03/01/2023
امریکی پروفیسر اور اسلامی شریعت :
ڈاکٹر نوح فلڈمین (Noah Feldman) امریکہ کی ہاورڈ یونیورسٹی میں شعبہ قانون کا استاد ہے اور نیویارک ٹائمز کے میگزین سے بھی تعلق رکھتا ہے۔ اسلام کا مطالعہ اس کا خصوصی موضوع ہے اور وہ اس کے بارے میں وقتاً فوقتاً لکھتا رہتا ہے۔ کافی سال پہلے نیویارک ٹائمز کے میگزین سیکشن میں اس نے ایک مضمون لکھا، جس کا عنوان تھا "Why Sharia" (شریعت کیوں؟) اس مضمون کے کچھ اقتباسات مندرجہ ذیل ہیں :
پروفیسر فلڈمین کہتا ہے کہ نبی اکرمؐ نے جس روز مدینہ ہجرت کی اس وقت سے ۱۹۲۴ء تک، جب ترکی کے سیکولر حکمران فوجی جنرل مصطفٰی کمال نے خلافت کے اسلامی نظام حکومت کو ختم کرکے شریعت کو معطل کیا، اس وقت تک یعنی ۱۳۰۰ سال کے عرصہ دراز تک دنیا پر مسلمانوں کی حکمرانی اس لیے قائم رہی کہ ہر مسلمان مملکت میں بالعموم شریعت نافذ رہی تھی۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ عدلیہ آزاد رہی تھی، جابر سے جابر مسلمان حکمران بھی شریعت کی بالادستی، یعنی قاضی کے فیصلوں اور مفتیوں کے فتوؤں کے آگے سر جھکا دیا کرتے تھے۔ بادشاہوں کی مجبوری یہ تھی کہ اگر وہ ایسا نہ کرتے تو ان کی فوج کسی بھی دشمن کے مقابلے میں جہاد سمجھ کر دل و جان سے نہ لڑتی کیونکہ کرائے کے سپاہیوں سے دشمن کے حملوں کے خلاف کوئی بھی بادشاہ اپنی حکومت کا زیادہ عرصے تک دفاع نہیں کر سکتا۔
موجودہ دور میں اسلامی سیاست میں جہاں کہیں نفاذ شریعت کی بات کی جاتی ہے اس کا مطلب صرف یہی نہیں ہوتا کہ عورتیں حجاب یا پردہ کریں، یا یہ کہ شرعی سزاؤں اور کوڑے مارنے کے عمل کو زندہ کیا جائے، بلکہ اس میں اسلامی ریاست کے بنیادی قانون اور دستوری نوعیت کا ایک انتہائی ضروری اور ناگزیر پہلو بھی شامل ہے۔ وہ یہ کہ عام قانون پر شریعت کو اسلامی ریاست کے ملکی دستور کے طور پر بالادست رکھا جاتا ہے۔ اس کا فائدہ کیا ہے؟ اس کا جواب روایتی اسلامی حکومت کے ایک ایسے پہلو میں مضمر ہے جس کی طرف بہت کم توجہ دی گئی ہے۔ ایک ہزار سال سے زائد عرصے تک نفاذ شریعت کے تحت چلنے والی ساری حکومتیں گویا قانون کی حکمرانی کے تحت چلنے والی ریاستیں ہوا کرتی تھیں
اسلامی قانون کے تحت چلنے والی روایتی اسلامی حکومتوں کو قانون کی عملداری سے بے نیاز گزشتہ ایک صدی سے وجود میں آنے والے مطلق العنان مسلمان حکمرانوں یا بادشاہوں یا ڈکٹیٹروں کی حکومت کے مقابلے میں یہ ایک بڑا فائدہ حاصل تھا۔ اس طرح کہ اسلامی حکومت دو اعتبار سے ایک برحق حکومت سمجھی جاتی تھی۔ ایک اعتبار سے حکومت خود اپنی یہ ذمہ داری سمجھتی تھی کہ وہ اپنی رعیت کے انفرادی حقوق کا پورا پورا احترام کرے۔ دوسرے اس اعتبار سے کہ رعایا کو بھی اس پر پورا اعتماد تھا کہ حکومت ضرور بالضرور ہمارے حقوق کا احترام کرے گی۔ اس طرح کے حقوق العباد کی نوعیت حقوق اللہ سے مختلف ہوا کرتی تھی۔ اس طرح کی اسلامی حکومت اپنی رعایا کی جان و مال کی محافظ ہوا کرتی تھی۔ ساری دنیا میں صدیوں سے ہر ملک کے لوگ حکومتوں کی بے جا دخل اندازی اور من مانی کاروائیوں سے بچنے اور اپنے جان و مال کی حفاظت کے خواہشمند ہوا کرتے تھے، لیکن انہیں اس حفاظت کی گارنٹی دنیا کی کسی بھی حکومت سے نہیں مل سکتی تھی، سوائے اس حکومت کے کہ جہاں شریعت نافذ ہو۔
اس پس منظر کے تفصیلی تذکرے کے ساتھ موجودہ عالمی صورتحال کا تجزیہ کرتے ہوئے پروفیسر نوح فلڈمین لکھتا ہے کہ درحقیقت عالمی تاریخ میں اسلامی قانون سے بہتر، اعتدال، کشادہ دلی اور انسان دوستی پر مبنی قانونی اصول کہیں نہیں پائے جاتے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مغربی دنیا کے لوگوں کو اپنے نظام کی محرومیوں کو چھپانے کے لیے اس سازش کی ضرورت تھی کہ وہ اسلام اور اسلامی شریعت کو ایک دہشت ناک چیز بنا کر دنیا کو دکھائیں تاکہ لوگ اسلام کو برا اور مغربی دنیا کو اچھا سمجھنے لگیں..
Copied!!