔
ابو نصر پرااٹھے لئے خوشی خوشی اپنے گھر کی طرف جا رہا تھا کہ اُس نے راستے میں بھوکوں ماری ایک عورت کو روتے دیکھا جس کے پاس ہی اُس کا بیحال بیٹا بھی بیٹھا تھا۔ ابو نصر نے اپنے ہاتھوں میں پکڑے ہوئے پراٹھوں کو دیکھا اور اپنے آپ سے کہا کہ اس عورت اور اس کے بچے اور اُس کے اپنے بچے اور بیوی میں کیا فرق ہے، معاملہ تو ایک جیسا ہی ہے، وہ بھی بھوکے ہیں اور یہ بھی بھوکے ہیں۔ پراٹھے کن کو دے؟ عورت کی آنکھوں کی طرف دیکھا تو اس کے بہتے آنسو نا دیکھ سکا اور اپنا سر جھکا لیا۔ پراٹھے عوررت کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا یہ لو؛ خود بھی کھاؤ اور اپنے بیٹے کو بھی بھی کھلاؤ۔ عورت کے چہرے پر خوشی اور اُس کے بیٹے کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی۔
ابو نصر غمگین دل لئے واپس اپنے گھر کی طرف یہ سوچتے ہوئے چل دیا کہ اپنے بھوکے بیوی بیٹے کا کیسے سامنا کرے گا؟
گھر جاتے ہوئے راستے میں اُس نے ایک منادی والا دیکھا جو کہہ رہا تھا؛ ہے کوئی جو اُسے ابو نصر سے ملا دے۔ لوگوں نے منادی والے سے کہا یہ دیکھو تو، یہی تو ہے ابو نصر۔ اُس نے ابو نصر سے کہا؛ تیرے باپ نے میرے پاس آج سے بیس سال پہلے تیس ہزار درہم امانت رکھے تھے مگر یہ نہیں بتایا تھا کہ ان پیسوں کا کرنا کیا ہے۔ جب سے تیرا والد فوت ہوا ہے میں ڈھونڈتا پھر رہا ہوں کہ کوئی میری ملاقات تجھ سے کرا دے۔ آج میں نے تمہیں پا ہی لیا ہے تو یہ لو تیس ہزار درہم، یہ تیرے باپ کا مال ہے۔
ابو نصر کہتا ہے؛ میں بیٹھے بٹھائے امیر ہو گیا۔ میرے کئی کئی گھر بنے اور میری تجارت پھیلتی چلی گئی۔ میں نے کبھی بھی اللہ کے نام پر دینے میں کنجوسی نا کی، ایک ہی بار میں شکرانے کے طور پر ہزار ہزار درہم صدقہ دے دیا کرتا تھا۔ مجھے اپنے آپ پر رشک آتا تھا کہ کیسے فراخدلی سے صدقہ خیرات کرنے والا بن گیا ہوں۔
ایک بار میں نے خواب دیکھا کہ حساب کتاب کا دن آن پہنچا ہے اور میدان میں ترازو نصب کر دیا گیاہے۔ منادی کرنے والے نے آواز دی ابو نصر کو لایا جائے اور اُس کے گناہ و ثواب تولے جائیں۔
کہتا ہے؛ پلڑے میں ایک طرف میری نیکیاں اور دوسری طرف میرے گناہ رکھے گئے تو گناہوں کا پلڑا بھاری تھا۔
میں نے پوچھا آخر کہاں گئے ہیں میرے صدقات جو میں اللہ کی راہ میں دیتا رہا تھا؟
تولنے والوں نے میرے صدقات نیکیوں کے پلڑے میں رکھ دیئے۔ ہر ہزار ہزار درہم کے صدقہ کے نیچے نفس کی شہوت، میری خود نمائی کی خواہش اور ریا کاری کا ملمع چڑھا ہوا تھا جس نے ان صدقات کو روئی سے بھی زیادہ ہلکا بنا دیا تھا۔ میرے گناہوں کا پلڑا ابھی بھی بھاری تھا۔ میں رو پڑا اور کہا، ہائے رے میری نجات کیسے ہوگی؟
منادی والے نے میری بات کو سُنا تو پھر پوچھا؛ ہے کوئی باقی اس کا عمل تو لے آؤ۔
میں نے سُنا ایک فرشہ کہہ رہا تھا ہاں اس کے دیئے ہوئے دو پُراٹھے ہیں جو ابھی تک میزان میں نہیں رکھے گئے۔ وہ دو پُراٹھے ترازو پر رکھے گئے تو نیکیوں کا پلڑا اُٹھا ضرور مگر ابھی نا تو برابر تھا اور نا ہی زیادہ۔
مُنادی کرنے والے نے پھر پوچھا؛ ہے کچھ اس کا اور کوئی عمل؟ فرشتے نے جواب دیا ہاں اس کیلئے ابھی کچھ باقی ہے۔ منادی نے پوچھا وہ کیا؟ کہا اُس عورت کے آنسو جسے اس نے اپنے دو پراٹھے دیئے تھے۔
عورت کے آنسو نیکیوں کے پلڑے میں ڈالے گئے جن کے پہاڑ جیسے وزن نے ترازو کے نیکیوں والے پلڑے کو گناہوں کے پلڑے کے برابر لا کر کھڑا کر دیا۔ ابو نصر کہتا ہے میرا دل خوش ہوا کہ اب نجات ہو جائے گی۔
منادی نے پوچھا ہے کوئی کچھ اور باقی عمل اس کا؟
فرشتے نے کہا؛ ہاں، ابھی اس بچے کی مُسکراہٹ کو پلڑے میں رکھنا باقی ہے جو پراٹھے لیتے ہوئے اس کے چہرے پر آئی تھی۔ مسکراہٹ کیا پلڑے میں رکھی گئی نیکیوں والا پلڑا بھاری سے بھاری ہوتا چلا گیا۔ منادی کرنے ولا بول اُٹھا یہ شخص نجات پا گیا ہے۔
ابو نصر کہتا ہے؛ میری نیند سے آنکھ کھل گئی اور میں نے اپنے آپ سے کہا؛ اے ابو نصر آج تجھے تیرے بڑے بڑے صدقوں نہیں بلکہ
"آج تجھے تیری 2 روٹیوں نےبچا لیا".
﴿منقول﴾
آخر میں اک چھوٹی سی درخواست
پڑھنے کے بعد اسے دوسروں تک ضرور پہنچادیں تاکہ کوئی اور بھی فائدہ اٹھا سکے . . . . .
13/07/2022
جَوڑیاں کلاں ۔۔۔۔۔۔
انگریز نے 1849ء میں پنجاب پر قبضہ کر لیا۔ آپ یہ جان کر حیران ہوں گے کہ اس وقت پنجاب میں تعلیم سو فیصد تھی۔ انگریز اس تعلیم کو خطرناک سمجھتا تھا چناچہ یہ لوگ کِنگز کالج لندن کے ایک نوجوان پروفیسر گوٹلیب ولیم لیٹنر کو لاہور لے آئے۔ لیٹنر بھی ایک عجیب وغریب کردار تھا۔ یہ 50 زبانیں جانتا تھا۔ عربی، ترکی اور فارسی مقامی لوگوں کی طرح بولتا تھا ۔۔۔۔ کچھ عرصہ ”مسلمان“ بھی رہا تھا۔
◼️ اس نے داڑھی بڑھا کر اپنا نام عبدالرشید سیاح رکھا اور تمام اسلامی ملکوں کی سیاحت کی۔ وہ مسجدوں میں نماز تک پڑھ اور پڑھا لیتا تھا۔ وائسرائے نے اسے ہندوستان بلایا اور اسے پنجاب کا نظامِ تعلیم بدلنے کی ذمہ داری سونپ دی۔ لیٹنر نے پنجاب کا دورہ کیا اور وائسرائے کو لکھا ۔۔۔۔ "مجھے پڑھے لکھے پنجاب کو جاہل بنانے کے لیے 50سال درکار ہوں گے"۔
👈 وائسرائے نے اسے 50 سال دے دیے۔ اسے انسپکٹر جنرل آف سکولز پنجاب بنا دیا گیا۔ لیٹنر کو گورنمنٹ کالج لاہورکا پرنسپل بھی بنا دیا گیا۔
👈 اس نے آگے چل کر "پنجاب یونیورسٹی" کی بنیاد بھی رکھی۔ یہ ان دونوں اداروں کا ابتدائی سربراہ تھا۔ انگریز نے پنجابیوں کو غیر مسلح اور بالخصوص اَن پڑھ بنانے کے لیے پنجاب میں ”ہتھیار جمع کرائیں اور حکومت سے تین آنے لے لیں جبکہ عربی، سنسکرت، اردو اور گُورمکھی کی کتاب دیں اور چھ آنے وصول کر لیں“ جیسی سکیم بھی متعارف کرائی اور پورے پنجاب سے بالخصوص کتابیں جمع کر لیں۔
انگریز نے اس کے بعد انگریزی زبان کو سرکاری اور دفتری زبان بنا دیا اور سکولوں کو عبادت گاہوں سے الگ کر دیا۔
👈 جاگیر داروں اور زمین داروں کے بچوں کو انگلش میڈیم تعلیم دے کر متوسط طبقے کو دبانے کی ذمہ داری بھی دے دی۔ انگریزوں کو سمجھ دار، قانون پسند اور انصاف کا پیکر بنا کر پیش کرنا بھی شروع کر دیا گیا۔ دھوپ گھڑی پر پابندی لگا دی گئی جبکہ مقامی زبانوں اور کتابوں کو جہالت کا مرکّب قرار دے دیا گیا۔
⬅️ ولیم لیٹنر کا منصوبہ کام یاب ہو گیا اور اس نے 50 کی بجائے 30 برس میں پورے پنجاب کو غیرتعلیم یافتہ اور جاہل بنا دیا۔ لیٹنر نے اپنے ہاتھ سے لکھا ”میں نے پورے پنجاب کا دورہ کیا۔ آج یہاں کوئی پڑھا لکھا شخص نہیں“
👈 اس نے سیالکوٹ کے ایک گاﺅں "جَوڑیاں کلاں" کی مثال دی۔ اس کا کہنا تھا ۔۔۔۔ میں پنجاب آیا تو اس گاﺅں میں ڈیڑھ ہزار پڑھے لکھے لوگ تھے۔ آج یہاں صرف 10 لوگ گُورمکھی اور ایک اردو پڑھ سکتا ہے اور یہ بھی چند برسوں میں مَرکھَپ جائیں گے۔
لیٹنر نے پنجاب میں رہ کر اردو سیکھ لی اور پھر اردو میں دو والیم (جِلدوں) کی تاریخِ اسلام لکھی۔ یہ کتاب 1871ء اور 1876ء میں دو بار شائع ہوئی۔
لیٹنر 1870ء کی دہائی میں اپنا کام مکمل کر کے برطانیہ واپس چلا گیا۔
ہر بڑے اسلام اور انسان دشمن کی طرح لیٹنر کا تعلق بھی ایک سرمایہ دار (یہودی) خاندان سے تھا۔
Courtesy Naeem ul Haq sahib
بہت پیاری نظم...
اے دوست بتا تو کیسا ہے
کیا اب بھی محلّہ ویسا ہے ؟
وہ لوگ پرانےکیسے ہیں ؟
کیا اب بھی وہاں سب رہتے ہیں ؟
جن کو میں تب چھوڑ گیا
دوکان تھی جوایک چھوٹی سی
کیا بوڑھا چاچا ہوتا ہے ؟
کیا چیزیں اب بھی ہیں ملتی
بسکٹ ، پاپڑ اور گولی
اور گولی کھٹی میٹھی سی ؟
بیری والے گھر میں اب بھی
کیا بچّے پتھر مارتے ہیں ؟
اوربوڑھی امّاں کیا اس پر
اب بھی شور مچاتی ہے ؟
بجلی جانے پر اب بھی
کیا خوشی منائی جاتی ہے
پھر چھپن چھپائی ہوتی ہے ؟
کیا پاس کسی کے ہونے پر
مٹھائی بھی بانٹی جاتی ہے ؟
بارش کے پہلے قطرے پر
کیا ہلّہ گلّہ ہوتا ہے ؟
اور غم میں کسی کے اب بھی
کیا پورا محلّہ روتا ہے ؟
گلی کے کونے میں بیٹھے
کیا دنیا کی سیاست ہوتی ہے ؟
گڈے گڑیوں کی کیااب بھی
بچوں میں شادی ہوتی ہے ؟
اے دوست بتا سب کیسا ہے
کیا محلّہ اب بھی ویسا ہے ؟
کیا اب بھی شام کو سب سکھیاں
دن بھر کی کہانی کہتی ہیں ؟
پرلی چھت سے چھپ چھپ کر
کیا اب بھی انہیں کوئی دیکھتا ہے ؟
کیا اب بھی چھپ چھپ کر ان میں
کوی خط و کتابت ہوتی ہے ؟
وہ عید پہ بکروں بیلو ں کا
کیا گھر گھرمیلہ سجتا ہے ؟
خاموش ہےتو کیوں دوست میرے
کیوں سر جھکا کر روتا ہے ؟
ہلکے ہلکے لفظ دبا کر کہتا ہے
سب لوگ پرانے چلے گئے
سب بوڑھے چاچا ، ماما ، خالو
خالہ ، چاچی ، امّاں
سب ملک عدم کو لوٹ گئے
گھر بکے اور تقسیم ہوئے
اپنےحصّے لے کر سب
اپنے مکاں بنا بیٹھے
انجانوں کی بستی ہے وہ
اب لوٹ کے تو کیا جائے گا
دل تیرا بھر بھر آئے گا
*💦 پانی پلانے کی فضیلت واہمیت*
(1:)
سیدنا حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ
سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ میری والدہ فوت ہو
گئیں ہیں کیامیں اس کی طرف سے صدقہ کرسکتاہوں؟
تو آپ نے فرمایا کہ ہاں کر سکتے ہو
میں نے عرض کیا کون سا صدقہ سب سے بہترین ہے؟
" توآپ نے فرمایا پانی پلانا"
"سیدنا حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے
مدینے میں ایک کنواں بنوا دیا"
(سنن نسائ حدیث نمبر 3666)
اور سنن ابوداؤد کی روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں کہ حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نےکنواں بنوا کر فرمایا کہ یہ سعد کی والدہ کے (ایصال ثواب کے لئے ہے)۔
(سنن ابی داؤد حدیث نمبر 3684)
اس حدیث نےدین اسلام میں پانی پلانے کی فضیلت و
اہمیتِ کوواضح کرکےتمام صدقات واعمال میں سے
افضل ترین عمل قرار دے دیا ہے۔
انسان کو چونکہ اپنے والدین سب سے زیادہ عزیز اور پیارے ہوتے ہیں اس لیے ان کی طرف سے پانی پلانے کا
اہتمام ضرور کرنا چاہیے۔جیسے۔حضرت سعدبن عبادہ رضی اللہ عنہ نےکیا تھا
(2:)
صحیح بخاری میں حضرت امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ سیدنا حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ
کی روایت لائے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے
فرمایا کہ ایک فاحشہ عورت کو اس لیے معاف کردیا
گیاتھاکہ اس نے پیاس کی شدت سے قریب المرگ کتے
کوپانی پلادیا
اس عورت نے اپنے دوپٹے سےموزےکوباندھ کراسے
کنویں میں لٹکایا اورپانی نکال کر اس کتے کوپلادیا
تو اللہ نےاس عورت کواس عمل کی بدولت معاف
کردیا۔
صحیح بخاری حدیث نمبر 3321
(3:)
امام ابن خزیمہ رحمۃاللہ علیہ اپنی صحیح میں سیدنا حضرت جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کر یم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاجس نے کنواں بنوایا
اور اس سے اپنے سینے میں جگر رکھنے والے کسی جن انسان اور پرندے نے پانی پی لیا تو اللہ تعالیٰ
اس کے لیےقیامت تک اجرو ثواب جاری فرمادیں گے
صحیح ابن خزیمہ حدیث نمبر 1292
(4:)
امام ابن عساکر رحمۃ اللہ علیہ تاریخ دمشق میں
سیدنا حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پانی پلانے سے بڑھ کر کوئی صدقہ نہیں ہے
تاریخ دمشق جلدنمبر2صفحہ نمبر376
(5:)
امام قرطبی رحمۃ اللہ علیہ نے بعض تابعین سے
نقل کیا ہے کہ جو آدمی کثرت گناہ کا مرتکب ہو چکا ہو
اسے چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کی مخلوق کو کثرت سے پانی پلانے
کا اھتمام کرے کیونکہ جس نے کتے کو پانی پلایا تھا
اللہ نے اسے بخش دیا تھا تو جو کسی توحید پرست
مومن کو پانی پلائے گا اللہ تعالیٰ اسے کیوں نہیں بخشےگا
تفسیر القرطبی جلدنمبر7صفحہ نمبر215
(6:)
امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ اپنی مسند
میں حضرت عرباض بن ساریہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں
کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب آدمی
اپنی بیوی کو پانی پلاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے اجرو ثواب
عطا فرما دیتے ہیں
یہ حدیث بیان کرنے کے بعد حضرت عرباض بن ساریہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ میں اپنی
بیوی کے پاس گیا اور اسے پانی پلایا اور جو کچھ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا وہ بھی
اسے سنایا۔
مسنداحمدجلدنمبر4صفحہ نمبر 128
(7) ابو موسی صفار نے سیدنا حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کون سا صدقہ افضل ہے تو انہوں نےکہا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہےکہ بہترین صدقہ پانی ہے
کیا تم نے نہیں سنا کہ اہل نار اہل جنت سے پانی اور طعام مانگیں گے
تفسیر ابن کثیر جلد 2 صفحہ179
(8:)
حضرت امام عبداللہ بن مبارک (رحمۃ اللہ علیہ) کے پاس ایک شخص حاضر ہوا اور عرض کیا کہ میرے گھٹنے میں ایک زخم ہے،سات برس ہو گئے،ہیں ہر قسم کی دوا اور علاج کر چکا ہوں لیکن کسی سے بھی فائدہ نہیں ہوا ۔۔
بڑے بڑے طبیبوں سے بھی رجوع کر چکا ہوں۔۔
حضرت امام عبداللہ بن مبارک رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ جس جگہ پانی کی قلّت ہو وہاں ایک کنواں بنوا دو،مجھےاللّٰہ سےیہ امید ہے کہ جب اس کنویں سے پانی نکل آئےگا تمہارے گھٹنے کا زخم ٹھیک ہو جائے گا۔۔
چنانچہ اس شخص نے ایسا ہی کیا تو اس کے گھٹنے کا زخم ٹھیک ہو گیا۔۔
فضائل صدقات صفحہ نمبر112 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج کل گرمیوں کا موسم ہے۔اللہ تعالیٰ کی پیاسی مخلوق کو پانی پلا کر ہمیں اجرو ثواب حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے
دماغی سانچہ ❤
کھوپڑی کے اندر دماغ کا اصل وزن ڈیڑھ کلو کے قریب ہے
تقریبا 1700 سے 1400 کے درمیان ۔۔
مگر اس کے باوجود بھی ہم ۔۔
اپنے سر میں اتنا بڑا وزن محسوس نہیں کرتے ۔۔
جس کی وجہ دماغی اسپائنل کا فلوئڈ میں تیرنا ہے ۔۔
پانی کے اوپری حصے سے دماغ کا وزن ۔۔
تقریباً 0.18 کلوگرام تک کم ہوجاتا ہے ۔۔
اس لیے ہمیں اس کا وزن محسوس نہیں ہوتا ۔۔
یہ سیال اچانک اثر یا نقصان کے خلاف ۔۔
ایک کشن کے طور پر بھی کام کرتا ہے ۔۔
برین کو گندگی سے صاف رکھتا ہے ۔۔
جس سے اعصابی نظام کو ۔۔
صحیح طریقے سے کام کرنے میں مدد کرتا ہے ۔۔
نماز کی قیمتی حرکتوں میں سے ایک سجدہ ہے ۔۔
جہاں گھٹنے ٹیکنے پر یہ سیال اوپر نیچے حرکت کرتا ہے ۔۔
اور اس سے دماغ کو ایک طرح کا مساج ہوتا ہے ۔۔
لمبے سجدے کے بعد ذہنی سکون کی یہ ایک وجہ ہے ۔۔
جو دماغ سجدوں کو چھوڑ چکے ہوتے ہیں ۔۔
وہ لوگ اس عظیم حرکت سے محروم رہتے ہیں ۔۔
جس سے یہ دماغ ۔۔
ڈپریشن ۔۔
انزائٹی ۔۔
انسومینیا ۔۔
مائگرین کا شکار رہتا ہے ۔۔
جسے ختم کرنے کیلئے درد کی گولیاں کھاتے ہیں ۔۔
جو اسپائنل کو وقتی طور پر سن تو کر دیتا ہے ۔۔
مگر سجدے جیسی حرکت نہیں دے پاتا ۔۔
یہ سوہنے رب کی کاریگری ہے ۔۔
جو ہر چیز کو کامل ترتیب سے بناتا ہے
بیشک ہم نے انسان کو بہترین سانچوں میں پیدا کیا ہے
قرآن 95:4 (سورۃ التین، انجیر)
copied
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Contact the school
Telephone
Website
Address
C-14/2
Rahimyar Khan
64200
12/10/2022