06/11/2023
انسانی حقوق کے علمبرداروں کے کارنامے
Assalamoalikum,
This is an islamic academy. To facilitate all those Muslims who are unable to manage the Quranic learning in their localites.
To create awareness among the Muslims to learn the basic principles of Islam and get aquainted with the right way to handle the necessary problems of daily life according to the spirit of Islam.
06/11/2023
انسانی حقوق کے علمبرداروں کے کارنامے
بخارا کے گورنر نے امام بخاری رحمہ اللہ کو پیغام بھیجا کہ میرے پاس تشریف لائیں تاکہ میں آپ کی کتابیں سنوں۔
امام صاحب نے قاصد سے فرمایا :
” میں علم کو ذلیل نہیں کرتا کہ مال و منصب والوں کے دروازوں پر لے جاؤں۔ اگر آپ کو ضرورت ہے تو میرے گھر یا میری مجلس میں آ جانا۔“
(تاريخ بغداد : ٣٤٠/٢)
05/11/2023
People standing with 🇸🇩
SUBHAN ALLAH
پندرہ شعبان کی عبادت
از : حضرتِ اقدس مولانا مفتی سعید احمد صاحب پالنپوری رحمہ اللہ سابق شیخ الحدیث وصدرالمدرسین دارالعلوم دیوبند
پندرہ شعبان کے سلسلے میں چار باتیں صحیح ہیں :
❶ اس رات میں اللہ سبحانہ وتعالیٰ جتنی توفيق دیں ، اتنی گھر میں انفرادی عبادتیں کرنا ، مگر ہم نے اس رات کو ہنگاموں کی رات بنادیا ہے ، مسجدوں اور قبرستانوں میں جمع ہوتے ہیں ، کھاتے پیتے اور شور کرتے ہیں ، یہ سب غلط ہے ، اس کی کوئی حقیقت نہیں ، اس رات میں نفلیں پڑھنی چاہئیں ، اور پوری رات پڑھنی ضروری نہیں ، جتنی اللہ تعالیٰ توفيق دیں گھر میں پڑھے ، یہ انفرادي عمل ہے ، اجتماعی عمل نہیں ۔
❷ اگلے دن روزہ رکھے ، یہ روزہ مستحب ہے ۔
❸ اس رات میں اپنے لئے ، اپنے مرحومین کے لئے ، اور پوری امت کے لئے مغفرت کی دعا کرے ، اس کے لئے قبرستان جانا ضروری نہیں ، اس رات میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قبرستان ضرور گئے ہیں ، مگر چپکے سے گئے ہیں ، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو اتفاقاً پتہ چل گیا تھا ، نیز حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم نےاس رات میں قبرستان جانے کا کوئی حکم بھی نہیں دیا ، اس لئے ہمارے یہاں جو تماشے ہوتے ہیں ، وہ سب غلط ہیں ۔
❹ جن دو شخصوں کے درمیان لڑائی جھگڑا اور اختلاف ہو ، وہ اس رات میں صلح صفائی کر لیں ، اگر صلح صفائی نہیں کریں گے ، تو بخشش نہیں ہوگی ۔
یہ چار کام اس رات میں ضعیف حدیث سے ثابت ہیں ، اور ضعیف کا لحاظ اس وقت نہیں ہوتا جب سامنے صحیح حدیث ہو ، صحیح حدیث کے مقابلے میں ضعیف حدیث کو نہیں لیا جاتا ، لیکن اگر کسی مسئلہ میں ضعیف حدیث ہی ہو ، اس کے مقابلے میں صحیح حدیث نہ ہو ، تو ضعیف حدیث لی جاتی ہے ، اور ایسا یہی ایک مسئلہ نہیں ہے ، بہت سے مسائل ہیں ، جن میں ضعیف حدیثیں ہیں ، اور ضعیف احادیث سے مسائل ثابت ہوئے ہیں ، جیسے صلٰوۃ التسبیح کی گیارہ روایتیں ہیں ، اور سب ضعیف ہیں ، مگر سلف کے زمانے سے صلٰوۃ التسبیح کا رواج ہے ۔
البتہ ضعیف حدیث سے واجب اور سنت کے درجہ کا عمل ثابت نہیں ہوگا ، استحباب کے درجے کا حکم ثابت ہوگا ، پس صلٰوۃ التسبیح پڑھنا مستحب ہے ، ایسے ہی پندرہ شعبان کے بارے میں ، جو روایات ہیں وہ بھی ضعیف ہیں ، مگر ان سے استحباب کے درجہ کا عمل ثابت ہوسکتا ہے ، پس احادیث میں بیان کئے گئے چاروں کام مستحب ہوں گے ، شب برأت ، اور اسکے اعمال کو بالکل بے اصل کہنا درست نہیں ، البتہ سورہ دخان کی تیسری آیت : انا انزلناہ فی لیلۃ مبارکۃ کا مصداق شب برأت نہیں ، اس کا مصداق شب قدر ہے ، کیونکہ قرآن کریم شب قدر میں نازل ہوا ہے ۔
( علمی خطبات جلد : 2 صفحہ نمبر : 247 )
شعبان میں نفل روزے
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ: رسول اللہ ﷺ نفلی روزے (کبھی) مسلسل رکھنے شروع کرتے یہاں تک کہ ہمیں خیال ہوتا کہ اب ناغہ نہیں کریں گے اور (کبھی) بغیر روزے کے مسلسل دن گذارتے؛ یہاں تک کہ ہمیں خیال ہونے لگتا ہے کہ اب آپ ﷺ بلا روزہ ہی رہیں گے۔ نیز فرماتی ہیں کہ: میں نے رمضان کے علاوہ کسی مہینے کا پورا روزہ رکھتے نہیں دیکھا، اسی طرح کسی مہینے میں شعبان سے زیادہ نفلی روزے رکھتے ہوئے نہیں دیکھا۔
[مشکوٰة:۱۷۸، صحيح البخاري:1969، صحيح مسلم:782]
بعض روایتوں میں ہے کہ شعبان کے مہینہ میں بہت کم ناغہ کرتے تھے، تقریباً پورے مہینے روزے رکھتے تھے۔
[الترغیب والترہیب:۲/۱۱۷]
احادیث کے مطالعہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ نفلی روزوں کے سلسلے میں آپ ﷺ کا کوئی لگا بندھا دستور ومعمول نہیں تھا، کبھی مسلسل روزے رکھتے، کبھی مسلسل ناغہ کرتے؛ تاکہ امت کو آپ ﷺ کی پیروی میں زحمت، مشقت اور تنگی نہ ہو، وسعت وسہولت کا راستہ کھلا رہے، ہر ایک اپنی ہمت، صحت اور نجی حالات کو دیکھ کر آپ ﷺ کی پیروی کرسکے، اسی لیے کبھی آپ ﷺ ایامِ بیض (۱۳،۱۴،۱۵ تاریخوں) کے روزے رکھتے، کبھی مہینے کے شروع میں ہی تین روزے رکھتے، کسی مہینہ میں ہفتہ، اتوار اور پیر کے روزے رکھتے تو دوسرے مہینے میں منگل، بدھ اور جمعرات کے روزے رکھتے، کبھی جمعہ کے روزے کا اہتمام کرتے، اسی طرح عاشورہ اور شوال کے چھ روزے رکھنا بھی آپ ﷺ سے ثابت ہے۔
شعبان کے مہینے میں آپ ﷺ کے کثرت سے روزے رکھنے کی علماء نے کئی حکمتیں بیان کی ہیں:
۱- چوں کہ اس مہینہ میں اللہ رب العزت کے دربار میں بندوں کے اعمال کی پیشی ہوتی ہے؛ اس لیے سرکار ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ: میں چاہتا ہوں کہ جب میرے اعمال کی پیشی ہو تو میں روزے کی حالت میں رہوں، یہ بات حضرت اسامہ بن زید کی روایت میں موجود ہے۔
[نیل الاوطار:۴/۲۴۶، سنن النسائي:2357]
۲- حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی روایت میں ہے کہ: پورے سال میں مرنے والوں کی فہرست اسی مہینے میں ملک الموت کے حوالے کی جاتی ہے؛ اس لیے آپ ﷺ یہ چاہتے تھے کہ جب آپ ﷺ کی وفات کے بارے میں ملک الموت کو احکام دیے جائیں تو اس وقت آپ ﷺ روزے سے ہوں۔
[معارف الحدیث: ۴/۱۵۵]
۳- رمضان المبارک کے قریب ہونے اور اس کے خاص انوار وبرکات سے مناسبت پیدا کرنے کے شوق میں آپ ﷺ شعبان کے مہینہ میں روزے کا اہتمام کثرت سے فرماتے تھے، جس طرح فرض نمازوں سے پہلے سنتیں پڑھتے تھے، اسی طرح فرض روزے سے پہلے نفلی روزے رکھا کرتے تھے اور جس طرح فرض کے بعد سنتیں اور نفلیں پڑھتے تھے؛ اسی طرح رمضان کے بعد شوال میں چھ روزے رکھتے اوراس کی ترغیب بھی دیا کرتے تھے۔
ماہ شعبان کے فضائل:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
شَهْرُ رَمَضَانَ شَهْرُ اﷲِ، وَشَهْرُ شَعْبَانَ شَهْرِي، شَعْبَانُ الْمُطَهِّرُ وَرَمَضَانُ الْمُکَفِّرُ.
ماہِ رمضان اﷲ تعالیٰ کا مہینہ ہے، اور ماہِ شعبان میرا مہینہ ہے، شعبان (گناہوں سے) پاک کرنے والا ہے اور رمضان (گناہوں کو) ختم کر دینے والا مہینہ ہے۔
( کنزالعمال: ج، ٨، ص، ٢١٧، حدیث نمبر، ٢٣٦٨۵)
ماہ شعبان کو رسول اللہ نے اپنا مہینہ قرار دیا اور اس کو اپنی جانب منسوب کیا ہے، اس بات سے ہی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ جو مہینہ حضور علیہ السلام کا ہوگا، وہ عظمت و بزرگی میں کس قدر غیر معمولی مقام رکھتا ہوگا۔
شعبان کی اسی اہمیت کے پیش نظر اصحاب کرام رضوان اللہ تعالی علیھم اجمعین شعبان کا چاند دیکھتے ہی پہلے سے زیادہ عبادت میں مشغول ہوجاتے تھے، چنانچہ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی علیہ الصلوة والسلام کے جلیل القدر اصحاب شعبان کا چاند دیکھتے ہی قرآن کریم کی (عام دنوں سے زیادہ) تلاوت میں مشغول ہوجاتے تھے، مسلمان اس مہینے میں اپنے مال کی زکوة نکالا کرتے تھے، تاکہ غریب اور مسکین لوگ فائدہ اٹھا سکیں.
۞ أَلَمۡ یَأۡنِ لِلَّذِینَ ءَامَنُوۤا۟ أَن تَخۡشَعَ قُلُوبُهُمۡ لِذِكۡرِ ٱللَّهِ وَمَا نَزَلَ مِنَ ٱلۡحَقِّ وَلَا یَكُونُوا۟ كَٱلَّذِینَ أُوتُوا۟ ٱلۡكِتَـٰبَ مِن قَبۡلُ فَطَالَ عَلَیۡهِمُ ٱلۡأَمَدُ فَقَسَتۡ قُلُوبُهُمۡۖ وَكَثِیرࣱ مِّنۡهُمۡ فَـٰسِقُونَ﴿ ١٦ ﴾
کیا ایما ن لانے والوں کے لیے ابھی وہ وقت نہیں آیا کہ اُن کے دل اللہ کے ذکر سے پگھلیں اور اُس کے نازل کردہ حق کے آگے جُھکیں
[[یہاں پھر ’’ ایمان لانے والوں ‘‘ کے الفاظ تو عام ہیں مگر ان سے مراد تمام مسلمان نہیں بلکہ مسلمانوں کا وہ خاص گروہ ہے جو ایمان کا اقرار کر کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے ماننے والوں میں شامل ہو گیا تھا اور اس کے باوجود اسلام کے درد سے اس کا دل خالی تھا۔ آنکھوں سے دیکھ رہا تھا کہ کفر کی تمام طاقتیں اسلام کو مٹا دینے پر تُلی ہوئی ہیں ، چاروں طرف سے انہوں نے اہل ایمان کی مٹھی بھر جماعت پر نرغہ کر رکھا ہے ، عرب کی سر زمین میں جگہ جگہ مسلمان تختہ مشق ستم بنائے جا رہے ہیں ، ملک کے گوشے گوشے سے مظلوم مسلمان سخت بے سر و سامانی کی حالت میں پناہ لینے کے لیے مدینے کی طرف بھاگے چلے آ رہے ہیں ، مخلص مسلمانوں کی کمر ان مظلوموں کو سہارا دیتے دیتے ٹوٹی جا رہی ہے ، اور دشمنوں کے مقابلے میں بھی یہی مخلص مومن سر بکف ہیں ، مگر یہ سب کچھ دیکھ کر بھی ایمان کا دعویٰ کرنے والا یہ گروہ ٹس سے مس نہیں ہو رہا تھا۔ اس پر ان لوگوں کو شرم دلائی جا رہی ہے کہ تم کیسے ایمان لانے والے ہو؟ اسلام کے لیے حالات نزاکت کی اس حد کو پہنچ چکے ہیں ، کیا اب بھی وہ وقت نہیں آیا کہ اللہ کا ذکر سن کر تمہارے دل پگھلیں اور اس کے دین کے لیے تمہارے دلوں میں ایثار و قربانی اور سر فروشی کا جذبہ پیدا ہو؟ کیا ایمان لانے والے ایسے ہی ہوتے ہیں کہ اللہ کے دین پر برا وقت آئے اور وہ اس کی ذرا سی ٹیس بھی اپنے دل میں محسوس نہ کریں ؟ اللہ کے نام پر انہیں پکارا جائے اور وہ اپنی جگہ سے ہلیں تک نہیں ؟ اللہ اپنی نازل کردہ کتاب میں کود چندے کی اپیل کرے ، اور اسے اپنے ذمہ قرض قرار دے ، اور صاف صاف یہ بھی سنا دے کہ ان حالات میں جو اپنے مال کو میرے دین سے عزیز تر رکھے گا وہ مومن نہیں بلکہ منافق ہو گا، اس پر بھی ان کے دل نہ خدا کے خوف سے کانپیں ، نہ اس کے حکم کے آگے جھکیں ؟]] اور وہ اُن لوگوں کی طرح نہ ہو جائیں جنہیں پہلے کتاب دی گئی تھی، پھر ایک لمبی مدّت اُن پر گزر گئی تو اُن کے دل سخت ہو گئے اور آج ان میں سے اکثر فاسق بنے ہوئے ہیں؟ [[یعنی یہود و نصاریٰ تو اپنے انبیاء کے سینکڑوں برس بعد آج تمہیں اس بے حسی اور روح کی مردنی اور اخلاق کی پستی میں مبتلا نظر آ رہے ہیں ۔ کیا تم اتنے گئے گزرے ہو کہ ابھی رسول تمہارے سامنے موجود ہے ، خدا کی کتاب نازل ہو رہی ہے ، تمہیں ایمان لائے کچھ زیادہ زمانہ بھی نہیں گزرا ہے ، اور ابھی سے تمہارا حال وہ ہو رہا ہے جو صدیوں تک خدا کے دین اور اس کی آیات سے کھیلتے رہنے کے بعد یہود و نصاریٰ کا ہوا ہے ؟]]
Al-Hadid, Ayah 16
عن أنس قال: كان النبي صلى الله عليه و سلم إذا دخل رجب قال: أَللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِیْ رَجَبَ وَشَعْبَانَ وَبَلِّغْنَا رَمَضَانَ
ترجمہ:
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب’’ رجب‘‘ کا مہینہ شروع ہوتا ،تو آپ ﷺ یوں دعا فرماتے تھے
أَللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِیْ رَجَبَ وَشَعْبَانَ وَبَلِّغْنَا رَمَضَانَ یعنی اے اللہ! ہمارے لیے ماہِ رجب اور شعبان میں برکت عطا فرما ئیے اور ہمیں رمضان تک پہنچائیے۔
حکم الحدیث:
واضح رہے کہ مذکورہ بالاحدیث پر بعض محدثین کرام نے کلام کیا ہے، اور اس روایت کی سند میں ’’زائدہ بن ابی الرقاد ‘‘روای ہیں ،جن کو علامہ ذھبی وغیرہ نے ضعیف قرار دیا ہے اور اسی طرح ان کے شیخ ’’ زیاد بن عبداللہ النمیری‘‘ کو بھی علامہ مزی نے تہذیب الکمال میں ضعیف قرار دیا ہے۔
لہذا اس روایت کو ضعف کی طرف اشارہ کرکے ہی بیان کرنا چاہیے، البتہ علامہ مناوی ؒنے فیض القدیر میں لکھا ہے کہ آپ ﷺ سے رجب کی فضیلت کے متعلق صرف یہ بات ثابت ہے کہ جب’’ رجب‘‘ کا مہینہ شروع ہوتا ،تو آپ ﷺ یوں دعا فرماتے تھے
’’ أَللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِیْ رَجَبَ وَشَعْبَانَ وَبَلِّغْنَا رَمَضَانَ ‘‘ ، اور اس کے علاوہ کوئی بات ثابت نہیں ہے۔
اور علامہ ابن حجر ہیتمی ؒ نے ’’ماہ رجب ‘‘ کے شروع ہونے پر اس دعا کے پڑھنے کو سنت اور حافظ ابن رجب حنبلیؒ نے مستحب قراردیا ہے۔
خلاصہ کلام:
محدثین کرام نے مذکورہ روایت کو اگرچہ ضعیف قرار دیا ہے، لیکن فضائلِ اعمال کے سلسلے میں ایسی روایت پر عمل کیا جاسکتا ہے اور مذکورہ دعا کے الفاظ معنی اور مفہوم کے لحاظ سے درست ہیں ، اور سلف کا اس پر عمل بھی ہے، لہذا اس دعا کے پڑھنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
18/02/2023
ہر وہ کام لغو ہے جس کے کرنے سے نہ دنیا کا کوئی فائدہ ہو نا آخرت کا، چنانچہ اس تعریف کی بنیاد پر اپنے کاموں کو پرکھتے رہنا ضروری ہے، آخرت میں انسان اس وقت پر بہت حسرت کرے گا جو اس نے لغو کاموں میں ضائع کر دیا۔اللہ تعالی ہم سب کو عمل کی توفیق عطا فرمائے۔
18/02/2023
الھم انی اسئلک قلبا شاکرا